
تقویم ماہ و سال کے اعتبار سے پاکستان کی تاریخ میں تئیس مارچ، چودہ اگست اور پچیس دسمبر جیسی تاریخیں ایسے دن بن کے رہ گئے جب سرکاری سطح پر کچھ روایتی تقاریب ہوتی ہے، قوم کے سپوتوں کو اعزازات دیئے جاتے ہیں اور کئی نابغہ روز گار افراد کو ایک سے زیادہ مرتبہ دیئے جاتے ہیں، قائد اعظم اور علامہ اقبال کے مزاروں پر پھولوں کی چادر چڑھائی جاتی ہے اور فاتحہ پڑھا جاتا ہے، ریڈیو اور ٹی وی پر خصوصی پروگرام ہوتے ہیں، پھر سرکاری عمارتوں پر چراغاں ہوتا ہے اور خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے اکثریتی عوام کے اس ملک میں حکمران پانچ کورس ڈنر کر کے ایسے تاریخی دنوں کو اگلے برس تک کے لیئے رخصت کر دیتے ہیں۔
میری نسل کے لوگ جو اب ساٹھ برس کے ہو چکے وہ گزشتہ ساٹھ برسوں سے یہی دیکھتے اور سنتے چلے آ رہے ہیں اور اسی کے عادی ہو چکے ہیں اور اگر اس سارے منظر نامے سے ہٹ کر کوئی بات ہو تو کیلنڈر پر تاریخ دیکھنا پڑتی ہے کہ کہیں حکمران کسی اور تاریخ میں اور عوام کسی الگ تاریخ میں تو نہیں جی رہے۔
کبھی کسی اور وقت اس موضوع پر لکھوں گا کہ برسوں سے آخر ہر سال میں کم از کم دو مرتبہ چودہ اگست اور تئیس مارچ کو جو ایوان صدر میں پاکستان کے ‘‘سپوتوں‘‘ کو اعزازات دیئے جاتے ہیں اگر اب تک جتنے نابغہ روزگار افراد کو یہ اعزازات ملے ہیں انکی تعداد نکالی جائے تو پاکستان دنیا کا شاید واحد ملک ہو جس میں اتنی بڑی تعداد میں ایسے ‘‘قابل فخر‘‘ افراد موجود ہوں جو اپنے اپنے شعبے میں اس مہارت اور اہلیت کے حامل ہیں جس کی بنیاد پر ایسے اعزازات کے مستحق ہیں۔ لیکن اتنی بڑی تعداد میں ایسے اعزاز یافتہ ماہرین کے ہونے کے باوجود اقتصادیات سے لیکر تعلیم اور اخلاقیات کی جو تنزلی ہے آخر اسکی وجہ کیا ہے؟ میں بھی سوچوں گا آپ بھی سوچیئے گا اور چند ماہ بعد چودہ اگست کے موقع پر اس موضوع پر بات ہو گی۔
اس بار تئیس مارچ کو ایوان صدر میں جو اعزازات بانٹے گئے ان میں کچھ نام تو ایسے ہیں جن سے مجھ جیسا آگاہ انسان بھی آگاہ نہیں اور کچھ نام ایسے ہیں کہ ان پر شک گزرتا ہے کہ شاید کسی ہم نام کی وجہ سے انہیں مل گیا ہے۔اور ایک دو نام ایسے ہیں کہ انہیں اعزاز غالب کے اس مصرعے پر دیا گیا ہے کہ ۔۔۔۔۔جو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں۔۔۔۔۔اور ایسے ہی لوگوں میں او آئی سی یعنی اسلامی ممالک کی تنظیم کے سیکرٹری جنرل جناب اکمل الدین کو ہلال پاکستان دیا گیا ہے جسے ہمارے ایک دوست اکثر ‘‘حلالہ پاکستان‘‘ کہتے ہیں۔
بات سے بات نکلی تو عرض کرتا چلوں کہ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی ایک ایسا مردہ گھوڑا ہے جس میں حضرت عیسیٰ جیسے معجز نما نبی بھی آجائے تو جان نہیں ڈال سکتا اور یہ ریکارڈ پر ہے کہ اس تنظیم نے کوئی ایک ایسا کام نہیں کیا جس سے اسلامی ممالک کو کوئی فائدہ پہنچتا یا پھر کم ازکم اسلامی ممالک کو منظم ہی کر لیا جاتا۔یہ تنظیم نشستن، گفتن، برخاستن اور خوابیدن کی واحد اور بہترین عالمی مثال ہے۔ میرے خیال میں ایسی غیر موثر تنظیم کا سیکرٹری جنرل ہونا ہی بذات خود ایسی شرمندگی ہے کہ جو عام آدمی تو برداشت نہیں کر سکتا اور پھر اس مردہ گھوڑے کو دوڑانا اپنے طور پر ایسا بڑا کارنامہ ہے کہ شاید آج تک کوئی اور اس دنیا میں تو کیا اگلی دنیا میں بھی سرانجام نہیں دے پائے گا۔ ہو سکتا ہے کہ بھائی اوغلو کو اسی بنیاد پر ہلال پاکستان عطا کیا گیا ہو۔
اچھا یہ تحریر دراصل اس موضوع پر تو تھی ہی نہیں مگر یہ ابتدائیہ ہی پورے کالم کے برابر ہو گیا لیکن اللہ کے لیئے اگر آپ ٹی ریڈیو اور اخبار میں بے خبر حاکمین وطن کے طویل اور بے مقصد بیانات دیکھ،سُن اور پڑھ سکتے ہیں تو پلیز چند لمحوں کے لیئے مجھے بھی برداشت کر لیں میں آپکو یقین دلاتا ہوں کہ بور نہیں ہونے دوں گا
ہوا یوں کہ لندن میں بیٹھ کر دنیا کے ایک کونے پاکستان سے اور دوسرے کونے امریکہ سے ایک ہی موضوع پر دو قابل صد احترام صدور محترم کے ایک ہی راگ میں بنائے گئے دو بیان ایسے سامنے آئے ہیں کہ جیسے دماغ چکرا کے رہ گیا ہے کہ یا اللہ کیا پاکستان کے صدر محترم آصف زرداری اور امریکہ کے صدر بے حد و حساب محترم جناب قبلہ گاہی باراک حیسن اوباما کی تقریر کہیں ایک ہی تقریر نگار نے تو نہیں لکھی یا پھر کیا زرداری صاحب کی تقریر بھی اس موقع پر وائٹ ہاؤس سے لکھی آئی ہے ۔
دونوں صدور نے پاکستان کے معمار قائد اعظم محمد علی جناح پر احسان عظیم کیا ہے کہ اول تو انکو اس موقع پر یاد رکھا اور پھر انکے اس احسان کو مانا بھی جو بقول لاہور کے بھانڈوں کے آدھا مشرقی پاکستان کی شکل میں اتار دیا گیا ہے اور آدھا خاکم بدہن؟
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی جنہیں خود تو شاید کچھ کہنے کی اجازت نہیں انہوں نے بھی صدر زرداری کی تقلید میں فرمایا ہے کہ پاکستان کو قائد اعظم کے تصور کے مطابق چلایا جا رہا ہے۔ اسی کو کہتے ہیں یک نہ شد سہ شد۔
ستر سال بعد صدر پاکستان اور وزیر اعظم نے تاریخ پاکستان اور مطالعہ پاکستان کے محققین کو تحقیق کا ایک نیا موضوع دیا ہے جس پر کام کر کے امریکہ نوبل انعام برائے تحقیق کی سفارش بھی کر سکتا ہے۔
میں ایوان صدر اسلام آباد میں ہونےوالی صدر پاکستان کی تقریر مکمل اس لیئے نہیں سن سکا کہ اس ایک فقرے میں ایسا الجھا کہ پھر کچھ سنائی نہیں دیا۔
عزت مآب صدر محترم آصف علی زرداری نے اس راز کو منکشف کیا اور پاکستانی قوم کو یہ بتا کر ورطہ حیرت میں ڈال دیا کہ۔۔۔۔۔۔حکومت پاکستان کو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے تصور کے عین مطابق چلا رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کاش شاعر اعظم جوش ملیح آبادی زندہ ہوتے تو فرماتے کہ جنہیں یہ علم نہ ہو کہ تصور ت سے ہوتا ہے عین(ع) سے نہیں وہ کس تصور کی بات کریں گے۔ کیونکہ جوش صاحب نے علامہ اقبال کے اس مصرعے ‘‘آگیا عین لڑائی میں اگر وقت نماز‘‘ پر کہا تھا کہ حیرت ہے کہ علامہ اقبال جیسے بڑے شاعر کو علم ہی نہیں تھا کہ ل لڑائی ہوتا ہے ع لڑائی نہیں ہوتا۔
خیر صدر محترم نے کسی تقریر نویس کی لکھی ہوئی تقریر کو پڑھتے ہوئے فرمایا کہ‘‘ بابائے قوم نے ایسی ہی آزاد ریاست کے قیام کا خواب دیکھا تھا جہاں آئین اور قانون کی بالا دستی ہوگی لیکن سابقہ ادوار میں آمروں نے عوام کی جمہوری امنگوں کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی،
صدر نے کہا کہ آج یہ عہد کرنا ہوگا کہ آئندہ کسی آمر کو عوام کے بنیادی حقوق سلب کرنے اور جمہوری امنگوں کا خون کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘‘۔
ادھر پاکستان کے غیر اعلانیہ حکمران اور امریکہ کے صدر باراک حسین اوباما نے بھی ایسا ہی فکری اور داشوارانہ بیان تئیس مارچ کے موضوع پر داغا ہے جس میں انہوں نے ارشاد فرمایا ہے کہ ‘‘ آج سے 70 سال پہلے محمد علی جناح اور جدّوجہدِ آزادی کی نسل کے دوسرے لیڈروں نے اپنے حقِ خود ارادیت اور جمہوریت کے خوابوں کا اعلان کیا تھا۔ اور آج پاکستان کے لوگ اور حکومت قائدِ اعظم کے اُسی عظیم کام کو آگے بڑھا رہے ہیں‘‘۔
دست بستہ حاکم جہاں سے عرض کرؤں کہ مائی باپ اول تو وفات پا چکے ہمارے بابائے قوم پر یہ الزام نہ لگائیں کہ جو کام آج آگے بڑھ رہا ہے اسے بابائے قوم قائد اعظم نے شروع کیا تھا اور از راہ کرم ان خوفزدہ پاکستانی عوام کی یہ کہہ کر تذلیل نہ کریں کہ عوام حکمرانوں کے ساتھ مل کر قائد اعظم کے کام کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ یہ اعزاز ماضی کے،حال کے اور شاید مستقبل کے حکمرانوں کے لیئے ہی رہنے دیجئے۔
صدر زرداری ، وزیر اعظم گیلانی اور صدر اوبامہ نے اس تاریخی دن پر محققین کے لیئے جو نئے دروازے کھولے ہیں انکی کھوج کے بعد ہی یہ پتہ چلے گا کہ کیا آج تک ہم پاکستان کے قیام کی جو وجوہات پڑھتے رہے ہیں اور قائد اعظم کے جس فلسفے اور نظریے کو ہم نے پڑھا اور نصاب کی کتب میں بچوں کو پڑھایا ہے کیا وہ سب غلط تھا؟
سوچیئے کیا قائد اعظم نے مسلمانوں کے الگ وطن کا مطالبہ اس لیئے کیا تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا پاکستان امریکہ کی کالونی بن جائے گا؟کیا پاکستان کے عوام کی پچانوے فیصد سے زیادہ تعداد غریب پیدا ہو گی اور غریب ہی مر جائے گی؟کیا پاکستان کے حکمرانوں کا ملک کی دولت لوٹنا آئینی حق ہو گا؟کیا عوام صاف پانی، بنیادی طبی سہولتوں اور صاف ہوا سے محروم رہیں گے؟کیا پاکستان میں اقتصادی ویژن نام کی کوئی چیز نہیں ہو گی؟کیا پاکستانی سماج ہر عہد میں شکست و ریخت کا شکا ر رہے گا؟کیا عوام اور حاکم ہمیشہ دو الگ الگ کیمپوں میں ہوں گے؟کیا ووٹ دینے والا بھوکا سوئے گا اور ووٹ لینے والا پجیرو میں سفر کرے گا اور اسکے گھوڑے کتے بھی پیٹ بھر کے کھائیں گے؟کیا پاکستان کی قسمت کے فیصلے پاکستان کی بجائے باہر ہوں گے؟کیا پاکستان کی فوج بار بار اپنے ہی ملک کو فتح کرتی رہے گی؟کیا اشرافیہ کو حق حاصل رہے گا کہ وہ عوام کو اپنا غلام بناکر رکھے؟کیا تعلیم اور اچھی تعلیم کا حصول صرف چند منتخب خاندانوں کا ورثہ رہے گا؟کیا پاکستان پر دو یا تین خاندانوں کی نسل در نسل حکومت چلے گی؟کیا پاکستان آئی ایم ایف کی بھیک پر چلے گا؟کیا پاکستان میں عالم فاضل اور حقیقی دانشور کی تعظیم ہمیشہ جرم رہےگا؟کیا جہالت اسی طرح علم پر اپنا تسلط رکھے گی؟۔کیا ملوکیت اور آمریت چہرے اور لباس بدل بدل کر ووٹ دینے والے عوام کا خون چوستی رہے گی؟کیا مائیں بھوک سے تنگ آکر اپنے بچے فروخت کرتی رہیں گی؟کیا عالمی سطح پر ہماری شناخت دہشت گرد ملک کے طور پر ہوگی؟کیا ڈرون حملے اسوقت تک جاری رہیں گے جب تک حیات مفقود نہیں ہو جاتی؟کیا حکمران اسی طرح کٹھ پتلی بنے رہیں گے اور انکے ضمیر خفتہ؟کیا کبھی اس ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس ملک میں نہیں آئے گی؟کیا پاکستان ہمیشہ ترقی پزیر ملک ہی رہے گا؟کیا آزاد عدلیہ آئینی طور پر ممنوع رہے گی؟کیا فیصلے اشرافیہ کی مرضی کے مطابق ہوں گے؟کیا پارلیمان جاہلوں، ضمیر فروشوں ،عوام دشمنوں اور مفاد پرستوں کی جائے حفاظت بنی رہے گی؟ یہ اور ایسے سینکڑوں سوالات ہیں جو انیس سو چالیس سے سنتیالیس تک اور سنتالیس سے آج دوہزار دس تک تشنہ جواب ہیں اور نہ جانے مزید کتنے برس اسی طرح کوئی بھی ان سوالات کا جواب نہ دے سکے۔
اب اگر پاکستان کے قیام کے مقاصد اسی طرح کے تھے تو صدر زرداری اور وزیر اعظم بھی درست اور صدر اوباما بھی لاریب۔ اگر غلط ہیں تو پاکستان کے عوام۔
لیکن تاریخ پاکستان اور مطالعہ پاکستان پر ہونے والی اب تک کی تحقیق کو جلا کر حصول پاکستان کے مقاصد کی نئی فہرست شائع کرنا ہو گی اور اس کام کے لیئے بہت سے سرکاری درباری مورخ اور محقق ایسے مل جائیں گے جن کے آبا واجداد بنو امیہ سے آج تک یہی کام کرتے چلے آئے ہیں درباری اور تاریخی مقاصد نویسی اور تاریخ نویسی کا۔