|
آیت اللہ روح اللہ خمینی۔ایران کےانقلاب اسلامی کے سرخیل
11.02.2010, 10:57am , جعمرات (GMT+1)
عالمی اخبار ریسرچ یونٹ
ایران کے مذہبی رہنما۔ بانی اسلامی جمہوریہ ایران ۔ آیت اللہ العظمٰی امام روح اللہ الموسوی الخمینی 17 مئی 1900ء کو خمین میں پیدا ہوئے جو تہران سے تین سو کلومیٹر دور ہے۔ ایران ، عراق ، اور اراک میں دینی علم کی تکمیل کی۔ 1953ء میں رضا شاہ کے حامی جرنیلوں نے قوم پرست وزیراعظم محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ کر تودہ پارٹی کے ہزاروں ارکان کو تہ تیغ کر دیا تو ایرانی علما نے درپردہ شاہ ایران کے خلاف مہم جاری رکھی، اور چند سال بعد آیت اللہ خمینی ایرانی سیاست کے افق پر ایک عظیم رہنما کی حیثیت سے ابھرے۔
4 نومبر 1964ء کو شاہ نے آپ کو ملک بدر کر دیا۔ ایک سال فرانس میں رہے ،اور 4 اکتوبر 1965ء میں نجف اشرف چلے گئے۔
عراق کی سرزمین بھی آپ کے لیے تنگ ہوگئی تو 6 اکتوبر 1978ء کو فرانس منتقل ہوگئے۔ اور پیرس کے قریب قصبہ نوفل لوش تو میں سکونت اختیار کی۔ جلاوطنی کے اس سارے عرصے میں شاہ ایران کے خلاف تحریک کی ’’ جس میں ملک کے تمام محب وطن عناصر شامل تھے‘‘ رہنمائی کرتے رہے۔ 17 جنوری 1979ء کو شاہ ایران ملک سے چلے گئے۔
یکم فروری 1979ء کو آیت اللہ خمینی تہران واپس آئے اور شہر قم میں مستقل رہائش اختیار کی۔ کینسرکی وجہ سے ان کا انتقال 3 جون 1989ء ہوا۔ تہران کے قریب دفن ہوئے
عراق نے ستمبر1980 میں ایران (خوزستان) پر حملہ کیاتھا۔اس کے بعد ایرانی لیڈر آیت اللہ روح اللہ خمینی نے اپنی تقریر میں کہا: جرم ما این است کہ اسلام را می خواہیم، ہمارا جرم یہ ہے کہ ہم اسلام کو چاہتے ہیں۔
یکم فروری انیس سو اناسی میں انقلاب ایران کا نکتہء عروج کے وقت جب امام خمینی چودہ برس کی جلاوطنی کے بعد فرانس سے تہران پہنچے، اس روز تہران ہی نہیں پورا ایران سڑکوں پر امڈ آیا،استقبال کا ایسا منظر دنیا نے پہلے کہاں دیکھا ہو گا۔ وہ کون سی قوت تھی،جس نے پورے ایران کو امام خمینی کے پرچم تلے جمع کردیا۔
رضا شاہ پہلوی نے ملک میں جبر کا نظام قائم کررکھا تھاجسے چیلنج کرنے کی ہمت کسی میں نہ تھی، امام خمینی احتجاج کی پہلی آوز بنے۔ شہنشاہ نے انہیں جلاوطن کردیا اور اہل ایران نے انہیں دل میں بٹھا لیا ۔
جلا وطنی کے باوجود تحریک جاری رہی ،امام کی تقریروں کے کیسٹ اسمگل ہو کر ایران پہنچتے اور آگ لگا دیتے۔ تاریخ میں ایسی تحریک کی مثال نہیں ملتی۔
شہنشاہ فرار ہواتو انقلاب تکمیل کو پہنچا لیکن یہ کیسا انقلاب تھا۔مذہبی ،فرقہ وارانہ یا سیاسی۔انقلاب نے طاقت کے ایوانوں میں گھنٹیاں بجا دیں،سازشیں شروع ہوگئیں،جنگیں مسلط کی گئیں پوری قیادت کو اڑا دیا گیا لیکن انقلاب زور پکڑتا رہا ،کیوں۔ اس کا راز امام خمینی کی پرکشش شخصیت اوران کی پرعزم قیادت میں ہے۔
وہ دنیا میں نہیں لیکن ان کا انقلاب انہیں ہمیشہ زندہ رکھے گا۔
|