18.10.2026, 04:56am , اتوار (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

کیا یوم یکجہتی کشمیر منا لینا ہی کافی ہے ؟از؛راجہ اکرام الحق
07.02.2010, 01:03am , اتوار (GMT+1)

راجہ اکرام الحق ۔اسلام آباد

کشمیر جغرافیائی اعتبار سے پاکستان ، چین اور ہندوستان کے درمیان ایشیا کے شمال مشرق میں واقع ہے۔ قدرتی حسن سے مالا مال یہ خطہ شروع دن سے ہی دنیا کی نظروں کا مرکز رہا ہے۔ بہترین محل وقوع اور قدرتی وسائل کی موجودگی نے جہاں اس کی اہمیت میں اضافہ کیا وہیں اس خطے کے لئے مشکلات میں اضافے کا باعث بھی بنے ۔ زعفران کی خوشبو ، سیبوں کی مہک اور چنار کی خوبصورتی نے اگرسیاحوں اور قدرتی حسن کے عاشقوں کو اپنی طرف متوجہ کیا تو ساتھ ہی ہوس پرستوں اور دنیا کے متلاشیوں کی للچائی ہوئی نگاہوں کو بھی اپنی طرف کھینچا۔

معلوم تاریخ کے مطابق دین اسلام پہلی صدی ہجری میں ہی کشمیر میں اس وقت داخل ہو گیا تھا جب محمد بن قاسم نے راجہ داہر کے مظالم سے پسے ہوئے لوگوں کو نجات دلانے کے لئے سندھ کا سفر کیا تھا،شاید اسی لئے وہاں کی آبادی کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے۔بعد کے ادوار میں کشمیر پر مختلف حالات آتے رہے تا ہم برصغیر پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے قبضے سے پہلے کشمیر کی کیا صورتحال تھی یہ کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھتے ہیں۔ برصغیر پر اپنے دور حکومت میں انہوں نے جو کیا اس کی داستان تو زبان زد عام ہے لیکن ہندو ستان چھوڑنے سے قبل ہند کی غیر منصفانہ تقسیم کے ذریعے کشمیریوں پر ظلم کا جو کوہ گراں مسلط کر گئے آج تک کشمیری اس کا عذاب جھیل رہے ہیں۔

کشمیر مسلم اکثریتی علاقہ تھا اور آبادی کی اکثریت پاکستان کے ساتھ الحاق کی خواہش رکھتی تھی لیکن انڈیا نے ناجائز طریقے سے اس پر اپنا تسلط قائم کر لیا۔ اگرچہ بعد میں ایک حصہ اس کے تسلط سے آزاد کرالیا گیاجو اب پاکستان کے زیر انتظام ہے اور آزاد کشمیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ پاکستان کے زیر تسلط یہ خطہ آزادی کے ساتھ اپنے معاملات چلا رہاہے۔ حکومت صدر اور وزیر اعظم کے عہدوں کے ساتھ تشکیل پاتی ہے جو اس کی آزاد ہونے کی دلیل ہے ۔ اگرچہ سیاست میں پاکستان کی دخل اندازی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں لیکن شخصی آزادی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

اس کے برعکس بھارت کے زیر تسلط خطہ میںبسنے والے کشمیری انسانیت سوز مظالم سے دوچار ہیں۔ ناجائز قبضے کے خلاف آواز اٹھانے اور حق آزادی کے مطالبے کی پاداش میں ظلم کی وہ داستانیں رقم ہوئیں کہ رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن یہ مظالم انہیں اپنے موقف سے ایک انچ بھی نہ ہٹا سکے۔ اپنا جائز حق حاصل کرنے کے لیے کشمیریوں نے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر اس مسئلے کی اہمیت کو محسوس کیا گیا اور اقوام متحدہ نے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کا فیصلہ کیا۔ ہندوستان نے اپنی فطری ہٹ دھرمی اور بد نیتی کا ثبوت دیتے ہوئے اس معاہدے کو تسلیم کرنے کے باجود ابھی تک عمل نہیں کیا۔

کشمیریوں کے ساتھ پاکستانی صرف محبت ہی نہیں بلکہ جذباتی لگاؤرکھتے ہیں ۔ جس کی کئی وجوہات میں سے ایک ان کا مسلمان ہوناہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام نے ہر ممکن طریقے سے ہر موقع پر ان کی مدد کی، اور جان و مال کے نذرانے پیش کئے۔

پاکستان کشمیر کو اپنی شہ رگ سمجھتا ہے اور شہہ رگ صرف کہہ دینا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے کچھ تقاضے اور کچھ حقوق ہوتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عوام ان تقاضوں کا ادراک رکھتے ہیں اور جب ضرورت پڑے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرتے۔ لیکن پاکستانی قیادت اور حکومت کی سطح پر جو رویہ اپنایا جاتا ہے وہ قابل افسوس اور شرمناک ہے۔

دوسرے جانب بھارت ہے جو کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ تسلیم کرتا ہے ۔ لیکن وہ صرف زبانی دعوی نہیں کرتا بلکہ اس کا حق بھی ادا کرتا ہے۔ دنیا اس کی مذمت کرتی ہے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں عالمی سطح پر اس کے خلاف آوازیں اٹھاتی ہیں لیکن وہ اس سب کے باوجود اپنے اٹوٹ انگ کی حفاظت کے لئے ڈٹا ہوا ہے اور کسی قیمت پر بھی اس سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ۔ اس کے برعکس ہم نے اپنی شہ رگ، جو کہ زندگی کی ضمانت ہوتی ہے ، اپنے دشمن کے ہاتھ میں دے رکھی ہے۔

حکومت پاکستان خود تو اپنے بین الاقوامی آقاؤں کی ناراضگی کے ڈر سے اونچی آواز میں اپنا مطالبہ تک نہیں دہراتی۔ اور جو غیرت مند اپنی شہ رگ کی حفاظت کے لئے جان کی بازی لگادیں تو انہیں دہشت گرد قرار دیتی ہے اور ہماری شہہ گ کشمیر کو پنجہ ہنود سے آزاد کرانے کے لئے کام کرنے والی تنظیموں پر بھارت کے ڈر سے پابندیاں لگا دی جاتی ہیں۔

عوام شروع دن ہی سے کشمیر ی بھائیوں کے ساتھ ہے لہذا مختلف مواقع پر ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے سڑکوں پر آتی رہتی ہے ۔ یوں تو پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتیں وقتا فوقتا مختلف مصلحتوں کے تحت اس مسئلے کو اجاگر کرتی رہی ہیںلیکن اپنے دور حکومت میں اس کے لئے کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں کی جس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ البتہ جماعت اسلامی پاکستان کے فورم سے کشمیر کے لئے انتہائی منظم کام ہوتا رہا ہے جس کا اعتراف خود کشمیری بھی کرتے ہیں ۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہر سال 5فروری کا دن ”یوم یکجہتیءکشمیر “ کے طور پر منایا جانا ہے۔ اس دن انسانی ہاتھوں کی زنجیریں بناکر، جلسے اور ریلیاں نکال کر کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کیا جاتا ہے۔ اور دنیا کے سامنے اس مسئلے کی اہمیت کو اجاگر کیا جاتا ہے۔

پہلے پہل یہ دن سرکاری طور پر نہیں منایا جاتا تھا لیکن جماعت اسلامی کی قیادت میں عوامی دباؤ نے 1990ءکو حکومت کو مجبور کر دیا کہ اس دن کو سرکاری طور تسلیم کرے۔ بالآخر حکومت کو تسلیم کرنا پڑا اور اس کے بعدسے لے کر آج تک ہر سال اس دن ملک بھر میں عام تعطیل ہوتی ہے۔

لیکن کیا سال میں ایک دن خاص کر نے سے ہمارا حق ادا ہو جاتا ہے؟ کیا جلسوں اور جلوسوں میں شرکت کشمیری بھائیوں بہنوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لئے کافی ہے؟ کیا اس طرح بھارت سرکار اپنے موقف سے پیچھے ہٹ جائے گی؟ کیا اس دن بین الاقوامی اداروں سے اپیل کرنے سے کشمیر آزاد ہو جائے گا۔؟کیا اس ایک دن کے بدلے میں ہم اپنے رب کے حضور جوابدہی سے بچ جائیں گے؟ یقیناً سب کا جواب نفی میں ہو گا۔

سب سے پہلے تو پاکستان کی خارجہ پالیسی کو بہتر کرنے اور ملکی مفاد کو پیش نظر رکھ اسکی تشکیل نو کرنے کی ضرورت ہے۔ بطور خاص کشمیر کے حوالے سے پاکستان کو ایک ایسی پالیسی تشکیل دینی چاہیئے جو حکومتوں کے بدلنے یا بیرونی دباو کے باوجود اٹل ہو اور قابل تبدیلی نہ ہو۔ ایک اور اہم محاذ ہے بین الاقوامی برادری کے سامنے کشمیر کے مقدمے کو موثر انداز سے پیش کرنا۔ جب تک عالمی حمایت بھارت کے ساتھ ہے تب تک پاکستان تنہا کوئی بڑا قدم نہیں اٹھا سکتا۔ موجودہ حالات میں جب چین اور بھارت کے درمیان حالات میں کچھ کشیدگی ہے اور چین نے کشمیر کو انڈیا کا حصہ ماننے سے انکار کیا ہوا ہے ، ایسے میں پاکستان کو اپنے موقف میں مزید مضبوطی لانی چاہیئے ۔ اس معاملے میں چین کی حمایت پاکستانی موقف کو مزید مضبوط کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

 پالیسی کے میدان سے ہٹ کرعملی میدان میں کچھ کرنا ہو تو پھر ضرورت ہے کسی عمر فاروق کی ، کسی حیدر کرار کی ، کسی حسین کی ، کسی محمد بن قاسم کی ، کسی طارق بن زیاد کی، کسی صلاح الدین ایوبی کی اور کسی محمود غزنوی کی۔ جب تک ہم اپنے اندر ان کرداروں کو زندہ نہیں کر لیتے، حق و صداقت کے لئے مرنے کی تڑپ کے ساتھ اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا نہیں کر لیتے، غیر اللہ کا خوف دلوں سے نکال کر ایک اللہ کا ڈر پید انہیں کر لیتے تب تک یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہونے والا۔ کیوں کہ کثرت کو قلت سے دبانا اس وقت تک ممکن ہی نہیں جب تک احمد صلی اللہ علیہ و سلم کے نواسے کا جگر پیدا نہ ہو جائے۔

ہو صداقت کے لئے جس دل میں مرنے کی تڑپ
پہلے اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کرے


:دیگر مضامین
(02.02.2010) بھارت اور چین کے کشیدہ تعلقات ۔از؛ عبدالستار ۔جرمنی
(01.02.2010) ایٹمی مادوں سے متعلق ’کٹ آف‘ معاہدہ اور پاکستانی مؤقف
(30.01.2010) شمالی قفقاذ میں انتہاپسندوں کو مات دے دی، پوٹین
(29.01.2010) افغان طالبان سے رابطے کی کوشش کر رہے ہیں۔از؛مقبول ملک
(27.01.2010) ہیٹی میں تلاش ختم، بحالی کی سرگرمیاں شروع ۔از؛عاطف توقیر
(26.01.2010) رابرٹ گیٹس کاحالیہ دو روزہ دورہ پاکستان ۔از؛ مقبول ملک
(24.01.2010) ہیٹی میں ہولناک زلزلے کی تباہ کاریوں کے بعد کے مناظر
(21.01.2010) سیمی پر پابندی کیوں اور کب تک ؟از؛ ابوظفر عادل اعظمی
(18.01.2010) مبارکباد سے بدعت تک کا سفر ۔از سید مصباح حسین جیلانی
(16.01.2010) مبارکباد سے بدعت تک کا سفر ۔از سید مصباح حسین جیلانی
(13.01.2010) مبارکباد سے بدعت تک کا سفر ۔از سید مصباح حسین جیلانی
(12.01.2010) مبارکباد سے بدعت تک کا سفر ۔از سید مصباح حسین جیلانی
(11.01.2010) محرم کی 25امام زین العابدین ابن الحسین کی شہادت ہے
(10.01.2010) وہ مجھے مسلسل کافر و مشرک کہتے رہے۔الحاج آغاعبدالحسین بڈگامی
(06.01.2010) لندن میں برسوں کے بعد شدید برفباری۔ عوام کی شدید مشکلات
(05.01.2010) کثرت کو مٹانا ہے قلت سے اگر ۔از؛ راجہ اکرام الحق
(03.01.2010) لاہور میں عزاداری کی تاریخ(آخری قسط)۔
(01.01.2010) لاہور میں عزاداری کی تاریخ(3)
(30.12.2009) لاہور میں عزاداری کی تاریخ(2)
(28.12.2009) لاہور میں عزاداری کی تاریخ(1)



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں