|
عید زہرا سلام اللہ علیہہ ۔ ایام غم کا اختتام
24.02.2010, 01:04am , بدھ (GMT+1)
عالمی اخبار
مورخین کا اتفاق ہے کہ جناب مختار نے حضرت حنفیہ کی خدمت میں قاتلان امام علیہ السلام کے سروں کے ساتھ ایک خط بھی اس مضمون کے ساتھ لکھ کر بھیجا تھا کہ ؛ میں نے آپ علیہ السلام کے مددگاروں اور ماننے والوں کی ایک فوج آپ علیہ السلام کے دشمنوں کو قتل کرنے کے لِئے موصل بھیجا تھا ، اس فوج نے بڑی جوانمردی اور بہادری کے ساتھ آپ کے دشمنوں کا مقابلہ کیا اور بے شمار دشمنوں کو قتل کیا جس سے مومنین کے دلوں میں مسرت کی لہر دوڑ گئ اور آپ کے ماننے والے نہایت خوش اور مسرور ہوئَے ، اس سلسلے میں سب سے بڑا کردار ابراہیم بن مالک اشتر نے ادا کیا جو سب سے زیادہ تحسین و آفرین کے مستحق ہیں ۔
جناب محمد حنفیہ کے سامنے جس وہ تمام سر پیش کیئَے گئَے تو دیکھتے ہی سجدہ شکر میں جھک گئَے اور جناب مختار کے حق میں دعا کی کہ ؛ خداوند مختار کو جزائَے خیر دے جس نے ہماری طرف سے واقعہ کربلا کا بدلا قاتلان حسین علیہ السلام لیا ہے ۔"؛
پھر اس کے بعد آپ سجدہ شکر سے سر اٹھا کر عرض پرواز ہوئَے ؛ "پالنے والے تو ابراہیم بن مالک اشتر کی ہر حال میں حفاظت فرما اور دشمنوں کے مقابلے میں ہمیشہ اں کی مدد کرتا رہ اور انہیں ایسے امور کی توفیق عطا فرما جو تیری مرضی کے مطابق ہوں اور جن سے تو راضی ہو اور ان کو دنیا و آخرت میں بخش دے" ۔
سر ابن زیاد امام زینُ العابدین علیہ السلام کے خدمت میں
جناب حنفیہ نے ابن زیاد ، عمر سعد ، حسین بن نمیر اور شمر زی الجوشن وغیرہ کے سروں کو امام زینُ العابدین علیہ السلام کی خدمت میں ارسال فرمایا ، اُن دنوں حضرت مکہ معظمہ میں ہی مقیم تھے ۔ حضرت کی خدمت میں اُن ملعونوں کے سر پہنچے اور آپ کی نگاہ اُن سروں پر پڑی ، آپ علیہ السلام نے فوراً سجدہ شکر میں اپنا سر رکھ دیا اور بارگاہ احدیت میں عرض کی ، " پالنے والے میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے ہمارے دشمنوں سے انتقام لیا " ۔ پھر سجدے سے سر اٹھا کر آپ علیہ السلام نے فرمایا " خدا مختار کو جزائَے خیر دے کہ اُس نے ہمارے دشمنوں کو قتل کیا" ۔
جس وقت ابن زیاد کا سر آپ علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا آپ ناشتہ تناول فرما رہے تھے ۔ اُن سروں کو دیکھ کر آپ نے سجدہ شکر کیا پھر سر اٹھا کر فرمایا کہ " خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اُس نے میری وہ دعا قبول کر لی جو میں نے دربار کوفہ میں کی تھی جب میرے پدر بزگوار کا سر طشت میں رکھا ہوا تھا اور اُس وقت ابن زیدا ملعون ناشتہ کر رہا تھا " یعنی خداوندا مجھے اُس وقت تک موت نہ دینا جب تک مجھے ابن زیاد ملعون کا کٹا ہوا سر نہ دکھا دے" ۔
اس کے بعد حضرت زینُ العابدین علیہ السلام نے داخل خانہ ہو کر مخدرات عصمت و طہارت سے فرمایا کہ اب لباس ماتم تبدیل کرو ، آنکھوں میں سرمہ لگاو ، بالوں میں کنگھی کرو ۔ چنانچہ آپ کے ارشاد کے مطابق اہل حرم نے عمل کیا ۔ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد سے آج تک اہلبیت رسول صلی اللہُ علیہ و آلہ وسلم میں نہ کسی نے سرمہ لگایا تھا ، بالوں میں تیل ڈالا تھا ۔
از کتاب "امیر مختار " مصنف سید بشارت حسین کامل مرزا پوری ۔
۹ربیع الاول اس لحاظ سے بھی خاص اہمیت کا حامل ہے کہ ۹ ربیع الاول سن 260 ھ کو حضرت حجت قائم آل محمد حضرت صاحب ُ العصر والزمان نے امامت کا منصب پوری زمہ داری کے ساتھ سنبھالا ۔ السلام ُ علیک یا صا حبُ آلعصر والزمان عجل اللہ ُ تعالٰی فرجہ، ۔
ہم اپنی ٹیم کی جانب سے تمام مومنین و مومنات کو اس خوشی کے موقع پر مبارک باد پیش کرتے ہیں ۔
|