
روم مرکزی اٹلی کے لازیو کے علاقہ میں دریاۓ آنیینے اور دریاۓ تیبر کے سنگم پر واقع ہے۔ گرچہ مرکز شہر بحیرہ روم سے 24 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے، شہر کا ساحل سمندر تک پھیلا ہوا ہے جہاں جنوب مغربی شہر اوستیہ واقع ہے۔ سطح سمندر سے شہر کی بلندی پیاسا دیل پوپولو (Piazza del Popolo) میں 13 میٹر سے بڑھتی ہوئی مونتے ماریو (Monte Mario) کی چوٹی پر 120 میٹر تک پہنچتی ہے۔ شہر کا رقبہ 1285 مربع کلو میٹر ہے جو اسے یورپ کے بڑے دارالحکومتوں میں سے بناتی ہے۔
اکیس اپریل کو روم میں لوگ خاص طور پر پرانے دور کے ملبوسات پہنتے ہیں۔ مختلف گروپس فوجیوں کے لباس میں شہر کی سڑکوں پر پریڈ کرتے ہیں۔ ہر شخص اس کوشش میں ہوتا ہے کہ وہ روم شہر کی سالگرہ میں اپنا حصہ ادا کرے۔ عام لوگ قدیم روم کے حصوں میں جا کر اجداد کو یاد کرتے ہیں۔
رنگوں اور تماشے سے عبارت اس دن میں ہرخاص و عام کو شمولیت کا موقع ملتا ہے۔ اس دن خاص طور پررقص و سرور کی خصوصی محفلوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یورپی ملکوں سے ہزاروں سیاح روم شہر کی سالگرہ کی تقریبات دیکھنے جاتے ہیں۔

اطالوی لوگ اس پر متفق ہیں کہ روم شہر کا سنگ بنیاد اکیس اپریل 753 قبل از مسیح میں رکھا گیا تھا۔ اس شہر کی بنیادی کی کہانی دو جڑواں بھائیوں کے گرد گھومتی ہے۔ ان کا نام رامولس اور راموس تھا۔دونوں بھائیوں کے دل میں ایک شہر بسانے کی خواہش روم شہر قدیمی دور کا نشان :کلوسیئمروم شہر قدیمی دور کا نشان :کلوسیئمتھی مگر اختلاف تھا تو اس بات پر کہ کس پہاڑی کے دامن میں یہ شہر بسایا جائے۔ اس پر دونوں کوئی فیصلہ نہ کر پائے۔
اختلافات اتنے شدید ہو گئے کہ دونوں بھائی جھگڑ پڑے اوراس میں راموس ہلاک ہو گیا۔ پھر رامولس نے اپنی مرضی کی پہاڑی کے دامن میں شہر بسانے کا منصوبہ بنایا اور اپنے نام پراس کا نام رکھا۔ رامولس نے نئے شہرکے باسیوں کو بتایا کہ اس کا بھائی ایک بھوت تھا۔
روم کی بنیاد روایتوں اور داستانوں میں ملتی ہے، تاہم جدید تحقیقات اس نظریہ کو تقویت دیتی ہیں کہ شہر کی بنیاد آٹھویں صدی قبل مسیح میں پڑی۔ شہر روم، رومی بادشاہت کا دارالحکومت بنا (جس پر روایات کے مطابق بادشاہوں کی سات پشتوں نے حکومت کی) اور پھر رومی جمہوریہ کا دارالحکومت بنا (جس میں ایوان بالا یا سینٹ کو زیادہ اختیارات حاصل ہوتے تھے) اور بالآخر رومی سلطنت کا دارالحکومت بنا (جس پر شہنشاہ حکومت کرتے تھے)۔ یہ کامیابی اور برتری فوجی طاقت کے ساتھ ساتھ اقتصادی غلبہ کی وجہ سے بھی تھی جس نے اپنے اندر ہمسایہ تہذیبوں خاص کر ایسٹروسکن (قدیم مقامی باشندے) اور یونانی تہذیبوں کو جذب کر لیا۔ روم کی برتری پورے یورپ اور بحیرہ روم کے ساحلوں پر بڑھتی گئي جبکہ اسکی آبادی دس لاکھ سے تجاوز کر گئي۔ تقریبا ایک ہزار سال تک روم مغربی دنیا کا سب سے اہم سیاسی مرکز، امیر ترین اور سب سے بڑا شہر رہا، اور یہ برتری سلطنتوں کے اتار چڑھاؤ سے متاثر نہ ہوئی حتی کہ اس کا دارالحکومت ہونے کا اعزاز بھی چھن گیا اور اسکی جگہ مشرقی دارالحکومت قسطنطنیہ نے لے لی۔
410

ء میں ہونے والی تبدیلیوں اور اسکے بعد 476ء میں رومی سلطنت کی تباہی کے بعد روم بازنطینی حکمرانوں اور جرمینک (Germanic) بربریوں کے زیر تسلط رہا۔ آبادی بیس ہزار نفوس تک کم ہو گئي، اور شہر کھنڈرات کا نقشہ پیش کرنے لگا۔ عیسائیت کے اوائلی طلوع کے ساتھ روم کے لاٹ پادری کو مذہب کے ساتھ ساتھ سیاسی اہمیت بھی حاصل ہونے لگی، جو آخر کار پاپاۓ روم کہلاۓ اور جنہوں نے روم کو کیتھولک گرجاؤں کا مرکز اور پاپاۓ روم کی ریاست کا دارالحکومت بنا دیا۔ عہد وسطی میں شہر مذہبی زائرین کے لیے مرکز قرار پایا اور اسکے ساتھ ساتھ پاپاۓ روم اور مقدس رومی سلطنت (جسکا آغاز چارلس اعظمCharlemagne یا Charles the Great نے کیا تھا اور روم کو مرکز قرار دیا تھا) کی درمیانی کشمکش کا مرکز بھی بنا۔
عہد وسطی کے کچھ عرصے کے لیے آزاد شہر رہنے کے علاوہ روم صدیوں مقدس شہر اور پاپاۓ روم کی ریاست کا دارلحکومت رہا، حتی کہ پاپاۓ روم کچھ عرصہ (1330ء تا 1337ء)کے لیے آوینیان (Avignon) میں بھی مقیم رہے۔ 1527ء کے بعد جب پوپ کی سیاسی طاقت ختم ہو گئی تو شہر تہذیب اور فنون لطیفہ کے اعیاء کا مرکز بنا (عہد وسطی میں چودھویں صدی عیسوی سے سولہیوں صدی تک یورپ میں علوم و فنون کے اعیاء کا زمانہ جسکو تاریخ میں Renaissance کہتے ہیں)۔ آبادی بڑھنے لگی اور ایک بار پھر سترہویں صدی عیسوی میں ایک لاکھ تک پہنچ گئي۔ تاہم روم اسی دور ترقی میں دوسرے یورپی دارالحکومتوں سے پیچھے رہا جسکی بڑی وجہ کیتھولک گرجا کی اندرونی ترتیب نو قرار دی جاتی ہے۔
زمانہ قدیم میں مذہب رومی یا اطالوی میں ''ریلیجیو رومانا'' ہی اہم مذہب تھا۔ لیکن بعد میں کئی دوسرے مذاہب بھی

شامل ہوتے گۓ،جیسا کہ یہودیت جس کی موجودگی رومی معاشرہ میں زمانہ قدیم سے ہی ثابت ہے اور جسے کسی دور میں علاقہ رومن غیتو (Roman Ghetto) میں محصور کر دیا گیا تھا۔ اور پھر عیسایئت، جسے ابتدا میں مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن چوتھی صدی عیسوئی کے اوائل میں عیسائیت خاصی پھیل چکی تھی اور 313ء، عہد قونستنتائن اول (Constantine I) میں اسے قانونی تحفظ حاصل ہوا اور 380ء، عہد تھیوڈوسیس اول (Theodosius I) میں عیسایئت کو رومی سلطنت کے باضابطہ مذہب کا درجہ دے دیا گیا۔ جس سے اسے مزید پھیلنے اور ختم ہوتے ہوۓ رومی مذہب کی جگہ پر کرنے کا موقع ملا۔
روم عیسایئت کا پہلا مرکز قرار پایا، جہاں روایات ےک مطابق پہلی صدی عیسوئی میں سینٹ پیٹر (Saint Peter) اور سینٹ پاول (Saint Paul) کا مذہبی بنیاد پر قتل کیا گیا۔ روم کے لاٹ پادری یا بشپ (Bishop) نے بعد میں پوپ (Pope) یا پاپاۓ روم کا کا لقب اپنایا اور اسکو باقی تمام گرجاؤں کے لاٹ پادریوں پر برتری حاصل ہوئی اور تمام عیسائیوں پر بھی اس بنیاد پر کہ وہ سینٹ پیٹر کے جانشین ہیں۔ 313ء سے عیسائي حکمرانوں اور پیروکاروں کی جانب سے دیے جانے والے عطیوں سے پاپاۓ روم کے اثاثوں میں اضافہ ہونے لگا۔ ان اثاثوں میں لیٹرن پیلس (Lateran Palace) اور بازیلیکا (basilicas) بھی شامل تھے، اسکے ساتھ ساتھ ناکام ہوتے ہوۓ سماجی نظام پر گرجا کے اثرورسوخ میں بھی اضافہ ہونے لگا۔ جسکے بعد آنے والی کئي صدیوں تک پاپاۓ روم کا سکہ ہی چلا۔
اس مضمون کی تیاری میں انٹرنیٹ کے مواد سے مدد لی گئی ہے