خطبہ صدارت کر نل شفاعت کی کتاب نسخہ شفا عت کی رونما ئی پر۔۔۔ از شمس جیلانی 
مجھے پہلے تو یہ کتاب اردو ایسوسی ایشن کی طرف سے تبصرےکے لیئے ملی تھی، مگر جب میں پاکستان ہا ؤس کے ہال میں پہو نچا تو، یہ معلوم کر کے خوشگوار حیرت ہو ئی کہ اس تقریب کی صدارت اور کتاب کی رونما ئی کی سزا بھی میرے نام لکھ دی گئی۔ چونکہ جیسا ماحول ہو ویسا ہی بننا پڑتا ہے، تب ہی عنوان کے ساتھ انصاف ہو سکتا ہے۔
لہذااس تقریب میں مجھے اپنا انداز بدلنا پڑا کیونکہ جناب کر نل شفاعت اتنے صاف گو ہیں کہ انہوں نے کچھ بھی کبھی عوام سے چھپا کر نہیں رکھا، ممکن ہے اور بھی رہے ہو ں سچا ئی کے علمبر دار۔ جوکہ شاید میرے علم میں نہ ہوں ۔ مگر میرے علم ِ ناقص کے مطابق بر صغیر میں جو ش ملیح آبادی کے بعد یہ دوسرے اور جنرل مشرف تیسرے آدمی ہیں جنہوں نے اپنے بارے میں بھی سچ بو لا ہے اور یہ واقعی بڑی
جرات کا کام ہے ۔

جب میں نے یہ کتاب دیکھی تو میرے ذہن میں پہلا سوال یہ ابھرا کہ انہوں نے اس کتاب کا نام “ نسخہ شفا عت “ کیوں رکھا ؟ جبکہ یہ نہ تو مذہبی کتاب ہے ،نہ طبی ؟ مجھے اس پر کافی سوچنا پڑا ، کہتے ہیں کہ جب آدمی ڈھونڈنا چا ہے اور لگن بھی صادق ہو تو خدا بھی مل جاتا ہے۔
میں نے اس کو کھوجا کھنگالا ،تو مجھے بھی میرا گوہرِ مقصود مل گیا کہ اس کا نام نسخہ شفا عت کیوں رکھا گیا ؟
در اصل وجہ یہ ہے کہ کرنل صا حب ہر بات شگفتہ انداز میں بیا ن کر نے کہ عادی ہیں ۔ لہذا ان کے بیان کیئے ہو ئے اکثر مضامین اپنے اندر طنزو مزاح لیئے ہو ئے ہوتے ہیں جو پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔
جبکہ یہ تو آپ تو سب ہی جانتے ہیں کہ “ہنسی علاج ِ غم ہے “اسی لیئے انہوں نے شاید اس کانام “ نسخہ شفا عت

“رکھا۔ دوسری خوبی اس کتاب کی یہ ہے کہ اس میں انہوں نے حکیم جی کی طرح چو مکھی لڑی ہے۔ یعنی جیسے زمانہ قدیم کے طبیب اپنے ایک ہی نسخے میں گل قند( میٹھا) ،گلِ بنفشہ ،گا وزباں، معجون ِ جواہر والا سے لیکر کشتہ سم الفار (سنکھیا) تک لکھ دیتے تھے۔
اسی طرح انہوں نے بھی اس میں دلّی کی وجہ تسمیہ، تہذیب ، تاریخ،لا ل قلعہ ، قطب مینار ، جوانی کی شرارتیں ، اس دور کی لغزشیں ، یاد ِ خوباں، تصوف ، تھک تھک تھیا ۔
انڈیا پاکستان اور حیدر آباد کے مشہور جنرلوں کے قصے جن میں جنرل مشرف بھی شامل ہیں اور ان کے علاوہ نہرو کی بیٹی اور دوسری شخصیات سب ایک ہی کتاب میں جمع کردیئے ہیں۔ غرضیکہ اس میں وہ سب کچھ لکھدیا ہے جو کہ ایک قاری کو متاثر کر سکتا ہے، قاری چاہیں کسی ڈھنگ اور کسی مٹی کا بنا ہواہو! لیکن اس میں ہر ایک کے لیئے اس کی من پسند غذا میسر ہے۔

