فن لینڈ کے دارالحکومت ہل سنکی کے عزا خانہ زہرا میں ہفتہ چھ فروری کو شام ساڑھے چھ بجے چہلم امام حسین ع کے سلسلے میں مجلس عزا منعقد ہوئی جسکا اہتمام وحید سید اورا نکے احباب نے کیا تھا۔
اس سے ایک روز قبل عربی،فارسی اور اردو کی مجلس ہوئی تھی جس میں ایران،عراق،افغانستان اور پاکستان کے مومنین نے شرکت کی اور کربلا کے شہیدوں کی یاد میں مرثیہ خوانی اور نوحہ خوانی کی۔
ہفتے کے روز ہونے والی مکمل مجلس مرثیہ نوتصیف کی تھی اور فن لینڈ کی عزاداری کی تاریخ میں پہلی مرتبہ لندن سے آئے ہوئے شاعر اہلبیت اور مرثیہ نگار صفدر ھمدانی نے ‘‘عزاداری‘‘ کے عنوان سے اپنا لکھا ہوا مرثیہ پیش کیا جو وہاں کے مومنین کے لیئے ایک نیا اور الگ سا تجربہ تھا۔مجلس عزا میں افغانی اور پاکستانی خواتین وحضرات نے پہلی بار شرکت کی اور مجلس کا آغاز سویڈن کے شہر سٹاک ہالم سے آئی ہوئی سوز خوان عابدہ مظفر کے سلام اور کلام انیس سے ہوا جو انہوں نے مرد سوگواران حسین کی موجودگی میں خواتین کے حصے میں بیٹھ کر سنایا جو وحید سید کے بقول ایک تاریخی بات ہے کہ فن لینڈ میں مردوں کی مجلس عزا میں کسی خاتون نے سوز خوانی کی ہو۔
شاعر اہلبیت صفدر ھمدانی نے مرثیہ تحت اللفظ سے قبل لگ بھگ پچاس منٹ تک اپنے خطاب میں اہلبیت کے ماننے والوں پر علم کے حصول کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عاشق محمد و آل محمد کی پہلی پہچان علم حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علم ہی انسان کو عقل سلیم عطا کرتا ہے اور عقل سلیم درست اور غلط کے درمیان فرق بتاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عہد حاضر میں منبر نشینوں نے علم اور پیغام کربلا کو پس پشت ڈال دیا ہے اور اسکی جگہ سطحی خطابت اور جذبات بھڑکانے نے لے لی ہے جسکی وجہ سے عالم دین جیسے ان مجالس میں سے غائب ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ ساڑھے تیرہ سو سے رائج اہلبیت کی پسندیدہ صنف مرثیہ جیسے مجالس میں سے غائب ہو گیا ہے اور کوئی نیا مرثیہ لکھنے والا سامنے نہیں آرہا جسکی وجہ مجالس میں مرثیے سے غیروں جیسا سلوک ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان مجالس کو نفرتوں کی بجائے محبتیں پھیلانے کے لیئے استعمال کیا جائے اور کربلا کے پیغام کو نعرے بازی پر فوقیت دی جائے۔

اپنے خطاب کے بعد صفدر ھمدانی نے عزاداری کے موضوع پر اپنا لکھا ہوا مرثیہ پیش کیا‘‘باخدا قرض رسالت ہے عزائے شبیر‘‘ جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔
مجلس عزا کے خاتمے پر ماتم و نوحہ ہوا جسکے بعد نیاز امام حسین ع پیش کی گئی۔
اس نشست کے بعد نجی نشست میں وہاں کے نوجوانوں نے دینی، سماجی اور سیاسی حوالے سے متعدد سوالات کیئے جنکے جوابات سے صفدر ھمدانی نے ان احباب کی تشفی کی اور اس بات پر زور دیا کہ ہر بات کو سن لینا ہی کافی نہیں بلکہ اسکو عقل کی کسوٹی پر پرکھا جائے اور تحقیق کی جائے۔