15.10.2026, 04:45pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » صفدر ھمٰدانی
 

صدر زرداری ''نظربد'' اور ‘‘کالے جادو ‘‘ کے اثر میں ۔ از ؛ صفدر ھمدانی
28.01.2010, 11:03am , جعمرات (GMT+1)

صفدر ھمدانی۔لندن


لیجئے پہلے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی یہ خبر پڑھ لیجئے کہ جس نے مجھے یہ چند سطور لکھنے پر مجبور کیا ہے اور میں نے جب سے یہ جانکاہ خبر پڑھی ہے برابر ‘‘جل تو جلال تو آئی بلا کو ٹال تو‘‘ کا ورد کر رہاہوں کہ اللہ پاک ہمارے زخم خوردہ اور امریکہ کے ہاتھوں فروخت شدہ وطن عزیز کے مالک و مختار صدر کو سلامت رکھے اور انکے ارد گرد بلکہ کھانے اور ناشتے کی ٹیبل پر انکے ساتھ بیٹھے انہی کے حاسد انہیں کوئی گزند نہ پہنچا سکیں کہ اگر انہیں خدا نخواستہ اس نظر بد اور کالے جادو سے کوئی نقصان ہوا تو پاکستان سے زیادہ نقصان یہ امریکہ بہادر کا ہو گا اور امریکہ کا نقصان ہمیں کسی طرح بھی قبول ،قبول،قبول نہیں۔

یہ خبر وطن عزیز کے موقر انگریزی روزنامے ڈان میں صدر کے ترجمان کے حوالے سے شائع ہوئی ہے اور اگر آپکی نظر سے نہیں گزری تو پڑھ لیجئے اور آپ بھی صدر زرداری کے لیئے دعا کریں اور ہو سکے تو کوئی چلہ کاٹیں کہ اللہ ان پر رحم کرے۔

 خبر اس طرح ہے کہ ‘‘پاکستان کے صدر آصف علی زرداری حاسدوں کی ''نظربد'' اور کالے جادو سے محفوظ رہنے کے لئے روزانہ ہی ایک کالے بکرے کو ذبح کرتے ہیں اور یہ عمل ان کے صدر بننے کے بعد سے کیا جارہا ہے. رپورٹ کے مطابق صدرزرداری کے ترجمان نے بتایا ہے کہ بکرے صدقہ کے طور پر ذبح کئے جارہے ہیں.
ایوان صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابرکا کہنا ہے کہ صدر زرداری صدقے کاعمل ایک طویل عرصہ سے کررہے ہیں۔
اخبارڈان کی رپورٹ کے مطابق آصف زداری کے ستمبر 2008ء میں حلف اٹھانے کے بعد سے زرداری ہاؤس میں سیکڑوں بکرے اوربکریاں ذبح کی جاچکی ہیں کیونکہ انکو‘‘نظر بد اور کالے جادو‘‘ کے اثر کا سامنا ہے‘‘‘

لیجئے سب سے پہلے تو یہ حساب کتاب کیا جائے کہ ستمبر دوہزار آٹھ سے اب 28جنوری 2010تک تقویم ماہ و سال کے حساب سے کتنے دن گزر چکے ہیں اور روزانہ ایک کالے بکرے کا جو صدقہ دیا جارہا ہے تو اب تک کتنے کالے بکرے صدر کے نام پر اپنے لہو میں سرخ ہو چکے ہیں اور اب پاکستان میں کالے بکروں کی نسل کا کیا بنے گا،لگتا ہے کہ اگلی قربانی کی عید پر شاید آپکو کوئی کالا بکرا نظر ہی نہ آئے کہ اتنے عرصے میں تو کالے بکروں کی نسل ہی ختم ہو جائے گی۔

 اللہ جانے صدقے کے معاملے میں یہ کالے بکرے کی شرط کن کالا بکرا دشمن عناصر نے پھیلائی ہوگیِ یہ چونکہ میرا موضوع نہیں اس لیئے میں کچھ نہیں کہہ سکتا کہ مولانا منیب الرحمان  مجھ غریب کے بارے میں گردن زدنی کا فتویٰ بھی دے سکتے ہیں اور میں تو پہلے ہی کتنے ‘‘مفت بر مفتیوں‘‘ کا مارا ہوا ہوں۔

