18.10.2026, 12:25pm , اتوار (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

حیدر قریشی صاحب (جرمنی)۔۔ہی ربیعہ احمد ہیں ۔ از شفیق مراد
17.03.2010, 02:03am , بدھ (GMT+1)

طاہر ملک ۔ جرمنی
جرمنی کے جناب شفیق مراد کا یہ کھلا خط عالمی اخبار کو جرمنی فرینکفرٹ کے جناب طاہر ملک نے ارسال کیا ہے

خود پسندی اور شخصی تنقید سے حیدر قریشی کواطمینانِ قلب نصیب ہوتا ہے۔یہ کام وہ ان فرضی ناموں سے کرتے ہیں۔دوستوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کے لیے بھی انہی فرضی کرداروں سے کام لیتے ہیں

محترم حسنین جاوید صاحب،محترمہ غزالہ عالم صاحبہ ،محترم جمیل الرحمن صاحب ،محترم حق صاحب ،محترم ارشد خالد صاحب۔۔۔۔مزاج بخیر۔ْ۔۔۔۔۔گذارش ہے کہ محترم ڈاکٹرستیہ پال آنندصاحب اورمحترمہ صدف مرزا صاحبہ کی جرمنی آمد پراُن اصحاب کو خوش آمدید کہتے ہوئے خیرمقدمی بیان دیتے ہوئے خوش آمدید کیا۔جرمنی میں ادبی محفلوں کا ذکر کیا۔اور معزز مہمانوں کی آمد پر اُن کے راستے میں پھول بچھانے کی تحریک کی۔۔۔۔۔مجھے اس کے جواب میں برکات مینائی اور راجہ پرویز کے نام سے فیس بک پر جوابات موصول ہوئے۔۔۔۔جواب بھی ایسے، کہ پھول برسانے پر پتھر برسائے گئے۔۔۔برکات مینائی اور راجہ پرویز کو میں قطعا نہ جانتا تھا ۔۔۔کہ میرا اسقدر خیر سگالی کا بیان لگتے ہی فورا دشمن کیسے پیدا ہو گئے ۔اورساتھ ہی میری انتہائی پرائیویٹ زندگی کے رموز سے بھی واقف ہو گئے۔۔میں ان دونوں کو نہیں جانتا ۔شائد آپ جانتے ہوں گے۔

اگر آپ بھی نہیں جانتے تو سمجھ لیجئے کہ یہ فرضی ناموں سے کھولے جانے والے فیس بک اکاؤنٹ کسی ایسے شخص نے کھول رکھے ہیں جو میری زندگی کے نشیب و فراز سے بخوبی واقف ہے۔تا ہم ربیعہ احمد کے بیان نے میری مشکل آسان کر دی ۔۔جو عرصہ چھ ماہ سے میری بھانجی ہونے کا دعوی کر رہی ہے۔اور میں اپنے تمام دوستوں اور رشتے داروں میں چھان بین کر چکا ہوں کہ ربیعہ احمد کے نام کی کوئی لڑکی ہو ۔۔۔باوجود تلاش کے اُس کو نہ پا سکا۔۔میری مشکل اس طرح آسان کر دی کہ اُس نے وہ باتیں تحریر کیں۔۔۔جو بعض میری زندگی کے انتہائی پرائیویٹ معاملات سے متعلقہ تھیں ۔اور وہ باتیں میں اپنے سینئر اور محترم دوست حیدر قریشی (مقیم جرمنی)سے دکھ سکھ یا ایک مخلص دوست ہونے کی حیثیت سے کیں تھی اور ان باتوں کو کوئی اور نہ جانتا تھا۔۔۔۔مثلا۔۔حیدر صاحب نے مجھے میرے بیٹے کی شادی کی تصاویر دیکھنے کی فرمائش کی تو میں نے کہا کہ ابھی تک بیٹے نے نہیں دی۔اس نے امتحانات کی وجہ سے تاخیرہو گئی ۔

کئی ماہ گزر گئے۔۔۔نام نہاد بھانجی ربیعہ کے بیان میں۔۔۔کئی ماہ کا ذکر ہے۔۔۔غزلوں کی تعداد جو کمپوز ہو چکی ہیں پچاس ۔۔۔سے ۔۔۔ساٹھ عدد۔۔۔یہ بھی صرف حیدر قریشی صاحب ہی جانتے ہیں۔ انہوں نے جو بار ہا مجھے کتاب منظرِ عام پرلانے کی تلقین کی۔اور میری کتاب کا دیباچہ لکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔غزلوں کی تعداد جو کمپوز ہو چکی ہیں ۔میں نے انہیں بتلایا۔پچاس۔۔سے۔۔۔ساٹھ عدد۔۔۔۔کمپوز کرچکا ہوں ۔مصروفیت کی وجہ سے اور مزید کام رکا ہواہے۔ ۔پچاس ۔۔سے۔۔۔ساٹھ کا عدد بھی نام نہاد رربیعہ نے تحریر کیا۔۔۔۔۔چنانچہ میں سمجھ گیا حیدر قریشی صاحب نے ربیعہ کا روپ دھارا۔۔۔یا ربیعہ کا نقاب اوڑھ کر آ گئے ۔۔۔اور ربیعہ احمد ایک فرضی اکاؤنٹ ہے جو حیدر صاحب نے ان ادبی مقاصد کے لیے بنا رکھا ہے۔

س کے بعد دوبارہ برکات مینائی ،راجہ پرویز کے بیانات کو پڑہا تو مزید واضح ہوا کہ ربیعہ والی باتیں جو صرف حیدر صاحب سے پرائیویٹ طور پر کی تھیں ۔برکات مینائی اورراجہ پرویزنے لکھی ہیں۔تو یہ بھی یقین ہو گیا کہ یہ بھی فرضی اکاؤنٹ حیدر صاحب نے کھول رکھے ہیں ۔شائد اپنے اصلی نام سے ایسی باتیں کرتے ہوئے انہیں اچھا نہ لگتا ہو۔آخر ادبی دنیا کی معتبر شخصیت ہیں۔۔۔۔اب سوال یہ کہ اگر حیدر قریشی ہی ربیعہ احمد ہے۔ تو یہ میرے خیر مقدمی بیان پر اسقدر کیوں رنجیدہ ہو گئے۔۔ان کی شان میں کوئی گستاخی تو نہیں ہو گئی۔۔۔۔۔اس خیال سے میں نے اس خبرکو دوبارہ پڑھاْ ْْْ۔۔۔۔تو یہ بات سامنے آئی کہ آسمانِ ادب کے اس روشن ستارے کا اس خبر میں ذکر نہ تھا۔۔۔۔۔یہ تو فی الوقع بہت ہی گستاخی سر زد ہوئی جسکی سزا میں ایسے بیانات میری ذات پر لکھے گئے۔۔۔۔۔۔حالانکہ یہ ضروری نہ تھا ۔۔۔حیدر صاحب کی شخصیت تو کسی تعرف کے محتاج نہیں۔۔۔۔۔محترم حیدر صاحب نے پہلے راجہ پرویز اور پھر برکات مینائی کے نام سے جواب تحریر کیے ۔۔جب دو مردوں کے فرضی ناموں کا سہارالینا کافی نہ ہوا تو ایک فرضی عورت کا سہارا لیا اور اپنے بیان کو مضبوط کرنے کے لیے اس فرضی عورت کو میری بھانجی بنا دیا۔

بھانجی سگی ہو یا رشتہ میں ہواپنے ماموں کو ماموں مخاطب کر کے ایسی باتیں کبھی نہ لکھے گی۔۔یہ حیدر قریشی صاحب ہیں جو ربیعہ احمد بن گئے۔۔۔۔۔۔۔اتنے میں ارشد خالد صاحب ۔۔جنکی میرے سے آج تک دعا سلام نہیں ۔البتہ حیدر قریشی صاحب نے ان کا تعارف متعدد بار اپنے وفادار اور بہترین واحد دوست کی حیثیت سے کروایا تھا ۔اور انکے رسالہ میں حیدر صاحب میرا مضمون اور کلام شائع کراچکے ہیں ۔فیس بک پرتشریف لائے اور اپنے بیان میں اپنے جس دوست کی دوستی کا حق ادا کیا وہ حیدر قریشی صاحب ہیں۔

پھرآخر میں محترم حیدر قریشی صاحب ۔۔۔۔راجہ پرویز کے روپ کر تشریف لائے اور جنؤن اور غیر جنؤن شعراء اور ادباء کا پرانا مضمون شروع کر دیا۔۔۔۔کیونکہ حیدر صاحب کے نزدیک یورپ میں اردو ادب کے حوالے سے کوئی کام نہیں ہو رہا۔۔۔ان کے نزدیک جرمنی میں کوئی شاعر ہے ہی نہیں۔اور اگر کوئی ہے تو وہ جعلی ہے یابے وزن۔۔میرے نزدیک اگر کسی شاعر کا کوئی مصرعہ وزن سے خارج ہو بھی جائے تو وہ شاعر بے وزن نہیں ہو جاتا حیدر قریشی کی اپنی شاعری میں بھی ایسا سقم موجود ہے ۔کئی اشعار خارج از بحر ہیں۔اسکا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ آپ شاعر نہیں ۔غلطیوں سے مبُرا تو فقط اللہ تعالی کی ذات ہے۔۔۔۔۔۔۔ادھر یہ صورتِ حال ہے جرمنی کی سر زمین نے شاعروں کو جنم دیا ۔۔۔جہاں خالد ملک ساحل جیسے عہد ساز شاعراورطاہر عدیم ،حنیف تمنّا،طاہر عدیم سجاد حیدر،عارف نقوی جیسے کہنہ مشق شعراء جنہوں نے خونِ جگرسے گلستانِ ادب کو سینچا۔۔۔اور طاہرہ رباب جنہیں انکی شاعری پر انہیں متعدد ایوارڈ مل چکے ہیں۔۔۔حیدر صاحب کسی کو شاعر ماننے کو تیار نہیں وہ جنؤن اور غیرجنؤن کے معاملے میں الجھا کر اپنے آپ کوتناوردرخت ثابت کرنے کی کوششوں میں رہتے ہیں اور ایک تناور درخت انہوں اپنی کتاب عمرِ حاصل کا لا حاصل کے ٹائٹل پر بنا رکھا ہے جس کے تنے میں اپنی تصویر اور درخت پر اپنے اہلِ خانہ کی تصاویرلگا کر اپنے آپ کوتناوردرخت ثابت کرچکے ہیں ۔۔۔۔۔مقصدِ گفتگویہ کہ شعراء کو جنؤن اور غیر جنؤن قرار دینے کی چونکہ حیدر صاحب نے اتھارٹی اپنے ہاتھ میں لی ہے ۔۔آسمانِ ادب حیدر قریشی نے اپنے سر پر اُٹھا رکھا ہے

لہذاجب راجہ پرویز صاحب نے جب یہ بات کی تو پتہ چلا کہ حیدر صاحب، پرویز صاحب کا روپ دھار کر آئے ہیں۔

محترم حیدر قریشی صاحب!گزارش ہے کہ ہماری دوستی عرصہ دس سال سے ہے ۔اور عزت و احترام کا تعلق رہا ہے ۔آپکی زندگی کے پچھلے دس سال اور پھر اس سے پہلے کی زندگی کے نشیب و فراز اور دکھ سکھ کا میں آپکا ساتھی رہا ہوں۔اگر میں نے اپنے مسائل اوردکھ آپ سے بانٹے تو آپ نے بھی میرے سے بانٹے۔یہ کوئی بڑی بات نہیں ۔۔آپ کو پچھلے دنوں ہارٹ اٹیک ہوا۔آپ کو کس چیز کا شاک پہونچا ۔یہ آپ کا پرائیویٹ گھریلومعاملہ ہے۔پھر پردہ پوشی بہتر ہے۔

اللہ تعالی سبکو اولاد کی طرف سے سکھ دے ۔ہم نے اپنی توجہ آپ کی صحت یابی کی دعا کی طرف دی اور فیس بک اور دیگر طریقوں سے دوستوں کو دعا کی درخواست کی۔۔۔اگرآپکو کوئی شکائت ہے۔یا کوئی بات ناگوار گذری ہے ۔تو فرضی ناموں کا سہارا لیکر فیس بک پر نہ آئیں۔۔۔ارشد خالد صاحب چونکہ حیدر قریشی کے دوست ہیں اسلئے انہون نے بھی ناگواری کا اظہار کیا۔بہر حال ارشد خالد صاحب جب کبھی جرمنی تشریف لائیں گے تو ہم انکو بھی عزت واحترام کے ساتھ خوش آمدید کہیں گے۔

حیدر صاحب اب اگر آپ فیس بک پر آئیں۔ تو اپنے اصل نام سے آئیں ۔۔ویسے آپ اب یہ سمجھ جائیں کہ میرا بیان آپ کے کئے تکلیف دہ نہ تھا۔آپ نجانے کیوں اضطراب میں آگئے۔۔۔میرے بیان نے آپکو بہت تکلیف پہونچائی ہے۔بہت تکلیف۔۔۔جس میں میرا قصورنہیں ۔۔۔۔پھر بھی معذرت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تاہم یہ حقیقت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خود پسندی اور شخصی تنقید حیدر قریشی کی تخلیقات کا خاصہ ہے ۔چونکہ نثرمیں اسکی اجازت ایک حد تک ہے۔لہذا حد سے گذرنے کے لئے انہوں نے چند فرضی نام کرداربنائے ہوئے ہیں۔

جن فرضی ناموں سے اپنی شخصیت پر مضمون لکھ کر شائع کرنے اور انہی فرضی ناموں سے دوسروں پر ادبی حدود و قیود سے نیچے گرکر شخصیات پر تنقید کرنے بلکہ کیچڑ اچھالنے سے حیدر قریشی کے نفس کو تسکین ملتی ہے۔انہی فرضی ناموں سے وہ دوستوں کو آپس میں لڑانے کا کام بھی کرتے ہیں۔۔۔۔جن میں ایک فرضی نام ربیعہ احمد ہے۔۔

اردو ادب کا ادنی خادم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شفیق مراد

:دیگر مضامین
(17.03.2010) اک بات کہوں گر؟؟؟؟ ًمقصد تخلیق‘‘ از۔ ثمرین بخاری
(16.03.2010) سویڈن کے سوز خوان سائیں رحمت علی کے والد انتقال کر گئے
(15.03.2010) الیسع رضوی کی مجلس پنجم کالے امام باڑہ میںمنعقد ہوئی
(14.03.2010)  کلبِ جواد کا خواتین مخالف بیان اسلام دشمن : دخترانِ زینبی
(13.03.2010) یسی رضوی کو یوتھ علی کانگریس کا زبردست خراج عقیدت
(11.03.2010) ادارہ منہاج القرآن فرینکفرٹ کی جانب سے میلاد النبی ص کا پروگرام
(08.03.2010) منہاج الحسین برلین میں میلاد النبی کا روح پرور نعتیہ مشاعرہ
(08.03.2010) سٹاک ہولم ‘‘پاکستانسکا فوریننگ‘‘ میں عید میلاد النبی کی تقریب
(07.03.2010) نجف کے زائرین کی شہادت پر افسوس ، حملوں آوروں کی گرفتاری کا مطالبہ
(06.03.2010) سٹاک ہولم میں خواتین کی محفل میلاد میں نعتوں کا نزرانہ پیش ہوا
(04.03.2010) رسول اکرم ص و امام جعفر صادق ع کا اسوہ حسنہ مشعل راہ
(04.03.2010) قطر کا عالمی اردو ادب ایوارڈ ۔ رتن سنگھ اور مسعود مفتی کے نام
(28.02.2010) برلین میں عید میلاد النبی پر خصوصی محفل نعت کا اہتمام
(24.02.2010) زینبیہ نیو جرسی امریکہ میں میلاد رسول ص کی محفل
(24.02.2010) کینبرا آسٹریلیا میں ہونے والے دینی پروگراموں کے بارے میں
(22.02.2010) معروف شاعرہ فرخندہ رضوی کی والدہ ماجدہ انتقال فرما گئیں
(22.02.2010) شیعہ وقف بورڈ کی تشکیل میںدیندار افراد کو شامل کرنے کی ضرورت
(20.02.2010) حسینی اسلامک مشن لندن میں مرثیہ نو تصنیف کی مجلس
(17.02.2010) مولویوں کی تصاویر آویزاں کرنے پر احتجاج کریں ۔ تنظیم علی کانگریس
(16.02.2010) لندن میں مقیم شاعرہ سیمیں برلاس کا دوسرا مجموعہ شائع ہو گیا



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں