جوہری ہتھیاروں کے لئے درکار انتہائی افزودہ ایٹمی مادوں کی پیداوار کو روکنے کے لئے عنقریب ہی بین الاقوامی مذاکرات شروع کرانے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں عالمی برادری کی نظریں پاکستان پر بھی لگی ہیں۔
سوئٹزرلینڈ سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق جنیوا میں اقوام متحدہ کے لئے پاکستانی سفیر ضمیر اکرم نے مبینہ طور پر عالمی طاقتوں پر واضح کر دیا ہے کہ پاکستان انتہائی افزودہ ایٹمی مادوں کی تیاری روک دینے سے متعلق مجوزہ بین الاقوامی مذاکرات کے عنقریب ہی شروع ہو جانے کو قبول نہیں کر سکتا۔
خبر ایجنسی روئٹرز نے اعلیٰ سفارتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے جمعہ کی رات جنیوا سے اپنی رپورٹوں میں بتایا کہ پاکستانی سفیر ضمیر اکرم نے ابھی حال ہی میں چینی سفیر وانگ چُن کی طرف سے دئے گئے ایک ظہرانے میں انتہائی افزودہ ایٹمی مادوں سے متعلق ممکنہ عالمی مذاکرات کے بارے میں اسلام آباد کا مؤقف واضح کر دیا۔
پاکستانی مؤقف واشنگٹن انتظامیہ کے لئے ایک دھچکہ ہو سکتا ہے یہ مبینہ مؤقف خاص طور پر اقوام متحدہ اور امریکہ میں اوباما انتظامیہ کی ان کوششوں کے لئے ایک دھچکہ ہو سکتا ہے جو ایف ایم سی ٹی مذاکرات کے آغاز کے لئے کی جا رہی ہیں۔ یہی مذاکرات وہ اگلا مرحلہ ہوں گے جس کے بعد ایٹمی ہتھیاروں کے کثیر الفریقی خاتمے کی طرف بڑھا جا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے تعاون سے ہتھیاروں کے خاتمے کے لئے کوشش کی ہے کہ جلد ہی انتہائی افزودہ یورینیم اور پلوٹونیم کی تیاری کو عالمی سطح پر روک دینے سے متعلق وہ مذاکرات شروع ہو جائیں جنہی ایف ایم سی ٹی کا نام دیا جا رہا ہے۔ یہ ’کٹ آف‘ معاہدہ اس لئے ضروری ہے کہ جب تک ایٹم بموں کی تیاری میں استعمال ہونے والے جوہری مادوں کی تیاری بند نہیں ہو گی، تب تک ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے یا ان پر پابندی کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔
اس سلسلے میں جنیوا فورم کے رکن 65 ملک اپنے طور پر بات چیت بھی کر رہے ہیں۔ ان ملکوں میں اسرائیل، شمالی کوریا اور ایران بھی شامل ہیں۔ تاہم روئٹرز کے مطابق پاکستانی سفیر نے مبینہ طور پر واضح کر دیا ہے کہ اسلام آباد فی الحال اس پوزیشن میں نہیں کہ ایٹمی مادوں کے ’کٹ آف‘ معاہدے کے لئے مذاکرات کے مستقبل قریب میں شروع ہو جانے کو قبول کر سکے۔
اسی بارے میں جمعہ کی شام پاکستانی سفیر ضمیر اکرم نے رابطہ کرنے پر خبر ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ ایف ایم سی ٹی معاہدے کے بارے میں پاکستان کی اپنی ایک پوزیشن ہے، جو صحیح وقت پر واضح کی جائے گی۔ اس کے علاوہ یہ کہ جو کچھ بھی انہوں نے کہا، اسے بنیادی شرائط اور سیاق وسباق کے پس منظر میں دیکھا جانا چاہئے۔ پاکستان بھارت کے علاوہ جنوبی ایشیا کی دوسری ایٹمی طاقت ہے۔
( بشکریہ ڈوئچے ویلے )