منگل چار نومبر دو ھزار آٹھ کے دن دنیا کی تاریخ کا سب سے اھم باب لکھاگیا جب پوری دنیا نے جاگ کر سنا اور دیکھا بھی کہ افریقی نژاد باراک اوبامہ
پہلے سیاہ فام امریکی صدر بن گئے ۔ اور اُن کے اُس خواب کی تکمیل ھوئی جو مارٹن لوتھر کنگ نے 1963 میں دیکھا تھا کہ سیاہ فام سفید فاموں کے ساتھ بغیر کسی فرق کے اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر ایک ساتھ کھڑے ھیں ۔
مارٹن لوتھر کنگ نے جن خوابوں کا زکر کیا تھا وہ سیاہ فاموں کے پانچ سو سال کی دکھوں کی کہانی ختم کرنے کا تھا ۔ ان امتیازی امریکی قوانین کے خلاف جد و جہد کا آغاز تھا جن کے تحت امریکی سیاہ فام افراد حقِ رائے دہی کے علاوہ اور بہت سی سہولیات سے محروم تھے۔
یہ خواب نسل در نسل چلا اور پھر اباراک اوبامہ کی آنکھوں کی منزل بن گیا اور یوں ایک روشن ملک میں اندھیروں کے ختم ھونے کی نوید “ ھیلو واشنگٹن “ کی آواز کی صورت پھیل گئی ۔
مجھے آج یہ سب نہیں لکھنا کہ پاکستان یا اور دنیا کے دوسرے ملکوں کا مستقبل اس سیاسی تبدیلی کے پس منظر میں کیا ھو گا ۔ میں تو بس یہی سوچے جا رھی ھوں کہ وہ خواب کیسے ھوتے ھوں گے جوحقیقت ھو جاتے ھیں اور جب زندہ جاوید خواب آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مسکراتے ھونگے تو کیسے لگتے ھونگے ۔
ایک بات تو طے ھے کہ خواب کو بسنے کے لیئے ظاہری آنکھیں نہیں بلکہ اندر کی آنکھیں چاھیئے تھی ۔ اور اُن آنکھوں کو وہ سبھاؤ چاھیئے تھا جو خواب
سنبھال سکیں ، انہیں ھمہ وقت جوان رکھ سکیں اور جب خود مرنے لگے تو وہ خواب کسی اور کی آنکھوں کے حوالے کر جایئں اور کشفی آنکھوں کے ساتھ معجزاتی دل بھی چاھیئے ھوتا ھے جو صبر سے تاریک شب سے گزر جانے کے یقین کے ساتھ اسے پانے کے سفر کا حوصلہ بھی رکھتے ھوں ۔
ایسے خواب جو بیک وقت کئی لوگوں کی منزل بنتے ھیں وہ روشن دلوں کو میسر آتے ھیں کہ وہ خود بھی روشنیوں سے پیار کرتے ھیں اور لوگوں کے دلوں کو بھی انہی روشنیوں سے بھرنا چاھتے ھیں ۔ ایسی آزادی کے خواب کو خلیل جبران نے ایک دفعہ کہا تھا کہ یہ ایسا ھی خواب ھے جیسے ایک سیاہ پرندہ کوہ آتش کے دھانے پر گیت گائے ۔۔۔۔ ایسے جیسے برف میں سوسن کے پھول اُگ آئیں ۔۔۔۔ایسے جیسے قبروں کے بیچ کوئی رقص کر رھا ھو یا پھر ایسے کہ کوئی بچہ کھوپڑیوں سے کھیل رھا ھو ۔۔۔۔ بس آزادی ایسی ھی ھے ۔۔۔۔ ایسی ھی پرخار اور دشوار ۔۔۔۔
تاریخ گواہ ھے کہ ایسے خواب دیکھنے والی آنکھوں کو بےنور کرنا ابن الوقت لوگوں کا شغل رھا ھے ۔ اور کتنے ھی ایسے لوگ تھے جو اس راہ میں مٹ گئے تھے اور اُن کے خواب آنکھ در آنکھ ہجرت کرتے ھی رھے ۔ شاید ھمارے ملکوں کی خاندانی دشمنیوں کی طرح کبھی ختم نہ ھونے والی بدلے کی آگ کی طرح انگار ھی رھے ۔
مجھے خواب ھمیشہ تخیل کے ست رنگی محدب عدسے کی طرح لگتے تھے جو ھلکی سی روشنی پر بھی آگہی کے نور میں بدل جاتے تھے ۔ تخیل کی یہ
جولانی اور خوابی پرواز پیغمبروں ، ولیوں اور صاحبانِ علم کے لیئے ایک قطب نما رھی ھے ۔ تخیل ھمیشہ خواب کا روپ دھار لیتے ھیں اور ظرف والوں کے کئی سفر شروع ھو جاتے ھیں ۔
ایسا ھی ایک خواب میرا بھی ھے جو خواہش کی طرح میری آنکھوں میں بسارھتا ھے ۔ اور وہ یہ ھے کہ ھم سب اپنی “ ذات“ اور “میں“کی قید سے آزاد ھو جایئں ۔ دوسروں کی کردار کُشی کرنے کی بجائے اپنے اپنے گریبان میں جھانکیں اور اپنے ضمیر کے آئینے میں اپنی وہ شکل دیکھیں جو اصل صورت ہے نا کہ وہ جو ہم دوسروں کو دکھاتے ہیں۔ ہم نام ‘‘منور‘‘ یا ‘‘روشن دین‘‘ رکھ کر تاریکیاں پھیلاتے ہیں اور وہ بھی خدا،رسول اور اہلیبیت کے نام پر۔
جو قومیں اپنے خوابوں کو حقیقت بنتا دیکھتی ہیں ان کے پاس اُس یقین کی دولت ہوتی ہے جس کے زور پر جب کالی کملی والے نے عرب کے جاہلوں سے پوچھا کہ کہ اگر میں تم کو کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک فوج ہے تو کیا تم یقین کر لو گے؟ تو ان کلمہ نہ پڑھے ہوئے عرب بدوؤں نے کہا کہ ہاں کیونکہ ہم نے تمہیں ہمیشہ صادق و امین پایا۔
آج اُسی صاحبِ یقین کی امت کی ایک غالب اکثریت اپنے ہی ہاتھ سے اپنا گلا دبا رہی ہے۔ اسکے ماننے والے اسی کے نام کے سہارے جھوٹ اور ریاکاری
کی وہ فصل کاشت کر رہے ہیں جو انکی اگلی نسلوں کا کاٹنا پڑے گی۔ نام نہاد قلم کار اور علم کے نام پر الفاظ کی قے کرنے والے لکھاری اپنے رسولِ بر حق کے ساتھ اپنی امت کو بھی بُرا نام دلوا رہے ہیں۔یقین کریں ایسے بے عمل معاشروں کی آنکھیں خوابوں سے خالی رہتی ہیں۔
دوستو ! کتنی جانگسل حقیبت ھے کہ “ذات “ اور “میں“ کے اس سفر میں کئی صدیوں سے ایک خواب بھی آنکھ در آنکھ ہجرت نہیں کر سکا ھے ۔