16.10.2026, 12:48pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
اہم ترین   
ریڈیو پاکستان نے لاہور کے تاریخی ریڈیو اسٹیشن کا ایک اہم اسٹوڈیو اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفیٰ علی ھمٰدانی کے نام سے موسوم کر دیا
یکم نومبر دو ہزار بارہ عالمی اخبار کی چوتھی سالگرہ ہے۔آن لائن اردو اخبارات میں عالمی اخبار سنجیدہ صحافت کا معیار بن چکا ہے
 
رپورٹس/ملٹی میڈیا
 

دنیا کے قدیم شہروں میں تاریخی شہر روم کا 2765 واں یوم تاسیس اکیس اپریل
18.04.2012, 06:05am , بدھ (GMT+1)

عالمی اخبار ریسرچ یونٹ
روم مرکزی اٹلی کے لازیو کے علاقہ میں دریاۓ آنیینے اور دریاۓ تیبر کے سنگم پر واقع ہے۔ گرچہ مرکز شہر  بحیرہ روم سے 24 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے، شہر کا ساحل سمندر تک پھیلا ہوا ہے جہاں جنوب مغربی شہر اوستیہ واقع ہے۔ سطح سمندر سے شہر کی بلندی پیاسا دیل پوپولو  (Piazza del Popolo) میں 13 میٹر سے بڑھتی ہوئی مونتے ماریو (Monte Mario) کی چوٹی پر 120 میٹر تک پہنچتی ہے۔ شہر کا رقبہ 1285 مربع کلو میٹر ہے جو اسے یورپ کے بڑے دارالحکومتوں میں سے بناتی ہے۔

اکیس اپریل کو روم میں لوگ خاص طور پر پرانے دور کے ملبوسات پہنتے ہیں۔ مختلف گروپس فوجیوں کے لباس میں شہر کی سڑکوں پر پریڈ کرتے ہیں۔ ہر شخص اس کوشش میں ہوتا ہے کہ وہ روم شہر کی سالگرہ میں اپنا حصہ ادا کرے۔ عام لوگ قدیم روم کے حصوں میں جا کر اجداد کو یاد کرتے ہیں۔

 رنگوں اور تماشے سے عبارت اس دن میں ہرخاص و عام کو شمولیت کا موقع ملتا ہے۔ اس دن خاص طور پررقص و سرور کی خصوصی محفلوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یورپی ملکوں سے ہزاروں سیاح روم شہر کی سالگرہ کی تقریبات دیکھنے جاتے ہیں۔

اطالوی لوگ اس پر متفق ہیں کہ روم شہر کا سنگ بنیاد اکیس اپریل 753 قبل از مسیح میں رکھا گیا تھا۔ اس شہر کی بنیادی کی کہانی دو جڑواں بھائیوں کے گرد گھومتی ہے۔ ان کا نام رامولس اور راموس تھا۔دونوں بھائیوں کے دل میں ایک شہر بسانے کی خواہش روم شہر قدیمی دور کا نشان :کلوسیئمروم شہر قدیمی دور کا نشان :کلوسیئمتھی مگر اختلاف تھا تو اس بات پر کہ کس پہاڑی کے دامن میں یہ شہر بسایا جائے۔ اس پر دونوں کوئی فیصلہ نہ کر پائے۔

اختلافات اتنے شدید ہو گئے کہ دونوں بھائی جھگڑ پڑے اوراس میں راموس ہلاک ہو گیا۔ پھر رامولس نے اپنی مرضی کی پہاڑی کے دامن میں شہر بسانے کا منصوبہ بنایا  اور اپنے نام پراس کا نام رکھا۔ رامولس نے نئے شہرکے باسیوں کو بتایا کہ اس کا بھائی ایک بھوت تھا۔

روم کی بنیاد روایتوں اور داستانوں میں ملتی ہے، تاہم جدید تحقیقات اس نظریہ کو تقویت دیتی ہیں کہ شہر کی بنیاد آٹھویں صدی قبل مسیح میں پڑی۔ شہر روم، رومی بادشاہت کا دارالحکومت بنا (جس پر روایات کے مطابق بادشاہوں کی سات پشتوں نے حکومت کی) اور پھر رومی جمہوریہ کا دارالحکومت بنا (جس میں ایوان بالا یا سینٹ کو زیادہ اختیارات حاصل ہوتے تھے) اور بالآخر رومی سلطنت کا دارالحکومت بنا (جس پر شہنشاہ حکومت کرتے تھے)۔ یہ کامیابی اور برتری فوجی طاقت کے ساتھ ساتھ اقتصادی غلبہ کی وجہ سے بھی تھی جس نے اپنے اندر ہمسایہ تہذیبوں خاص کر ایسٹروسکن (قدیم مقامی باشندے) اور یونانی تہذیبوں کو جذب کر لیا۔ روم کی برتری پورے یورپ اور بحیرہ روم کے ساحلوں پر بڑھتی گئي جبکہ اسکی آبادی دس لاکھ سے تجاوز کر گئي۔ تقریبا ایک ہزار سال تک روم مغربی دنیا کا سب سے اہم سیاسی مرکز، امیر ترین اور سب سے بڑا شہر رہا، اور یہ برتری سلطنتوں کے اتار چڑھاؤ سے متاثر نہ ہوئی حتی کہ اس کا دارالحکومت ہونے کا اعزاز بھی چھن گیا اور اسکی جگہ مشرقی دارالحکومت قسطنطنیہ نے لے لی۔

410ء میں ہونے والی تبدیلیوں اور اسکے بعد 476ء میں رومی سلطنت کی تباہی کے بعد روم بازنطینی حکمرانوں اور جرمینک (Germanic) بربریوں کے زیر تسلط رہا۔ آبادی بیس ہزار نفوس تک کم ہو گئي، اور شہر کھنڈرات کا نقشہ پیش کرنے لگا۔ عیسائیت کے اوائلی طلوع کے ساتھ روم کے لاٹ پادری کو مذہب کے ساتھ ساتھ سیاسی اہمیت بھی حاصل ہونے لگی، جو آخر کار پاپاۓ روم کہلاۓ اور جنہوں نے روم کو کیتھولک گرجاؤ‎ں کا مرکز اور پاپاۓ روم کی ریاست کا دارالحکومت بنا دیا۔ عہد وسطی میں شہر مذہبی زائرین کے لیے مرکز قرار پایا اور اسکے ساتھ ساتھ پاپاۓ روم اور مقدس رومی سلطنت (جسکا آغاز چارلس اعظمCharlemagne یا Charles the Great نے کیا تھا اور روم کو مرکز قرار دیا تھا) کی درمیانی کشمکش کا مرکز بھی بنا۔


عہد وسطی کے کچھ عرصے کے لیے آزاد شہر رہنے کے علاوہ روم صدیوں مقدس شہر اور پاپاۓ روم کی ریاست کا دارلحکومت رہا، حتی کہ پاپاۓ روم کچھ عرصہ (1330ء تا 1337ء)کے لیے آوینیان (Avignon) میں بھی مقیم رہے۔ 1527ء کے بعد جب پوپ کی سیاسی طاقت ختم ہو گئی تو شہر تہذیب اور فنون لطیفہ کے اعیاء کا مرکز بنا (عہد وسطی میں چودھویں صدی عیسوی سے سولہیوں صدی تک یورپ میں علوم و فنون کے اعیاء کا زمانہ جسکو تاریخ میں Renaissance کہتے ہیں)۔ آبادی بڑھنے لگی اور ایک بار پھر سترہویں صدی عیسوی میں ایک لاکھ تک پہنچ گئي۔ تاہم روم اسی دور ترقی میں دوسرے یورپی دارالحکومتوں سے پیچھے رہا جسکی بڑی وجہ کیتھولک گرجا کی اندرونی ترتیب نو قرار دی جاتی ہے۔

زمانہ قدیم میں مذہب رومی یا اطالوی میں ''ریلیجیو رومانا''  ہی اہم مذہب تھا۔ لیکن بعد میں کئی دوسرے مذاہب بھی شامل ہوتے گۓ،جیسا کہ یہودیت جس کی موجودگی رومی معاشرہ میں زمانہ قدیم سے ہی ثابت ہے اور جسے کسی دور میں علاقہ رومن غیتو (Roman Ghetto) میں محصور کر دیا گیا تھا۔ اور پھر عیسایئت، جسے ابتدا میں مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن چوتھی صدی عیسوئی کے اوائل میں عیسائیت خاصی پھیل چکی تھی اور 313ء، عہد قونستنتائن اول  (Constantine I) میں اسے قانونی تحفظ حاصل ہوا اور 380ء، عہد تھیوڈوسیس اول (Theodosius I) میں عیسایئت کو رومی سلطنت کے باضابطہ مذہب کا درجہ دے دیا گیا۔ جس سے اسے مزید پھیلنے اور ختم ہوتے ہوۓ رومی مذہب کی جگہ پر کرنے کا موقع ملا۔


روم عیسایئت کا پہلا مرکز قرار پایا، جہاں روایات ےک مطابق پہلی صدی عیسوئی میں سینٹ پیٹر (Saint Peter) اور سینٹ پاول (Saint Paul) کا مذہبی بنیاد پر قتل کیا گیا۔ روم کے لاٹ پادری یا بشپ (Bishop) نے بعد میں پوپ (Pope) یا پاپاۓ روم کا کا لقب اپنایا اور اسکو باقی تمام گرجاؤ‎ں کے لاٹ پادریوں پر برتری حاصل ہوئی اور تمام عیسائیوں پر بھی اس بنیاد پر کہ وہ سینٹ پیٹر کے جانشین ہیں۔ 313ء سے عیسائي حکمرانوں اور پیروکاروں کی جانب سے دیے جانے والے عطیوں سے پاپاۓ روم کے اثاثوں میں اضافہ ہونے لگا۔ ان اثاثوں میں لیٹرن پیلس (Lateran Palace) اور بازیلیکا (basilicas) بھی شامل تھے، اسکے ساتھ ساتھ ناکام ہوتے ہوۓ سماجی نظام پر گرجا کے اثرورسوخ میں بھی اضافہ ہونے لگا۔ جسکے بعد آنے والی کئي صدیوں تک پاپاۓ روم کا سکہ ہی چلا۔

اس مضمون کی تیاری میں انٹرنیٹ کے مواد سے مدد لی گئی ہے


:دیگر مضامین
(16.04.2012) گلگت میں خون کی یہ ہولی کس کے ایما پر ۔۔۔۔از۔۔۔طاہر یاسین طاہر
(14.04.2012) ٹائٹینک کی غرقابی کو 100 سال مکمل۔برطانیہ میں ٹائٹینک جیسا ہی بحری جہاز تیار
(13.04.2012)  شادمان چوک کو بھگت سنگھ شہید چوک بنایا جائے , پاک یورو جرنلسٹس فورم کی حمائت
(06.04.2012) بریسٹ کینسر اور خواتین کی لاعلمی ۔ خصوصی رپورٹ۔از۔ڈاکٹر نگہت نسیم
(03.04.2012) کراچی: مشہور شاعرہ،ادیبہ اور نائب مدیرہ عالمی اخبارڈاکٹر نگہت نسیم سے ملاقات
(02.04.2012)  ارشد نذیرساحل کے ساتھ اکادمی ادبیات اسلام آبادمیں ایک شام منائی گئی
(01.04.2012) یکم اپریل،اپریل فول…مغربی اقدار کی اندھی تقلید ہے کیا؟
(31.03.2012) مسجد اقصی کی حفاظت کرہ ارض پر موجود ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے
(29.03.2012) دنیا کی دیگر مارکیٹوں کی نسبت کراچی اسٹاک ایکسچینج پر زیادہ زوال آیا۔
(25.03.2012) تئیس مارچ یومِ قرار داد پاکستان ۔فرینکفرٹ کے قونصل خانے کی تقریب
(22.03.2012) معروف اور منفرد موسیقار نثار بزمی کی آج بائیس مارچ کو پانچویں برسی ہے
(21.03.2012) یونیسکوکے زیر اہتمام آج 21مارچ کو دنیا بھر میں شاعری کا عالمی دن منایا گیا ہے۔
(17.03.2012) سچن ٹنڈولکر انٹرنیشنل کرکٹ میں سینچریوں کی سینچری مکمل کرنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے
(16.03.2012)  پرویز مشرف کی لندن میں سیکورٹی پر یومیہ 25 ہزار پاؤنڈ خرچ ہوتے ہیں
(11.03.2012) دنیا بھر میں199زبانیں معدومی کے قریب پہنچ چکی ہیں
(09.03.2012) ادارہ منہاج ا لقرآن فرینکفرٹ کے جھنڈے تلے میلاد رسول کی پررونق محفل
(07.03.2012) فلم بندش کا گلوکار اخلاق احمد کا ایک مقبول اور یادگار نغمہ
(04.03.2012) ہائیڈل برگ کے سید جمال الدین نے فرینکفرٹ میں صفدر ھمدانی سے خصوصی ملاقات کی
(02.03.2012) نسلی تعصب کسی عہد کسی قوم تک محدود نہیں؟ از۔ ڈاکٹر نگہت نسیم۔اشاعرت مکرر
(01.03.2012) ایک منفرد اور اپنی طرز کا فنکار بدر الدین بدر( آرٹسٹ،گرافک ڈیزائنر،پینٹر)۔



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
بیاد سید عاشور کاظمی  »
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  بیاد سید عاشور کاظمی   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں