|
اک بات کہوں گر؟؟؟؟ ًمقصد تخلیق‘‘ از۔ ثمرین بخاری
17.03.2010, 01:10am , بدھ (GMT+1)
ثمرین بخاری ۔ لاہور
عالمی اخبار کے لیئے لاہور کی ثمرین بخاری کی اولیں تحریر
ذٰات باری تعا لی نے تمام مخلو قات کو ایک خاص مقصد کے تحت پیدا کیا اور تمام مخلو قات میں انسان کو افضل مقام عطا کیا تو اس کا مقصد تخلیق بھی افضل و اعلی ھو گا۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے جس نے ماں کی گود کی نرمی کو محسوس کیا آغوش موت اس کا مقدر ضرور بنے گی، ان دونوں کے بیچ کسں انسان کے پاس کتنا وقت ھے ہرزی روح اس سے لا علم ہے تو پھر کتنے انسان ایسے ھیں جو اس حقیقی وجہ تخلیق کے ساتھ زندگی بسر کر رھے ھیں؟؟
جواب ھوکیا گا ?? لا تعداد انسان اپنی زندگی میں کچہ مقا صد ترتیب دیتے ھیں پھر ان کے حصول کے لئے دن رات محنت کرتے ھیں ان مقاصد کی فھرست پر نظر ڈالی جائے تو دولت کا حصول سر فھرست دکھائی دیتا ھے دولت حا صل کرنے کی اس دوڑ میں اپنے ھی بھائی کی گردن پر پاؤں ر کھا جا رھا ھے، کیا خود کے لئے جینا اپنی زاتی زنداگی کے معیار کو بھتر سے بھترین بنانے اور غفلت کے ا ندھیروں میں ڈو بے رہنے کے لئے رب لم یزل نے انسان کو زمین کی پشت پے اتارا ھے؟؟
حقیقت پر مبنی جواب ھو گا نہیں انسان کا مقصد تخلیق تو انسانیت کو اس کی معراج تک لے جانا ھے انسانی فلاح و بہبود کے لے دن رات ایک کرنا اس کی اصل روح ھے۔۔۔۔۔
پر یہ کیا یہاں نظر جس طرف اٹھتی ھےھر طرف انسانیت کی دھجیاں بکھری ھوئئ نطرآتی ھیں،عمارتیں کھنڈروں میں تبدیل ھو رھی ھیں اور ھر کھنڈر اپنے اندر کئی داستانیں دفن کیے ھوئے ھے، ھر دوسرے روز کسی گلی کوچےمیں زندگی اور انسانیت ایک دسرے کے گلے لگے نوحہ و ماتم کناں نطر آتی ھیں،
فضا میں چار سو انسانی لاشوں کی بوھر طرف جلے کٹےاعضاٰٰء بذات خود سوال کرتے ھیں کیا؟؟ اس لیے بنی آدم کو اشرف المخلوق بنایا گیا تھا کے وہ اپنے اندر کی انساینت کو مار کے خود میں چھپی حیوانیت کی تسکین کے لیے لاتعداد مانگوں سے سہاگ کا رنگ چھین لے معصوم بچوں سے فرشتوں جیسا بچپن نوچ کہ ان کو جلی ھوئی لاشوں ًمیں تبدیل کر دے معصوم اور نوخیز کلیوں سے ان کی جوانی لوٹ لے۔
اگر ان تمام سوالوں کا جواب نہیں ھے تو پھر ھم لوگ آخر کس نشے میں چور ھیں ؟؟؟ کیوں ھم لوگ اتنے حریص اور بے حس ھو گئے ھیں کے موت آنے سے پھلے ھی ھمارے احساسات غفلت کی گہرئ نیند سو گئے ہیں اگر ابھی بھی موت سے بدتر خدا سے دور کر دینے والی نیند سے نا جاگے تو وہ دن دور نہیں جب آپ ًمیں اور ھمارے سب اپنے کسی بازار کسی گلی میں ھنستے بولتے انسانوں کی جگہ جلی ٹکڑوں میں بٹی ناقابل شناخت لاشوں میں تبدیل ہو جائیں گے ۔ ًمانا نقصان ھو چکا جس کا ازلہ ممکن نہیں۔ ماؤں کی گودیں اجڑ چکی، بچے یتیم ھو چکے ان گنت بہاروں پر خزاں اپنا رنگ جما چکی بے شک انسانت موت کی آخری ہچکی لینے کی منتظر ھے پر اسکی بندھ ھوتی آنکھوں میں امید کا آدھ بجھا دیا ابھی بھی روشن ھے کہ شائد دم توڑتی انسانیت انگڑائی لے کرجاگ جائے اور اپنی وجھہتخلیق کی جانب گامزن ھو جائے
انسان اور انسانیت کے بیچ کی یہ دوری اس وقت میلوں نہیں صدیوں پر محیط ھے ،پر خدا کی زات پر کامل یقین اس فاصلے کو سمیٹ سکتا ھے تو اب دیر نا کریں آیئے ہاتھ بڑھائیں اور دم توڑتی موت کی سرد اور گہری وادی میں جاتی انسانیت کا ہاتھ تھام کر اسے ایک نئی روشن اور محبت سے بھرپور زنداگی کو حرارت بخشیں.
ہاں جو چلے گئے ان کی یادوں کو دلوں میں زندہ رکھیں جو ھیں ان کو گلے لگا لیں، مسلمان ھونے کے ناطے اللہ کی رسی کو مضبوتی سے تھام کر ایک بار پھر دنیا کو محسن انسانیت (ص)کے دور کی ایک جھلک دکھائیں،اقوام عالم کو ایک بار پھر یہ یاد دلائیں کہ انسانیت کے افضل ترین مقام پر فائز تمام عالمین کے لیے رحمت قرار پانے والے نبی(ص) کی امت میں آج بھی اتنی جرات ھے کہ جائے پناہ تلاش کرتی زندگی کو تابندگی بخش سکے۔ بم دھماکے کے نتیجے میں مرنے سے کہیں بہتر ھےکہ ھم اسں طرح اپنے فرض اور مقصد حیات کے لیے لڑتے ھوئے جان اپنے خالق حقیقئ کے سپرد کریں کے خود موت ھمیں خراج عقیدت پیش کرے
آؤ آج اس گھڑی اس لمحے میں عہد کریں کے اپنی زات میں گھر میں گلی کوچوں میں کربلا زندہ رکھیں گے جو حیوانیت کا سر کچلتی ھے اور انسانیت کا درس دتی ھے جو یہ جزبہ عطا کرتی ھے کہ سر تن سے جدا ھو جائیں یہ قبول ، پر باطل قوتوں کے آگے سر نگوں نہیں ھو سکتے،موت مقدر ھے تو شھادت سے افضل موت کیا ھو گی یاد رھے شھید کبھی مرتا نہں ۔ سورما فتنہ ء باطل کو دبا دیتے ھیں خوں دہکتے ھوئے زروں کو پلا دتے ھیں اپنی گودوں کے چراغوں کو بجھا دتے ھیں اپنے چاندوں کو اندھیرے میں سلا دتے ھیں مثل شبیر(ع)جو پیغام عمل دیتے ہیں ایسے ھی لوگ زمانے کو بدل دیتے ھیں
|