معروف کالم نگار اور روزنامہ جنگ لاہور کے سینیئر ایڈیٹر ارشاد احمد حقانی کی نماز جنازہ لاہور میں ادا کی گئی بعدازاں ان کی میت تدفین کے لئے قصور روانہ کردی گئی۔
ارشاد احمد حقانی کی نماز جنازہ گلبر گ میں ان کی رہائش گاہ کے قریب گراؤنڈ میں ادا کی گئی جس میں سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، سابق وزیرخزانہ سرتاج عزیز، جماعت اسلامی کے چوہدری محمد اسلم سلیمی، فرید احمد پراچہ،سینیٹر پرویز رشید، وزیر خوراک پنجاب ملک ندیم کامران، پیپلز پارٹی کے رہنما اسلم گل ،منیر احمد خان، اخبارات کے مدیروں ، کالم نگاروں اور سینیئر صحافیوں نے شرکت کی۔
پیپلز پارٹی کے رہنمامنور انجم نے صدر آصف زرداری کی طرف سے پھولوں کی چادر پیش کی
مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی طرف سے سینیٹر پرویز رشید اور وزیر خوراک ملک ندیم کامران تدفین میں شرکت کے لیے قصور گئے ہیں۔
اس ے پہلے کی خبر کے مطابق روزنامہ جنگ کے سینئر ایڈیٹر،میر خلیل الرحمن سوسائٹی کے سرپرست ،مستند کالم نگار اوردانشور ارشاداحمد حقانی آج صبح لاہور میں انتقال کرگئے،وہ کافی عرصے سے عارضہ قلب میں مبتلاتھے۔ارشاد حقانی روزنامہ جنگ لاہورکے بانیوں میں شامل تھے اور ان کے کالم حرف تمنا کو سیاسی اوردانشورحلقوں اورقارئین میں انتہائی پذیرائی حاصل تھی ۔
ارشاد حقانی انیس سو اٹھائیس میں قصور میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنی نوجوانی میں جماعت اسلامی سے وابستہ رہے
مرحوم نے استاد کی طور پر قصور کالج میں بھی پڑھایا جبکہ انیس سو ا کاسی میں جب لاہور سے جنگ اخبار کی اشاعت شروع ہوئی تو وہ اس کے ساتھ منسلک ہوگئے۔
انہیں انتہائی عقیدت اوراحترام کی نگاہ سے دیکھاجاتاتھا اورمقتدرسیاسی حلقے ان کے کالم سے رہنمائی حاصل کرتے تھے۔ارشاد حقانی ابتدا میں جماعت اسلامی سے وابستہ رہے،وہ پچاس کی دہائی کی ابتدا میں جماعت اسلامی کے روزنامہ تسنیم کے مدیر بھی رہے ۔جماعت اسلامی کے ماچھی گوٹھ میں اجتماع کے بعدوہ امین احسن اصلاحی گروپ سے وابستہ ہوگئے۔
مرحوم اسلامیہ کالج قصورکے پرنسپل کے فرائض بھی انجام دیتے رہے ۔1981میں لاہور سے روزنامہ جنگ کی اشاعت کے بعد بطورکالم نگاروابستہ ہوگئے ۔ 1993 میں وہ نگران حکومت میں تین ماہ کے لئے وفاقی وزیراطلاعات ونشریات بھی رہے ۔انہوں نے ہمیشہ حق کی آواز بلند کی اور سیاسی مسائل پر وہ مدلل اوردوٹوک انداز میں اظہار خیال کرتے تھے۔مرحوم نے پسماندگان میں دوبیٹے اوردوبیٹیاں چھوڑی ہیں۔