19.10.2026, 03:31pm , سوموار (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

ڈاکٹر سکندر عباس کے گھر پر مرثیہ نو تصنیف کی پہلی مجلس عزا
02.02.2010, 01:08am , منگل (GMT+1)

عالمی اخبار لندن بیورو

گزشتہ دنوں برٹین آن ٹرینٹ سٹیفورڈشائر میں ڈاکٹر سکندر عباس کے دولت کدے پر مرثیہ نوتصنیف کی پہلی مجلس عزا منعقد ہوئی جس میں مرثیہ کے چنیدہ اور مخصوص شائقین نے شرکت کی اور اسے مرثیہ کی مکمل مجالس کا احیا قرار دیا ہے جو گزشتہ تیرہ سو سال سے زائد عرصے تک واقعات کربلا کے ابلاغ کی مقبول صنف رہی ہے اور شہادت امام حسین علیہ السلام کے بعد مجالس عزا اسی صنف عزا میں ہوتی رہیں تا آنکہ گزشتہ لگ بھگ پچھتہر برس سے خطابت کی مجالس نے زور پکڑا اور مرثیہ نوتصنیف کی مجالس جیسے ناپید ہو گئیں

اب گزشتہ چند برس سے ایک بار پھر مرثیہ نو تصنیف کی مجالس کا احیا ہوا ہے اور پاکستان اور بھارت کے علاوہ برطانیہ اور امریکہ میں مرثیے کی مکمل مجالس کا اہتمام ہو رہا ہے۔

ڈاکٹر سکندر عباس کے گھر پر ہونے والی مرثیہ نو تصنیف کی مجلس عزا اسی سلسلے کی کڑی تھی۔

مجلس عزا کا آغاز حدیث کساء سے ہوا جسکی تلاوت صاحب خانہ ڈاکٹر سکندر عباس نے کی۔
اعوذ و بالله من الشیطان الرجیم
بسم الله الرحمن الرحیم
عَنْ فاطِمَةَ الزَّهْراَّءِ عَلَيْهَا السَّلامُ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَآلِهِ قالَ سَمِعْتُ فاطِمَةَ اَنَّها قالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ اَبى رَسُولُ اللَّهِ فى
بَعْضِ الاَْيّامِ فَقالَ السَّلامُ عَلَيْكِ يا فاطِمَةُ فَقُلْتُ عَلَيْكَ السَّلامُ قالَ
 اِنّى اَجِدُ فى بَدَنى ضُعْفاً فَقُلْتُ لَهُ اُعيذُكَ بِاللَّهِ يا اَبَتاهُ مِنَ الضُّعْفِ
 فَقَالَ يا فاطِمَةُ ايتينى بِالْكِساَّءِ الْيَمانى فَغَطّينى بِهِ فَاَتَيْتُهُ بِالْكِساَّءِ
 الْيَمانى فَغَطَّيْتُهُ بِهِ وَصِرْتُ اَنْظُرُ اِلَيْهِ وَاِذا وَجْهُهُ يَتَلاَْلَؤُ كَاَنَّهُ الْبَدْرُ
 فى لَيْلَةِ تَمامِهِ وَكَمالِهِ فَما كانَتْ اِلاّ ساعَةً وَاِذا بِوَلَدِىَ الْحَسَنِ قَدْ
اَقْبَلَ وَقالَ السَّلامُ عَلَيْكِ يا اُمّاهُ فَقُلْتُ وَعَلَيْكَ السَّلامُ يا قُرَّةَ عَيْنى
وَثَمَرَةَ فُؤ ادى فَقالَ يا اُمّاهُ اِنّى اَشَمُّ عِنْدَكِ راَّئِحَةً طَيِّبَةً كَاَنَّها راَّئِحَةُ
 جَدّى رَسُولِ اللَّهِ فَقُلْتُ نَعَمْ اِنَّ جَدَّكَ تَحْتَ الْكِساَّءِ فَاَقْبَلَ الْحَسَنُ
نَحْوَ الْكِساَّءِ وَقالَ السَّلامُ عَلَيْكَ يا جَدّاهُ يا رَسُولَ اللَّهِ اَتَاْذَنُ لى اَنْ
اَدْخُلَ مَعَكَ تَحْتَ الْكِساَّءِ فَقالَ وَعَلَيْكَ السَّلامُ يا وَلَدى وَيا
صاحِبَ حَوْضى قَدْ اَذِنْتُ لَكَ فَدَخَلَ مَعَهُ تَحْتَ الْكِساَّءِ فَما كانَتْ
اِلاّ ساعَةً وَاِذا بِوَلَدِىَ الْحُسَيْنِ قَدْ اَقْبَلَ وَقالَ السَّلامُ عَلَيْكِ يا اُمّاهُ
فَقُلْتُ وَعَلَيْكَ السَّلامُ يا وَلَدى وَيا قُرَّةَ عَيْنى وَثَمَرَةَ فُؤ ادى فَقالَ
لى يا اُمّاهُ اِنّىَّ اَشَمُّ عِنْدَكِ راَّئِحَةً طَيِّبَةً كَاَنَّها راَّئِحَةُ جَدّى رَسُولِ
اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ فَقُلْتُ نَعَمْ اِنَّ جَدَّكَ وَاَخاكَ تَحْتَ الْكِساَّءِ
فَدَنَى الْحُسَيْنُ نَحْوَ الْكِساَّءِ وَقالَ السَّلامُ عَلَيْكَ يا جَدّاهُ اَلسَّلامُ
عَلَيْكَ يا مَنِ اخْتارَهُ اللَّهُ اَتَاْذَنُ لى اَنْ اَكُونَ مَعَكُما تَحْتَ الْكِساَّءِ
فَقالَ وَعَلَيْكَ السَّلامُ يا وَلَدى وَيا شافِعَ اُمَّتى قَدْ اَذِنْتُ لَكَ فَدَخَلَ
مَعَهُما تَحْتَ الْكِساَّءِ فَاَقْبَلَ عِنْدَ ذلِكَ اَبُوالْحَسَنِ عَلِىُّ بْنُ اَبى طالِبٍ
وَقالَالسَّلامُ عَلَيْكِ يا بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ فَقُلْتُ وَعَلَيْكَ السَّلامُ يا اَبَا
الْحَسَنِ وَ يا اَميرَ الْمُؤْمِنينَ فَقالَ يا فاطِمَةُ اِنّى اَشَمُّ عِنْدَكِ رائِحَةً
طَيِّبَةً كَاَنَّها راَّئِحَةُ اَخى وَابْنِ عَمّى رَسُولِ اللَّهِ فَقُلْتُ نَعَمْ ها هُوَ مَعَ
وَلَدَيْكَ تَحْتَ الْكِساَّءِ فَاَقْبَلَ عَلِىُّ نَحْوَ الْكِساَّءِ وَقالَ السَّلامُ عَلَيْكَ
يا رَسُولَ اللَّهِ اَتَاْذَنُ لى اَنْ اَكُونَ مَعَكُمْ تَحْتَ الْكِساَّءِ قالَ لَهُ وَعَلَيْكَ
 السَّلامُ يا اَخى يا وَصِيّى وَخَليفَتى وَصاحِبَ لِواَّئى قَدْ اَذِنْتُ لَكَ
فَدَخَلَ عَلِىُّ تَحْتَ الْكِساَّءِ ثُمَّ اَتَيْتُ نَحْوَ الْكِساَّءِ وَقُلْتُ اَلسَّلامُ
عَلَيْكَ يا اَبَتاهُ يا رَسُولَ اللَّهِ اَتَاْذَنُ لى اَن اَكُونَ مَعَكُمْ تَحْتَ الْكِساَّءِ
قالَ وَعَلَيْكِ السَّلامُ يا بِنْتى وَيا بَضْعَتى قَدْ اَذِنْتُ لَكِ فَدَخَلْتُ تَحْتَ
الْكِساَّءِ فَلَمَّا اكْتَمَلْنا جَميعاً تَحْتَ الْكِساَّءِ اَخَذَ اَبى رَسُولُ اللَّهِ
بِطَرَفَىِ الْكِساَّءِ وَاَوْمَئَ بِيَدِهِ الْيُمْنى اِلَى السَّماَّءِ وَقالَ اَللّهُمَّ اِنَّ
