15.10.2026, 05:46pm , جعمرات (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » ڈاکٹر نگہت نسیم
 

ہماری سویر کیسے ھو؟ از نگہت نسیم
09.11.2008, 07:07am , اتوار (GMT+1)

نگہت نسیم ۔سڈنی

 کچھ ھی دن پہلے ایک سیاہ فام نے سپر پاور کی ساری پاور اپنے نام کر لی اور آتے ھی نامی گرامی   کالے لوگوں کو اپنے ھمراہ بھی کر لیا ۔ اور یوں کئی ملکوں میں اندھیری راتوں کی سویر ھونے سے پہلے اُن کے مقدر اور بھی سیاہ لگنے لگے ۔

مسائل جتنے بھی ھوں اُن کاحل ضررو ھوا کرتا ھے بس ھماری دیدہ وری کی پہنچ مہیں نہیں آتا یا پھر ھم ھی دوکوس منزلوں کو سو کوس دور سمجھ لیتے ھیں ۔ اور پھر ھماری ھی سوچ ھماری  سیاہ راتوں کو اور بھی لمبی اور تاریک کر دیتی ھے 
۔
تاریخ یہ بھی شہادت دیتی ھے کہ جن ملکوں کے لوگ جلد بیدار نہیں ھوتے اُن پر ایسے حکمران مسلط کر دیئے جاتے ھیں جو اللہ بزرگ و برتر سے بھی نہیں ڈرتے ۔  اور پھر یہی تاریخ  یہ بھی بتاتی ھے کہ اُن ملکوں کی تاریخ  بھی زندہ نہیں رھتی۔

آج پورے میڈیا  میں باتیں ھورھی ھیں کہ کالیا خنانی گروپ کاچیف پکڑا گیا اور یوں اُسے وہ ذلت اٹھانی پڑ رھی ھے جو اُس نے کبھی  کئی لوگوں کی قسمت کی ھو گی اور کئی لوگوں کی قسمت  بنائی  بھی ھو گی  ۔ اور  پھر یہی اعمال  انسان کو دنیا ھی میں جنت اور جہنم کا سفر کرا دیتے ہیں  ۔۔ شاید اسی کو مکافاتٍ عمل بھی کہتے ھیں ۔

دوستو ! ایک بات بڑی عجیب ھے کہ ھم رنگ و نسل کی بات میں تعصب کی بات کرجاتے ھیں ۔ جیسا کہ گورے کالوں کے ساتھ کرتے آئے ھیں ۔


 لیکن ھم میں سے کتنے ایسے لوگ ھیں جو کالے نہیں ھیں لیکن کالیا خنانی کے چیف جیسے ھیں ۔  جو ھر پروفیشن میں اپناکالا دھندہ کرتے ھیں ۔لیکن انہیں کوئی بھی رنگے ھاتھوں نہیں پکڑ پاتا ۔ ابھی اور بھی کئی کالیئے ھیں جنہیں آپ اور میں بہت اچھی طرح سے جانتے ھیں ۔

 جیسے محکمہ صحت کی کڑی شرائط کے باوجود  دواؤں کی چوری کرنے والوں  اور جعلی دوایئاں بنانے والوں کو کسی نے کبھی پکڑا ھے  ۔
 
کتنے انجنیئرز ھیں  ؟
جنہوں نے اپنے پراجیکٹز کو ایمانداری سے نبھایا ھو یا اُن کی تعمیر کی ھوئی عمارتیں سالہا سال زندہ رھی ھوں ۔ اور جن کی بنائی ھوئی  سڑکوں کی بد حالی کا نوحہ کسی دور میں نہ پڑھا گیا ھو ۔

اب بات کرتے ھیں  انصاف کی تو کیا یہاں کالا دھندا نہیں ھو رھا ؟

 کیا کسی ملک کو یہ جائز ھے کہ اُن کے وکیلوں کی آپس کی رنجش اور نا انصافی کی سزا معصوم لوگوں کو ملے اور وہ ایسے کہ بغیر مقدمے کے کئی مہینوں تک  جیلوں میں قید رھیں ۔

 اب بات کرتے ھیں قلم بیچنے والوں کی ، جس پر مجھے اپنے بابا (جناب صفدر ھمدانی ) کی بات بہت یاد آرھی ھے جو انہوں نے آج بھی کہی تھی “ کالیا کوئی کسی ایک شعبے میں نہیں۔ہر شعبہ زندگی میں ایک نہیں کئی کئی کالیے ہوتے ہیں۔ خود ہمارا صحافتی اور ادبی شعبہ بھی ایسے ایسے کالیوں سے بھرا ہوا ہے کہ خدا کی پناہ ۔ یہ کالیئے اندر باہر سے کالیے ہیں۔ یہ لکھتے نہیں بلکہ قے کرتے ہیں۔

 یہ وہ گدھ ہیں جو کسی کے شکار کو کھا کر زندہ ہیں اور جن کے پاس ضمیر نام کی کوئی چیزنہیں۔ یہ اپنے ناموں کے متضاد ہیں۔ نام کا مطلب روشنی ہے لیکن قلم سے ،زبان سے اور ذہن سے بس تاریکی پیھلاتے ہیں۔

 چوغہ صوفیا کا پہنتے ہیں اور کام  فکر یزید والے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کسی کے کیئے ہوئے کام کو اپنا نام دیتے ہوئے بھی شرمندہ نہیں ہوتے اور کسی کے گھر پر اپنی تختی لگا کر خوش ہوتے ہیں۔

 یاوہ گوئی،پھکڑ پن اور سوقیانہ باتوں کو شعر گوئی کہتے ہیں۔ یہ ادب کے کالیئے اندر باہر سے کالے ہیں۔ ۔ یہ کالیئے وہ بالشتیے ہیں جو بانس پر لٹک کر اپنے کو قدآور بنا لیتے ہیں“

  آج علامہ اقبال کاایک سو اکتیسواں یوم ٍ پیدایئش  ھے ۔۔ اور میں اسں دن کو یومٍ پاکستان کانام بھی دیتی  ھوں کہ انہوں نے ھی سب سے پہلے یہ خواب ظلم سہتے انسانوں کو امید کی طرح ھاتھوں میں دیا تھا ۔۔ اُس وقت انہیں بھی کہاں  معلوم تھا کہ پاکستان اپنے وجود سے لے کر آج تک کئی کالیوں کے ھاتھوں یرغمال بنا رھے گا  ۔۔

ھزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ھے
بڑی مشکل سے ھوتا ھے چمن میں دیدہ ور پیدا 

دوستو!
جس ملک میں اتنے کالیئے ھوں وھاں سویر کیسے ھو
۔۔؟؟

ھماری سویر کیسے ھو ۔۔؟

 



:دیگر مضامین
(07.11.2008) میرا بھی ایک خواب ھے ۔از نگہت نسیم
(02.11.2008) صحافت عبادت ھے یا تجارت۔ از نگہت نسیم
(01.11.2008) عالمی اخبار کے اجرا پر پہلا اداریہ
(14.10.2008) امن کی فاختہ تو پاکستان میں موجود ہے ہمیں علم نہ تھا
(14.10.2008) امن کی فاختہ پاکستان کے آسمان پر کہیں نظرنہیں آرھی
(14.10.2008) قانون اور پاکستان میں “ن “ کا نقطہ
(14.10.2008) چالیس ھفتوں کی کہانی ایک ھفتے میں ختم
(14.10.2008) جونہی فیصلہ ہوا بھولی عوام کو مزید گمراہ کردیا جائے گا
(14.10.2008) جمہوری خاندان کی خاندانی آمریت
(14.10.2008) ‘‘تو ایک اک حرف جی اٹھے گا‘‘
(14.10.2008) قوموں کے مزاج انکے عروج و زوال کے امین ہوتے ہیں
(14.10.2008) احمد فراز ، اٍس بے بصر عہد کی زندہ مثال
(14.10.2008) بین المذہبی کانفرنس یا امریکی نیاز مندی
(14.10.2008) اب اور کس کس طرح سے مرنا ھو گا
(14.10.2008) رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ھے
(14.10.2008) سیاسی استخارے اور ھم بیچارے
(14.10.2008) لانگ مارچ کا ایک دور اندیشانہ اختتام
(14.10.2008) غلطیاں یا مشعلٍ راہ
(14.10.2008) مقدمہ اب چُپ رھنے والی عوام پر چلایا جائے
(14.10.2008) وہ کھلاڑی جو کچھ مختلف کر سکتے ھیں



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں