16.10.2026, 11:59am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » زرقا مفتی
 

پاکستانی کرکٹرز کی نراشا ۔از ؛ زرقا مفتی ۔ لاہور
24.01.2010, 02:20am , اتوار (GMT+1)

زرقا مفتی ۔ لاہور

پاکستان کا ایک بڑا میڈیا گروپ آجکل امن کی آشا کے نام سے بھارت سے دستی کی پینگیں بڑھانے پر زور دے رہا ہے۔ پاکستان کے بھارت نواز طبقے تمام سابقہ پاک بھارت تنازعات کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دے کر بھارت کے آگے گھٹنے ٹیکنے کی پالیسی اپنانے پر زور دیتے ہیں۔ بھارت نواز دانشور بھارت کو امن پسند اور پاکستان جنگ پسند قرار دیتے ہیں۔ انہیں پاکستان میں شدت پسند مذہبی عناصر ایک آنکھ نہیں بھاتے جبکہ بھارت کے شدت پسند مذہبی عناصر نظر ہی نہیں آتے ۔ عام پاکستانی نہ تو شدت پسند ہے اور نہ ہی بے غیرت ۔ عوام کشمیر کے کے مسلے کا پُر امن حل چاہتے ہیں اور بھارت کے ساتھ پرُ امن بقائے باہمی کے اصول کے تحت تعلقات کے خواہشمند ہیں۔

ایک طرف ہماری عوام ہے جو بھارتی مصنوعات ، بھارتی فلموںاور بھارتی ٹی وی چینلز کی دلدادہ ہے یہاں بھارت کی کسی چیز پر پابندی نہیں لگائی جاتی کیبل پر بھارتی چینلز بند کئے جاتے ہیں مگر ڈھکے چھپے انداز میں ان کی نشریات جاری رہتی ہیں۔ بھارتی فلموں کی پاکستان میں نمائش جاری ہے ۔بھارتی گانے ، فلمیں اور پروگرام ہمارے نجی چینلز کی زینت بن رہے ہیں۔ پاکستان کے ہر بازار میں بھارتی کپڑا مصنوعی زیورات اور ادویات دستیاب ہیں۔

باہمی تعلقات کو معمول پر لانے میں پاکستان کی بجائے بھارت کی ہٹ دھرمی آڑے آتی ہے۔ پاکستان کے شدت پسند مذہبی عناصر کا حکومت میں عمل دخل نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ بھارتی حکومت شیو سینا کی مرضی کے خلاف نہیں چل سکتی ۔ اور حکومت ہی کیا بھارت کے متمول طبقے اور غیر مذہبی عناصر بھی شیو سینا کے احکامات کے سامنے سرنگوں کرنے میں عار نہیں سمجھتے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت آئی پی ایل کی نیلامی میں پاکستانی کھلاڑیوں کی تذلیل ہے۔ آئی پی ایل کی نیلامی میں پاکستانی کھلاڑیوں سے اچھوتوں جیسا سلوک ہوا۔ بھارت کے روشن خیال اداکاروں اور دولتمند کاروباری حضرات نے خالص ہندووانہ ذہنیت کا مظاہرہ کیا۔ آئی پی ایل جو ٹوئنٹی ٹوئنٹی طرز پر کھیلا جاتا ہے اسکے لیے کھلاڑی دُنیا بھر کی کرکٹ ٹیموں سے حاصل کئے جاتے ہیں۔ آئی پی ایل میں ٹوئنٹی ٹوئنٹی کی فاتح ٹیم کے بارہ کھلاڑیوں میں سے ایک کی بھی بولی نہ لگنا کوئی اتفاقی واقع نہیں۔

 شاہد آفریدی جن کاکی بولی ڈھائی ملین ڈالر سے شروع ہونا تھی اُن کے لئے بھی کسی نے بولی نہ دی۔ جبکہ ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی پولارڈ اور نیوزی لینڈ کے کھاڑی شین بونڈ کو ساڑھے سات ملین ڈالر کے عوض خریدا گیا ان میں سے ایک بھی شاہد آفریدی کے پلے کا کھلاڑی نہیں۔ اگر پاکستانی کھلاڑیوں کو آئی پی ایل میں کھلانا منظور نہیں تھا تو فرنچائز کو معلوم ہونا چاہئیے تھا یا آئی پی ایل کو پہلے ہی یہ بات واضح کر دینا چاہیئے تھی۔ تاکہ نہ تو پاکستانی کھلاڑیوں کی سبکی ہوتی اور نہ ہی بھارتی قوم کا متعصب رویہ سامنے آتا۔

بھارتی میڈیا بھی آئی پی ایل میں پاکستانی کھلاڑیوں کی تذلیل پر خاموش نہیں رہا ۔ میڈیا میں پریتی زنٹا کا یہ بیان کہ انہوں نے شیو سینا کی دھمکی کے بعد پاکستانی کھلاڑی خریدنے سے اجتناب کیا سب کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ پریتی نے یہ بھی کہا کہ شیو سینا نے آئی پی ایل کی آٹھوں ٹیموں کے مالکان کو دھمکیاں دیں۔ اس بیان کے بعد آئی پی ایل حکام کی ایسی تاویلات بے کار ہیں کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو ویزے کے حصول میں مشکلات پیش آ سکتی تھیں یا پھر یہ کہ اُن کی آمد سے سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو سکتا تھا یہ سب فضول بہانوں کے سوا کچھ نہیں۔ ویزا کا حصول یا سیکیورٹی انتظامات بھارت کی ذمہ داری تھے پاکستان کی نہیں۔

پاک بھارت تعلقات میں کرکٹ ڈپلومیسی کی جو اہمیت تھی وہ اب ختم ہو گئی ہے کیونکہ کھیل بھی سیاست کا شکار ہو گیا ہے اس صورتحال میں ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ کھیل میں سیاست کا اس حد تک دخل ہے تو امن کی آشا بیکار ہے۔ پاکستان اور بھارت کے کرکٹ میچ دُنیا بھر میں شوق سے دیکھے جاتے ہیں کیونکہ دونوں اطراف کی ٹیمیں جیت کے لیے جی جان لڑا دیتیں ہیں۔ ممبئی حملوں کے بعد پاک بھارت کرکٹ صرف کثیر االاقوامی مقابلوں میں ہی نظر آ سکتا ہے۔

حالانکہ ممبئی حملوں کا واحد گرفتار ملزم بھارت کی حراست میں رہتے ہوئے اپنے بیان سے منحرف ہو چکا ہے۔ اجمل کے اپنے بیان سے منحرف ہونجانے کا سہرا نہ تو آئی ایس آئی کے سر باندھا جا سکتا ہے اور نہ ہی حافظ سعید کی جماعت کے البتہ بھارت کی جیلوں میں  ©”را“ کی رسائی ہو سکتی ہے۔ ممبئی حملوں میں پاکستان کو ملوث کرنے کی بھارتی کوشش ناکام ہو چکی ہے ۔اس کے بعد کرکٹ کھیلنے یا کھلانے سے انکار بھارت کی بد نیتی کا ثبوت ہے۔ بھارت ایک طرف تو امن پسندہونے کا داعی ہے اور دوسری طرف کرکٹ جیسے بے ضرر کھیل سے اجتناب کر رہا ہے۔ خطے کے عوام امن کی آشا کر رہے ہیں اور بھارت کی حکومت بیک وقت پاکستان اور چین سے لڑنے کے لیے تیار بیٹھی ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ بھارت کے مذموم عزائم سے پردہ اُٹھتا جا رہا ہے ۔

 بھارت کی بلوچستان اسرائیل کے گٹھ جوڑ سے مداخلت، ممبئی حملوں کے الزام کی آڑ میں پاکستان پر حملے کی خواہش ، تعلقات معمول پر لانے سے انکار، کرکٹ کھیلنے سے انکار یہ سب ایک ہی سازش کے تانے بانے ہیں۔ امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس کا یہ بیان کہ ممبئی جیسے کسی دوسرے واقعے پر بھارت خاموش نہیں رہے گا اس بات کا پیش خیمہ ہے کہ ممبئی حملوں جیسا ایک اور ڈرامہ تیار کیا جا رہا ہے ۔ ہم دُعا گو ہیں کہ بھارت اپنی ہر سازش میں ناکام ہوجائے اورآئی پی ایل بغیر کسی ہنگامے کے اختتام پذیر ہو جائے ۔
 
کچھ عرصہ قبل بھارت کے سابقہ وزیرِ خارجہ جسونت سنگھ نے اپنی کتاب میں اسی ہندواتا کو تقسیم ِ ہند کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔ بھارتی قوم بحیثیت مجموعی اپنی تعصب پسندی کا اظہار کرتی رہتی ہے مگر ہمارے ہاں کے امن کے متوالے سرحدوں پر کانٹوں کی جگہ پھول بچھانے اور دئیے جلانے کے ارادے ترک نہیں کرتے۔ ہماری دھرتی کے بیٹے کبھی رام مندر تعمیر کرنے کی بات کرتے ہیں توکبھی مسلمان حکمرانوں کو غاصب حملہ آور قرار دیتے ہیں۔ مسجدیں گرانے پر انہیں دکھ نہیں ہوتا بت شکنی کی سنت انہیں پسند نہیں آتی۔ یہ کبھی دو قومی نظریے کو جھوٹ بتاتے ہیں اور کبھی قائدِ اعظم کو سیکولر۔ ہم بھارتی عصبیت کے شکر گزار ہیں کہ وہ دو قومی نظریے کو حیاتِ نو بخشتی ہے اور کمزور اذہان میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کو ختم کرتی ہے۔امن کی آشا کے دئیے جلنے سے پہلے ہی بجھا دینے پر بھارت کو اگلے نوبل انعام کے لیے نامزد کیا جانا چاہیئے

کیونکہ ایسے ہی ایک امن کے امن کے چیمپئن کو پچھلے سال نوبل انعام سے نوازا گیاہے۔

پاکستانی عوام ، میڈیا اور حکومت میں موجود بھارت نواز طبقوں کو اپنے رویے پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔بھارتی مصنوعات، فلموں اور ٹی وی چینلز کا بائیکاٹ کیا جائے ۔پاکستانی سنیما گھروں میں بھارتی فلموں کی نمائش بند کی جائے۔ پاکستان کی سا لمیت اور خودمختاری کو داؤ پر لگا کر امن کی آشا کرنا دانشمندی نہیں دیوانگی ہے۔ پاکستان کو تعلقات بڑھانے ہیں تو ایران اور ترکی سے بڑھائے وسط ایشیائی ممالک اور چین سے روابط مضبوط کئے جائیں۔


:دیگر مضامین
(14.01.2010) ترقی کے لیے منصوبہ بندی ناگزیر ہے ۔از؛زرقا مفتی۔لاہور
(18.12.2009) پاکستان میں ایک نئی صبح کا آغاز۔از؛ زرقا مفتی
(07.12.2009) پاکستان کی دستار۔۔۔۔از؛ زرقا مفتی ۔لاہور
(13.11.2009) احتساب کے بغیر انصاف ۔۔۔۔۔ ناممکن ۔از؛زرقا مفتی ۔لاہور
(02.11.2009) امریکہ سے طلاق ۔از؛ زرقا مفتی ۔لاہور
(01.11.2009) سچ کے سفر پر عالمی اخبار کے ساتھ ۔ از؛ زرقا مفتی
(26.10.2009) ایک ہی لاحقہ ہے جو ایک مقناطیس ہے۔از۔زرقا مفتی
(16.10.2009) مسئلہ اپنی بقا کا ہے۔ از زرقا مفتی،لاہور
(09.10.2009) امریکہ کی ہمدردی ۔ ۔ ۔ ہماری سر دردی۔از؛ زرقا مفتی
(01.10.2009) سچ کے سفر پر عالمی اخبار کے ساتھ ۔ از؛ زرقا مفتی
(09.09.2009) ہنگامہ ہے کیوں برپا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔از زرقا مفتی



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں