17.10.2026, 02:04am , ہفتہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

گیارہ فروری یوم فتح مبین مبارک ہو ۔از: آغاسید عبدالحسین بڈگامی
11.02.2010, 01:05am , جعمرات (GMT+1)

آغا سید عبدالحسین بڈگامی۔کشمیر

فروری سال 1989 عیسوی میں رونما ہونے والا اسلامی انقلاب جسے بیسوی صدی کا معجزہ کہا جاتا ہے جس   کے وقوع پذیر  ہونے سے عالمی میعیار ہرج  و مرج میں مبتلا ہوگئے اور آج تک  اپنی بقا کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں کیونکہ اس اسلامی انقلاب نے عالمی سیاسی معیار کو یک سر مسترد کرکے الہی منشور کو کامیابی اور کامرانی کا حقیقی راز ہونے کا دعوی کیا اور آج تک عملی طور اسے ثابت کرنے مین  سرخ رو ہوتے جا رہے ہیں اور اسکے مقابلے میں ہر سال استکباری منصوبے ناکام ہوتے نظر آرہے ہیں اور ہر ایک ناکامی کے بعد پہلے ناکامی کو چھپانے کے لئے نیا منصوبہ پیش کرکے پیہم مشکلات سے دچار ہو رہے ہیں اور دوسری طرف  ہر مستضعف طبقے میں ایک نئ جان پیدا ہورہی ہے اور عوامی طاقت کا آفاقی مظاہرہ دنیا کے  سامنے مسلسل آر رہا ہے ۔اس طرح قرآنی بشارت « و نريد ان نمنّ علي الذین استضعفوا فی الارض و نجعلہم ائمہ و نجعلہم الوارثین.»( سورہ قصص آیہ 5) کی  تفسیر ہوتی نظر آرہی ہے۔

فروری  1989 نے  غلامی کی زنجیر وںمیں جگڑے  مستضعف لوگوں کے حوصلے بلند   کئے  اور تحریک آزادی اور ظلم ستیزی کی صدائيں دنیا بھر کے ہر گوشے کنارے سے نئ آب و تاب کے ساتھ بلند ہونے لگیں  خاص کر فلسطین ، کشمیر  ، لبنان ، افغانستان ، الجزائر ، مصر  وغیرہ میں اس کے نمایاں آثار نظر آنے لگے۔ مستضعفان عالم کے درمیاں بالعموم اور عالم اسلام میں بالخصوص اخوت اور برادری کی لہر دوڑ نے لگی اور یہ اسلامی انقلاب کی سب سے بڑی نعمت مانی جاسکتی ہے کہ جس سے سب زیادہ خائف  عالمی استکبار ہے اور وہ مسلسل انصاف پسند لوگوں میں خاص کر مسلمانوں یکجہتی دیکھنا برداشت نہیں کرتا ہے اور نفاق و تفرقہ قائم رکھنے سے اپنے سیاسی دن گزارنے میں اپنی خیر سمجھتا ہے ۔البتہ فروری 1989 نے عالمی بڑی طاقتوں کو بکھرنے کی گتنی سویت یونین کے بکھرنے سے شروع کی ہے   اور مظلوم قوموں کو آزادی اور اپنے حقوق ملنے کی شروعات ہوئي ہے ۔

یہاں پر پوچھا جا سکتا ہے کہ اس اسلامی انقلاب میں ایسی کیا خوبی موجود ہے کہ اسکے اثرات اسقدر جامع بتائے جاتے ہیں ۔ جی ہاں ایرانی  اسلامی انقلاب کسی دوسرے انقلاب کے ساتھ قابل مقایسہ نہیں ہے ۔ دنیا نے کئ انقلاب دیکھے ہیں لیکن ایک قرآن شناس ، حدیث شناس علوم اسلامی کا ماہر استاد کی قیادت میں وقوع پذیر ہونے والا استثنائی انقلاب ہے ۔صرف اور صرف اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پیدا ہونے والا عالم دین کی قیادت میں رونما ہونے والا انقلاب تاریخ اسلام کا ایک نیا باب ہے ۔

ایران میں وقوع پذیر ہونے والا اسلامی انقلاب دنیا کے کسی بھی انقلاب کے ساتھ قابل مقایسہ نہیں ہے ۔دنیا نے صنعتی انقلاب دیکھا ۔ روسی انقلاب دیکھا ، فرانسیسی انقلاب دیکھا ۔ چینی انقلاب دیکھا اور کئ قسم کے انقلاب دیکھا لیکن ہر ایک انقلاب نے اپنے ملک یا آس پاس تک اثرات مرتب کئے لیکن  ایران میں رونما ہونے والا انقلاب  سے نہ صرف ملک میں تحول پیدا ہو گیا یا قرب و جوار کے ملکوں پر اثرات مرتب  ہوئےبلکہ پوری دنیا کو تحت الشعاع میں لایا کیونکہ یہ اسلام شناس ماہر عالم ربانی کی قیادت میں اسلامی انقلاب برپا ہوا تھا  اور چونکہ قرآن اور سنت کی تعلیمات کی روشنی میں رونما ہوا  ہے اس لئے نہ صرف مسلمانوں پر اثرات مرتب کرنے میں کامیاب ہوا بلکہ غیر مسلمانوں میں  اسلامی آفاقی تعلیمات کی طرف راغب کر گیا ۔

 اس سے بڑھ کر  اللہ اکبر کے نعرے کی  عظمت کو  بیان  کرنے اور اس کا عامیانہ تفسیر بیان کرتے ہوئے عالمی  استکبار کو ذلیل اور نا تواں کرتا رہا ہے ۔ مغرب اور مشرق کی سیاست کو ٹھکراکر  قرآنی سیاست نہ ظلم کرو نہ ظلم سہو لاَ تَظْلِمُونَ وَلاَ تُظْلَمُونَ”(بقرہ 279)  کو اپنا نصب العین بنایا اور قرآن آئے روز اسکی عزت کو حیثیت کو چار چاند لگاتا رہا ہے ۔اسلامی ایران کے صدر جمہور ڈاکٹر محمود احمدی نژاد کے بقول" دو مد مقابل حرکتیں ہیں، جن میں ایک اپنی مادی منفعت کو دوسروں پر ترجیح دے رہا ہے ، نا برابر توسیع اور ستم ، غریبی اور مفلسی ، انسانوں کی تحقیر ، غارتگری اور جارحیت اور دوکھہ دھی سے ، دنیا پر تسلط جمانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اپنے ارادوں کو اقوام عالم پر تحمیل کرنے کے درپے ہیں اور نتیجے کے طور پر انسانیت کے سامنے نا امیدی اور تاریکی کو ترسیم کرتے ہیں ۔

 اسکے مقابلے میں ایک اور حرکت جو ایک خدا پر ایمان رکھتے ہیں اور انبیاء الھی کے تعلیمات کی پیروی کرتے ہیں ، انسان کی کرامت کا احترام کرتے ہیں اور بشریت کے عاشق ہیں، سلامتی سے لبریز دنیا چاہتے ہیں ،ھر ایک کے لئے انصاف اور معنویت پر مبنی آزادی ، پایدار امن اور آسایش کے لئے کوشاں ہیں۔ ایک ایسی حرکت جو ھر ایک انسان ، ھر ایک قوم کے ارزشمند علاقائی ، قومی اور انسانی فرھنگ اور ثقافتوں کے احترام کے قائل ہیں ۔ دنیا میں نا برابری کا خاتمہ چاہتے ہیں اور امکانات کا استفادہ کرنے، علم سیکھنے ، انسانی کمال اور ترقی کے خاطر انصاف پر مبنی قانون کے سامنے مساوات چاہتے ہیں اور پر امید مستقبل ترسیم کرتے ہیں ۔"(23ستمبر 2009 میں اقوام متحدہ  میں تقریر سے اقتباس)

ابھی اسلامی انقلاب کو کامیاب ہوئے اکتیس سال  ہو گئے  ہیں، عالمی استکبار 1989 سے لیکر آج تک  ہر روز نئے تدبیروں  کے ساتھ اسلامی انقلاب کو ناقص نظام ثابت کرنے میں کھلم کھلا میدان میں نبرد آزما ہے  اور ہر سال پہلے سال سے زیادہ  یہ عالمی استکباری طاقتیں ذلیل اور حقیر پڑتی جارہی ہیں اور اسلامی انقلاب پہلے سے زیادہ طاقتور اور سرخ رو ہوتا نظر آتا ہے ۔یہ سب صرف اسلام کی برکات ہیں ۔ اسلام کی تعلیمات پر ایمان کا نتیجہ ہے ۔ غیروں سے وابستگی توڑنےایک خدای واحد پر ایمان اور اسلامی تعلیمات پر یقین کامل  رکھنے کا نتیجہ ہے ۔

گیارہ فروری ایرانیوں کی خوشی کا دن نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کی شادمانی کا دن ہے ،کیونکہ اسلام صرف ایرانیوں کا نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کا  ہے،ایران اسلام کا اکلوتا قلعہ ہے ،ایران مسلمانوں کا تاج  اور پہچان ہے ، کیونکہ یہ دنیا کا اکلوتا اسلامی ملک ہے جس  ملک کا آئین قرآن اور سنت  پر مبنی ہے۔ اکلوتا ملک ہے  جس کی سیاست اور دیانت توحیدی ہے ۔ ایک اکلوتا ملک ہے جس کا سربراہ قرآن اور سنت کا عالم مدیر اور مدبر ہے ۔ ایک اکلوتا ملک ہے جس میں نہ صرف تمام اسلامی مذاہب کا مقام و منزلت محفوظ ہے بلکہ  دیگر غیر اسلامی مذاہب کی منزلت اور مقام محفوظ ہے  ، ان میں بعض  مذاہب کہ جنکے عقاید اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں ان کا بھی بھر پور احترام اور ان کے حقوق محفوظ ہیں ۔ایسی سیاست ایرانی نہیں بلکہ اسلامی ہے  اسی لئے ہر انصاف پسند انسان کو اس اسلامی نظام سے محبت اور انس ہے ۔

گیارہ فروری ایرانی انقلاب نہیں ہے اسلامی انقلاب ہے اگر ایرانی انقلاب ہوتا  ایران کی اسلامی حکومت  اپنی ولادت کے ساتویں مہینے میں مسئلہ فلسطین  کو اجاگر کرنے کے لئے سر بہ کف نہیں ہوتا ۔ سات فروری 1979 کو بانی انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی حاج سید روح اللہ موسوی امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ  یہ کہہ کر " ۔ میں عالم اسلام کے ھر ایک مسلمان اور اسلامی حکومتوں سے چاہتا ہوں کہ اس غاصب اور اس کے حامیوں کے ہاتھوں کو کاٹنے کے لئے آپس میں متحد ہوجائیں اور تمام مسلمانوں کو دعوت دیتا ہوں کہ ماہ مبارک رمضان کے آخری جمعہ کو، جو کہ "ایام قدر" ہے اور فلسطینی عوام کے مستقبل کے حوالے سے موثر بھی ثابت ہو سکتا ہےکو" روز قدس" انتخاب اور مسلمانوں کے بین الاقوامی اتحاد اور مسلمانوں کے قانونی حقوق کے لئے مظاھروں کا اھتمام کرنے کی اپیل کرتا ہوں ۔ "۔( صحیفہ امام جلد 9ص267) معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی حکومت اپنے آپ کو ایرانی حکومت کے عنوان سے جدا  کرنے کا اعلان کر رہی ہے  کیونکہ ایسا  روڑ میپ سامنے رکھنے سے ایران اپنے ملکی مفادات کو بالای طاق رکھ رہا ہے اور اسلام کے گہرے زخم کی مرحم  کرنے کے لئے مرثیہ خواں بن کر اسلامی مفادات کی ترجمانی کرتا ہے ۔اسی طرح اسلام اور مسلمین سے وابستہ ہر مسئلہ کو اجاگر کرنے میں ایران کی اسلامی حکومت پیش گام رہتی ہے ۔ اسی وجہ سے اسلام اور انصاف کے ساتھ محبت رکھنے والا انسان اس اسلامی حکومت کے ساتھ محبت رکھتا ہے اور ان کے کاموں میں اپنے آپ کو شریک تصور کرتا ہے ۔ ان کی خوشی اور ان کے غم میں اپنے آپکو برابر شریک سمجھتا ہے ۔

ایران میں قوم پرست جماعتیں  بھی موجود اور فعال  ہیں جو صرف قومی مفادات کو  مد نظر رکھ کر اپنے ملک کی ترقی اور آرام زندگی کے طالب ہیں  جن کی پشت پناہی عالمی استکبار خاص کر امریکہ اور اسرائيل کرتے ہیں ۔ پچھلے صدارتی انتخابات میں ایسی طاقتیں متحرک ہوئي تھیں  جس سے امریکا کی امیدیں بڑنے لگی تھیں ، لیکن ایران کی اکثریت نے قوم پرست نعروں کو ٹھکرا دیا اور  اعلان کیا کہ ہمارے لئے اسلام عزیز ہے قوم نہیں۔ہم نے انقلاب اللہ اکبر ، اور یاحسین کی صدائیں بلند کرکے حاصل کیا ہے ۔ وطن پرستی کے جذبے سے نہیں ۔ ایران میں قوم پرست جماعتیں چاہتی ہیں کہ ایران میں جمہوریہ ایران رہے اسلام حذف کیا جائے ۔  یعنی اسلامی جمہوری ایران کے بجائے اسلامی ایران رہ جائے لیکن وہاں کی باغیرت مسلمان عوام نے اس بات کو ٹھکرادیا کہ ہم صرف اسلام کے نام پر جینے مرنے کے لئے تیار ہیں ، قوم ، ترقی اور خوشحالی کے نام پر نہیں ۔
 
ایران میں اسلامی حکومت ہونے کے باجود اسلام مخالف جماعتیں موجود ہیں جن کی پشت پناہی کا امریکہ رسمی طور اعلان کرتا ہے اور جمہوری اسلامی ایران کو جمہوری ایران میں تبدیل کرنے  کےلئے کروڑوں ڈالروں کے منصوبے کا رسمی اعلان کرتا ہے  اور غیر رسمی طور پر اس منصوبے پر کتنا خرچ کرتا ہوگا اندازہ لگایاجا سکتا ہے ۔ایران کی اسلامی حکومت، اسلامی تشخص اور اسلامی تعلیمات کی حفاظت کرنے کے لئے اکتیس سال سے  طرح طرح کی اقتصادی پابندیاں جھیل رہا ہے  لیکن اسلام دشمن طاقتوں کے سامنے نہیں جھکتا ہے اور اعلان کرتا رہتا ہے کہ اللہ ہمارا ناصر اور مددگار ہے اور دنیا شاہد ہے کہ  اکتیس سالوں سے جھیل رہے اقتصادی پابندیاں ، آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ ، داخلی انتشار پیدا کرنے کی انتھک کوششیں  جاری ہونے کے باجود اسلامی ایران دن دگنی رات چگنی ترقی کے منازل کس تیزی کے ساتھ طے کررہا ہے  کیا یہ سب خدا کی مدد اور عنایت کے بغیر ممکن ہے ۔  یقینا یہ اسلام اور اسلامی تعلیمات کی برکات کا نمونہ ہے   ۔

اسلامی انقلاب کی برکات کا مشاہدہ کرتے ہوئے میں یہ جاننے کی بڑی کوشش کررہا ہوں کہ کشمیر میں اسلامی انقلاب  سے دوری پیدا کرنے کی کیوں کر غیر شعوری کوشش کی جاتی ہے ۔ مجھے دوسرے  علاقوں کے بارے میں کچھ زیادہ معلوم نہیں ہے  کہ 1989 کے بعد جب اسلامی انقلاب کی کرنی وہاں پر پڑنے لگیں تو ان کو ذائل کرنے کے لئے کیا کچھ کیا گیا  لیکن کشمیر کے بارے میں عینی شاہد ہوں کہ شعوری یا غیر شعوری طور کشمیر عوام کو جو اسلامی انقلاب کے ساتھ گہری وابستگی اور محبت رکھتا ہے کو اسلامی انقلاب سے دور رکھنے کو کوشش ہو رہی ہے  جیسے ماہ مبارک رمضان کے آخری جمعہ یوم قدس کو یوم کشمیر کا نام دے کر کشمیر کی تحریک کو اسلامی پیکر سے جدا کر کے بیان کرنا اسی طرح گیارہ فروری جو کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کا دن ہے اور دنیا بھر میں اسلام پسند لوگ اس دن کو خوشی کے طور پر مناتے ہوئے اپنے لئے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں حاصل ہونے والی آزادی کے لئے دعا کرتے ہیں اس کو بھی کشمیر میں اسلامی رنگ سے جدا کرکے قومی دائرہ تک محدود کیا جانے لگا ہے ۔

ماہ مبارک رمضان کے آخری جمعہ  کو 1989 میں امام خمینی رضوان اللہ تعالی نے  یوم قدس کا نام دیکر مسئلہ فلسطین کو اجاگر کرنے کے لئے مخصوص کردیا جس سے فلسطینی عوام کی بھی ڈھارس بندھی اور مسئلہ فلسطین  کے بارے میں مسلمانوں کی آوازین بلند ہونے لگيں لیکن کشمیر میں  اسکا نام بدل دیا گیا ، اور یوم قدس کو یوم کشمیر کے نام پر  منانے پر زور دیا جانے لگا  ۔ جبکہ اگر کشمیری عوام یوم قدس منانے اور مسئلہ قدس کے حل ہونے میں اپنی گہری دلچسپی دکھاتے ہوئے مثالی مظاہرو ں کا اہتمام کرتے شاید کل فلسطینی عوام کسی اورایک دن کو یوم کشمیر بنانے کا اعلان کرتے کیونکہ مظلوم کو دوسرے مظلوم کی حالت بہتر سمجھ میں آتی ہے  لیکن ہم شعوری یا غیر شعوری طور پر  کسی منصوبے کے شکار ہوئے جو کشمیر کو اسلام کے پییکر سے جدا کرکے دیکھنا چاہتا ہے ۔

 جب ہم یوم قدس منائيں گے اور فلسطینی یوم کشمیر منائيں گے تب یہ حرکت اسلامی بن گئ  کیونکہ جسم کے ایک حصے میں تکلیف ہوتی ہے تو دوسرے حصے کو اس کے درد کا احساس ہوتا ہے ، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جس طرح کچھ طاقتیں ایران اور دوسرے ممالک میں اسلامی رنگ کو ختم کرکے قومی اور نسلی رنگ میں دیکھنا چاہتے ہیں کشمیر کے بارے میں بھی اسلامی رنگ کو ختم کرکے قومی رنگ چڑھانا چاہتے ہیں ۔ پہلے یوم قدس کا عنوان تبدیل کرکے یوم کشمیر نام دے کر قوم پرستی کا جھنڈا بلند کیا گیا اور اب گیارہ فروری کو یوم مقبول بٹ کے نام پر منانے کا عنوان دے کر قوم پرستی کی ایک اور سنگ میل رکھی جارہی ہے۔  کیا اگر گيارہ فروری کو یوم فتح  مبین منا کر اسلامی انقلاب کی بھی قدردانی  اور ساتھ ہی مقبول بٹ کی شہادت  کا دن کے طور پر نہیں منا یا جاسکتا ہے  جس سے قوم پرستی کے ساتھ ساتھ اسلامی رنگ بھی چڑ جاتا  ؟ کیا ایسا کرنا بہتر ہے یا کشمیر کو اسلامی رنگ سے الگ کرکے قوم پرستی کے رنگ میں رنگ کر اسلام دشمن طاقتوں کو خوش کرنا  بہترہے؟ ۔ ایسے ہی کئ مسائل ہیں جو غور طلب ہیں کہ جس کشمیرکی شناخت مذہبی اور اسلامی ہے اس کو بے دینی اور غیر اسلامی  طریقوں پر پرواں چڑانے کی منصوبہ بندی نظر آتی ہے۔

اللہ کی بارگاہ میں دست بہ دعا ہوں کہ ایران سے لیکر کشمیر تک ہماری سیاست سے لیکر روز مرہ زندگی تک کو اسلامی رنگ سے الگ کرنے والی ہر سازش کو ناکام فرمادے ۔ اسلامی تشخص کے ساتھ زندگی کرنے والے دنیا کے ہر گوشے میں رہ رہے مسلمان کو  زندگی دے تو اسلامی زندگي نصیب فرما اور اگر موت دے تو شہادت نصیب فرمائیے ۔ اسلام اور مسلمین کی سربلندی اور استکبار اور غیر اسلامی شکنجوں سے نجات حاصل کرنے والی ہر حرکت اور مجاہدت کو اسلامی تعلیمات کے روسے انجام دینے کی توفیق عطا فرما ۔ مقبول بٹ شہید اور دیگر تمام شہدای اسلام کو شہدای صدر اسلام کے ساتھ محشور فرما ۔ آمین ۔ 
والسلام


:دیگر مضامین
(08.02.2010) کراچی میں خونریزی اور قتل و غارت گری کا تسلسل
(07.02.2010) کیا یوم یکجہتی کشمیر منا لینا ہی کافی ہے ؟از؛راجہ اکرام الحق
(02.02.2010) بھارت اور چین کے کشیدہ تعلقات ۔از؛ عبدالستار ۔جرمنی
(01.02.2010) ایٹمی مادوں سے متعلق ’کٹ آف‘ معاہدہ اور پاکستانی مؤقف
(30.01.2010) شمالی قفقاذ میں انتہاپسندوں کو مات دے دی، پوٹین
(29.01.2010) افغان طالبان سے رابطے کی کوشش کر رہے ہیں۔از؛مقبول ملک
(27.01.2010) ہیٹی میں تلاش ختم، بحالی کی سرگرمیاں شروع ۔از؛عاطف توقیر
(26.01.2010) رابرٹ گیٹس کاحالیہ دو روزہ دورہ پاکستان ۔از؛ مقبول ملک
(24.01.2010) ہیٹی میں ہولناک زلزلے کی تباہ کاریوں کے بعد کے مناظر
(21.01.2010) سیمی پر پابندی کیوں اور کب تک ؟از؛ ابوظفر عادل اعظمی
(18.01.2010) مبارکباد سے بدعت تک کا سفر ۔از سید مصباح حسین جیلانی
(16.01.2010) مبارکباد سے بدعت تک کا سفر ۔از سید مصباح حسین جیلانی
(13.01.2010) مبارکباد سے بدعت تک کا سفر ۔از سید مصباح حسین جیلانی
(12.01.2010) مبارکباد سے بدعت تک کا سفر ۔از سید مصباح حسین جیلانی
(11.01.2010) محرم کی 25امام زین العابدین ابن الحسین کی شہادت ہے
(10.01.2010) وہ مجھے مسلسل کافر و مشرک کہتے رہے۔الحاج آغاعبدالحسین بڈگامی
(06.01.2010) لندن میں برسوں کے بعد شدید برفباری۔ عوام کی شدید مشکلات
(05.01.2010) کثرت کو مٹانا ہے قلت سے اگر ۔از؛ راجہ اکرام الحق
(03.01.2010) لاہور میں عزاداری کی تاریخ(آخری قسط)۔
(01.01.2010) لاہور میں عزاداری کی تاریخ(3)



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں