|
یو پی میں شیعہ وقف بورڈ دشواریوں میں مبتلا ہو گیا
02.04.2010, 10:22am , جمہ (GMT+1)
لائق علی۔لکھنؤ
لکھنؤ کی تنظیم علی کانگریس نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ شیعہ عوام میں اس خبر پر شدید بے چینی اور تشویش پائی جا رہی ہے کہ شیعہ وقف بورڈ میں سرکار کے نامزد بزرگ قانون داں اور لائق و ساف ستھری شبہیہ والے لوگوں کے خلاف ایک خاص طبقہ اپنے کچھ حلقہ بگوشوں کے ذریعہ دباؤ بنواکر انہیں طرح طرح سے پریشان کر رہا ہے تا کہ وہ خود ہی شیعہ وقف بورڈ میں اپنی شمولیت سے انکار کر دیں۔
ظاہر ہے ایسا صرف اس لئے کیا جا رہا کہ پچھلے بورڈ کے ذریعہ کی گئی بے شمار دھاندلیوں کا پردہ فاش نہ ہو سکے۔اگر خدا نخواستہ واقعی ایسا ہوتا ہے تو املاک اہلبیت اگلے پانچ برسوں کے لئے دوبارہ اوقاف کے لٹیروں کی زد پر ہوگی۔
تنظیم علی انگریس صوبائی حکومت سے درخواست کرتی ہے کہ وہ کسی طرح کے دباؤمیں نہ آئے اور اسکے ذریعہ نامزد کئے گئے ممبران کو پریشان کرنے والے مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لے۔
صوبے کی مضبوط حکومت نے پڑھے لکھے اور ایماندار لوگوں کو بورڈ میں لاکر جو کام کیا ہے اسکی جتنی ستائش کی جائے وہ کم ہے اور اسکے اس اقدام کی وجہ سے پوری شیعہ قوم میں اسی ستائش ہو رہی ہے اس لئے حکومت سے ایک بار پھر پر زور گزارش ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر استقامت سے قائم رہے اوراوقاف خوروں سے تاریخی املا کو محفوظ رکھے۔
|