|
خوف اور ہراس “ کی یہ تحریریں از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔اشاعت مکرر
17.02.2012, 08:01am , جمہ (GMT+1)
ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
اللہ پاک کا ہر نظام ہی ازل سے بہت پُر سکون ہے ۔ وہ تو بس ہم لوگ ہی ہیں جو اُس کے نظام کی خلاف ورزی کرتے رہتے ہیں اور یوں بےسکونی اپنے لیئے ایجاد کر لیتے ہیں . کبھی غور کریں تو زیادہ تر ہم اپنے سلوک کی وجہ سے اپنے اطراف کے لوگوں کی زندگی اتنی اجیرن کر دیتے ھیں کہ اُن کی نیند تو جاتی ہی ہے . بلکہ کچھ عرصے کے بعد ہماری اپنی نیند بھی دشمن ھو جاتی ہے ۔
نیند اور خواب جہاں سکون اور بشارتوں کی نوید ہوتے ہیں وہی زندگی کے نارمل ہونے کا ثبوت بھی دیتے ہیں ۔
وہی پریشانی‘ تشویش اور خوف نفسیاتی دباؤ کا سبب بنتے ہیں اور اسی دباؤ کی وجہ سے نیند میں کمی آ جاتی ھے ۔ اور نیند کی کمی سے نہ صرف پورا جسم اور اُس کا نظام متاثر ھوتا بلکہ اُس کی وجہ سے جہاں بلڈ پریشر ، ہارٹ اٹیک اور زیابطیس جیسی بیماریاں بھی ہونے لگتی ہیں، وہیں زہنی اتشار کی وجہ سے ڈیپریشن اور خود کشی کے رجحان میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔
جی میں ہے کہ آج اُن لوگوں کی باتیں کرؤں جنہیں کو نیند نہیں آتی اور مجھ سے جادوئی سا کوئی علاج مانگ بیٹھتے ہیں ۔ جتنی شدت سے وہ جاگتے ہیں اتنی شدت سے میں خود کو بےبس اور لاچار محسوس کرنے لگتی ہوں اور میں بھی اُن کے ساتھ بےخوابی کا شکار ہو جاتی ہوں ۔
کسی بھی ملک میں جنگ ہو یا بدامنی رہے یا کسی خطے پرانصاف اور قانون نام کو نہ رہے تو وہاں ایک اکثریت راتوں کو جاگنے لگتی ہے ۔ اوراپنا دفاع حکمرانوں کی بجائے اپنا کام سمجھ کرخود ہی کرنے لگتی ہے .
میں خود کتنے ہی ایسے لوگوں کو جانتی ہوں جن کی نیندوں کے دشمن ملک کے نااہل حکمران ہیں ۔
اس وقت مجھے کیمبورڈیا کی باون سالہ خاتون یاد آرہی ہے جو میرے پاس خود کشی کی ناکام کوشش کے بعد آئی تھی اور اس کا یہی کہناتھا کہ اُس نے نیند کی گولیاں صرف اس لیئے کھائی تھی کہ اسے ایک مدت سے نیند نہیں آتی تھی ۔ اور خواب میں خود کو وہ آگے آگے بھاگتے دیکھتی تھی اور پیچھے پیچھے فوجیوں کو ۔ کبھی چیختے تو کبھی ڈراتے ہوئے ۔ وہ سونا چاہتی تھی یا شاید اُن سے اپنے خوابوں میں بچنے کے لیئے مارے ڈر کے سوتی نہ تھی ۔ جو بھی تھا اُسے خوشیوں اور زندگی سے دور کر رہا تھا ۔
پراس کے مرنے کا یہ طریقہ اچھا نہیں تھا ۔ میں نے اپنی کئی تاویلوں کے ساتھ اُسے ھوسپٹل میں ایڈمٹ کر لیا اور اُس نے اسی رات گلے میں چادر لپیٹ کر خود کشی کر لی تھی .
اُس وقت پہلی دفعہ میں نے خود سے ہی حیران ھو کر پوچھا تھا کہ کیا نیند اتنی ہی اہم ہے ؟
میں سپین ، روس ، ایران ، افغانستان اور عراق سے آنے والے کئی ایسے لوگوں کوجانتی ہوں جن کو بس ایک ہی تکلیف ہے کہ انہیں وحشت اور دہشت سے نیند نہیں آتی ۔ اگر آ بھی جائے تو بم بلاسٹ ، خون ، انسانی چیخیں اور لاچاری سونے نہیں دیتی اور پھر اسطرح وہ رو رو کر اپنی بدقسمتی کابین کرتے ہیں کہ میری نیندیں بھی اُن کے ساتھ ہی اپنی لاچاری پر اُڑ جاتی ہیں کہ میں اُن کے لیئے سکون سے بھری مصنوعی نیند بھی ابھی تک ایجاد نہیں کر پائی ہوں ۔
جب بھی کہی جنگ شروع ہوتی ہے ، دھماکے ہوتے ہیں ، دہشت گردی کی واردات ہوتی ہیں یا خاندان بے گھر ہو کر اپنے ہی وطن میں غریب الوطن ہو جاتے ہیں تو سب سے پہلے ان کی تعلیم کے ساتھ میعار زندگی گرجاتا ہے ۔۔ کوئی حکمران شاید یہ نہیں سوچتا کہ خیموں میں دھوپ بارش برداشت کرتے ہوئے بچے کتنی حسرت سے اپنے ٹوٹے ہوئے اسکولوں کو یاد کرتے ہوئے ان کی نیندیں ان سے کتابوں کی طرح روٹھ جاتی ہونگی ۔۔۔ ان کی تعلیم سے دوری ماں باپ کی نیندوں کو کتنا بےبس کر دیتی ہو گی ۔۔۔ ہمارے حکمران درد کی یہ کیسی فصل بو رہے ہیں جسے آنے والے وقت میں ہر کسی کو کاشت کرنی پڑے گی ۔
رنج اٍس بات کا ہے کہ جن کی نیندیں گم ہو رہی ہیں اُن کا قصور سوائے بدنصیبی کے بھلا اور کیا ہے ۔۔ کیا وہ خود سے غریب خاندانوں میں پیدا ہوئے تھے یا پھر انہوں نے نے ہر دروازے پر بکنے والے نا عاقبت اندیش چور لٹیرے حکومتوں میں آنے کے لئے چنے تھے ۔ ستم دیکھیئے کہ انہیں غریب سے غریب تر بھی انہی حکمرانوں کی کی غلط پالیسیوں کے طفیل ہی بننا پڑتا ہے ۔ کیا تعلیم کی کمی کسی ملک کی بدنصیبی نہیں ہے ۔۔ اگر آج دنیا کے بحران زدہ ترقی پذیر ملکوں کی خواندگی کی شرح ترقی یافتہ ملکوں سے زیادہ ہوتی تو کیا امریکہ اور اس کے حواری ایسی درندگی ان سے رواں رکھ سکتےتھے ۔
سوچتی ہوں کہ کل جب دنیا کی تاریخ لکھی جائے گی تو اُس میں آٹے ، بجلی اور امن کے بحران کے ساتھ نیند کا بحران بھی لکھا جائے گا اور کتنے دکھ کی بات ہے کہ اگر سب قلتیں کوئی دلیر ، جرات مند آ کر دور کر بھی دے گا تو بھی نیند کے بحران کا حل اُس کے پاس بھی نہیں ہو گا کہ “ خوف اور حراس “ کی یہ تحریریں تو انسانی احساس کے سادہ سے ورق پر نا مہربان وقت اپنے خون دل سے لکھ چکا ہو گا ۔
|