گزشتہ دنوں برٹین آن ٹرینٹ سٹیفورڈشائر میں ڈاکٹر سکندر عباس کے دولت کدے پر مرثیہ نوتصنیف کی پہلی مجلس عزا منعقد ہوئی جس میں مرثیہ کے چنیدہ اور مخصوص شائقین نے شرکت کی اور اسے مرثیہ کی مکمل مجالس کا احیا قرار دیا ہے جو گزشتہ تیرہ سو سال سے زائد عرصے تک واقعات کربلا کے ابلاغ کی مقبول صنف رہی ہے اور شہادت امام حسین علیہ السلام کے بعد مجالس عزا اسی صنف عزا میں ہوتی رہیں تا آنکہ گزشتہ لگ بھگ پچھتہر برس سے خطابت کی مجالس نے زور پکڑا اور مرثیہ نوتصنیف کی مجالس جیسے ناپید ہو گئیں

اب گزشتہ چند برس سے ایک بار پھر مرثیہ نو تصنیف کی مجالس کا احیا ہوا ہے اور پاکستان اور بھارت کے علاوہ برطانیہ اور امریکہ میں مرثیے کی مکمل مجالس کا اہتمام ہو رہا ہے۔
ڈاکٹر سکندر عباس کے گھر پر ہونے والی مرثیہ نو تصنیف کی مجلس عزا اسی سلسلے کی کڑی تھی۔مجلس عزا کا آغاز حدیث کساء سے ہوا جسکی تلاوت صاحب خانہ
ڈاکٹر سکندر عباس نے کی۔
اعوذ و بالله من الشیطان الرجیمبسم الله الرحمن الرحیمعَنْ فاطِمَةَ الزَّهْراَّءِ عَلَيْهَا السَّلامُ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِوَآلِهِ قالَ سَمِعْتُ فاطِمَةَ اَنَّها قالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ اَبى رَسُولُ اللَّهِ فىبَعْضِ الاَْيّامِ فَقالَ السَّلامُ عَلَيْكِ يا فاطِمَةُ فَقُلْتُ عَلَيْكَ السَّلامُ قالَ اِنّى اَجِدُ فى بَدَنى ضُعْفاً فَقُلْتُ لَهُ اُعيذُكَ بِاللَّهِ يا اَبَتاهُ مِنَ الضُّعْفِ فَقَالَ يا فاطِمَةُ ايتينى بِالْكِساَّءِ الْيَمانى فَغَطّينى بِهِ فَاَتَيْتُهُ بِالْكِساَّءِ الْيَمانى فَغَطَّيْتُهُ بِهِ وَصِرْتُ اَنْظُرُ اِلَيْهِ وَاِذا وَجْهُهُ يَتَلاَْلَؤُ كَاَنَّهُ الْبَدْرُ فى لَيْلَةِ تَمامِهِ وَكَمالِهِ فَما كانَتْ اِلاّ ساعَةً وَاِذا بِوَلَدِىَ الْحَسَنِ قَدْاَقْبَلَ وَقالَ السَّلامُ عَلَيْكِ يا اُمّاهُ فَقُلْتُ وَعَلَيْكَ السَّلامُ يا قُرَّةَ عَيْنىوَثَمَرَةَ فُؤ ادى فَقالَ يا اُمّاهُ اِنّى اَشَمُّ عِنْدَكِ راَّئِحَةً طَيِّبَةً كَاَنَّها راَّئِحَةُ جَدّى رَسُولِ اللَّهِ فَقُلْتُ نَعَمْ اِنَّ جَدَّكَ تَحْتَ الْكِساَّءِ فَاَقْبَلَ الْحَسَنُنَحْوَ الْكِساَّءِ وَقالَ السَّلامُ عَلَيْكَ يا جَدّاهُ يا رَسُولَ اللَّهِ اَتَاْذَنُ لى اَنْاَدْخُلَ مَعَكَ تَحْتَ الْكِساَّءِ فَقالَ وَعَلَيْكَ السَّلامُ يا وَلَدى وَياصاحِبَ حَوْضى قَدْ اَذِنْتُ لَكَ فَدَخَلَ مَعَهُ تَحْتَ الْكِساَّءِ فَما كانَتْاِلاّ ساعَةً وَاِذا بِوَلَدِىَ الْحُسَيْنِ قَدْ اَقْبَلَ وَقالَ السَّلامُ عَلَيْكِ يا اُمّاهُفَقُلْتُ وَعَلَيْكَ السَّلامُ يا وَلَدى وَيا قُرَّةَ عَيْنى وَثَمَرَةَ فُؤ ادى فَقالَلى يا