ذرا پس منظر کے طور یاد دہانی کے لیئے عرض کرتا چلوں کہ آصف زرداری ملک کی حکمران جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چئیرمین بھی ہیں کیونکہ اصل چیئرمین بلاول بھٹو زرداری یہاں برطانیہ میں آکسفورڈ میں زیر تعلیم ہیں اور کسی طرح اے لیول کر ہی نہیں پا رہے اور صدر سمیت ساری پیپلز پارٹی تھوڑی تھوڑی دیر بعد کسی نی کسی بہانے سے پاکستان کے محکوم عوام کو یہ یاد دلاتے رہتے ہیں کہ انکے اگلے حکمران بلاول بھٹو زرداری ہیں۔ ویسے ہمیں یاد نہیں پڑتا کہ اس اٹھارہ کروڑ کی قوم کو اس ایک خاندان کے ہاتھوں کس نے بیچا ہوا ہے یا یرغمال بنایا ہوا ہے یا گروی رکھا ہے کہ اب انکے نعرے میں غیر تحریری طور پر اس نعرے کا اضافہ ہو گیا ہے کہ ‘‘حکومت ہماری وراثت ہے‘‘۔

اب ذرا جب حسن یار کی بات چلی ہے تو یہ بھی سنتے چلیں کہ آکسفورڈ میں زیر تعلیم شہزادے بلاول کی تعلیم پر نہیں صرف سیکورٹی پر کتنا خرچ آ رہا ہے۔

ایک برطانوی اخبار کے مطابق پیپلز پارٹی کے چئرپرسن بلاول بھٹو زرداری کی برطانیہ میں سکیورٹی پر دس لاکھ پاؤنڈ سالانہ تک خرچ آ رہے ہیں۔ اخبار ’دا سنڈے ایکسپریس‘ نے ایک پولیس افسر کے حوالے سے کہا ہے اوکسفرڈ یونیورسٹی میں زیر تعلیم بلاول بھٹو زرداری کی سکیورٹی پر کم سے کم دس لاکھ پاونڈ سالانہ کا خرچہ ہے۔ رپورٹ میں پولیس افسر کا نام نہیں ظاہر گیا ہے تاہم ان کے حوالے سے یہ بتایا گیا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کی سکیورٹی کا درجہ متنازعہ مصنف سلمان رشدی اور کے جی بی منحرف ایجنٹ اولگ گوردیئوسکی جیسا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس مبینہ خرچ کا کچھ حصہ بھٹو خاندان کو بھی برداشت کرنا پڑ رہا اور برطانیہ میں یہ بحث بھی جاری  ہے کہ کیا اس طالب علم کی سکیورٹی کا خرچ برطانوی ٹیکس دہندگان کے کھاتے میں ڈالنا مناسب ہے؟۔

خیر یہ ذکر تو بر سبیل تذکرہ تھا ورنہ بات یہ ہورہی تھی کہ پیپلز پارٹی فروری 2008ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں برسراقتدار آئی تھی اور بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف زرداری ایک نادیدہ وصیت کے زور پرسابق جنرل صدر پرویزمشرف کو اقتدار سے نکال باہر کرنے کے بعد ستمبر 2008ء میں صدر بن گئے تھے لیکن گذشتہ ڈیڑھ دوسال کے عرصہ میں ان کی مقبولیت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور انہیں ملک کے شمال مغربی علاقوں میں عسکریت پسندی سے لے کر ملک کی ابتر معاشی صورت حال تک مختلف مسائل کا سامنا ہے اور اس پر مستزد ان کی سیاسی طور پرروزبروزمخالفت میں اضافہ ہے.

ابھی گذشتہ ماہ ملک ہی سپریم کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کے جاری کردہ قومی مصالحتی آرڈی ننس این آر اوکو کالعدم قراردے دیا اور اس آرڈی ننس کے تحت آصف زرداری اور ان کے بیسیوں قریبی مصاحبین کے خلاف بدعنوانیوں اورکرپشن کے مقدمات ختم کردئیے گئے تھے لیکن یہ آرڈی ننس کالعدم قرارپانے کے بعد ان کے خلاف مقدمات دوبارہ بحال ہوگئے ہیں اوران سے بعض سیاسی جماعتیں استعفے کا بھی مطالبہ کر رہی ہیں جبکہ اس وقت عدلیہ کے علاوہ فوجی قیادت کے ساتھ بھی ان کی محاذآرائی جاری ہے.

