|
پاکستان کے ممتاز عالم دین ڈاکٹر اسرار احمد انتقال کرگئے
14.04.2010, 03:35am , بدھ (GMT+1)
عالمی اخبار
ممتاز عالم دين ڈاکٹر اسرار احمد انتقال کرگئے ۔ ان کي عمر 78 برس تھي۔
پاکستان کے ایک معروف مذہبی سکالر اور تنظیم اسلامی کے بانی سربراہ ڈاکٹر اسرار احمد چودہ اپریل بدھ کی صبح لاھور میں انتقال کر گئے۔
ڈاکٹر اسرار چھبیس اپریل سنہ انیس سو بتیس کو موجودہ بھارتی ریاست ہریانہ کے ضلع حصار میں پیدا ہوئے
ڈاکٹر اسرار کے بیٹے ڈاکٹر عاکف نے میڈیا کو بتایا کہ ڈاکٹر اسرار طویل عرصے سے کمر کے تکلیف اور دل کے عارضے میں مبتلا تھے۔ انھوں نے بتایا کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب ان کی کمر میں شدید درد ہوا اور وہ رات ساڑھے تین بجے کے قریب انتقال کر گئے۔
ان کی نماز جنازہ ماڈل ٹاؤن کے سنٹرل پارک میں شام پانچ بجے ادا کی گئی
ڈاکٹر اسرار کی عمر اٹھہتر برس تھی۔ وہ جماعت اسلامی کے اولین بانی کارکنوں میں سے تھے لیکن بعد میں مولانا سید ابو الاعلی مودوی سے اختلافات کی وجہ سے جماعت اسلامی سے الگ ہو گئے اور اپنی علیحدہ جماعت ’تنظیم اسلامی‘ بنا لی۔
اس کے بعد انھوں نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور درس و تدریس سے وابسطہ ہو گئے۔
ڈاکٹر اسرار نے کچھ عرصہ قبل بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ ایک اسلامی مذہبی ٹی وی چینل شروع کرنا چاہتے ہیں لیکن حکومت سے انھیں اجازت نہیں مل رہی ہے۔
ڈاکٹر اسرار مختلف نجی مذہبی ٹی وی چینلز پر خطبے دیا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ تبیلغ کی غرض سے متعدد بار بھارت کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔
ڈاکٹر اسرار چھبیس اپریل سنہ انیس سو بتیس کو موجودہ بھارتی ریاست ہریانہ کے ضلع حصار میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے انیس سو چون میں لاہور کے کنگ ایڈورڈ میڈکل کالج سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی اور بعد میں سنہ انیس سو پینسٹھ میں کراچی یونیورسٹی سے اسلامیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی۔
وہ 26 اپريل 1932 ء کو بھارت کے شہر حصار ميں پيدا ہوئے۔
انہوں نے 1954 ميں کنگ ايڈورڈ ميڈيکل کالج سے ايم بي بي ايس کيا ۔ جبکہ اسلامک اسٹڈيز ميں ماسٹر کي ڈگري کراچي يونيورسٹي سے 1965ء ميں حاصل کي۔
ڈاکٹر اسرار نے تحريک پاکستان ميں بھي حصہ ليا وہ دوران طالب علمي اسلامي جمعيت طلباء ميں شامل رہے جس کے بعد انہوں نے جماعت اسلامي ميں شموليت اختيار کرلي تاہم 1957 ميں انہوں اس سے عليحدگي اختيار کرلي اور اپنا تمام وقت اسلامي تحقيق ميں صرف کيا۔
وہ مختلف ٹي وي چينلز پر اسلامي پروگرامات بھي کرتے رہے ہيں۔
|