ڈاکٹر عافیہ جس نے وراثیات میں پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی جس کے دوران وہ 10 سال تک امریکہ میں مقیم رہیں۔ اسی امریکہ کی ہی ایک عدالت نے اسے اپنے بے مثال عدل کی بھینٹ چڑھا دیا ۔ اسلحے کی ماہرین کی نامکمل اور بے اعتمادی رپورٹ اور گرین کارڈ ہولڈر کرائے کے گواہوں کی شہادتوں کے پس منظر میں مجرم قرار دی جانے والی عافیہ کو سزا تو چھ فروری کو سنائی جائے گی لیکن شاید طاقت کے نشے میں اندھے امریکی حکمران اپنی سزا کا فیصلہ اسی وقت سناچکے تھے جب عدالت کے جج نے جیوری کو اس کی مرضی کا فیصلہ کرنے پر مجبور کیا ۔
میں ا س وقت کسی تفصیل میں نہیں جانا چاہتی کہ ڈاکٹر عافیہ کا اغوا کراچی سے کس طرح اور کس کی اجازت سے ہوا اور کیسے اسے ایک عرصے تک بگرام کی رسوائے زمانہ امریکی جیل میں اس کے دو بچوں کے ساتھ ازیت میں رکھا گیا ۔تاآنکہ بگرام سے گونتانامو جیل پہنچا دیا گیا کہ یہاں تک ڈاکٹر عافیہ کے اغوا کا کسی کو کوئی علم نہ تھا ۔ اور اس کا نام گمنام سپاہی کی قبر کی طرح لاپتہ افرا دکی فہرست میں تھا ۔
پھر یوں ہوا کہ لندن کے ایک باسی کی گونتانامو جیل سے رہائی ہوئی تو افغانستان میں اسلام قبول کرنے والی برطانوی صحافی ایوان رڈلی نے جب اس نوجوان کا انٹرویو کیا تو گونتانامو جیل کی قیدی نمبر650 کا زکر کیا جو بعد میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی نکلی ۔ پاکستانی قوم کے باضمیر لوگوں کے سر شرم سے جھک گئے لیکن بے حیا ، بے شرم اور قوم فروخت کرنے والے حکمرانوں کے ماتھے پر شرم کے پسینے کی ایک بوند بھی نہ ٹھہری ۔
امریکہ میں موجود پاکستان کے سفیر حسین حقانی برابر قوم کو یہ جھوٹے پیغام سناتے رہے کہ عافیہ کے بارے میں جلد ہی کوئی خوشخبری سننے کو ملے گی اور پھر تین فروری کو پاکستانی قوم نے یہ خوشخبری سن لی کہ عافیہ کو ایسے جرم کا سزاوار قرار دیا گیاجو اس کے وکیل کے بقول اس نے کیا ہی نہیں ۔ جس پستول سے گولی چلی تھی اس پستول پر عافیہ کی انگلیوں کے نشانات نہیں ۔۔ اور تو اور اسلحے کے ماہرین یہ بھی ثابت نہیں کر پائے جس گولی کے خول ملے کیا وہ اسی پستول سے چلی تھی ۔ کہتے ہیں کہ اس ناکردہ جرم کی سزا میں عافیہ کو سو سال کی قید سنائی جا سکتی ہے ۔
شاباش ہے عافیہ کو جنم دینے والی ماں پہ کہ جس نے رونے پیٹنے کی بجائے زرائع ابلاغ کے درجنوں مایئکروفونز کے سامنے کھڑے ہو کر پورے یقین کے ساتھ یہ کہا میری بیٹی نے مجھے ایسی ماں ہونے کا اعزاز بخشا ہے اور عافیہ کی سزا کا فیصلہ امریکہ کے زوال کا آغاز ہے ۔ انہوں نے پاکستانی عوام سے بھی اپیل کی وہ پر امن رہیں اور ملک کی کسی ایک چیز کو نقصان نہ پہنچایا جائے کہ یہ ملک ہمار اہے ۔
جہاں بے ضمیر حکمران مصلحت کی چادر اوڑھے بظاہر پرسکون ہوں ۔۔ وہاں ہلال امتیاز اور ستارہ امتیاز جیسے اعزازات حاصل کرنے والے سرکاری درباری کالم نویس ، تجزیہ کار اور قلمکار بھی موت کی طرح خاموش ہوں ۔۔ اس ملک کا کیا ہو گا ؟؟؟ ۔۔
لیکن ۔۔ سچی بات یہ ہے کہ قلم کی طاقت اسلحے کی طاقت سے بہت زیادہ ہوتی ہے ۔ اس وقت ہمارا کام ہے برے کو برا کہنا اور اس کی ہر ممکن مذمت کرنا ۔۔ لوگوں تک یہ پیغام پہنچانا کہ نا انصافی کہاں اور کون کون کر رہا ہے ۔۔ یہ صرف ایک ڈاکٹر عافیہ ہی کی کہانی نہیں ہے ۔۔ ان امریکیوں نے عراق، افغانستان اور وزیرستان میں الگ الگ انداز سے گھر گھر یہی دہشت گردی مچا رکھی ہے ۔۔ کاش میں امریکہ کی آزادی کے گن گانے والوں کو ان امریکیوں کے گھناّؤنے جرائم جو میرے مریضوں نے بتائے ہیں وہ گنوا سکتی جسے سن کر دل لرز جاتا ہے اور آنکھیں شرم سے جھک جاتی ہیں ۔۔
بش کی باقیات سیاہ دل سیاہ فام امریکی صدر کالے دن ختم کرنے نہیں آیا ہے بلکہ وہ اب امن کے نوبل انعام کا اجازت نامہ گلے میں ڈالے طاقت کے نشے میں اندھا ہو کردنیا کے امن کو تہس نہس کرناچاہتا ہے اور مسلمان صرف اس لیئے خوش ہے کہ باراک کے نام کے ساتھ حسین کا لفظ بھی شامل ہے ۔ جبکہ اس باراک کا نام حسین یا فکر حسین سے صدیوں دور کا واسطہ نہیں ہے ۔۔ وہ ساری دنیا کو دہشت گردی کے الزام میں امریکہ کی تجوری میں گروی رکھنا چاھتا ہے اور خود کو انصاف کا رکھوالا اورا نسانیت کا بے تاج بادشاہ کہلوانا چاہتا ہے لیکن کن کی نظروں میں ۔۔جی ان کی نظروں میں جن کی نظروں میں اسلام ہمیشہ سے کھٹکا ہے ۔۔
تاریخ گواہ ہے کہ عافیہ کیس سازش بھی مشرف دور میں مشرف ہی کی ایما پر ہونے والے لاپتہ لوگوں کی ایک کڑی ہے اور پاکستانیوں کو ڈالروں کے عوض فروخت کرنے کا اعتراف وہ خود اپنی کتاب میں کر چکا ہے ۔۔ جس کے بعد اس پر مقدمہ چلانے کے لیئے کسی اور شہادت کی ضرورت نہیں ۔۔ خود اس کی اپنی کتاب میں ہی اعتراف کافی ہے ۔۔ دوستو جن ملکوں کے حکمران اپنی کرسی بچانے کے لیئے اپنے ملک کی بہو بیٹیاں اور ماں بہنیں بیچ دیتے ہوں ۔۔ ان سے انصاف کی باتیں لاحاصل گفتگو ہے ۔۔ زرداری جو آج تک اپنی اہلیہ بی بی جن کی تصویر کو قائد اعظم سے بھی 4 قدم آگے بڑھا کر وفاداری کا ثبوت دیتے نظر آتے ہیں ۔۔ وہ ابھی تک یہ کہنے کے باوجود کی مجھے قاتلوں کا علم ہے۔۔ وہ اپنی بیوی کے قاتل نہیں پکڑ سکے عافیہ کو کیا بچائیں گے۔۔۔ وہ اس کی کچھ لگتی بھی تو نہیں ۔۔۔ حیران ہوں کہ آزادی کا دعوی کرنے والی عدلیہ بھی تماشائی کی طرح خاموش ہے ۔۔ جیسے فیصلہ گروی رکھا جا چکا ہو ۔۔
عافیہ کی حثیت ایک کلو چینی سے بھی کم ہے کہ عدالت اس کا کوئی از خود نوٹس بھی نہیں لے رہی ۔۔۔
دوستو ۔۔
بس اب وقت آگیا ہے کہ اس واقعہ کا ہم بحثیت عوام از خود نوٹس لیں اور برے کو ڈنکے کی چوٹ پر برا کہیں ۔۔ اپنی زبان اور قلم سے جہاد کریں ۔۔ میں سوچ رہی ہوں کہ پوری امریکن انٹلیجنس ایک جھوٹے مقدمے کو گھڑ کر خود گہرے گھڑے میں گر گئی ہے ۔۔ امریکہ کو کوئی رسوا نہیں کر رہا بلکہ وہ خود ایک تنہا بےبس عورت کی جسمانی اور جذباتی بے حرمتی کر کے پورے امریکہ کو خود رسوا کر رہا ہے ۔۔۔ دیکھیں کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک عورت ہی امریکہ کے تخت کو تاراج کرنے کے لیئے کافی ہو ۔۔۔ کہ اس کے صبر کے ساتھ اللہ کی رضا بھی شامل ہے ۔۔