اقلیم قلم کو نۓ اطوار عطا کر
آنکھوں کو میری دیدہ بیدار عطا کر
بخشش کے طلب گار ھیں اے منبع رحمت
گریئہ کو میری لذت تکرار عطا کر
لاریب ھے ھستی تری ھر سمت ھے قدرت
قرآن سے الفت کے تو اطوار عطا کر
آتی ھو مہک باغ ارم کی جہاں ھر دم
یارب مجھے ایسا کوئ گھر بار عطا کر
طلائ قلم سے لکھوں میں مدحت باری
فرھنگ محبت کے وہ معیار عطا کر
بجھہ جاۓ نہ سورج میری افکار خرد کا
افکار کے حجرے کو وہ انوار عطا کر
آغاز کروں نفس کے جہاد کا جس سے
اسباب کے ھوراہ مجھے ھتیار عطا کر
وصف عطا عجیب تیرا رب ذوالجلال
باغ عد ن کے تو ھمیں اثمار عطا کر
انکھوں میں چمک روح میں تاثیر جو لاۓ
شاھین کو وہ دائمی نکھار عطا کر