اُمّاهُ اِنّىَّ اَشَمُّ عِنْدَكِ راَّئِحَةً طَيِّبَةً كَاَنَّها راَّئِحَةُ جَدّى رَسُولِاللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ فَقُلْتُ نَعَمْ اِنَّ جَدَّكَ وَاَخاكَ تَحْتَ الْكِساَّءِفَدَنَى الْحُسَيْنُ نَحْوَ الْكِساَّءِ وَقالَ السَّلامُ عَلَيْكَ يا جَدّاهُ اَلسَّلامُعَلَيْكَ يا مَنِ اخْتارَهُ اللَّهُ اَتَاْذَنُ لى اَنْ اَكُونَ مَعَكُما تَحْتَ الْكِساَّءِفَقالَ وَعَلَيْكَ السَّلامُ يا وَلَدى وَيا شافِعَ اُمَّتى قَدْ اَذِنْتُ لَكَ فَدَخَلَمَعَهُما تَحْتَ الْكِساَّءِ فَاَقْبَلَ عِنْدَ ذلِكَ اَبُوالْحَسَنِ عَلِىُّ بْنُ اَبى طالِبٍوَقالَالسَّلامُ عَلَيْكِ يا بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ فَقُلْتُ وَعَلَيْكَ السَّلامُ يا اَبَاالْحَسَنِ وَ يا اَميرَ الْمُؤْمِنينَ فَقالَ يا فاطِمَةُ اِنّى اَشَمُّ عِنْدَكِ رائِحَةًطَيِّبَةً كَاَنَّها راَّئِحَةُ اَخى وَابْنِ عَمّى رَسُولِ اللَّهِ فَقُلْتُ نَعَمْ ها هُوَ مَعَوَلَدَيْكَ تَحْتَ الْكِساَّءِ فَاَقْبَلَ عَلِىُّ نَحْوَ الْكِساَّءِ وَقالَ السَّلامُ عَلَيْكَيا رَسُولَ اللَّهِ اَتَاْذَنُ لى اَنْ اَكُونَ مَعَكُمْ تَحْتَ الْكِساَّءِ قالَ لَهُ وَعَلَيْكَ السَّلامُ يا اَخى يا وَصِيّى وَخَليفَتى وَصاحِبَ لِواَّئى قَدْ اَذِنْتُ لَكَفَدَخَلَ عَلِىُّ تَحْتَ الْكِساَّءِ ثُمَّ اَتَيْتُ نَحْوَ الْكِساَّءِ وَقُلْتُ اَلسَّلامُعَلَيْكَ يا اَبَتاهُ يا رَسُولَ اللَّهِ اَتَاْذَنُ لى اَن اَكُونَ مَعَكُمْ تَحْتَ الْكِساَّءِقالَ وَعَلَيْكِ السَّلامُ يا بِنْتى وَيا بَضْعَتى قَدْ اَذِنْتُ لَكِ فَدَخَلْتُ تَحْتَالْكِساَّءِ فَلَمَّا اكْتَمَلْنا جَميعاً تَحْتَ الْكِساَّءِ اَخَذَ اَبى رَسُولُ اللَّهِبِطَرَفَىِ الْكِساَّءِ وَاَوْمَئَ بِيَدِهِ الْيُمْنى اِلَى السَّماَّءِ وَقالَ اَللّهُمَّ اِنَّهؤُلاَّءِ اَهْلُ بَيْتى وَخ اَّصَّتى وَح اَّمَّتى لَحْمُهُمْ لَحْمى وَدَمُهُمْ دَمىيُؤْلِمُنى ما يُؤْلِمُهُمْ وَيَحْزُنُنى ما يَحْزُنُهُمْ اَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حارَبَهُمْوَسِلْمٌ لِمَنْ سالَمَهُمْ وَعَدُوُّ لِمَنْ عاداهُمْ وَمُحِبُّ لِمَنْ اَحَبَّهُمْ اِنَّهُمْمِنّى وَاَ نَا مِنْهُمْ فَاجْعَلْ صَلَواتِكَ وَبَرَكاتِكَ وَرَحْمَتَكَ وَغُفْرانَكَوَرِضْوانَكَ عَلَىَّ وَعَلَيْهِمْ وَاَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهيراًفَقالَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ يا مَلاَّئِكَتى وَي ا سُكّ انَ سَم و اتى اِنّى ما خَلَقْتُسَماَّءً مَبْنِيَّةً وَلا اَرْضاً مَدْحِيَّةً وَلا قَمَراً مُنيراً وَلا شَمْساً مُضِيَّئَةً وَلافَلَكاً يَدُورُ وَلا بَحْراً يَجْرى وَلا فُلْكاً يَسْرى اِلاّ فى مَحَبَّةِ هؤُلاَّءِالْخَمْسَةِ الَّذينَ هُمْ تَحْتَ الْكِساَّءِ فَقالَ الاَْمينُ جِبْراَّئيلُ يا رَبِّ وَمَنْتَحْتَ الْكِساَّءِ فَقالَ عَزَّوَجَلَّ هُمْ اَهْلُ بَيْتِ النُّبُوَّةِ وَمَعْدِنُ الرِّسالَةِهُمْ فاطِمَةُ وَاَبُوها وَبَعْلُها وَبَنُوها فَقالَ جِبْراَّئيلُ يا رَبِّ اَتَاْذَنُ لى اَنْاَهْبِطَ اِلَى الاَْرْضِ لاَِكُونَ مَعَهُمْ سادِساً فَقالَ اللَّهُ نَعَمْ قَدْ اَذِنْتُ لَكَفَهَبَطَ الاَْمينُ جِبْراَّئيلُ وَقالَ السَّلامُ عَلَيْكَ يا رَسُولَ اللَّهِ الْعَلِىُّالاَْعْلى يُقْرِئُكَ السَّلامَ وَيَخُصُّكَ بِالتَّحِيَّةِ وَالاِْكْرامِ وَيَقُولُ لَكَوَعِزَّتى وَجَلالى اِنّى ما خَلَقْتُ سَماَّءً مَبْنِيَّةً وَلا اَرْضاً مَدْحِيَّةً وَلاقَمَراً مُنيراً وَلا شَمْساً مُضَّيئَةً وَلا فَلَكاً يَدُورُ وَلا بَحْراً يَجْرى وَلافُلْكاً يَسْرى اِلاّ لاَِجْلِكُمْ وَمَحَبَّتِكُمْ وَقَدْ اَذِنَ لى اَنْ اَدْخُلَ مَعَكُمْ فَهَلْ تَاْذَنُ لى يا رَسُولَ اللَّهِ فَقالَ رَسُولُ اللَّهِ وَعَلَيْكَ السَّلامُ يااَمينَ وَحْىِ اللَّهِ اِنَّهُ نَعَمْ قَدْ اَذِنْتُ لَكَ فَدَخَلَ جِبْراَّئيلُ مَعَنا تَحْتَالْكِساَّءِ فَقالَ لاَِبى اِنَّ اللَّهَ قَدْ اَوْحى اِلَيْكُمْ يَقُولُ اِنَّما يُريدُ اللَّهُلِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهيراً فَقالَ عَلِىُّ لاَِبىيا رَسُولَ اللَّهِ اَخْبِرْنى ما لِجُلُوسِنا هذا تَحْتَ الْكِساَّءِ مِنَ الْفَضْلِ عِنْدَاللَّهِ فَقالَ النَّبِىُّ وَالَّذى بَعَثَنى بِالْحَقِّ نَبِيّاً وَاصْطَفانى بِالرِّسالَةِ نَجِيّاًما ذُكِرَ خَبَرُنا هذا فى مَحْفِلٍ مِنْ مَحافِلِ اَهْلِ الاَْرْضِ وَفيهِ جَمْعٌ مِنْشَيعَتِنا وَمُحِبّينا اِلاّ وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمُ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْ بِهِمُ الْمَلاَّئِكَةُوَاسْتَغْفَرَتْ لَهُمْ اِلى اَنْ يَتَفَرَّقُوا فَقالَ عَلِىُّ اِذاً وَاللَّهِ فُزْنا وَفازَ شيعَتُنا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ فَقالَ النَّبِىُّ ثانِياً يا عَلِىُّ وَالَّذى بَعَثَنى بِالْحَقِّ نَبِيّاًوَاصْطَفانى بِالرِّسالَةِ نَجِيّاً ما ذُكِرَ خَبَرُنا هذا فى مَحْفِلٍ مِنْ مَحافِلِاَهْلِ الاَْرْضِ وَفيهِ جَمْعٌ مِنْ شيعَتِنا وَمُحِبّينا وَفيهِمْ مَهْمُومٌ اِلاّوَفَرَّجَ اللَّهُ هَمَّهُ وَلا مَغْمُومٌ اِلاّ وَكَشَفَ اللَّهُ غَمَّهُ وَلا طالِبُ حاجَةٍ اِلاّوَقَضَى اللّهُ حاجَتَهُ فَقالَ عَلِىُّ اِذاً وَاللَّهِ فُزْنا وَسُعِدْنا وَكَذلِكَشيعَتُنا فازُوا وَسُعِدُوا فِى الدُّنْيا وَالاْخِرَةِ وَرَبِّ الْكَعْبَة اللہم صل علی محمد و آل محمد وعجل فرجہم واحشرنا معہم و لعن اعدائہم اجمعینحدیث کساء کے بعد لندن سے تشریف لائے
معروف سوز خوان و مرثیہ خوان سید آصف رضا نے سوز خوانی کی اور حسب روایت رباعی،سوز،سلام اور ایک مرثیے کے چند بند پیش کیئے جنہیں حاضرین نے نعرہ صلوات کی گونج میں خوب سراہا۔ آصف رضا موجودہ دور کے ایسے مرثیہ اور سوزخوانوں میں سے ہیں جنہوں نے اس فن کی باقاعدہ تربیت حاصل کی ہے جو گائیکی اور سوز خوانی کے درمیان فرق سے بخوبی آشنا ہیں۔

آصف رضا کے بعد
ڈاکٹرقیصر زیدی نے مجلس عزا سے خطاب کی اور سورہ والعصر کے حوالے سے جامع اور مدلل گفتگو کی۔ ڈاکٹر قیصر عباس پیشے کے اعتبار سے نفسیات کے ڈاکٹر ہیں لیکن خطابت انکے خاندان کا شرف رہی ہے۔ مجالس عزا کے حوالے سے برصغیر خاص طور پر پاکستان کے سوگواران حسین دو بڑے اور مقبول ناموں سے بخوبی واقف ہیں جن میں سے ایک نام سید افسر عباس زیدی اور دوسرا مولانا اکبر عباس کا ہے۔
ڈاکٹر قیصر زیدی کا تعلق بھی اسی نابغہ روزگار گھرانے سے ہے کہ سید افسر عباس زیدی مرحوم و مغفور انکے والد اور مولانا اکبر عباس دادا تھے۔
ڈاکٹر قیصر عباس نے بتایا کہ انکی ایک زمانے سے خطاب کرنے کی خواہش تھی لیکن وہ ڈاکٹر سکندر عباس کے گھر پر ہونے والی مرثیہ نو تصنیف کی مجلس عزا سے اپنی خطابت کا آغاز کر رہے ہیں اور دعا گو ہیں کہ انکا یہ مشن جاری وساری

رہے۔
ڈاکٹر قیصر زیدی کے بعد لندن سے تشریف لائے
شاعرِ آلِ عباء صفدر ھمدانی نے شہادت جناب سکینہ سلام اللہ کی مناسبت سے مرثیہ نو تصنیف پیش کیا اور مرثیے سے قبل اپنے خطاب میں انہوں نے علم کی اہمیت اور مرثیے کے فن کی ناقدری پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس دور میں مجالس عزا میں علم کا زور کم اور کمرشل ازم کے باعث دکھاوے پر زیادہ زور آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پڑھے لکھے لوگ منبرپر آنا شروع ہوں تا کہ کم علمی اور ملائیت کا خاتمہ ہو منبر سے علم کی ترسیل ہو سکے
انہوں نے ڈاکٹر سکندر عباس کو مرثیے کی مجالس کی بنیاد رکھنے پر اور ڈاکٹر قیصر زیدی کو خطابت شروع کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ منبر کو کم علم اور

نفاق پھیلانے والے ملاؤں سے بچایا جائے اور محمد آل محمد کا دین لوگوں تک پہنچایا جائے،
اپنے خطاب کے بعد صفدر ھمدانی نے مرثیہ نو تصنیف پیش کیا جس شائقین مرثیہ نے نہایت دلجمعی سے سماعت کیا اور مصائب شہزادی سکینہ سلام اللہ پر گریہ وزاری کی۔
اسکے بعد ماتم حسین ہوا اور سید آصف رضا نے نوحہ خوانی کی۔
اختتام مجلس پر نماز مغربین باجماعت ادا کی گئی اور بعد میں نیاز امام حسین علیہ السلام کا اہتمام کیا گیا۔