
دوستو چوبیس گھنٹوں کا ایک دن ہوتا ہے اور چوبیس گھنٹوں میں ایک ہزار چار سو چالیس منٹ اور چھیاسی ہزار چار سو سیکینڈ ہوتے ہیں ۔ اتنے ڈھیر سارے وقت میں صبح بھی آتی ہے اورشام سے رات بھی ہوتی ہے ۔
دن اور رات کے اس فرق کے باوجود ایک دنیاوی یعنی انسانوں کا بنایا ہوا ایک نظام ایسا ہے جو اس سارے وقت میں چلتا رہتا ہے اور وہ ہے پاکستانی نیوز چینلز جنہیں پلک جھپکنے کی اجازت نہیں ۔ خبریں ایسی کی ہیلری کلنٹن تک یہ کہہ گئی کہ جتنا پاکستانی میڈیا مادر پدر آزاد میڈیا ہے ۔۔ اتنا تو ایک روز اول سے آزاد ملک امریکہ کا میڈیا بھی نہیں ہے ۔
پاکستانی میڈیا نے دنیا کو گلوبل ویلج کی پرانی لفظی شناخت سے نکال کر نئی اصطلاح دی ہے جس کے لئے پاکستانی میڈیا کا زکر گنیز ریکارڈ بک آف ورلڈ کے ساتھ ساتھ نوبل پرائز کا بھی حقدار بھی ہو گا ۔۔ صاحبو یہ نئی اصطلاح ہے “ سیوریج ویلج “ ۔۔ ۔۔ پوری دنیا کی غلاظتوں کو ایک کرنے والا پاکستان کا میڈیا ہے ۔۔ فلم ۔۔۔ ڈرامہ ، مارننگ ٹاک شوز ۔۔۔۔ نیوز ، سیاست ، یہ اب سب کچھ کھیل ہو چکا ہے ۔۔ اگر کچھ نہیں رہا تو بس کھیل کاشعبہ ہی کھیل نہیں رہا ۔۔ سو کھیل کی خبروں میں بھی شادی بیاہ کی خبریں لگائی جا رہی ہیں اور باقی خبریں تو حقیقی طور پر ایک کھیل کی طرح ایک گٹر لائن سے نکلتی ہیں اپنی بدبو پھیلاتی ہوئی دوسری گٹر لائن سے جا ملتی ہیں
خدا جانے یار دوستوں کو پاکستان میں انفرا اسٹرکچر نظر کیوں نہیں آتا ۔۔۔ سیوریج ویلج کا آیڈیا دینے والی چینیلز کی اس قوم نے چوبیس گھنٹوں ہی میں پاکستان کی کایا پلٹ دی ۔۔ سفید کو کالا کہہ دیا اور کالے کو سفید ایسے کیا کہ سیوریج وویلج کا ان داتا سیاہ گلفام اوباما بھی انگشت بدنداں رہ گئے اور جونیر ان داتا زرداری کے ساتھ بے ساختہ کہہ گئے کہ “ یو این او کھپے ۔۔ یو این او کھپے “ ۔
جناب آصف علی زرداری جنہوں نے جھوٹ ، دھوکہ دہی ۔ مکاری ، عیاری میں الگ الگ ماسٹرز کرنے کے ساتھ ساتھ ملک بیچنے میں مسٹر ٹین پرسنٹ کی اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری امریکہ کے وائٹ ہاؤس یونیورسٹی سے لی ہوئی ہے ۔۔ جب انہوں نے غریب پاکستان کی باگ ڈور بحثیت صدر کے سنبھالی تو سوائے خود زرداری کے کسی کو یقین نہیں تھا کہ پاکستان ان کی اہلیت کے مطابق ملک ہے ۔۔ بھلا مسٹر ٹین پرسنٹ جس نے یہ عہدہ پورے پاکستان کو داؤ پر لگا کر حاصل کیا ہو ۔۔ اس کو ایسا کیا لالچ ہوگا جو اتنی مخالفت کے باوجود دنیا کے ان داتا سے پاکستان کی سلامتی کو گروی رکھ کر اسی عہدے کی فرمائش کی ۔ اور خدا لگتی کہوں تو جب سے انہوں نے یہ عہدہ سنبھالا ہے اس وقت سے لے کر آ ج تک انہیں سوائے ہالبروک اور ہیلری کے کسی کی سپورٹ نہیں ملی ۔۔ اسی کو کہتے ہیں بے نا قدری ۔۔۔ جس میں پاکستانی قوم نے ڈاکٹریٹ کر رکھا ہے ۔
خود سوچئے جس ملک کا بچہ بچہ ناقدری میں پی ایچ ڈی کر رہا ہو وہاں پر سرکار صدر کے پاس کیا کیا ڈگریاں نہ ہونگی ۔
صدر زرداری نے ایک مشن کے تحت یہ عہدہ سنبھالا تھا وہ مشن کل اس وقت اپنے انجام کو پہنچ گیا جب یو این او نے انہیں اور ان کے گھر والوں کو بھی بینیظیر کے قتل سے بری الذمہ کر دیا ۔ زرداری نے اپنے سوئس اکاؤنٹس اور دوسرے کالے دھن کے مقدموں سے جان چھڑائی ۔۔۔ سرے محل کا قضیہ سمیٹا۔۔۔ مرتضی بھٹو کے قتل کیس سے بری ہو گئے ۔۔۔ اور اب بینیظیر کے قتل کے کیس سے بھی ۔۔۔۔ میں تو بس یہ سوچ رہی ہوں کہ چوبیس گھنٹوں میں کسی پل کے ہزارویں حصے میں بھی زرداری اپنے خدا سے نہ ڈر سکا
میڈیا نے تو کبھی سچ دکھانا ہی نہیں ہے ۔۔ حیرانی بس اس بات کی ہے کہ پاکستان تو وہ ملک ہے جہاں رمضان اور عیدین کی نماز یں تک ایک دن نہیں ہوتی وہاں پر زرداری کی اس خبر کو نشر کرنے میں اتنا ایکا تھا کہ اے آر وائی پر بینظیر کی پولٹیکل سیکرٹری ناہید خان بھی یہی کہہ رہی تھیں کہ یو این او کھپے ۔۔ یو این او کھپے ۔۔۔۔
جس موت کے ڈر سے زرداری نے اس جھوٹ کے لاکھوں ڈالر یو این او کو دئے ہونگے ۔۔۔۔ میڈیا نے زرداری سے لئے ہونگے اور ناہید خان نے زرداری کو الٹادیئے ہونگے کہ بھئی مجھے معاف کر دو بس بھائی یوں سمجھو کہ میں تو گاڑی میں تھی ہی نہیں ۔۔۔۔ ورنہ کسے نہیں معلوم کے اب پاکستانی عوام خود کش دھماکوں اور گولی چلنے کے فرق کو سیاسی عیاروں اور مکاروں سے اچھاجانتی ہے ۔
سچ تو یہ ہے کہ بیت اللہ محسود ہو کہ القائدہ یا بیچارہ پندرہ سالہ لڑکا ۔۔۔۔ اب زندہ تو کوئی ہے نہیں جو یہ بتا سکے کہ جھوٹ کیا ہے اور سچ کیا ہے ۔۔۔۔ اور جو زندہ ہیں وہ مردوں سے بدتر ہیں جو محترمہ کے ساتھ گاڑی میں ہوتے ہوئے یہ بتا نہیں پا رہے کہ محترمہ کو گولی لگی تھی کہ ان کی موت کا موجب ایک خود کش دھماکہ تھا ۔۔ کیونکہ وہ یہ حقیقت بھی جانتے ہیں کہ خود کش دھماکہ صرف بی بی بینظیر کوچن کر نہیں مارتا بلکہ رحمان ملک ۔ صفدر عباسی اور خود ناہید خان کو بھی ساتھ لے کر ٹلتا ۔۔۔۔ سو صدر زرداری کی سرداری کا مشن کامیاب ہوا ۔۔ انہیں ہر طرح کی بریت مبارک ہو ۔۔۔۔۔ اب اس سے کیافرق پڑتا ہے محترمہ کا پوسٹ مارٹم کیوں نہیں ہوا ۔۔۔ اور کیوں زرداری محترمہ کے قاتلوں کو جاننے کا دعوی کرنے کے باوجود یو این او کو بتانہ سکے ۔۔ کیوں ناہید خان اور رحمان ملک یہ نہ بتاسکے کہ گولی کہاں لگی تھی ۔۔۔ کیوں بینیظیر کی اپنی سیکیورٹی فورس سو رہی تھی ۔۔ ۔۔ کیوں مشرف اس معاملے میں گھنوں کی طرح چپ ہے ۔۔۔ کیوں الطاف حسین کو سندھ کی بیٹی کے ساتھ یہ نا انصافی نظر نہیں آرہی ۔۔۔۔ کیوں نواز شریف کی حزب اختلاف کو اس میں کوئی اختلاف نظر نہیں آرہا اور جسٹس افتخار چوہدری از خود اس نا انصافی کا نوٹس نہیں لے رہے ۔۔۔۔
جس ملک کا بادشاہ شہہ دے کر اپنے ہی پیادے مروا دیتا ہو اس کے ہوتے ہوئے مادر پدر آزاد میڈیا ایک سیوریج ویلج کی طرح ہو گیا ہے جس کی سڑاند سے پورے پاکستان کی اخلاقی اقدار اور سچ کا انفرا اسٹرکچر تباہ و برباد ہو رہا ہے ۔۔۔۔
ایسے میں یوں لگتا ہے کہ اس قضیے کو صرف بی بی خود ہی حل کر سکتی ہیں کہ انہیں کس نے مارا ہے ۔۔۔ ۔۔۔ اور ان کی دیکھا دیکھی لیاقت علی خان بھی ہمیں بتا سکتے ہیں کہ انہیں کس نے مارا تھا کیونکہ پاکستانی آج کل جھوٹ اور لغو میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں ۔۔۔۔ انہیں سچ اور حق سے کیا مطلب ۔۔۔۔ آئیے زرداری کو یواین سے بریت کا سرٹیفکیٹ ملنے کی خوشی میں ایک زور دار نعرہ ء زرداری ہم بھی لگاتے ہیں ۔۔۔آپ سب جواب میں کہیں۔۔۔۔۔
یو این او کھپے ۔۔۔ یو این او کھپے ۔۔