لندن میں ایک منفرد شام موسیقی ۔‘‘وڈیوز‘‘ آصف رضا کے ساتھ 06.04.2010, 01:11pm , منگل (GMT+1)
عالمی اخبار ملٹی میڈیا
لندن کے ایک معروف ریستوران ‘‘دعوت‘‘ میں چار اپریل دوہزار دس کی شام ہونے والی ایک کامیاب اور یادگار شام موسیقی نے حاضرین و سامعین کے اس یقین کو اور مضبوط کیا کہ غزل گائیکی کا زندہ رہنا بہت ضروری ہے تا کہ برصغیر کی موسیقی کی شناخت باقی رہے۔ یہ بات بھی مسلمہ ہے کہ گیت انگ ہو یا پھر صوفیانہ کلام اور فلمی نغمے ان سب موسیقی کی اصناف کو برصغیر کی موسیقی نے ایک سند عطا کی ہے اور اس کا مظاہرہ اسی شام موسیقی میں دیکھنے میں آیا جس میں ایک بڑی تعداد میں خواتین و حضرات نے شرکت کی اور عشایئے کے ساتھ روح کی غذا کو من میں بسا کر اس ایک شام کو حسین بنا دیا۔
اس شام موسیقی اور عشایئے کا اہتمام مشرقی موسیقی سے خاص محبت رکھنے والے ‘‘ محمود علی اور کمال پاشا‘‘ نے کیا تھا اور اسکو کامیاب بنانے میں انکے اہل خانہ کی محبت اور محنت دونوں شامل تھیں۔
اس شام موسیقی میں برطانیہ،یورپ اور پاکستان کے معروف متنوع گلوکار آصف رضا نے ساڑھے تین گھنٹے تک اپنی گائیکی کا مظاہرہ کر کے موسیقی پر اپنی فنی مہارت کا ثبوت فراہم کیا۔ اس محفل کی خاص بات غزل سننے والوں کی غالب اکثریت تھی جو دوردراز شہروں سے بھی سفر کر کے لندن آئے تھے اور جنہوں نے نہایت دلچسپی اور انہماک کے ساتھ اس طویل محفل موسیقی کو نہ صرف سنا اور لطف اندوز ہوئے بلکہ بنفس نفیس اسمیں شریک بھی رہے۔
لگ بھگ ڈیڈھ سو سے زائد شائقین غزل نے اس بات کو تقویت دی کہ اگر آج بھی سنجیدہ موسیقی کی محافل کا اہتمام کیا جائے تو ایسے سامعین کی ایک بڑی تعداد موجود ہے
شام موسیقی کی نظامت معروف شاعر،براڈکاسٹر،محقق اور صحافی صفدر ھمدانی کے ذمے تھی جنہوں نے موسیقی کی اہمیت کے ساتھ ساتھ مشرقی موسیقی کے محاسن بیان کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ جس طرح اصناف شاعری میں غزل کہنا مشکل بات ہے اسی طرح گائیکی میں بھی غزل گانا مشکل کام ہے اور اس فن غزل گائیکی کا مشکل کام مصرعے کی بانٹ یا تقسیم ہے جو غزل کا حسن ہوتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسی محفلوں میں والدین نوجوانوں کو بھی اپنے ہمراہ لائیں تا کہ انکو اس امر کا احساس ہو سکے کہ ہماری اپنی موسیقی کسقدر مالا مال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں یہ رواج پنپا ہی نہیں کہ ہم کسی بھی شعبے کے اکابرین اور ماہرین کو یاد رکھنے کا کوئی اتنظام کریں تا کہ کم از کم وہ نام اذہان میں محفوظ تو رہیں جنہوں نے خون دل سے ان فنون کی آبیاری کی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موسیقی کا کوئی مذہب اور سرحد نہیں ہوتی اور یہی موسیقی نفرتوں کی دیواریں گرانے اور محبتوں کی نئی دنیائیں دریافت کرنے کا ذریعہ ہے۔
محفل کے آغاز کے لیئے انہوں نے آصٍف رضا سے درخواست کی کہ اس حمد کو نکتہ آغاز بنائیں۔‘‘کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے وہی خدا ہے‘‘ صفدر ھمدانی نے بتایا کہ اس حمد کو لکھنے کا اعزاز نعت کے مقبول شاعر مظفر وارثی کو ملا جو گزشتہ چند ہفتوں سے نہایت علیل ہیں اور انکی قوت گویائی ختم ہو گئی ہے لیکن اس بے حس معاشرے میں انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں۔
شام موسیقی کے پہلے دور میں آصف رضانے زیادہ تر غزلیں پیش کیں جن پر سامعین و حاضرین نے مسلسل داددی جس کے بعد کھانے کا وقفہ ہوا اور اس وقفے کے بعد رات ساڑھے گیارہ بجے تک گلوکار نے حاضرین کی تمام فرمائشیں پوری کیں جن میں پنجابی گیتوں کے علاوہ فلمی گیت اورغزلیں بھی سنائیں۔
اسی دوسرے دور کی خاص بات یہ تھی آصف رضا نے پہلی مرتبہ مقبول ٹھمری سنائی‘‘مورے سیاں جی اتریں گے پار ندیا دھیرے بہو نا‘‘۔ جس مہارت سے انہوں نے اس ٹھمری کو پیش کیا وہ اس امر کی غماز ہے کہ اب آصف رضا مشرقی موسیقی کی بنیاد یعنی کلاسیکی موسیقی کو بھی اپنے فن کا حصہ بنا کر اسے وسعت دینا چاہتے ہیں۔
گلوکار آصف رضاکاساتھ طبلے پر نہایت مہارت سے عامر اقبال نے اور کی بورڈ پر فرخ شجاع نے دیا اور حاضرین سے داد وصول کی۔ محفل موسیقی کا اختتام صوفیانہ کلام ‘‘او لعل مری پر رکھیو‘‘ پر ہوا جس پر پورا ہال مسلسل تالیوں سے گونجتا رہا اور کچھ احباب رقص کرتے رہے جو محفل کا نکتہ عروج تھا اور اس طرح موسیقی کی یہ یادگار محفل اپنے اختتام کو پہنچی۔
عالمی اخبار کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے
ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور
ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور
بے لاگ صحافت ہے۔ . رابطہ ٹیلی فون: لندن447796515479+ ، آسٹریلیا
61425201035+ ، ای میل:
رابطہ@عالمی
اخبار۔کوم۔ جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں