14.10.2026, 08:40pm , بدھ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

جون ایلیا سے بچھڑے چھ برس ہو گئے‘
08.11.2008, 01:42am , ہفتہ (GMT+1)

سید اقبال حیدر،فرینکفرٹ
جون ایلیا اور سید اقبال حیدر
جون ایلیا کہنے کو تو میرے دور کے رشتہ داروں میں سے تھے مگر وہ میرے بہت ہی مشفق و مہربان دوست تھے میری نظروں میں ہمیشہ جون بھائی کا احترامایک استاد کا تھامیں جب بھی پاکستان جاتا کراچی اگر کوئی کام نہ بھی ہوا تو جون بھائی سے ملنے کراچی گیاخواہ صرف ایک دن ہی کے لئے گیا،وہ زندگی بھرمحرومیوں اور مایوسیوں کا شکار رہے زندگی کا آغاز نہائیت ڈرامائی انداز سے کیا اور اختتام بھی ڈرامائی انداز سے ہوا۔

جون ایلیا اپنی کتاب ’’ شاید ‘‘ کے ابتدائی صفحات میں لکھتے ہیں...........................میں محسوس کر رہا ہوں جیسے میں فریادی ماتم
کرنے لگا ہوں اور انفعالیت کا شکار ہو گیا ہوں۔نہیں جناب ایسا ہرگز نہیں ہے ،میں تو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ سرمایہ داری نظام کے قحبہ خانوں کا گریبان پکڑ کرانھیں سرِ عام کھینچ کے لانا ہمارے فنون اور ہماری دانش کا فرض ہے،امریکہ اور مغربی یورپ کی ڈیرے دار سرمایہ داری کا وجود بیسویں صدی کے تہذیبی شعوراور عمرانی احساس جمال کی توہین ہے۔

میرے پاس بہت کم وقت رہ گیا ہے میرے پاس اگر ایک ثانیہ بھی رہ گیا ہے تو وہ الکٹرونی گھڑی کے مطابق ہزاروں انانیت کا اثاثہ ہے جو میرے لئے بہت نئے خوابوں کی ضمانت بن سکتا ہے ۔اور میں خواب دیکھنے کے سوا کوئی ہنر جانتا بھی تو نہیں۔

ہم نادیدہ افقوں سے اٹھنے والے بادلوں کا انتظار کرتے رہے کہ ہمیں سمتوں کو دھونا تھا،آبشاروں کے ہزاروں سے چھتنار پیڑوں اور پودوں
کو دھونا تھا جو تاریخ کی گرد افشانی سے گرد آلود ہیں۔تمھارے اور اپنے آنسوؤں سے بے سود گلہ مندیوں کے چہروں کو دھونا تھا.... شاخوں اور.......ان کی جنبشوں کے آہنگ پر چہچہانے والے پرندوں کو اور ان کے پروں کو،ان کی منقاروں کو دھونا تھا۔ہواؤں اور بادلوں....اور بادلوں میں کوندتی ہوئی بجلیوں کو دھونا تھا ۔ہمیں یزداں اہرمن اور انسان کو دھونا تھا مگر ہم کچھ بھی نہیں کر سکے.......................
میں اپنے بعد آنے والوں کے پہلے پرے کو دیکھنا چاہتا ہوں۔میری،میرے ساتھیوں کی آنکھیں ،ایک عمر سے سلگ رہی ہیں ہیں۔جل رہی ہیں۔
میں ان آنے والوں کو دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرنا،اُن کے ماتھے چومنا اور پھر اپنی پلکیں بند کر لینا چاہتا ہوں.......... ان کی تحریر میں جو انکساری ہے۔وہی ان کے بڑے فنکار ہونے نشاندہی ہے...... اور..... جون ایلیا نے آخر آنکھیں بند کر ہی لیں......

جون ایلیا نے جو ادب تخلیق کیا اس میں حوصلہ ، لگن ،اُمنگیں اور ولولے ہیں لیکن اندر سے وہ سوختہ سامان مسافر رہے۔اُن کی شاعری میں
جو تڑپ اور شوریدہ سری ہے وہی ان کی انفرادیت ہے۔کلام میں بلا کی نفاست سادگی اور پُرکاری ہے،زمانے نے ان کو پریشانیاں دیں ، پشیمانیاں دیں ،اُلجھنیں اور بے چینیاںدیں۔وہ زندگی بھر محبت مانگتے رہے،مسرت چاہتے رہے وہ سکون کے طالب تھے وہ آسودگی چاہتے تھے لیکن ہر محاز پر اُن کو شکست ہوئی۔

جون بھائی کو اپنے خیالات اور جذبات کا اظہار شعروں میںکرنے کے لئے کبھی زیادہ دیر سوچنا نہیں پڑا...وہ ہر بات کو اسی بے ساختگی سے کہہ جاتے تھے جیسےروز مرّہ کی گفتگو کر رہے ہوںذرا دیکھیے ۔محبت میں سرشار جون ایلیا اپنے محبوب سے کتنی بے ساختگی اور خوبصورت انداز میں مخاطب ہوتے ہیں....

شرم ، دہشت ، جھجک ، پریشانی
ناز سے کام کیوں نہیں لیتیں
’’آپ،وہ،جی،مگر ‘‘ یہ سب کیا ہے
تم مرا نام کیوں نہیں لیتیں

جون ایلیا نے اپنی محبوب کے ہاتھوں میں ’’حنا‘‘ لگا کر اس کے ہاتھ گلنار کئے تھے۔ مگر چند برسوں بعد اور خوشیوں کی طرح یہ خوشی بھی ان کی زندگی سے رخصت ہوئی تو آپ فرماتے ہیں ... ... دنیا میرے ہجوم کی آشوب گاہ ہے ۔ اور اپنے اس ہجوم میں تنہا کھڑا ہوں میں اور اب جون ایلیا تھے کہ تادمِ آخر اس اپنی آخری محبت کو فراموش نہیں کر پائے عشق میں ناکامی ہی اس نابغہ ء روزگار شاعر کا المیہ تھا۔

اب حنّا کی سرخی جون کی زندگی میں چڑھنے کے بجائے ماند ہونے لگی اورآپ نے پناہ بھی تلاش کی تو کہاں کہ جہاں ڈوب کر کوئی نکلتا
ہی نہیں۔ ..........ان کے کرب کا اظہار ان کے ان اشعار میں دیکھیے....

ہاں اس کے نام میں نے کوئی خط نہیں لکھا
کیا اس کو یہ لکھوں کہ لہو تھوکتا ہوں میں
کربِ غمِ شعور کا درماں نہیں شراب
یہ زہر بے اثر ہے اسے پی چکا ہوں میں
اے وحشتو ! مجھے اسی وادی میں لے چلو
یہ کون لوگ ہیں یہ کہاں آگیا ہوں میں

بنتِ عنب اور جون کا ساتھ اب چولی دامن کا ہو گیا جگر فگار ہو گیا ،معدے نے ساتھ چھوڑ دیاپھر بھی اس دستِ حنّائی کو چومنے کی تمنّا میں زندگی گزاررہے تھے۔وہ احباب میں قہقہے لگاتے جام سے جام ٹکراتے وہ مسلسل ناکامیوں اور مستقل اداسی سے بھی کبھی پریشان نہ ہوئے شراب نوشی کی کثرت فقط دستِ حنّا کوچومنے کی حسرت کا بہانہ تھی۔

اُن کی موت سے کچھ دنوں پہلے میں پاکستان گیا تھا کراچی میں قاسم پیرزادہ صاحب کے گھر شام کو چائے کی پُر تکلف دعوت تھی اور پھر
جون بھائی کے ہاں بھی گیا تقریباً چھ گھنٹے ان کے ساتھ رہا ۔جون بھائی کو مجھ سے ایک شکائیت
تھی۔جب بھی میں آپ سے ملنے جاتا مجھے خالی ہاتھ دیکھ کر کہتے....مردود....پھر خالی ہاتھ آ گیا.... میںنے اٹھنا چاہامگرپیار سے ڈانٹ کر بٹھا لیتے
یورپ کے ادبی ماحول کا حال سنتے رہے میں نے حال ہی میں جرمنی میں کیفی اعظمی کی یاد میں کئے پروگرام کا زکر کیا تو بہت خوش ہوئے
یورپ میں مقیم شعراء کو بہت دعائیں کہیں،مجھے جرمنی میں ادبی خدمات جاری رکھنے کی تلقین کرتے رہے میں جس روز لاہور سے کراچی جا رہا تھا تو اسی روز میری لاس اینجلس ریحانہ قمرسے بات ہوئی تو انھوں نے کہا اقبال اگر تم جون صاحب کے پاس جا رہے ہو تو انھیں میری طرف سے امریکہ آنے کی دعوت دو میں ان کے لئےفرسٹ کلاس کا ٹکٹ تک بھیجنے کے لئے تیار ہوں

میں نے جب ان سے زکر کیا تو جون بھائی نے مسکرا کر کہا میاں اب ’’اس امریکہ میں کیا جائینگے‘‘ریحانہ کوشکریہ کہہ دینا... مجھے کیا خبر تھی کہ ان سے یہ میری آخری ملاقات ہوگی۔

میں جون بھائی کے ان اشعار پر گفتگو کو ختم کرتا ہوں.....
دل کے ارمان مرتے جاتے ہیں سب گھروندے بکھرتے جاتے ہیں
شہر آباد کر کے شہر کے لوگ اپنے اندر بکھرتے جاتے ہیں
روز افزوں ہے زندگی کا جمال آدمی ہیں کہ مرتے جاتے ہیں

:دیگر مضامین
(04.11.2008) سڈنی کی تقریب کمیونٹی ایوارڈ
(03.11.2008) پاکستان کے بارہ صدر
(03.11.2008) آسٹریلیا کے شہر کینبرا میں چودہ اگست کی تقریب
(03.11.2008) سڈنی میں محفل ذکر اہلبیت
(03.11.2008)  سڈنی اور میلبورن میں میلاد آئمہ کی محافل(آخری قسط)
(03.11.2008) سڈنی میں صفدر ھمٰدانی کے اعزاز میں محفل غزل
(01.11.2008) یکم نومبر ایک یادگار دن رہے گا
(29.10.2008) کوئٹہ کا 1935کا تباہ کُن زلزلہ
(25.10.2008) چہروں کی بجائے اب نظام بد لا جائے ۔
(22.10.2008) بجلی کا بل اور کرنٹ
(20.10.2008) عالمی اخبار کے اجرا پر انگریزی پیغامات
(13.10.2008) وینس ٹی وی لندن کا مشاعرہ
(07.10.2008) جشنِ مرتضوی 2008 کراچی
(04.10.2008) وینس ٹی وی لندن کا مشاعرہ
(04.10.2008) لندن میں نصبِ علم کی تقریب
(04.10.2008) سڈنی میں ایک خوبصورت موسیقی کی شام
(04.10.2008) پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اور باب تحریر ہوا
(04.10.2008) پاک ڈچ نیشنل فورم کایادگار مشاعرہ
(04.10.2008) ’’ شہادتِ سیدہ خدیجہ بنتِ علی ‘‘
(04.10.2008) حضرت عبد القادر جیلانی علیہ رحمہ



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں