
یوتھ علی کانگریس کا ایک تعزیتی جلسہ نور باڑی میں منعقد ہوا جس میں سینیئر صحافی یسی رضوی کے انتقال پُرملال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے سورہ فاتحہ سے انکی روح کو شاد کیا گیا۔
یوتھ علی کانگریس نے تہران ریڈیو و سحر ٹی وی کے اتر پردیش کے نمائندہءخصوصی یسی رضوی کی نا وقت موت پر شدید رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے اپنی جوانی قومی و ملی خدمات میں صرف کردی اور کبھی نام و نمود کی خواہش نہیں کی۔ یسی رضوی نے نوجوانی سے اب تک مختلف تحریکوں میں بڑے جو ش و خروش سے حصہ لیا اور اصولی نقطہءنظر سے مسائل کو حل کرنے کی حکمت عملی کو ترجیح دی۔ علی گڑھ مسلم یونورسٹی کے اقلیتی کردار کو ختم کرنے کی حرکت کے خلاف شروع کی گئی جد و جہد میں کمسنی کے باوجود حصہ لیا۔
انہوں نے عزاداری کے بند کئے گئے جلوسوں کی بحالی کے لئے خود کو سینہ سپر کردیا تھا اور قلم سے جہاد کرتے ہوئے اس تحریک کو جلا بخشی۔یسی رضوی نے عزاداری اور اوقاف کے تحفظ کی جس تحریک کو اب طاق پر رکھ دیا اپنے خون سے سینچا تھا وہ اس معاہدے سے ناخوش تھے جو اس وقت کی کلیان سنگھ سرکار کے دباو اور اس وقت کی قیادت کی وجہ سے کر لیا گیا تھا۔
وہ مسلسل مطالبہ کرتے تھے کہ بقیہ جلوسوں کی بحالی کے موثر تحریک چھیڑی جائے اور زیادہ سے زیادہ جلوسوں کو حاصل کرلیا جائے مگر قائدین کی مصلحت پسندی اور سرکاری حلقوں سے سانٹھ گانٹھ نے جد و جہد کو گروی رکھ دیا۔ یوتھ علی کانگریس اپنے اس جانباز اور حق پرست سپاہی کی موت پر عزاداروں کو تعزیت پیش کرتی ہے اور تنظیم اصرار کرتی ہے کہ عزاداری کی تحریک کو خاموشی سے ختم کرنے کے پس پشت عوامل کو قوم پر ظاہر کیا جائے،کیونکہ قوم کے مرد اور خواتین کے ساتھ بچوں نے بھی عزاداری کے لئے بڑی قربانیاں دی تھیں۔خود یسی رضوی نے کئی بار جیل کی قید برداشت کی۔
یوتھ علی کانگریس نے یسی رضوی مرحوم کے اوقاف کے تحفظ کے سلسلے میں اختیار کئے سخت اور اصولی طرز فکر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اوقاف کی تباہی و بربادی کو بلا تاخیر روکا جانا چاہئے تھا مگر اسکے بجائے ’تخریب اوقاف تحریک‘ چلا کر مال اللہ و اہلیبیت کو لوٹا گیا۔اس قومی تباہی و بربادی پر نام نہاد علماءاور شیعہ معاشرے کے دانشوروں نے بھی خاموشی اختیار کر لی جس کی وجہ سے وقف مافیا نے دیدہ دلیری کا مظاہرہ شروع کردیا۔ وقف بورڈ بدمعاشوں کا اڈا بن گیا اور مال امام کو اسی طرح سے لوٹا جانے لگا جس طرح سےکربلا میں لوٹا گیا تھا۔ یوتھ علی کانگریس ہی ایک ایسی واحد تنطیم ہے جس نے قوم سے بار بار اپیل کی کہ انکی قیادت بد عنوان اور لالچی ہو چکی ہے اگر آنکھ نہیں کھولی تو سب لُٹ جائےگا مگر ماتمی انجمنوں کو استعمال کر کے سیاسی آقاو ں کو خوش کرنے کے روز نئے نئے طریقے اختیار کئے گئے۔
علی کانگریس کو حق گوئی اور سیاسی بازیگروں سے دور رہنے کی اپیل کی قیمت بھی چکانا پڑی اور تنظیم کو دو حصوں میں منقسم کردیا گیا۔در حقیقت قائدین کے یہ وہی طریقے تھے جو انہوں نے سیاسی لیڈروں سے سیکھے تھے۔آئمہ کی تعلیم اور انکی حکیمانہ زندگی سے سبق لینے کے بجائے وقت کے یزید ابن معاویہ کو اپنا آئڈیل بنایا۔ یوتھ علی کانگریس کے ممبران نے اشکبار آنکھوں سے یسی رضوی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جب قیادت کی بے راہ و روی کو چینج کیا گیا تو طوفان بد تمیزی کا سہارا لیا گیا اور حق شناسوں اور حق پسندوں کو ذہنی اذیتوں سے پریشان کیا تاکہ وہ اپنا نقطہءنظر تبدیل کر لیں یا خاموشی اختیار کرلیں مگر علی کانگریس کے ممبران نے دونوں ہی راستوں پر چلنے سے انکار کردیا۔آج نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ اوقاف کا مال لُٹ رہا ہے اور ہم سب خاموش ہیں۔ کربلا کی تاریخ دہرائی جا رہی ہے مگر ہمارا حس مٹ چکا ہے۔
یوتھ علی کانگریس کے اراکین نے ان تمام علماءحق خصوصی طور سے آیتہ اللہ خمینی، آیتہ اللہ خامنہ ای اور سید حسن نصر اللہ کی جرات اور شجاعت کی تحسین کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے نام نہاد اور علما ءکا صرف لباس پہنے لوگوں کو ان انقلابی قیادت سے سبق حاصل کرنا چاہئے جو امریکہ اور اسرائیل کے علاوہ اسلام دشمن طاقتوں سے کسی بھی صورت میں خوفزدہ نہیں ہے۔بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہی علماءان شیاطین کا پنجہ مروڑ رہے ہیں۔اسکے بر عکس ہمارے یہاں کے عالم نما کے حالات کیا ہیں؟
یوتھ علی کانگریس نے یسی رضوی کی مجلس پنجم بروز اتوار صبح دس بجے واقع کالا امام باڑہ بالمقابل لاجپت نگر میں شرکت کرنے کی مومنین سے اپیل کی ہے۔ مجلس کو مولانا سید سیف عباس نقوی خطاب کریں گے۔
اس سے قبل سینیر صحافی اور ایران ریڈیو کے اتر پردیش بیورو چیف الیسع رضوی ایڈوکیٹ کے اچانک انتقال کی خبر سے قوم میں رنج و غم پھیل گیا۔ خصوصی طور سے الیسع رضوی کی تحریک عزاداری اور تحفظ اوقاف میں بے لوث شمولیت سے جو نکھار انکی شخصیت کا پہلو تھا اسکو یاد کر کے میت میں شرکاءکی اکثریت اشکبار تھی۔
الیسع رضوی کا کل رات میں شہر کے ایک اسپتال ویویکا نند پالی کلینک میں انتقال ہوگیا تھا اور انکو ایک بڑے مجمع کی موجودگی میں کربلائے تالکٹورہ میں سپرد خاک کیا گیا۔تدفین میں علمائ، ذاکرین صحافی اور رشتہ داروں کے علاوہ علی کانگریس کے ممبران بھی موجود تھے۔
نماز میت مولانا حمید الحسن نے پڑھائی اور مجلس مولانا سید سیف عباس نے پڑھی۔علی کانگریس نے اپنے بانیان میں سے ایک اور تنظیم کے تحریری کاموں نیز تحریکوں کی عدیم المثال منصوبہ بندی کرنے والے الیسع رضوی کو کھو دیا ہے۔
علی کانگریس کی ایک ہنگامی میٹنگ میں تنظیم کے اس حق اور جانباز سپاہی کی اچانک رحلت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے شرکاءجلسہ نے الیسع رضوی کی خصوصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انہوںنے دینی اور قومی معاملات اور مسائل میں ہمیشہ حق گوئی اور دلیری کا مظاہرہ کیا۔
مرحوم نے کبھی سرکاروں سے مصلحت پسندی اور انتظامیہ سے عزاداری و اوقاف کے معاملات پر ہر سمجھوتہ نہیں کیا۔اسکی وجہ ان میں کوٹ کوٹ کر جذبہءایمانی اور عشق اہلیبیت تھا۔ شرکاءنے کہا کہ مرحوم نے ہمیشہ اس دینی قیادت کو نشانہ بنایا جو سرکاروں اور انتظامیہ کے اشاروں پر ناچتی رہی یہی وجہ تھی کہ مرحوم کا وجود لوگوں کو کھٹک رہا تھا۔ علی کانگریس نے اپنے اس جانباز اور بے لوث سپاہی کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس دور میں جبکہ اوقاف لُٹ رہے ہیں اور تحریکیں دم توڑ چکی ہیں الیسع رضوی صحافی کی حیثیت سے ان تمام عناصر و عوامل سے نبرد آزما تھے جن سے املاک اہلیبیت کی بربادی ہو رہی ہے۔
علی کانگریس کے قیام سے ابتک الیسع رضوی نے سوائے قومی خدمات کے لئے خود کو سپر بنانے اور کچھ نہیں کیا اور سبطین آباد کے امام باڑے کی واگزاری میں انکے اس وقت کے وزیر اعلی ملائم سنگھ یادو سے تعلقات نے اہم رول ادا کیا۔ الیسع رضوی کی کاوشوں کی وجہ سے ہی اوقاف کی متعدد زمینوں کو ملائم سرکار نے بدمعاشوں کے قبضے سے بے دخل کرایا اور یوم ولادت با سعادت امیر المومنین حضر ت علی ابن ابی طالب کے موقع پرریاست میں چھٹی کرانے کے کام میں مرحوم پیش پیش تھے۔
علی کانگریس کے دستور اور تنظیم کی تشکیل کے علاوہ تحریکوں کی منصوبہ بندی میں انہوں نے اہم رول ادا کیا اور اپنی ذہانت سے ان مسائل کے حل کرنے کے لئے جو حکمت عملی اختیار کی جاتی تھی اسکے وہ ذمہ داروں میں سے ایک تھے۔ عزاداری اور قدیم فنون عزادری سے انکو عشق تھا۔ مرثیہ،سوز و سلام اور اودھ کی تاریخ میں انکی عدیم المثال دلچسپی انکے بلند معیار کی عکاستی کرتی ہے۔ مرحوم نے شیعوں کی سر بلندی کے ساتھ ساتھ مسلمانون کے دیگر فرقوں میں اتحاد کے تمام پہلووں پر عمل آوری کی اور دونوں فرقوں کے مابین کسی ٹکراو کے باوجود عزاداری کے جلوسوں نیز اوقاف کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے بھرپورکوشش کی۔
علی کانگریس نے جلسہ میں اپنے سرپرست مرزا جاوید مرتضی کی رحلت کے بعد قوم کے اس نقصان کو شدید بتایا ہے۔ شرکاءجلسہ کا کہنا تھا کہ الیسع رضوی علماءبا عمل کے دلدادا تھے اور آیتہ اللہ خمینی، آیتہ اللہ خامنہ و سید حسن نصر اللہ کے ساتھ ساتھ دیگر علماءحق سے انکو خصوصی انسیت تھی مگر انکا مشن علماءسو اور فرضی و نقلی علماءکے خلاف تھا۔وہ علماءسے حق اور سچ کی امیدیں باندھنے والے مرد مومن تھے اور انکا خیال تھا کہ کم از کم ان افراد کو جھوٹ ،فریب و ریا کاری سے خود کو دور رکھنا چاہئے۔
الیسع رضوی نے ہمیشہ قومی وقار کی بلندی کے لئے نئی نئی حکمت عملی پر کام کیا ۔مرحوم دین میں حق اور حقوق کی بازیابی کے لئے سینہ سپر رہتے تھے۔ مرحوم کی عمیق نظر ہندستان کی تاریخ بالخصوص اودھ کی تاریخ پر تھی اور وہ ایک چلتی پھرتی انسائکلو پیڈیا تھے۔
علی کانگریس نے الیسع رضوی کے پسمندگان سے دلی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا ذہن رکھنے والے برسہا برس میں پیدا ہوتے ہیں، جو تمام دنیاوی چمک و دمک کے باوجود قومی و دینی مسائل کو حل کرنے میں کسی سے دھونس برداشت نہیں کرتے ۔
حتی کہ انہوں نے اصولی رخ اختیار کرتے ہوئے احباب اور بعض رشتہ داروں سے بھی انکے منافقانہ رویے کی وجہ سے دوری اختیار کر لی تھی۔ مرحوم کے اعزاءکے مطابق انکی مجلس پنجم اتوار کو صبح دس بجے کالے امام باڑے میں منعقد ہوگی۔