اب میرے سامنے دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ یہ چشمہ شفا عت یکایک ابل کیسے پڑا ۔ اس کی وجہ بھی انہوں نے خود ہی بتا دی کہ تقدیر نے انہیں جہاں پہلے پہونچا دیا تھا ،وہاں سب کچھ تھا، مگر اس دور میں لکھنے پڑھنے اور بولنے کی وہ آزادی نہ تھی جو کنیڈا آنے کے بعد انہیں یہاں نظر آئی ۔ جبکہ کرنل صاحب کے ساتھ ایک کے بجا ئے دو مجبوریاں تھیں ۔ یعنی جس طرح آرمی میں رہتے ہوئے ہر چیز میں ڈبل حصہ ملتا ہے، اسی طرح ہرفوجی کی مجبوری بھی دہری ہوتی ہیں۔ اس لیئے انکے ساتھ وہاں کا شہری ہونے کے علاوہ، ایک مجبوری یہ تھی کہ ان کے ساتھ کرنل کا پچھلا لگا ہوا تھا اور چند سکے حکومت ِ وقت سے بطور پینشن بھی ملتے تھے۔
لہذا وہ وہاں شان سے رہ سکتے تھے، سینے پر تمغے سجھا کر تقاریب میں بھی رعب کے ساتھ جا سکتے تھے ، مگر ان رازوں کو اگل نہیں سکتے تھے، جو کہ کم و بیش انکی پچاس سالہ فوجی زندگی کے صلے میں انہیں حاصل ہو ئے تھے اور ان کے ذہن میں کہیں چھپے ہو ئے تھے،۔اس لیئے کہ دھر لیئے جاتے ؟
جبکہ اس وقت ملک کی صور تِ حال کچھ ایسی تھی، جس میں کرنل صا حب پھنسے ہو ئے تھے ۔اس کو سمجھانے کے لیئے ہم آپ کو ایک لطیفہ سنا ئے دیتے ہیں تاکہ سندرہے اور بروقت ِ ضرورت کام آئے۔

وہ قصہ اس طرح ہے کہ کھوکھرا پار کی پاکستانی سر حد پر، جس کے دوسری طرف منا باوکی ہندوستانی چوکی ہے ، دو کتوں کی مڈھ بھیڑ ہوگئی۔ ایک ہندوستان سے آرہا تھا دوسرا پاکستان سے جا رہا تھا ۔ دونوں پہلے تو ایک دوسرے کو دیکھ کر غرائے ، پھر ایک نے پہلے دم ہلائی، تو دوسرے نے بھی ہلادی، یعنی دوستی ہوگئی۔ کیونکہ وہ حیوان تھے انسان تو تھے نہیں کہ جنہیں دوستی کے لیئے بھی کسی کی اجازت کی ضرورت ہو ۔
پھر دونوں ملکوں کے حالات امیگریشن سے پہلے جاننے کے لیئے ، ایک امگرینٹ کی طرح ، موٹے کتے نے دبلے سے پوچھا کہ بھا ئی تم کیو ں ترک ِوطن کر رہے ہو؟
چونکہ ان دنوں ہندوستان کی حالت پتلی تھی لہذااس نے جواب دیا کہ وہاں کھانے کو نہیں ملتا! بھوکا مر رہا تھا، مرتا کیا نہ کر تا، ادھر چلا آیا۔
پھر اس نے جو اب میں موٹے کتے سے پوچھا کہ مگر تم تو خاصے مو ٹے تازے نظر آرہے ہو، تم بتا وکہ تم کیوں ہندوستان جا رہے ہو؟
تو اس نے جواب دیا کہ پاکستان میں ویسے تو ہر قسم کا آرام ہے، مگر “بھونکنے نہیں دیتے “
یہ جواب سن کر دونوں مطمعن ہو گئے اور اپنی اپنی راہ ہولیئے۔
مگر یہ توتھی جنرل ایوب کے ابتدائی دور کی بات پھر وہ جب طویل ہوگیا۔ تو خدا کا کرنا یہ ہوا کہ فوج سیاست میں آنے سے کرپٹ ہو گئی اور اس کی دیکھادیکھی پوری قوم بھی۔
لہذا حالات الٹ گئے۔ اس کے بعد بھی یہ سلسلہ چلتا رہا پاکستان میں زیادہ ترفوج ہی قابض رہی اور اس کے زیرِ سرپرستی کرپشن میں بے مثال ترقی جاری رہی ۔
جبکہ ہندوستان نے ان تھک کام کیا اور وہ دنیا کی بڑی اکانامی شمار ہو نے لگا، جبکہ ہم کہاں کھڑے ہیں ؟ یہ راز کی بات ہے ہم نہیں بتاتے۔
اس لیئے کہ اس کا آج کے مو ضوع سے کوئی تعلق نہیں ہے جتنا تھا وہ ہم نے بتادیا۔

بہر حال کرنل صاحب جہاندیدہ آدمی ہیں، انہوں نے دلی بسی ہو ئی بھی ،دیکھی اور اجڑی ہو ئی بھی ، پھر حیدر آباد دکن کے کمانڈر العدروس کو ہتھیار ڈالتے دیکھا، جب کے یہ حیدر آباد ی فوج میں افسر تھے ۔ اس کے بعد پاکستانی جنرل نیازی کو ہتھیار ڈالتے بھی دیکھا، جب وہ مشرقی پاکستان میں فوجی افسر تھے ۔اور اس وقت ڈھاکہ کے ما رشل لا ءایڈمنسٹریٹر تھے ۔لیکن جب وہ کنیڈاآئے اور آزادیِ تحریر کا مزہ چکھا، تو اندر کا وہ چھپا ہوا ادیب اور شاعر جاگ اٹھا، جو ان کے اندر نہ جانے کب سے چھپا بیٹھاتھا۔
چونکہ انہوں نے برٹش دور بھی دیکھا ہے ،جب وہ ہندوستانی زبان میں “ لپٹنٹ صاحب “ کہلاتے تھے۔ یہ وہ دور تھا جس میں “لپٹنٹ “ کی ہی نہیں بلکہ اس کے سالے کی بہت اہمیت تھی۔ کیونکہ ہم نے لوگوں کو اپنے کانوں سے یہ اکثر کہتے سنا ہے ،کہ بڑ ا آیا لاٹ صاحب بن کر کیا تو خود کو کسی “لپٹنٹ “ کا سالہ سمجھے ہے ؟ مجھے یقین ہے کہ اس زمانے میں لوگ شفا عت صا حب کی ایک جھلک دیکھنے کے لیئے تر ستے ہوں ہو نگے کیونکہ اس دور میں دیسی کمیشنڈ افسر ڈھوندے سے ملتے تھے۔
قصہ مختصراس کتاب میں برطانوی دور بھی ہے، آزادی کے بعد کا ہندوستان اور پاکستان بھی ہے اور تمام مشہور جنرلوں کے قصے بشمول مشرف بھی ہیں ۔ یہ سب کچھ آپ یا تو محور پبلیکشن سرے (بی سی) سے خرید کر پڑھ لیجئے ۔ تاکہ ایک اچھی کتا ب ،اچھے پڑھنے والے کے ہاتھوںمیں پہونچ جائے۔ ورنہ ٹورنٹو اور سرے کی لائبریریوں میں تلاش کیجئے ۔ویسے ہم یہ بھی بتا تے چلیں کر نل صا حب کی یہ پہلی کتاب نہیں ہے بلکہ پہلی کتاب وہ تھی جو آج س

ے دس سال پہلے غبار ِ عسکری کے نام سے شائع ہو ئی تھی اور جس کا پیش لفظ ہم نے لکھا تھا۔
کرنل صا حب کی دوسری سات کتابیں کنیڈا، پاکستان اور ہندوستان میں نہ صرف دستیاب ہیں بلکہ ان کی مقنا طیسی شخصیت کی طرح مقبول بھی ہیں ان میں سے دو کنیڈا میں چھپی ہیں اور پانچ چندی گڑھ( انڈیا) کے ایک پبلشر نے شائع کی ہیں۔ اب آجکل نویں کتاب لکھنے میں مصروف ہیں ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں جلدی ہی فراغت دے (آمین)۔
ہاں ! ایک بات اور کہ جیسا آپ دیکھیں گے کہ وہ کل بھی کرسی پر تھے اور آج بھی کرس

ی پر ہیں مگر کرسی بدل گئی ہے اس میں اب پہیے لگ گئے یعنی وہ چیرسے وہیل چیر بن گئی ہے۔
وینکوو میں جشن ِ عید ِ میلاد النبی کے سلسلہ میں سرے کہ ایک مشہور ہال میں مقابلہ ِ حسن ِقرات ،حمد و نعت یہاں کے اردو اخبار مریکل کے جانب سے منعقد ہوا جس میں تقریبا “ تین سو مرد اور خواتین نے شر کت کی۔
شمس جیلانی نے جج کے کے فرا ئض انجام دیئے اور اس کے بعد کونسل جنرل پاکستان (مقیم وینکور جناب معین الحق اور شمس جیلانی نےکامیاب شر کائے قرات ، حمد و نعت میں اسناد تقسیم کیں ۔