16.10.2026, 08:03am , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » ڈاکٹر نگہت نسیم
 

زرداری ، بیوی کے قاتل نہیں پکڑ سکے عافیہ کو کیا بچائیں گے۔از؛نگہت نسیم
05.02.2010, 01:18am , جمہ (GMT+1)

نگہت نسیم۔سڈنی

ڈاکٹر عافیہ جس نے  وراثیات میں پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی جس کے دوران وہ 10 سال تک امریکہ میں مقیم رہیں۔ اسی امریکہ کی ہی ایک عدالت نے اسے اپنے بے مثال عدل کی بھینٹ چڑھا دیا ۔ اسلحے کی ماہرین کی نامکمل اور بے اعتمادی رپورٹ اور گرین کارڈ ہولڈر کرائے کے گواہوں کی شہادتوں کے پس منظر میں مجرم قرار دی جانے والی عافیہ کو سزا تو چھ فروری کو سنائی جائے گی لیکن شاید طاقت کے نشے میں اندھے امریکی حکمران اپنی سزا کا فیصلہ اسی وقت سناچکے تھے جب عدالت کے جج نے جیوری کو اس کی مرضی کا فیصلہ کرنے پر مجبور کیا ۔

میں ا س وقت کسی تفصیل میں نہیں جانا چاہتی کہ ڈاکٹر عافیہ کا اغوا کراچی سے کس طرح اور کس کی اجازت سے ہوا اور کیسے اسے ایک عرصے تک بگرام کی رسوائے زمانہ امریکی جیل میں اس کے دو بچوں کے ساتھ ازیت میں رکھا گیا ۔تاآنکہ بگرام سے گونتانامو جیل پہنچا دیا گیا کہ یہاں تک ڈاکٹر عافیہ کے اغوا کا کسی کو کوئی علم نہ تھا ۔ اور اس کا نام گمنام سپاہی کی قبر کی طرح لاپتہ افرا دکی فہرست میں تھا ۔

پھر یوں ہوا کہ لندن کے ایک باسی کی گونتانامو جیل سے رہائی ہوئی تو افغانستان میں اسلام قبول کرنے والی برطانوی صحافی ایوان رڈلی نے جب اس نوجوان کا انٹرویو کیا تو گونتانامو  جیل کی قیدی نمبر650  کا زکر کیا جو بعد میں  ڈاکٹر عافیہ صدیقی نکلی ۔ پاکستانی قوم کے باضمیر لوگوں کے سر شرم سے جھک گئے لیکن بے حیا ، بے شرم اور قوم فروخت کرنے والے حکمرانوں کے ماتھے پر شرم کے پسینے کی ایک بوند بھی نہ ٹھہری ۔

امریکہ میں موجود پاکستان کے سفیر حسین حقانی برابر قوم کو یہ جھوٹے پیغام سناتے رہے کہ عافیہ کے بارے میں جلد ہی کوئی خوشخبری سننے  کو ملے گی اور پھر تین فروری کو پاکستانی قوم نے یہ خوشخبری سن لی کہ عافیہ کو ایسے جرم کا سزاوار قرار دیا گیاجو اس کے وکیل کے بقول اس نے کیا ہی نہیں ۔ جس پستول سے گولی چلی تھی اس پستول پر عافیہ  کی انگلیوں کے نشانات نہیں ۔۔ اور تو اور اسلحے کے ماہرین یہ بھی ثابت نہیں کر پائے جس گولی کے خول ملے کیا وہ اسی پستول سے چلی تھی ۔ کہتے ہیں کہ اس ناکردہ جرم کی سزا میں عافیہ کو سو سال کی قید سنائی جا سکتی ہے ۔

شاباش ہے عافیہ کو جنم دینے والی ماں پہ کہ جس نے رونے پیٹنے کی بجائے زرائع ابلاغ کے درجنوں مایئکروفونز کے سامنے کھڑے ہو کر پورے یقین کے ساتھ یہ کہا میری بیٹی نے مجھے ایسی ماں ہونے کا اعزاز بخشا ہے اور عافیہ کی سزا کا فیصلہ امریکہ کے زوال کا آغاز ہے ۔ انہوں نے پاکستانی عوام سے بھی اپیل کی وہ پر امن رہیں اور ملک کی کسی ایک چیز کو نقصان نہ پہنچایا جائے کہ یہ ملک ہمار اہے ۔
 
جہاں بے ضمیر حکمران مصلحت کی چادر اوڑھے بظاہر پرسکون ہوں  ۔۔  وہاں ہلال امتیاز اور ستارہ امتیاز جیسے اعزازات حاصل کرنے والے سرکاری درباری کالم نویس ، تجزیہ کار اور قلمکار بھی موت کی طرح خاموش ہوں  ۔۔ اس ملک کا کیا ہو گا ؟؟؟ ۔۔

لیکن ۔۔ سچی بات یہ ہے کہ قلم کی طاقت اسلحے کی طاقت سے بہت زیادہ ہوتی ہے ۔ اس وقت ہمارا کام ہے برے کو برا کہنا اور اس کی ہر ممکن مذمت کرنا ۔۔ لوگوں تک یہ پیغام پہنچانا کہ نا انصافی کہاں اور کون کون کر رہا ہے ۔۔ یہ صرف ایک ڈاکٹر عافیہ ہی کی کہانی نہیں ہے ۔۔ ان امریکیوں نے عراق، افغانستان اور وزیرستان میں الگ الگ انداز سے گھر گھر یہی دہشت گردی مچا رکھی ہے ۔۔ کاش میں امریکہ کی آزادی کے گن گانے والوں کو ان امریکیوں کے گھناّؤنے جرائم جو میرے مریضوں نے بتائے ہیں وہ گنوا سکتی جسے سن کر دل لرز جاتا ہے اور آنکھیں شرم سے جھک جاتی ہیں ۔۔

 بش کی باقیات سیاہ دل سیاہ فام امریکی صدر کالے دن ختم کرنے نہیں آیا ہے بلکہ وہ اب امن کے نوبل انعام کا اجازت نامہ گلے میں ڈالے طاقت کے نشے میں اندھا ہو کردنیا کے امن کو تہس نہس کرناچاہتا ہے اور مسلمان صرف اس لیئے خوش ہے کہ باراک کے نام کے ساتھ حسین کا لفظ بھی شامل ہے ۔ جبکہ اس باراک کا نام حسین یا فکر حسین سے صدیوں دور کا واسطہ نہیں ہے ۔۔ وہ ساری دنیا کو دہشت گردی کے الزام میں امریکہ کی تجوری میں گروی رکھنا چاھتا ہے اور خود کو انصاف کا رکھوالا اورا نسانیت کا بے تاج بادشاہ کہلوانا چاہتا ہے لیکن کن کی نظروں میں ۔۔جی ان کی نظروں میں جن کی نظروں میں اسلام ہمیشہ سے کھٹکا ہے ۔۔

تاریخ گواہ ہے کہ عافیہ کیس سازش بھی مشرف دور میں مشرف ہی کی ایما پر ہونے والے لاپتہ لوگوں کی ایک کڑی ہے اور پاکستانیوں کو ڈالروں کے عوض فروخت کرنے کا اعتراف وہ خود اپنی کتاب میں کر چکا ہے ۔۔ جس کے بعد اس پر مقدمہ چلانے کے لیئے کسی اور شہادت کی ضرورت نہیں ۔۔ خود اس کی اپنی کتاب میں ہی اعتراف کافی ہے ۔۔ دوستو جن ملکوں کے حکمران اپنی کرسی بچانے کے لیئے اپنے ملک کی بہو بیٹیاں اور ماں بہنیں بیچ دیتے ہوں ۔۔ ان سے انصاف کی باتیں لاحاصل گفتگو ہے ۔۔ زرداری جو آج تک اپنی اہلیہ بی بی جن کی تصویر کو قائد اعظم سے بھی 4 قدم آگے بڑھا کر وفاداری کا ثبوت دیتے نظر آتے ہیں ۔۔ وہ ابھی تک یہ کہنے کے باوجود کی مجھے قاتلوں کا علم ہے۔۔ وہ  اپنی بیوی کے قاتل نہیں پکڑ سکے عافیہ کو کیا بچائیں گے۔۔۔ وہ اس کی کچھ لگتی بھی تو نہیں ۔۔۔ حیران ہوں کہ آزادی کا دعوی کرنے والی عدلیہ بھی تماشائی کی طرح خاموش ہے ۔۔ جیسے فیصلہ گروی رکھا جا چکا ہو ۔۔

