جی بات ایسی ہی ہے کہ ہمارے لندن میں مقیم ادیب، شاعر اور براڈ کاسٹر،
صحافی اور علم پرور استاد جناب صفدر ہمدانی کو یہاں

کی اردو سوسائیٹی نے
گذشتہ برس اپنے عالمی مشاعرے میں انہی حوالوں سے بلایا تھا۔ لیکن مجھے یاد
ہے کہ اسی پروگرام میں کسی نے آپ سے ملاقات میں عرض کیا کہ جناب مرثیہ
نویسی بھی تو کرتے ہیں، تو فورا بولے کہ کیا خیال ہے یہیں کیوں نہ ایک
محفل جما لی جائے؟
اردو
سو سائیٹی اور یہاں کی دیگر اردو انجمنوں کے پروگراموں میں انکی شرکت تو
بہر کیف جاری رہی، لیکن اسی عرصہ میں خوشبو کو پا لینے والوں نے اردو
سوسائیٹی کے ذمہ دار حلقوں سے بصد گزارش کر کے ہمدانی صاحب کی دو شامیں دو
مختلف ادراوں میں مانگ لیں۔
ایک شام یہاں محمدی ویلفئیر ایسو سی
ایشن کے یہاں منعقد ہوئی تو دوسری شام امام حسن سنٹر میں سجائی گئی۔ ہم نے
انیس اور دبیر کے تذکرے تو سن رکھے تھے، لیکن اس ناچیز نے پہلی بار دیکھا
کہ ایک القلم وما یسطرون کی حرمت کو پیش نظر رکھنے والا مرد قلندر کس طرح
زندگی کے عامیانہ مواضیع سے بات شروع کر کے، ہم سب کو بارگاہ مصطفوی میں
بصد عجز و انکسار لے جاتا ہے۔ عشق و محبت کے جامے میں سب کو اس طرح سے
ملبوس کرتا ہے کہ زبانیں گنگ اور آنکھیں اشکوں کی زبانی نجانے کیا کچھ کہ
دیتی ہیں۔۔۔۔ اور جب عشق و مستی کی منزل آتی ہے تو نہ صرف اس مرد حق شناس
کی زبان بولتی تھی، بلکہ اسکا جسم بھی ساتھ ہی میں عشق رسول میں اپنے انگ
انگ سے محبت کے ترانے گاتا ہے۔
صرف
دو شامیں سننے کو ملیں اور چند لمحے کی ملاقات۔ اس کے بعد کیا تھا کہ ہم (
عوام) نے اردو سوسائیٹی کے صدر جناب ڈاکٹر شبیر حیدر اور امام حسن سنٹر کے
منتظم و روح رواں جناب غلام عباس علی سے مسلسل مطالبہ شروع کر دیا کہ
ہمدانی صاحب کو ایک بار پھر اس زمین میں آنے کی زحمت دیں، اور اب کی بار
ذکر ہوگا تو صرف رسول و آل رسول کا، کہ جس کے لئے خالق نے انکو قلم دیا ہے۔
بالآخر
وہ لمحہ بھی آ ہی گیا، جب امام حسن سنٹر کی درخواست پر( آغا) بابا جناب
ہمدانی نے اپنی مصروفیات ترک کر کے ہمیں روبرو سننے کا موقع فراہم کر دیا۔
٨ اگست کی شام انکا طیارہ سڈنی کے ائر پورٹ پر اترا تو ادبی، صحافتی، سماجی اور مذھبی حلقوں
کی مختلف شخصیات ان کے

استقبال کے لئے ہوائی اڈے پر موجود تھیں۔ ہر ایک کے
پاس انکے احترام اکا اپنا ایک حوالہ تھا۔ لیکن جو حوالہ مجھے سب سے زیادہ
پسند آیا وہ یہاں کی معروف ادبی و صحافتی شخصیت ڈاکٹر نگہت نسیم کے پاس
تھا۔
اس میں نہ ادب کا ذکر تھا، نہ صحافت کا۔ بلکہ انکی نظر میں
صفدر ہمدانی اصل میں بابا صفدر ہمدانی ہیں، جو نہ تو کسی فرقے کی جاگیر
ہیں، اور نہ ادباء اور صحافیوں کی۔ بلکہ وہ جناب اشفاق احمد کی طرح ایک
ایسا بابا ہے جسکے پاس ہر جراحت جان کا مرحم تیار رہتا ہے۔
ڈاکٹر نسیم کے یہاں بابا جی کے اعزاز میں ایک شام منعقد کی گئی تو آپ خود یوں گویا ہوئے کہ
میں نے کبھی سوچا نہ تھا کہ میں بھی بابا بن جاؤں۔ بلکہ اشفاق احمد کے بعد
میں سمجھتا تھا کہ اب ادب کی دنیا سے بابے جا چکے۔ لیکن اب آپ لوگوں نے
مجھے ہی بابا بنا ڈالا ہے، حالانکہ مجھے تو ایسا نہیں لگتا۔
لیکن
سچ یہی ہے کہ بابا کی عادات و اطور کا مشاہدہ ہم کئی روز سے کر رہے تھے۔
سمندر کی طرح گہرے، پر سکون، اپنے پرائے سبھی سے مشفق و ہربان یوں جیسے
ماں، چہرا گلاب کی مانند روشن اور متین مسکراہٹ سے سجا ہوا، پیشانی سجدوں
کی غماز اور آنکھ عشق رسول کے جذبوں سے ہمہ وقت سجی ہوئی۔ پہلی ملاقات بھی
یوں کہ جیسے پرانی شناسائی ہو، اور اپنی ذات کی نفی میں یوں مست کہ جیسے
واقعی امام علی علیہ السلام کا کوئی غلام ہو۔
صرف مثال کے لئے بر
سر سبیل تذکرہ کرتا چلوں کہ یہاں سڈنی میں قیام کے دوران ایک موڑ ایسا بھی
آیا کہ کسی بیرون ملک مقیم ایک دوست نے غلط فہمی کا شکار ہو کر ایک اور
دوست سے فون پر ان کے لئےنا زیبا الفاظ کہنا شروع کر دئیے۔ بابا جی یہ سن
رہے تھے۔ ہم سب کو قلق ہوا، لیکن وہ یہ سب سن کر، اپنی مستقل مسکراہٹ کے
ساتھ بولے، دل برا مت کرو، بیچارہ پریشان ہے۔ ہمیں اسکا ساتھ دینا چاہئے۔
اور خبر دار اگر تم اس پر کوئی رد عمل کرو!
دوسری
طرف عزم و بلندی کا ایسا پہاڑ کہ اگر کسی جابر و سر کش کا ذکر ہو تو عزم
حسینی کے ساتھ یزید وقت کو للکارنے میں پہل سے نہیں چوکتے۔ دن کام میں
مسلسل مصروف، اور رات ان کے یہاں آنے سے پہلے ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ وہ یوں
کہ ١١ بجے تک انکے یہاں رات نہیں ہوتی، بلکہ یہ کام کا ہی وقت ہے۔ اور دو
بجے کے بعد ان کے لئے صبح آ چکی ہوتی ہے۔ وفا داری انکے مسلک کا حصہ ہے،
جہاں بے وفا لوگوں سے نفرت ان کے خون کا حصہ ہے۔ جیسے بقول خود ان کے
شبیر کا عاشق بے وفا ہو نہیں سکتا۔۔۔۔۔یہ رزق وفا حر کے مقدر سے ملا ہے۔
ان کے نزدیک یزید ایک مستقل کردار ہے جو استبداد کی شکل میں ہر عھد میں
موجود رہا ہے، اور حسین ایک کردار ہے جو اکثر نایاب رہا ہے۔ کسی بھی یزید
وقت کے مزاج درست کرنے کے لئے، حسینی جذبہء حریت کی ضرورت ہے، جو ہر شخص
کے نصیب میں نہیں ہوتا۔ در گزر، ایثار، قربانی اور وفاداری کے جذبے سے
سرشار یہ مرد قلندر استبداد اور آمریت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ہے، جسکا
شجرہ کربلا سے ملتا ہے۔ میں داد دیتا ہوں ڈاکٹر نسیم کے مشاہدے کو، جو
انکی شخصیت کے اس پہلو کو نجانے کب سے خاموشی سے جان چکی تھیں۔
ایک
سال سے کم عرصے میں ہمدانی صاحب کا یہ یہاں دوسرا دورہ تھا۔ بقول معروف
صحافی جناب ظفر حسین، آسٹریلیا والے ایک سال سے پہلے کسی غیر ملکی وزیر
اعظم کو خوش آمدید نہیں کہتے، چہ جائیکہ ایک شاعر کو سال میں دو دو بار
سنیں۔ اگر ایسا ہوا ہے، تو پھر بات تو کوئی خاص ہی ہے۔ ٩ اگست کی شام امام
حسن سنٹر میں محفل میلاد آئمہ تھی۔ میں اپنی معمول کی مصروفیات کے سبب (
جس کو میں بہر طور اپنی کوتاہی گردانتا ہوں) کے سبب کچھ تا خیر سے پہنچا۔
نماز
مغربین ہو چکی تھی، اور بابا جی تسبیح و ذکر میں مشغول تھے کہ میں مخل در
معقولات ہو گیا۔ میرے قد سے بڑھ کر محبت دی اور کھڑے ہو کر استقبال کیا۔
خیریت طرفین کا تبادلہ ہو۔ پھر القمر کا ذکر چل نکلا۔ چند لمحوں کی بات
میں ان سے بہت کچھ سیکھا بھی۔ پھر پروگرام شروع ہو گیا۔
پہلے
مقامی ثنا خوان حضرات نے اپنا اپنا نذرانی عقیدت پیش کیا۔ پھر یہاں کی
معروف علمی و ادبی شخصیت جناب نجم سبطین حسنی نے اپنا کلام پیش کیا۔ میں
دیکھ رہا تھا کہ بابا جی اس تمام عرصے میں اپنے ہم عہد بڑے شعراء کے بر
عکس ہر پڑھنے والے کو غور سے سن بھی رہے تھے اور دل کھول کر داد بھی دیتے
رہے۔ یہ کام صرف وہی شخص کر سکتا ہے جو اپنی ذات میں مطمئن ہو۔ ورنہ تکبر
اور درازی قد کی خواہش تو شہرت کے آسمان چھونے والوں کو بھی نہیں چھوڑتے،
اس لئے وہ اپنے سے بڑے اساتذہ کو بھی خاموشی سے اور بعض اوقات تضحیک آمیز
طریقے سے سنا کرتے ہیں۔۔۔۔بہر کیف آخر میں صدر محفل جناب ہمدانی صاحب سے
گزارش کی گئی کہ وہ محفل وہ عطر عشق رسول سے رونق افروز کریں۔
چونکہ
محفل میں کچھ فارسی بولنے والے افراد بھی شامل تھے، اس لئے اپنے اخلاق و
ادب کے ملحوظ، ہمدانی صاحب نے پہلے اپنا خود نوشتہ فارسی سلام سنایا۔ جس
کا نمونہ ذیل میں ہے۔
السلام اے وارث اعجازِ موسائے کلیمالسلام اے وارث عیسیٰ ابن مریم السلاماے سرور سینہ احمد، حبیب ذوالجلالوارث ختم رسوالاں، شمس خاتم السلام۔فارسی کلام فارسی گویان کے علاوہ اردو سمجھنے والوں نے بھی بہت سراہا۔
اسکے بعد آپ نے اردو میں منظوم سلام و رباعیات پیش کیں۔
کہتا ہے کون ختم ہوئی کربلا کی جنگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم لڑ رہے ہیں آج بھی فوج یزید سے۔
اسکے
بعد انہوں نے مسلسل نظموں کے ساتھ محفل میں ایک نئی روح پھونک دی۔ الفاظ
تھے کہ عقائد کی رم جھم، جو لگا تار مصرعوں کی شکل میں سامعین کو معراج کی
منزلیں طے کراتے رہے۔ اس محفل میں انہوں نے تقریبا ایک گھنٹے تک مسلسل
پڑھا، لیکن سامعین مزید سننا چاہتے تھے، جسے اگلے روز دن کی محفل تک مؤخر
کیا گیا۔ دس اگست کو دو پہر ایک بجے محفل شروع کی گئی اور انتظامیہ چاہتی
تھی کہ نماز عصر تک پروگرام اختتام پذیر ہوجائے، لیکن ایسا ممکن نہ ہو
سکا۔
جناب سبطین حسنی اور صفدر ہمدانی نے ایک ایسا رنگ جمایا کہ
سڈنی کی تاریخ میں ایسا مقاصدہ و مسالمہ سننے کو پہلے کبھی نہ ملا تھا۔
اپنے بیس روزہ قیام کے دوران، ہمدانی صاحب نے مختلف احباب کی طرف سے سجائی
گئی محافل عشق رسول میں شرکت کی اور ہر جگہ نئے کلام سے سامعین کو جام ولا
پلاتے رہے۔
14
اگست کو کینبرا میں پاکستانی قونصلیٹ میں پرچم کشائی کی تقریب میں آپ
مہمان خصوصی تھے، جہاں ہائی کمشنر جناب جلیل عباس جیلانی نے ہمدانی صاحب
کا خاص طور پر انتظار کیا۔ اس موقع پر آپکی نظم کو خاص پذیرائی ملی۔ نظم
کا عنوان تھا یہی وہ دن تھا۔ اسکے بعد جلیل عباس جیلانی نے ہمدانی صاحب کے
اعزاز میں ظہرانے کا بندوبست کر رکھا تھا، جس میں کینبرا اور سڈنی کی
معروف سماجی شخصیات کو مدعو کیا گیا تھا۔ 27 اگست کو ہمدانی صاحب کی لندن
واپسی تھی۔
آج ان کو گئے ہوئے
ایک ماہ کے قریب ہو چکا، لیکن یہاں ان کے کلام کو زبانوں پر یوں ہی دہرایا
جا رہا ہے جیسے ابھی کسی محفل سے سن کر نکلے ہوں۔ یہ پھول اپنی خوشبو یہاں
کیا خوب چھوڑ گیا کہ اب کے ہم پھر ان کے منتظر ہوئے بیٹھے ہیں۔ دیکھئے ۔اب کے گلدستہ ایمان یہاں کب کھلتا ہے