|
عالِم نقوی کی کتاب’اُمید‘ پر ممبئی یونیورسٹی کا مذاکرہ
25.04.2010, 01:05am , اتوار (GMT+1)
ندیم صدیقی۔ممبئی
’’عالِم نقوی کے ہاں فکر کی تازگی کے ساتھ ملت کیلئے درد مندی کی موج دَر موج نظر آتی ہیں‘‘ اُردو ٹائمز کے ایگزیکیٹیو ایڈیٹر کی کتاب’اُمید‘ پر ممبئی یونیورسٹی کے مذاکرے میں اہل علم کا خطاب
’’عالم نقوی کو میں ایک دہے سے زیادہ مدت سے پڑھ رہا ہوں اُن کے مضامین موضوع اور متن کے لحاظ سے بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ وہ جو بات کہتے ہیں وہ محض بات نہیں ہوتی بلکہ اس کا موضو ع مستحکم اور وہ اپنے آپ میں ٹھوس اور نتیجہ خیز ہوتی ہے۔ عالِم نقوی اپنے متن میں کہیں باسی دکھائی نہیں دیتے ان کے مطالعے اور باخبری کا باہم ارتباط بڑا تسلی بخش ہوتا ہے۔ سب سے اہم نقطہ یہ ہیکہ اُن کا ہراستدلال قرآن کریم سے ہوتا ہے جو اس زمانے میں ایک بڑی بات ہے۔ ہمیں یہ فخر ہے کہ وہ ہمارے درمیان ہیں، عالِم نقوی جیسا صحافی ایک ادیب ہم میں موجود ہے اور ہم عالم نقوی جیسے شخص کے ہم عصر ہیں۔
آج سہ پہر ممبئی یونیورسٹی کے شعبۂ اُردو اور جریدہ ’ تحریرِ نو‘ کے زیر اہتمام محمد عَالِم نقوی کی تازہ کتاب ’ اُمید‘ پر ایک مذاکرے میں یہ باتیں اُردو کے مشہور جدید شاعر و ادیب عبد الاحد ساز نے کہیں۔
ممبئی یونیورسٹی کیمپس (کالینہ،سانتاکروز)کے ڈبلیو آر آئی سی ہال میں منعقدہ اس مذاکرے کی صدارت اُردو کے معروف صحافی اور ممتاز اہلِ علم بشارت شِکوہ کر رہے تھے جبکہ مہمانِ خصوصی تھے عروس البلاد کے مشہور سماجی کارکن ، اردو کے محب خاص اور ملت کے درد مند علی ایم شمسی۔
روزنامہ اُردو ٹائمز کے ایگزیکیٹیو ایڈیٹرمحمد عَالِم نقوی کے دوسرے مجموعۂ مضامین ’ اُمید‘ پر ہونے والا یہ مذاکرہ کئی لحاظ سے اہمیت کا حامل تھا کہ اس میں شرکا نے کتاب یا صاحبِ کتاب کی نہ صرف مداحی کی بلکہ اِک سلیقے کے ساتھ اپنے ا ختلاف رائے کا بھی اظہار کیا۔ آپ کے محبوب اخبار روزنامہ اُردو ٹائمز کی ممتاز کالم نگار مونسہ بشریٰ عابدی نے بھی اپنے ایک خاص انداز سے حاضرین کو خطاب کیا اور بلا تکلف یہ بات کہی کہ میرے ذہن میں ابتدا سے ہی صحافت سے وابستگی کا ایک تصور تھا، ایک خواب تھا، میرے اُس خواب کی تکمیل کا سہرا عالِم نقوی کے سَر ہے۔
مونسہ بشریٰ عابدی نے بالکل واضح طور پر بلکہ ببانگ دہل کہا کہ آج ہمارا( نیشنل) میڈیا مافیا بن چکا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں انگریزی اخبارات کے نام بھی لیے۔ انہوں نے کہا کہ ایک زمانہ تھا کہ اُردو اخبار کے تعلق سے ہمارے ہاں ایک قسم کا احساسِ کمتری جیسا معاملہ تھا مگر اب اُردو اخبارات کے تعلق سے اس رُجحان میں تبدیلی آئی ہے۔
اس تبدیلی کیلئے مسماۃکااشارہ عالِم نقوی جیسے صحافیوں کی طرف تھا کہ ان کی تحریروں کی وجہ سے یہ مُثبت رویہ اُردو والوں میں پیدا ہو رہا ہے۔
مونسہ بشریٰ عابدی نے یہ بھی کہا کہ ہمارے ہاں جو چند اہل علم و قلم کے مضامین کی جو ایک فضا بنتی ہے، عالم نقوی اس کی سرخی نظر آتے ہیں۔ عام لکھنے والے اکثر جگالی کرتے نظر آتے ہیں مگر عالِم نقوی کے ہاں ہمیں اسلوب کی ہی نہیں فکر کی تازگی اورسب سے زیادہ ملت کیلئے درد مندی کی موج دَر موج ہمیشہ نظر آتی ہیں۔
الیاس فاروقی نے کہا کہ’’ میں تو سو رہا تھا کہ مجھے مائیک پر بلا لیا گیا انہوں نے عالم نقوی سے اپنی قربت اور ان کی تحریروں کے تعلق سے کلام کرتے ہوئے اپنے بعض اختلاف کا تذکرہ بھی کیا کہ میں اس سے اتفاق نہیں کرتا کہ دوسری قومیں ہمیں بر باد کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔‘‘
انہوں نے اپنی تقریر میں نیندکا جو ذکر کیا تھا ہم نے اس کے یہی معنی مطلب اخذ کیے کہ ’ اُمّید ‘ کے مضامین ہماری بیداری کا سبب بن سکتے ہیں ۔
اُردو کے معروف ادیب اور ماہرِمعاشیات سکندر احمد کا خیال تھا( جو غلط بھی نہیں)کہ اِکنامکس جیسے موضوعات پر ہمارے ہاں کم کم پڑھنے کو ملتا ہے لیکن ان ( عَالِم نقوی) کے اداریے ہماری زبان میں اس کمی کی تلافی ہی نہیں کرتے بلکہ ان کی اس موضوع پر پیش گوئیاں بسا اوقات سچ ثابت ہوتی رہی ہیں۔
سکندر احمد نے یہ بھی کہا کہ فی زمانہ’ معلومات‘ کا بڑا شورو غوغا ہے مگر سچ یہ ہے کہ علم اور معلومات دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ عالِم نقوی کے اداریوں اور ان کے مضامین میں ہمیں علم بھی ملتا ہے اور معلومات بھی۔
مولانا عبد الوحید فیاضی نے برملا کہا کہ عالِم نقوی نے ہماری صحافت کو اسلامی بنا دیا ہے۔ اور وہ واقعتا اسم با مسمی صحافی ہیں۔ موصوف نے اپنے ایک مشاہدے کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں اسلام کے نام پر اتحادو اتفاق کی باتیں تو سب کرتے ہیں مگر عملاً اپنے مسلک کے دائرے سے لوگ باہر نکل نہیں پاتے۔ میں اس کا شاہد ہوں کہ اس معاملے میں عالم نقوی وسیع الظرف انسان ہیں۔
علی ایم شمسی نے اپنی تقریر میں فی زمانہ صحافت اور صحافت کے نام پر جو کچھ منظر بنا ہوا ہے اس کے حوالے سے کہا کہ صحافت کیا تھی اور کیا ہو گئی ہے۔
شمسی نے اپنے معاشرے کے علم اور عالِم کے تعلق پر تبصرہ کرتے ہوئے درد کے ساتھ کہ میں نے جب ابتدا میں عالم نقوی کو معاصر اخبار میں پڑھا تھا تو کہا تھا کہ یہ عَالَم نقوی کون ہیں جو اتنے پرتاثیر مضامین لکھتے ہیں؟ تو مجھے جواب ملا تھا کہ یہ عالَم نہیںعالِم نقوی ہیں تو میں نے سوچا کہ ہم عالِم کو کیسے جان سکتے ہیں کہ ہم پر تو عالَم چھایا ہوا ہے۔
موصوف نے نقوی کی تحریروں کی کشش کا ایک بنیادی سبب یہ بتایا کہ ان کے ہاں اختصار میں بڑی جامعیت پائی جاتی ہے اور ان کی تحریروں کے جسد میں روح، اسلامی ہوتی ہے۔
شمسی نے اصرار کے ساتھ یہ بات کہی کہ ہمارے ہاں کتاب سے دوری کا جو رویہ عام ہو رہا ہے وہ ہمارے لئے سم قاتل سے کم نہیں۔ ہمیںاپنی نئی نسل کو کتاب سے جوڑنے کا کوئی نسخہ تلاش کرنا ہوگا کہ’ امید‘ کا یہی تقاضا ہے۔
شمسی نے صرف یہ بات ہی نہیں کہی بلکہ کتاب امید کو کوکن بھر میں پھیلے ہوئے اُردو اسکولوں میں پہنچانے میں اپنا دست تعاون بھی بڑھایا۔
صدرِجلسہ بشارت شِکوہ نے اردو کے تئیں اردو والوں کے عام رویے کے خلاف حکیمانہ انداز سے بڑی اہم باتیں کیں انہوں نے کہا آج کے اس جلسے کی کامیابی کا انحصار اس پر ہے کہ ہم یہ عہد کر کے اُٹھیں کہ اُردو بولیں گے اردو پڑھیں گے۔
موصوف نے اپنی تقریر میں دو ٹوک انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ہم بڑی خوبصورتی سے حق سے گریز کرنے لگے ہیں۔ عام طور پر نہ حق بولنے والے ہیں اور نہ ہی حق کے سننے والے لیکن یہ بات بڑی خوش آئند ہے کہ برادر عالم نقوی کے ہاں نہ صرف حق ہے بلکہ حق کا چرچا بھی ہے۔ میرا خیال ہے وہی صحافی زندہ رہے گا جو حق کے عَلَم کو بلند رکھے گا۔
موصوف نے اردو کا پھر ذکر کرتے ہوئے یہ کہا کہ’’ یہ زبان باقی رہے گی تو عالِم نقوی جیسے لوگ پیدا ہونگے جو حق کہیں گے اور حق لکھیں گے۔‘‘ صاحب امید عالم نقوی کو بھی مائیک پر زحمت دی گئی توانہوں نے کہا کہ میں اپنے لئے یہ درخواست کرتا ہوں کہ ’’میرے حق میں آپ یہ دعا کریں کہ میرا نفس موٹا نہ ہوجائے ہر چند کہ اس وقت نفس کے موٹا ہونے کے تمام اسباب موجود ہیں۔‘‘ مومن پر جب وار ہوتا ہے تو وہ دفاع کے نام پر ہتھیار لے کر مقابل پر پِل نہیں پڑتا۔ آج کے جلسے میں یہ امر بہت واضح طور پر راقم کو دیکھنے کو ملا کہ عالم نقوی نے اپنے مطمح نظر ، انداز و اسلوب اور دلائل و براہین پر تنقید کے جواب میں جو طریق ا ختیار کیا وہ یقینا ایک مومن کا طریق تھا۔ انہوں نے اپنے طریق کو ہتھیار نہیں ایک سِپر بنالیا۔ جو کسی مثال احسن سے کم نہیں۔
موصوف نے اپنے معترضین کو خطاب کرتے ہوئے سوال کیا کہ ’’وہ بتائیں کہ قرآن کریم میں کس پیغمبر اور کس قوم کا سب سے زیادہ تذکرہ کیا گیا ہے۔؟ موصوف نے خو دہی کہا کہ وہ پیغمبر حضرت موسیٰ اور وہ قوم بنی اسرائیل ( یہودی) ہے۔‘‘
قرآن کے اس استدلال حق کے بعد ظاہر ہے کسی دلیل یاکسی حجت کا سوال کہاں باقی رہتا ہے، یعنی ہر اختلاف کو کافور ہونا ہی ہونا ہے۔ اس جلسے میں سرفراز آرزو ، اسلم غازی، ضمیر کاظمی، افسر فاروقی وغیرہ نے بھی خطاب کیا۔
|