17.10.2026, 08:13pm , ہفتہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » ڈاکٹر نگہت نسیم
 

یو این او کھپے ۔۔ یو این او کھپے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
18.04.2010, 01:03am , اتوار (GMT+1)

ڈاکٹر نگہت نسیم۔ سڈنی
دوستو چوبیس گھنٹوں کا ایک دن ہوتا ہے اور چوبیس گھنٹوں میں ایک ہزار چار سو چالیس منٹ اور چھیاسی ہزار چار سو سیکینڈ ہوتے ہیں ۔ اتنے ڈھیر سارے وقت میں صبح  بھی آتی ہے اورشام سے  رات بھی ہوتی  ہے ۔

دن اور رات کے اس فرق کے باوجود ایک دنیاوی یعنی انسانوں کا بنایا ہوا ایک نظام ایسا ہے جو اس سارے وقت میں چلتا رہتا ہے اور وہ ہے پاکستانی نیوز چینلز جنہیں پلک جھپکنے کی اجازت نہیں ۔ خبریں ایسی کی ہیلری کلنٹن تک یہ کہہ گئی کہ جتنا پاکستانی میڈیا مادر پدر آزاد میڈیا ہے ۔۔ اتنا تو ایک روز اول سے آزاد ملک  امریکہ کا میڈیا بھی نہیں ہے ۔

 پاکستانی میڈیا نے دنیا کو گلوبل ویلج کی پرانی لفظی شناخت سے نکال کر نئی اصطلاح دی ہے جس کے لئے پاکستانی میڈیا کا زکر گنیز ریکارڈ بک آف ورلڈ  کے ساتھ  ساتھ نوبل پرائز کا بھی حقدار بھی ہو گا ۔۔

صاحبو یہ نئی اصطلاح ہے “ سیوریج ویلج “ ۔۔ ۔۔ پوری دنیا کی غلاظتوں کو ایک کرنے والا پاکستان کا  میڈیا ہے ۔۔ فلم  ۔۔۔ ڈرامہ ، مارننگ ٹاک شوز ۔۔۔۔  نیوز ، سیاست ، یہ اب سب کچھ کھیل ہو چکا ہے ۔۔ اگر کچھ نہیں رہا تو بس کھیل کاشعبہ ہی کھیل نہیں رہا ۔۔ سو  کھیل کی خبروں میں بھی شادی بیاہ کی خبریں لگائی جا رہی ہیں اور باقی خبریں تو حقیقی طور پر ایک کھیل کی طرح ایک گٹر لائن سے نکلتی ہیں اپنی بدبو پھیلاتی ہوئی  دوسری گٹر لائن سے جا ملتی ہیں

 خدا جانے یار دوستوں کو پاکستان میں انفرا اسٹرکچر نظر کیوں نہیں آتا  ۔۔۔ سیوریج ویلج کا آیڈیا دینے والی چینیلز کی اس  قوم  نے چوبیس گھنٹوں ہی میں پاکستان کی کایا پلٹ دی ۔۔ سفید کو کالا کہہ دیا اور کالے کو سفید ایسے کیا کہ سیوریج وویلج کا ان داتا  سیاہ  گلفام اوباما بھی انگشت بدنداں رہ گئے اور جونیر ان داتا  زرداری کے ساتھ بے ساختہ کہہ گئے کہ “ یو این او کھپے ۔۔ یو این او کھپے “ ۔

جناب  آصف علی زرداری جنہوں نے جھوٹ ، دھوکہ دہی ۔ مکاری ، عیاری میں الگ الگ  ماسٹرز کرنے کے ساتھ ساتھ ملک بیچنے میں مسٹر ٹین پرسنٹ کی اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری امریکہ کے وائٹ ہاؤس یونیورسٹی سے لی ہوئی ہے ۔۔ جب انہوں نے غریب پاکستان کی باگ ڈور بحثیت صدر کے سنبھالی تو سوائے خود زرداری کے کسی کو یقین نہیں تھا کہ پاکستان ان کی اہلیت کے مطابق ملک ہے ۔۔ بھلا مسٹر ٹین پرسنٹ جس نے یہ عہدہ پورے پاکستان کو داؤ پر لگا کر حاصل کیا ہو ۔۔ اس کو ایسا کیا لالچ ہوگا جو اتنی مخالفت کے باوجود دنیا کے ان داتا سے  پاکستان کی سلامتی کو گروی رکھ کر اسی عہدے کی فرمائش کی  ۔

اور خدا لگتی کہوں تو  جب سے انہوں نے یہ عہدہ سنبھالا ہے اس وقت سے لے کر آ ج تک انہیں سوائے ہالبروک اور ہیلری کے کسی کی سپورٹ نہیں ملی ۔۔ اسی کو کہتے ہیں بے نا قدری ۔۔۔ جس میں پاکستانی قوم نے ڈاکٹریٹ کر رکھا ہے ۔

خود سوچئے جس ملک کا بچہ بچہ ناقدری میں پی ایچ ڈی کر رہا ہو وہاں پر سرکار صدر کے پاس کیا کیا ڈگریاں نہ ہونگی ۔

صدر زرداری نے ایک مشن کے تحت یہ عہدہ سنبھالا تھا وہ مشن کل اس وقت اپنے انجام کو پہنچ  گیا جب یو این او نے انہیں اور ان کے گھر والوں کو بھی  بینیظیر کے قتل سے بری الذمہ کر دیا ۔ زرداری نے اپنے سوئس اکاؤنٹس اور دوسرے کالے دھن کے مقدموں سے جان چھڑائی ۔۔۔ سرے محل کا قضیہ سمیٹا۔۔۔ مرتضی بھٹو کے قتل کیس سے بری ہو گئے ۔۔۔ اور اب بینیظیر کے قتل کے کیس سے بھی ۔۔۔۔ میں تو بس یہ سوچ رہی ہوں کہ چوبیس گھنٹوں میں کسی پل کے ہزارویں حصے میں بھی  زرداری اپنے خدا سے نہ  ڈر سکا

 میڈیا نے تو کبھی سچ دکھانا ہی نہیں ہے ۔۔   حیرانی بس اس بات کی ہے کہ پاکستان تو وہ ملک ہے جہاں  رمضان اور عیدین کی نماز یں تک ایک دن نہیں ہوتی وہاں پر زرداری کی اس خبر کو نشر کرنے میں اتنا ایکا تھا کہ اے آر وائی پر بینظیر کی پولٹیکل سیکرٹری  ناہید خان بھی یہی کہہ رہی تھیں کہ یو این او کھپے ۔۔ یو این او کھپے ۔۔۔۔

جس موت کے ڈر سے زرداری نے اس جھوٹ کے لاکھوں ڈالر یو این او کو دئے ہونگے ۔۔۔۔  میڈیا نے زرداری سے لئے ہونگے اور ناہید خان نے زرداری کو الٹادیئے ہونگے کہ بھئی مجھے معاف کر دو بس بھائی یوں سمجھو کہ میں تو گاڑی میں تھی ہی نہیں ۔۔۔۔ ورنہ کسے نہیں معلوم کے اب پاکستانی عوام خود کش دھماکوں اور گولی چلنے کے فرق کو سیاسی عیاروں اور مکاروں سے  اچھاجانتی ہے ۔

 سچ تو یہ ہے کہ بیت اللہ محسود ہو کہ القائدہ یا بیچارہ پندرہ سالہ لڑکا ۔۔۔۔ اب  زندہ تو کوئی ہے نہیں جو یہ بتا سکے کہ جھوٹ کیا ہے اور سچ کیا ہے ۔۔۔۔ اور جو زندہ ہیں وہ مردوں سے بدتر ہیں جو محترمہ کے ساتھ گاڑی میں ہوتے ہوئے یہ  بتا نہیں پا رہے کہ محترمہ کو گولی لگی تھی کہ ان کی موت کا موجب ایک خود کش دھماکہ تھا ۔۔ کیونکہ وہ یہ حقیقت بھی جانتے ہیں کہ خود کش دھماکہ صرف بی بی بینظیر  کوچن کر نہیں مارتا بلکہ رحمان ملک ۔ صفدر عباسی اور خود ناہید خان کو بھی ساتھ لے کر ٹلتا ۔۔۔۔

سو صدر زرداری کی سرداری کا مشن کامیاب ہوا ۔۔ انہیں ہر طرح کی بریت مبارک ہو ۔۔۔۔۔ اب اس سے کیافرق پڑتا ہے محترمہ کا پوسٹ مارٹم کیوں نہیں ہوا ۔۔۔ اور کیوں زرداری محترمہ کے قاتلوں کو جاننے کا دعوی کرنے کے باوجود یو این او کو بتانہ سکے ۔۔ کیوں ناہید خان اور رحمان ملک یہ نہ بتاسکے کہ گولی کہاں لگی تھی ۔۔۔ کیوں بینیظیر کی اپنی سیکیورٹی فورس سو رہی تھی ۔۔ ۔۔ کیوں مشرف اس معاملے میں گھنوں کی طرح چپ ہے ۔۔۔ کیوں الطاف حسین کو سندھ کی بیٹی کے ساتھ یہ نا انصافی نظر نہیں آرہی ۔۔۔۔ کیوں نواز شریف کی حزب اختلاف کو اس میں کوئی اختلاف نظر نہیں آرہا  اور جسٹس افتخار چوہدری از خود اس نا انصافی کا نوٹس نہیں لے رہے ۔۔۔۔

جس ملک کا بادشاہ شہہ دے کر اپنے ہی پیادے مروا دیتا ہو اس کے ہوتے ہوئے مادر پدر آزاد میڈیا ایک سیوریج ویلج کی طرح ہو گیا ہے جس کی  سڑاند سے پورے پاکستان کی اخلاقی اقدار اور سچ  کا انفرا اسٹرکچر تباہ و برباد ہو رہا ہے ۔۔۔۔ ایسے میں یوں لگتا ہے کہ اس قضیے کو صرف بی بی خود ہی حل کر سکتی ہیں کہ انہیں کس نے مارا ہے ۔۔۔ ۔۔۔  اور ان کی دیکھا دیکھی لیاقت علی خان بھی ہمیں بتا سکتے ہیں کہ انہیں کس نے مارا تھا کیونکہ پاکستانی  آج کل جھوٹ اور لغو میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں ۔۔۔۔ انہیں سچ اور حق  سے کیا مطلب ۔۔۔۔ آئیے زرداری کو یواین سے بریت کا سرٹیفکیٹ ملنے کی خوشی میں ایک زور دار نعرہ ء زرداری  ہم بھی لگاتے ہیں ۔۔۔آپ سب جواب میں کہیں۔۔۔۔۔

یو این او کھپے ۔۔۔ یو این او کھپے ۔۔

:دیگر مضامین
(14.04.2010) جب مفادات ایک ہوں تو ۔۔۔؟ از ۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(14.03.2010) یا نبی کہتی تھی ماں فجر میں ۔از۔ نگہت نسیم
(05.03.2010) پولیس کا ہے فرض مرمت آپ کی ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(21.02.2010) خلقت شہر نے ہاتھوں میں اٹھائے پتھر ۔۔۔ از؛ نگہت نسیم
(05.02.2010) زرداری ، بیوی کے قاتل نہیں پکڑ سکے عافیہ کو کیا بچائیں گے۔از؛نگہت نسیم
(30.12.2009) خدا گواہ ہے کہ ہم اپنے دشمن نہیں ہیں ۔از؛ نگہت نسیم۔سڈنی
(20.12.2009) محرم کے آغاز پرمبارکبادوں کا جواز کیا ہے ؟از؛نگہت نسیم
(17.12.2009) دنیا کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔از؛ نگہت نسیم۔سڈنی
(06.12.2009) پاکستان ہماری دستار ہے اسے سر پر سجایئے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(27.11.2009) کئی آنکھیں ہیں جو دعاؤں سے اب بھی نم رہتی ہیں ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(25.11.2009) اللہ تعالی کے نظام میں کوئی این آر او نہیں ہے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(16.11.2009) سولہ نومبر "عدم برداشت " کا عالمی دن ۔از نگہت نسیم ۔ سڈنی
(06.11.2009) محبت شکر اور شکریہ سکھاتی ہے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(03.11.2009) خون آشام وادیوں میں زیتون کے پھل ۔از؛ڈاکٹر نگہت نسیم
(19.08.2009) دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی دورُخی۔۔از نگہت نسیم
(09.08.2009)  کیا کریں بھئی ۔۔ ھم تو اندھے ھیں ۔۔۔ !از ڈاکٹر نگہت نسیم
(18.06.2009) جو امریکہ کے ساتھ وہ اصلاح پسند ۔از۔ نگہت نسیم
(28.05.2009) خاندانی جمہوریت دان اور جیالے ۔از۔نگہت نسیم
(28.04.2009)  انٹرنیٹ جرنلزم یا سرقہ جرنلزم ۔از۔نگہت نسیم
(16.03.2009) اور عوام جیت گئے ۔۔۔۔ از؛ نگہت نسیم



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں