کبھی کبھی خاموشی بہت اچھی لگتی ہے ۔۔۔ کچھ لکھنے کو دل نہیں کرتا ۔۔ کچھ سوچنے کو دھیان راضی نہیں ہوتا تو کبھی کسی گفتگو میں حصہ لینے کو جی نہیں چاہتا ۔۔ یوں لگتا ہے جیسے جو کچھ ہو رہا ہے اس میں میر اکوئی حصہ نہیں یا میں اس کا حصہ نہیں ہوں ۔۔۔ ایسا کئی بار ہوا ہے جب قلم نے بہت شور مچانا چاہا تو اسے لفظوں کی دوکان سے خالی ہاتھ ہی لوٹنا پڑا کہ اس دوکان پر وہ لفظ تھے ہی نہیں جو اظہار کی ضرورت تھے ۔۔ آج بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا ۔۔ ایک تواتر سے بڑھتی ہوئی انسانی بے حسی نے مجھے جامد سا کر رکھا ہے ۔۔۔۔۔ کئی باتیں خودبخود یاد آتی جا رہی ہیں ۔۔ بس سوچ فقط ایک ہی نقطے کا احاطہ کئے ہوئے ہے کہ آخر ہماری پہچان کیا ہے ؟
تو سوچا آج کی گفتگو کسی تمہید کے بغیر اس پیرائے سے شروع کرتی ہوں ۔
دوستو! ایک دریاکے کنارے ایک شہتیر تیر رہا تھا ۔ اس کے اوپر 4 مینڈک بیٹھے ہوئے تھے ۔یکایک پانی کا ریلا آیا اور شہتیر کو بہا کر دور لے گیا ۔مینڈک انتہائی خوش تھے کہ انہیں تیرنے کا ایسا مزہ کبھی نہیں آیا تھا ۔
ان میں سے پہلا ایک مینڈک بولا “اصل میں یہ سب کمال شہتیر کا ہے ۔ ایسے تیرتا ہے جیسے زندہ انسان ہو ۔۔۔
دوسر امینڈک بولا نہیں میرے دوست یہ شہتیر کا کمال نہیں تھا کہ وہ تو عام سا ہی ہے ۔۔یہ تو کمال دریا کا تھا کہ اس میں اتنی روانی تھی
تیسرا مینڈک بولا ارے بھائیوں یہ نہ تو شہتیر ہے اور نہ ہی دریا کا کمال بلکہ ہمارے خیال کا کمال ہے جو اسے حرکت میں محسوس کرتے ہیں ۔۔اور اس کے ساتھ ہی تینوں میں بحث اور بعد میں آپس میں لڑائی شروع ہو گئی ۔۔ پھر طے یہ پایا کہ چوتھا مینڈک جو خاموشی سے بیٹھا بس انہیں حیرانگی سے دیکھے جا رہا ہے ۔۔ اس سے پوچھتے ہیں کہ اس کا کیا خیال ہے ۔
تینوں مینڈکوں نے چوتھے مینڈک سے اس کی رائے پوچھی تو اس نے کہا “ تم میں سے ہر ایک درست ہے ۔۔تم میں سے کوئی بھی غلطی پر نہیں ہے ۔۔حرکت شہتیر میں بھی ہے ، پانی میں بھی ہے اور ہمارے خیال میں بھی ہے “
اس کے بعد تینوں مینڈک اتنے غضبناک ہو گئے کیونکہ کوئی مینڈک بھی اس بات کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھا کہ ان کی رائے دوسرے سے بہتر اور مقدم نہیں تھی ۔۔۔ دوستو پھر ایک عجیب بات ہوئی تینوں مینڈک آپس میں مل گئے اور انہوں نے چوتھے مینڈک کو شہتیر پر سے دھکا دے کر دریا میں گرادیا ۔
(خلیل جبران کی تحریر سے ماخوز)
سوچ رہی ہوں کہ جب مفادات ایک ہوں تو دشمن بھی آپس میں ایکا کر لیتے ہیں ۔۔۔ ہمارے ارد گرد بھی تو یہی ہو ہو رہا ہے مفادات کی دوڑ نے اچھے برے اور اپنی پہچان کے ساتھ ساتھ دوست دشمن کی تمیز بھی ختم کر دی ہے ۔
اور اب تو سیاسی جموروں نے اپنے مفادات کے لیئے معصوم لوگوں کو مروانا شروع کر دیا ہے۔ مجھے کبھی کبھی حیرانی ہو تی ہے کہ میں اپنی ساری زندگی میں پاکستان تو کیا کسی غیر ملک میں بھی تحریکوں اور عوامی مظاہروں میں مرنے والوں میں صدر،وزیراعظم، وزیر،مشیر یا پھر سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کا کوئی بچہ گولی کا یا پولیس کی لاٹھی اور آنسو گیس کا نشانہ بنتے نہیں دیکھا۔
مجھے یوں لگتا ہے جیسے کوئی بھی مجھے اس کی وجہ نہیں بتا پائے گا؟
میرا قلم اس ظلم پر شور مچانا چاہتا ہے ۔۔۔ میری روح دکھ سے مر رہی ہے ۔۔۔۔۔ پر مجھے لفظوں کی دوکان سے کچھ نہیں ملتا ۔۔۔۔ میں اپنے اندر کی خاموشی سے مر رہی ہوں ۔۔۔
ہائے ۔۔۔ میں کیا کروں ۔۔۔۔
گھر میں میرے بچے اور باہر میرے غیر ملکی دوست مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آخر تمہاری پہچان کیا ہے ۔۔۔۔؟؟