 عافیہ کی حثیت ایک کلو چینی سے بھی کم ہے کہ عدالت اس کا کوئی از خود نوٹس بھی نہیں لے رہی ۔۔۔

دوستو ۔۔

 بس اب وقت آگیا ہے کہ اس واقعہ کا ہم بحثیت عوام از خود نوٹس لیں اور برے کو ڈنکے کی چوٹ پر برا کہیں ۔۔ اپنی زبان اور قلم سے جہاد کریں ۔۔ میں سوچ رہی ہوں کہ پوری امریکن انٹلیجنس ایک جھوٹے مقدمے کو گھڑ کر خود گہرے گھڑے میں گر گئی ہے ۔۔ امریکہ کو کوئی رسوا نہیں کر رہا بلکہ وہ خود ایک تنہا بےبس عورت کی جسمانی اور جذباتی بے حرمتی کر کے پورے امریکہ کو خود رسوا کر رہا ہے ۔۔۔ دیکھیں کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک عورت ہی امریکہ کے تخت کو تاراج کرنے کے لیئے کافی ہو ۔۔۔ کہ اس کے صبر کے ساتھ اللہ کی رضا بھی شامل ہے ۔۔


:دیگر مضامین
(30.12.2009) خدا گواہ ہے کہ ہم اپنے دشمن نہیں ہیں ۔از؛ نگہت نسیم۔سڈنی
(20.12.2009) محرم کے آغاز پرمبارکبادوں کا جواز کیا ہے ؟از؛نگہت نسیم
(17.12.2009) دنیا کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔از؛ نگہت نسیم۔سڈنی
(06.12.2009) پاکستان ہماری دستار ہے اسے سر پر سجایئے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(27.11.2009) کئی آنکھیں ہیں جو دعاؤں سے اب بھی نم رہتی ہیں ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(25.11.2009) اللہ تعالی کے نظام میں کوئی این آر او نہیں ہے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(16.11.2009) سولہ نومبر "عدم برداشت " کا عالمی دن ۔از نگہت نسیم ۔ سڈنی
(06.11.2009) محبت شکر اور شکریہ سکھاتی ہے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(03.11.2009) خون آشام وادیوں میں زیتون کے پھل ۔از؛ڈاکٹر نگہت نسیم
(19.08.2009) دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی دورُخی۔۔از نگہت نسیم
(09.08.2009)  کیا کریں بھئی ۔۔ ھم تو اندھے ھیں ۔۔۔ !از ڈاکٹر نگہت نسیم
(18.06.2009) جو امریکہ کے ساتھ وہ اصلاح پسند ۔از۔ نگہت نسیم
(28.05.2009) خاندانی جمہوریت دان اور جیالے ۔از۔نگہت نسیم
(28.04.2009)  انٹرنیٹ جرنلزم یا سرقہ جرنلزم ۔از۔نگہت نسیم
(16.03.2009) اور عوام جیت گئے ۔۔۔۔ از؛ نگہت نسیم
(25.02.2009) نا اہلی ایسے آتشیں حروف ھیں کہ پورا پاکستان جل رھا ھے ۔از ۔ نگہت نسیم
(19.02.2009) اعتزاز احسن کا اعزاز۔از۔نگہت نسیم
(03.02.2009) رجب طیب اردگان سے عالم بےایمان تک ۔از۔ نگہت نسیم
(15.01.2009) پاکستان میں بے خبری اور جہالت کا اندھیرا۔از نگہت نسیم
(15.01.2009) طاقت نظریے کو کبھی شکست نہیں دے سکتی ۔از نگہت نسیم



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں