بسم اللہ الرحمٰن الرحیم -- اللھم صل علی محمد و آل محمد
جرمنی کے دارلحکومت برلین میں 5 مارچ 2010 ء بروز جمعۃ المبارک، عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سلسلہ میں ایک نعتیہ مشاعرہ کا انعقاد ہوا، جس کا انتظام یہاں کی ایک تنظیم منہاج الحسین برلین رجسٹرڈ نے اپنے مرکز “مسجد المجتبیٰ “ میں کیا- شہر کے تمام شعراء کرام کو جن کا تعلق مختلف مکاتب فکر سے ہے، اللہ کے حبیب کی مدح سرائی کی دعوت دی گئی تھی۔
تمام مدعوین کی تشریف آوری اس بات کا ثبوت ہے کہ سیّد الانبیاء کی ذاتِ اقدس وہ سراجِ منیر ہے جس کے نور سے تا قیامت مسلمان فیضیاب بھی ہوتے رہیں گے اور اس کے گرد ہمہ وقت پروانوں کی طرح جمع بھی ہوجائیں گے، یہی وہ محور ہے جس کے گرد مسلک و فرقہ بندی سے بالا تر ہو کر اخوت کے خواہاں نزدیک آ سکتے ہیں، اور اس مرکز سے وابستگی ہی میں ہماری بقا ہے-
پروگرام کے مہمانِ خصوصی و صدر حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا اعجاز حسین آشنا تھے جو منتظمین کی خصوصی دعوت پر اوسلو، ناروے سے اس پروگرام کے لیے تشریف لائے تھے۔

شہر کی تمام مذہبی اور سیاسی تنظیموں اور اداروں کے نمائندگان نے بھی اس پاک محفل میں شرکت کی،
محفل کی نظامت حیدر علی جعفری نے احسن انداز میں کی آغاز تلاوتِ قران مجید سے اسلامی تحریک کے رخسار انجم صاحب نے کی، اس کے بعد تجمل حسین نے حدیثِ کِساء پڑھی
پروگرام کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا، پہلا حصے میں نعت خوانی ہوئی جب کہ دوسرا حصہ نعتیہ مشاعرہ یعنی کلامِ شاعر بزبانِ شاعر کے لیے مخصوص تھا،
نعت خوانوں میں پاک محمدی مسجد کے محمد اعظم نے بہت خوبصورت انداز میں حبیبِ خدا کی شان پڑھی، ان کے علاوہ شبیر حیدر، میاں اکمل لطیف نے بھی ترنم کے ساتھ نعتیں پڑھیں۔
پروگرام کے دوسرے حصہ میں سب سے پہلے اپنا کلام جناب محمد ارشاد صاحب نے سنایا جو ادارہ منہاج القران برلین سے تشریف لائے تھے، یہ ان کی کہی پہلی نعت تھی۔ اس کے بعد سیّد سرور غزالی، تحریکِ اسلامی کے رخسار انجم، انجمنِ اردو کے سیّد انور ظہیر راہبر، ادارہ منہاج القران کے شکیل چغتائی انجم بلوچستانی، منہاج الحسین برلین کے میاں محمد افضل لطیف اور انجمنِ اردو کے صدر سیّد محمد عارف نقوی نے بارگاہء خاتم المرسلین میں اپنی عقیدت کے پھول پیش کیے اور حاضرین سے بے پناہ داد وصول کی-آخر میں حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا اعجاز حسین آشنا نے اپنے مختصر سے خطاب میں محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت موسٰی کلیم اللہ علیہ السلام کی شخصیات کا ایک تقابلی تجزیہ پیش کیا اور جناب خاتمی مرتبت کے فضائل بیان کیے، بعد ازاں آپ نے اپنی پانچ نئی نعتیں ترنم کے ساتھ اس طرح پڑھیں کہ حاضرین کا عشقِ رسول جیسے ان کے دلوں سے ابل پڑا ہو، تحسین کے نعروں سے مسجد کا ہال گونجتا رہا
اس کے بعد تمام مسلمانوں کے آپس میں یک جہتی اور اخوت کی دُعا اور حاضرین کے مرحومین کے لیے فاتحہ خوانی سے محفل اپنے اختتام کو پہنچی، آخر میں مہمانوں کے لیے عشائیہ کا اہتمام تھا۔