یہ اور ایسے متعدد واقعات اگر ‘‘نظر بد اور کالے جادو‘‘ کی وجہ سے نہیں ہیں تو آخر کس وجہ سے ہیں؟

اس ساری خبر میں یقینی طور پر سچائی ہے کیونکہ ایک تو یہ صدر کے ترجمان کے نام سے ہے اور دوسرے ابھی تک ایوان صدر سے اسکی تردید جاری نہیں ہوئی ہے۔ مجھے سب سے زیادہ فکر اول تو کالے بکروں کی وجہ سے ہے اس طرح تو انکی نسل معدوم ہو رہی ہے ۔چاہیئے تو یہ کہ ملک میں اگر لائیو سٹاک کی کوئی وزرات ہے تو وہ اس کا نوٹس لے ورنہ وزیر مذہبی امور سے فتویٰ لے لیا جائے کہ صدقے کے لیئے براؤن اور سفید بکرا بھی چلے گا بلکہ دوڑے گا۔

دوسرے مجھے صدر کے حاسدوں کا پتہ چلوانا ہے کہ کون ہیں۔ اب سوچیں کہ کسی کو کسی سے حسد کیوں ہوتی ہے اور حسد کی بینادی وجہ مشترکہ مفادات ہوتے ہیں۔ اب میرے یا بھائی شمس جیلانی کے یا پھر منظور قاضی کے تو ایسے کوئی مشترکہ مفادات صدر زرداری کے ساتھ ہیں ہی نہیں نہ بزنس کے اور نہ ہوس اقتدار کے۔  اس لیئے الحمد اللہ ہم تو کوئی وکیل کیئے بغیر ہی صدر زرداری کے حاسدوں کی فہرست سے خارج بلکہ باعزت خارج ہو گئے۔

اب ایسے میں مجھے عینک کے بغیر اور عینک سمیت بھی جو انکے حاسد نظر آتے ہیں تو وہ انکے وہی مشیر،وزیر اور حواری ہیں جوکھانا بھی انکے ساتھ ایک ہی میز پر کھاتے ہیں اور خود غیر قانونی ہونے کے باوجود انہیں قانونی مشورے دیتے ہیں۔ ویسے اگر غور  کریں تو یہ بات بھی درست ہے کہ خود صدر زرداری کے اپنے ہوتے ہوئے انہیں بھلا کسی حاسد یا دشمن کی کیا ضرورت ہے۔ ہو سکتا ہے کہ مسلم لیگ ن مجموعی طور پر انکی حاسد ہو یا پھر ایم کیو ایم والے۔

ویسے بھی لندن میں مقیم پیر بھائی الطاف حسین کی ذات بابرکات معجز نما بھی ہے کہ ایک زمانے میں کراچی میں درختوں کے پتوں پر انکی شبیہہ نمودار ہونا شروع ہو گئی تھی اور اب تو انہیں مرحومین کے لیئے فاتحہ پڑھنے اور ایصال ثواب کی مجلس پڑھنے کا بھی خاصہ تجربہ ہو گیا ہے تو کالے جادو کی وجہ سے ذرا سا دھیان انکی طرف بھی جاتا ہے۔

ہوسکتا ہے کہ این پی والوں نے صدر کو نظر لگائی ہو اور چارسدہ کے پیر صاحب کاکا جی سے کوئی کالا جادو کروایا ہو،

وجہ کوئی بھی ہو۔ کالے جادو کا توڑ اب کالا بکرا ہے لیکن نظر بد کے توڑ کے سلسلے میں صدر کے ترجمان نے ابھی تک کوئی وضاحت نہیں کہ کی کیا سرخ ثابت مرچ کو وار کر جلایا جا رہا ہے یا پھر کنواری بکری کے دودھ میں زعفران ملا کر چھ ماہ کی عمر کے درخت کے تنے پر ‘‘دژم دژالوں دژم دژالوں ‘‘ لکھا جارہا ہے یا پھر ایوان صدر کے مضافات میں امام بری کے مزار پر آئی جی پولیس اسلام آباد کی حفاظت میں مجاور چلہ کاٹ رہے ہیں۔

میرے خیال میں تو فرشتہ رحمان یعنی رحمان ملک کو ‘‘یا رحمان‘‘ کا ورد ہر روز ایک لاکھ بار اسوقت تک کرنا چاہیئے جب تک صدر صاحب پر سے یہ سفلی اثرات ختم نہیں ہو جاتے اور پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری ڈوبنے کے خطرات ٹل نہیں جاتے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے وزیر اعظم چونکہ خود ملتان کے گدی نشین سید ہیں وہ اپنے معتقدین سے اٹھارہ کروڑ عوام کے نام پر اٹھارہ کروڑ مرتبہ‘‘اللہ خلاصی کروا‘‘ کا ورد بھی کروا سکتے ہیں۔

ویسے اسلام آباد میں اور اس کے مضافات میں بڑے بڑے پیر فقیر مقیم ہیں۔ ایوان صدر کے اہل کاروں کو ان سے بھی رجوع کرنا چاہیئے اور پاکستان میں ریڈیو اور ٹی وی قومی نشریاتی رابطے پر براہ راست ‘‘ جل تو جلال تو‘‘ کے ورد کی میراتھن ٹرانسمیشن ہونی چاہیئے تا کہ گوادر سے شمالی اور جنوبی وزیرستان تک ملک کا ہر فرد اپنے انگریزی والے ''ہر'' دلعزیز صدر کے لیئے نظر بد کے خاتمے اور کالے جادو کے توڑ کے عمل میں شریک ہو سکے۔

ایک ورد میں بھی تجویز کیئے دیتا ہوں لیکن اسکا رسک خود پڑھنے والا لے گا میں ذمیدار نہیں ہوں۔ صبح صادق سے قبل اور صبح کاذب کے بعد،ایک منگل سے دوسرے منگل تک روزانہ اس تحریر کو کسی سوئس بکرے کے خون سے لکھکر سرے محل کے صدر دروازے پر لٹکایا جائے اور قومی اسمبلی میں ہر جماعت کا رکن ‘‘کورس‘‘ کے انداز میں پڑھا جائے۔

دژم دژالوں۔ دژم دژالوں
نکید ژانکہ،شنید آدرش
یک نخوشہ
سڈم کباڑم،سیان پختم
نشان اڑپچھ
سیان مڑ پچھ
بیان گڑ مچھ

:دیگر مضامین
(17.12.2009) کاش سپریم کورٹ اب ہر ایک بدعنوان کو ننگا کر ے۔از۔صفدر ھمدانی
(09.12.2009) انسداد بدعنوانی کا عالمی دن اور سپریم کورٹ میں این آر او۔از۔صفدر ھمٰدانی
(29.11.2009) دسمبر تم بھی بھگتو گے دسمبر سے ڈراتے ہو ۔از؛ صفدر ہمدانی
(27.11.2009) اُمت پہ سخت وقت ہے امداد یا نبی ۔از؛ صفدر ھمٰدانی
(24.11.2009) ایسی ہی ایک فہرست فوجی جرنیلوں کی بھی شائع کی جائے۔از۔صفدر ھمٰدانی
(20.09.2009) دوستو کونسی عید اور کہاں کی عید ؟از صفدر ہمدانی
(26.07.2009) پاکستانی حکومت طالبان کے ہاتھوں یرغمال۔از صفدر ھمٰدانی
(03.07.2009) جہالت ختم کرنے والی نبی کی امت جہل میں مبتلا۔از صفدر ھمٰدانی
(25.05.2009) مگر یہ جنگ تو ابلیس کے چیلوں کی جنگ ہے۔از صفدر ھمٰدانی
(03.05.2009) ملک میں تعلیم کا نوحہ کس کو سنائیں۔از۔صفدر ھمٰدانی
(27.04.2009) زمین کے نام ایک خط۔از۔صفدر ھمٰدانی
(18.03.2009) عوام کی طاقت کا کریڈٹ اپنے نام نہ لگائیں۔از صفدر ھمٰدانی
(02.03.2009) بےشرم حکمران اور بے شرم عوام ۔از۔ صفدر ھمدانی
(26.02.2009) ‘‘عدالت بِک گئی اک بار پھر زردار کے ہاتھوں‘‘از صفدر ھمٰدانی
(08.01.2009) حسین آؤ کہ آج دنیا کو پھر ضرورت ہے کربلا کی۔از۔صفدر ھمٰدانی
(16.12.2008) ب سے بوٹ ، ب سے بش ۔از ۔صفدر ھمدانی ۔لندن
(26.11.2008) پاکستان کا کرپٹ عدالتی نظام۔از صفدر ھمٰدانی
(13.11.2008) سانپ کی بِل سے بجلی کے بِل تک۔ از صفدر ھمدانی
(05.11.2008) اوبامہ کی فتح۔مارٹن لوتھر کنگ کے خواب کی تعبیر؟از صفدر ھمٰدانی
(03.11.2008) تُم نے پاؤں کا جوتا بنایا ہے آئین کو!



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں