|
مولویوں کی تصاویر آویزاں کرنے پر احتجاج کریں ۔ تنظیم علی کانگریس
17.02.2010, 11:14am , بدھ (GMT+1)
عون نقوی ۔لکھنو
مولوی اپنی تصویروں سے اپنے بھاؤ بڑھاتے ہیں،انکو مارکٹنگ کا قوم حق نہ دے
علی کانگریس نے کربلاءمعلی اور مقامات مقدسہ کی تصویریں آویزاں کرنے کا مشورہ دیا
لکھنو ۔علی کانگریس کے ترجمان نے تنظیم کے ایک اخباری بیان میں مولویوں اور ذاکرین کے اس شوق کی سخت مذمت کی ہے کہ چوراہوں پر مقدس مقامات میں مرقعوں کے بجائے اپنی تصویروں سے قوم،سرکار اور ضلع انتظامیہ کو دھونس میں لینے کی کوشش کرتے ہیں۔
علی کانگریس نے قوم سے اپیل کی کہ مولویوں کی تصاویر آویزاں کرنے پر احتجاج کریں اور سبیلوں،کربلاو ں اور امام باڑوں کے باہر یا گھروں میں کربلاءمعلی و دیگر مقامات مقدسہ کی تصویروں سے سجائیں۔ ترجمان کے مطابق سیاسی نیتاو ں اور فلمی اداکاروں کی طرح سے خود نمائی اور اپنی مارکٹنگ کا جو جنون اس طبقہ پر طاری ہے اس سے شان عزا کی توہین ہو رہی ہے۔
زمانہءقدیم سے ایام عزاداری میں مقامات مقدسہ بالخصوص کربلاءمعلی کی بڑی تصویروں کو سجایا جاتا تھا تاکہ عزاداروں کو ان سے تحریک و ترغیب حاصل ہو سکے۔مگر اب صورتحال بدتر ہوچکی ہے۔ مولویوں کے ایک بڑے طبقے نے اپنی ’ بھیانک تصویریں‘آویزاں کرکے توہین عزا کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔
تنظیم علی کانگریس کے ترجمان نے بہر حال انقلابی علماءقم و نجف کو اس مطالبہ سے مستثنی کیا ہے۔ انقلابات اسلامی اور حزب اللہ کے جانباز علماءکی قیادت کو بالخصوص آیتہ اللہ خمینی اور انکے رفقاءکار نیز حزب اللہ کے لیڈر سید حسن نصر اللہ کی تصویروں کو ضرور جگہ دیں مگر مقامی مولویوں کی تصویروں کو قطعی برداشت نہیںکیا جائےگا۔
ترجمان کے مطابق مولویوں نے پورے سال اپنی ’ مارکٹنگ‘ کا سلسلہ جاری رکھا اور وہ ان سائن بورڈوں سے اپنے’ بھاو‘ کو بڑھانے کا کام کرتے ہیں۔تنظیم علی کانگریس ان تمام ذاکرین کی تحسین کرتی ہے جو عزائے امام مظلوم و شہدائے کربلا کی مجلس کی ذاکری کرنے کی اجرت وصول نہیں کرتے ہیں۔ علی کانگریس ایک بار پھر قوم سے اپیل کرتی ہے کہ ان مولویوں اور ذاکرین کی مذمت کرے جو اجرت ذاکری وصول کرتے ہیں۔
|