هؤُلاَّءِ اَهْلُ بَيْتى وَخ اَّصَّتى وَح اَّمَّتى لَحْمُهُمْ لَحْمى وَدَمُهُمْ دَمى
يُؤْلِمُنى ما يُؤْلِمُهُمْ وَيَحْزُنُنى ما يَحْزُنُهُمْ اَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حارَبَهُمْ
وَسِلْمٌ لِمَنْ سالَمَهُمْ وَعَدُوُّ لِمَنْ عاداهُمْ وَمُحِبُّ لِمَنْ اَحَبَّهُمْ اِنَّهُمْ
مِنّى وَاَ نَا مِنْهُمْ فَاجْعَلْ صَلَواتِكَ وَبَرَكاتِكَ وَرَحْمَتَكَ وَغُفْرانَكَ
وَرِضْوانَكَ عَلَىَّ وَعَلَيْهِمْ وَاَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهيراً
فَقالَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ يا مَلاَّئِكَتى وَي ا سُكّ انَ سَم و اتى اِنّى ما خَلَقْتُ
سَماَّءً مَبْنِيَّةً وَلا اَرْضاً مَدْحِيَّةً وَلا قَمَراً مُنيراً وَلا شَمْساً مُضِيَّئَةً وَلا
فَلَكاً يَدُورُ وَلا بَحْراً يَجْرى وَلا فُلْكاً يَسْرى اِلاّ فى مَحَبَّةِ هؤُلاَّءِ
الْخَمْسَةِ الَّذينَ هُمْ تَحْتَ الْكِساَّءِ فَقالَ الاَْمينُ جِبْراَّئيلُ يا رَبِّ وَمَنْ
تَحْتَ الْكِساَّءِ فَقالَ عَزَّوَجَلَّ هُمْ اَهْلُ بَيْتِ النُّبُوَّةِ وَمَعْدِنُ الرِّسالَةِ
هُمْ فاطِمَةُ وَاَبُوها وَبَعْلُها وَبَنُوها فَقالَ جِبْراَّئيلُ يا رَبِّ اَتَاْذَنُ لى اَنْ
اَهْبِطَ اِلَى الاَْرْضِ لاَِكُونَ مَعَهُمْ سادِساً فَقالَ اللَّهُ نَعَمْ قَدْ اَذِنْتُ لَكَ
فَهَبَطَ الاَْمينُ جِبْراَّئيلُ وَقالَ السَّلامُ عَلَيْكَ يا رَسُولَ اللَّهِ الْعَلِىُّ
الاَْعْلى يُقْرِئُكَ السَّلامَ وَيَخُصُّكَ بِالتَّحِيَّةِ وَالاِْكْرامِ وَيَقُولُ لَكَ
وَعِزَّتى وَجَلالى اِنّى ما خَلَقْتُ سَماَّءً مَبْنِيَّةً وَلا اَرْضاً مَدْحِيَّةً وَلا
قَمَراً مُنيراً وَلا شَمْساً مُضَّيئَةً وَلا فَلَكاً يَدُورُ وَلا بَحْراً يَجْرى وَلا
فُلْكاً يَسْرى اِلاّ لاَِجْلِكُمْ وَمَحَبَّتِكُمْ وَقَدْ اَذِنَ لى اَنْ اَدْخُلَ مَعَكُمْ
 فَهَلْ تَاْذَنُ لى يا رَسُولَ اللَّهِ فَقالَ رَسُولُ اللَّهِ وَعَلَيْكَ السَّلامُ يا
اَمينَ وَحْىِ اللَّهِ اِنَّهُ نَعَمْ قَدْ اَذِنْتُ لَكَ فَدَخَلَ جِبْراَّئيلُ مَعَنا تَحْتَ
الْكِساَّءِ فَقالَ لاَِبى اِنَّ اللَّهَ قَدْ اَوْحى اِلَيْكُمْ يَقُولُ اِنَّما يُريدُ اللَّهُ
لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهيراً فَقالَ عَلِىُّ لاَِبى
يا رَسُولَ اللَّهِ اَخْبِرْنى ما لِجُلُوسِنا هذا تَحْتَ الْكِساَّءِ مِنَ الْفَضْلِ عِنْدَ
اللَّهِ فَقالَ النَّبِىُّ وَالَّذى بَعَثَنى بِالْحَقِّ نَبِيّاً وَاصْطَفانى بِالرِّسالَةِ نَجِيّاً
ما ذُكِرَ خَبَرُنا هذا فى مَحْفِلٍ مِنْ مَحافِلِ اَهْلِ الاَْرْضِ وَفيهِ جَمْعٌ مِنْ
شَيعَتِنا وَمُحِبّينا اِلاّ وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمُ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْ بِهِمُ الْمَلاَّئِكَةُ
وَاسْتَغْفَرَتْ لَهُمْ اِلى اَنْ يَتَفَرَّقُوا فَقالَ عَلِىُّ اِذاً وَاللَّهِ فُزْنا وَفازَ شيعَتُنا
 وَرَبِّ الْكَعْبَةِ فَقالَ النَّبِىُّ ثانِياً يا عَلِىُّ وَالَّذى بَعَثَنى بِالْحَقِّ نَبِيّاً
وَاصْطَفانى بِالرِّسالَةِ نَجِيّاً ما ذُكِرَ خَبَرُنا هذا فى مَحْفِلٍ مِنْ مَحافِلِ
اَهْلِ الاَْرْضِ وَفيهِ جَمْعٌ مِنْ شيعَتِنا وَمُحِبّينا وَفيهِمْ مَهْمُومٌ اِلاّ
وَفَرَّجَ اللَّهُ هَمَّهُ وَلا مَغْمُومٌ اِلاّ وَكَشَفَ اللَّهُ غَمَّهُ وَلا طالِبُ حاجَةٍ اِلاّ
وَقَضَى اللّهُ حاجَتَهُ فَقالَ عَلِىُّ اِذاً وَاللَّهِ فُزْنا وَسُعِدْنا وَكَذلِكَ
شيعَتُنا فازُوا وَسُعِدُوا فِى الدُّنْيا وَالاْخِرَةِ وَرَبِّ الْكَعْبَة
 اللہم صل علی محمد و آل محمد وعجل فرجہم واحشرنا معہم و لعن اعدائہم اجمعین

حدیث کساء کے بعد لندن سے تشریف لائے معروف سوز خوان و مرثیہ خوان سید آصف رضا نے سوز خوانی کی اور حسب روایت رباعی،سوز،سلام اور ایک مرثیے کے چند بند پیش کیئے جنہیں حاضرین نے نعرہ صلوات کی گونج میں خوب سراہا۔ آصف رضا موجودہ دور کے ایسے مرثیہ اور سوزخوانوں میں سے ہیں جنہوں نے اس فن کی باقاعدہ تربیت حاصل کی ہے جو گائیکی اور سوز خوانی کے درمیان فرق سے بخوبی آشنا ہیں۔

آصف رضا کے بعد ڈاکٹرقیصر زیدی نے مجلس عزا سے خطاب کی اور سورہ والعصر کے حوالے سے جامع اور مدلل گفتگو کی۔ ڈاکٹر قیصر عباس پیشے کے اعتبار سے نفسیات کے ڈاکٹر ہیں لیکن خطابت انکے خاندان کا شرف رہی ہے۔ مجالس عزا کے حوالے سے برصغیر خاص طور پر پاکستان کے سوگواران حسین دو بڑے اور مقبول ناموں سے بخوبی واقف ہیں جن میں سے ایک نام سید افسر عباس زیدی اور دوسرا مولانا اکبر عباس کا ہے۔

ڈاکٹر قیصر زیدی کا تعلق بھی اسی نابغہ روزگار گھرانے سے ہے کہ سید افسر عباس زیدی  مرحوم و مغفور انکے والد اور مولانا اکبر عباس دادا تھے۔

ڈاکٹر قیصر عباس نے بتایا کہ انکی ایک زمانے سے خطاب کرنے کی خواہش تھی لیکن وہ ڈاکٹر سکندر عباس کے گھر پر ہونے والی مرثیہ نو تصنیف کی مجلس عزا سے اپنی خطابت کا آغاز کر رہے ہیں اور دعا گو ہیں کہ انکا یہ مشن جاری وساری رہے۔

ڈاکٹر قیصر زیدی کے بعد لندن سے تشریف لائے شاعرِ آلِ عباء صفدر ھمدانی نے شہادت جناب سکینہ سلام اللہ کی مناسبت سے مرثیہ نو تصنیف پیش کیا اور مرثیے سے قبل اپنے خطاب میں انہوں نے علم کی اہمیت اور مرثیے کے فن کی ناقدری پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس دور میں مجالس عزا میں علم کا زور کم اور کمرشل ازم کے باعث دکھاوے پر زیادہ زور آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پڑھے لکھے لوگ منبرپر آنا شروع ہوں تا کہ کم علمی اور ملائیت کا خاتمہ ہو منبر سے علم کی ترسیل ہو سکے

انہوں نے ڈاکٹر سکندر عباس کو مرثیے کی مجالس کی بنیاد رکھنے پر اور ڈاکٹر قیصر زیدی کو خطابت شروع کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ منبر کو کم علم اور نفاق پھیلانے والے ملاؤں سے بچایا جائے اور محمد آل محمد کا دین لوگوں تک پہنچایا جائے،

اپنے خطاب کے بعد صفدر ھمدانی نے مرثیہ نو تصنیف پیش کیا جس شائقین مرثیہ نے نہایت دلجمعی سے سماعت کیا اور مصائب شہزادی سکینہ سلام اللہ پر گریہ وزاری کی۔

اسکے بعد ماتم حسین ہوا اور سید آصف رضا نے نوحہ خوانی کی۔

اختتام مجلس پر نماز مغربین باجماعت ادا کی گئی اور بعد میں نیاز امام حسین علیہ السلام کا اہتمام کیا گیا۔







:دیگر مضامین
(27.01.2010) شیعہ وقف بورڈ کی تشکیل میں خواتین کو بھی شامل کیا جائے
(26.01.2010) امریکہ ۔ زینبیہ نیو جرسی میں مجالس چہلم سید الشہدا
(24.01.2010)  سینئر کالم نگار اوردانشور ارشاد حقانی کو سپرد خاک کر دیا
(17.01.2010) آغاز فاونڈیشن۔اقلیتی فرقہ کے مستحق طلبا و طالبات کی مفت کوچنگ
(13.01.2010) سڈنی میں مقیم اردو کے مربی ڈاکٹر شبیر حیدر کا پہلا شعری مجموعہ
(12.01.2010) ممتاز ترقی پسند شاعر و ادیب نامی انصاری کا کانپور میں اِنتقال
(11.01.2010) تنظیم علی کانگریس میں وکلا ونگ کی تشکیل
(10.01.2010) مولاناسیدسیف عباس کی والدہ کا انتقال اور تدفین
(08.01.2010) امریکہ ۔ زینبیہ نیو جرسی میں یوم زینب سلا م اللہ
(06.01.2010) مشہور کالم نگار ،ادب اور ماس میڈیا کے پروفیسر ڈاکٹر خواجہ اکرام کے ہاں بیٹی کی پیدائش
(04.01.2010) برلین میں مجالس عزاء 1431 ھ کی مختصر رپورٹ
(04.01.2010) پاکستان میں شیعہ ماتمی جلوس پر بم حملوں کی شدید مذمت
(01.01.2010) لکھنؤ میں عشرہ محرم کے دوران حضرت قاسم کی مہندی کاجلوس
(31.12.2009) امریکہ۔نیوجرسی میں زینبیہ تنظیم کی شب بیداری
(30.12.2009) جرمنی کے دارالحکومت برلین میں محرم الحرام کی مجالسِ عزاء
(29.12.2009) ریحان جعفری اور حنا جعفری کی قیام گاہ پر سالانہ مجلس عزا
(23.12.2009) پیغامِ حسین ایک تحریک اور ایک مشعلِ راہ۔از؛عبدالمناف
(19.12.2009) نسبتِ ابراہیمی سے نسبتِ مصطفوی یقینا اعلیٰ ہے ۔از؛ عبدالمناف
(18.12.2009) سڈنی سے مصباح جیلانی کی ادارت میں ماہنامہ‘‘اقدار‘‘ کا اجرا
(18.12.2009) وقت کے ہر طاغوت کی کھلم کھلامخالفت کریں۔علی کانگریس



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں