پندرہ نومبر 1948کو صبح نو بجکر چودہ منٹ پر پیدا ہونے والے بُرج عقرب کے حامل اور برطانوی بادشاہت کے ولی عہد شہزادہ چارلس ساٹھ برس کے ہوگئے ہیں ۔انکی ساٹھویںسالگرہ برطانیہ بھر میں اور خاص طور پر یہاں لندن میں شاہی اعزازات کے ساتھ منائی گئی۔ ولی عہد نے اپنی سالگر ہ کی تقریبات کا آغازاسکول کے طلباء سے ملاقات سے کیا ۔اس موقع پر انکی اہلیہ شہزادی کمیلا روزمیری،اور دونوں بیٹے شہزادہ ولئیم اور شہزادہ ہیری بھی انکے ہمراہ تھے۔

لندن کے معروف ہائیڈ پارک میں شہزادہ چارلس کو اکتالیس توپوں کی سلامی پیش کی گئی جس کے بعد شاہی خاندان نے ملک بھر کے چھ منتخب اسکولوں کے ایک سو اسی طلباء کیجانب سے منعقدہ موسیقی کے پروگرام میں شرکت کی جہاںشہزادہ چارلس کی پسند کی دھنیں بجائی گئیں۔
ٹاؤر آف لندن کے مقام پر شہزادہ چارلس کو باسٹھ توپوں کی سلامی پیش کی گئی۔ ملکہ الزبتھ دوم نے بکنگھم پیلیس لندن میں ولی عہد شہزادہ چارلس کی ساٹھویںسالگرہ کے موقع پر عشائیہ بھی دیا۔
طانیہ کی ملکہ الزبتھ نے شہزادہ چارلس کی 60 ویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت کیلئے لیڈی ڈیانا کے دونوں بیٹوں کی گرل فرینڈز کو بھی دعوت نامے جاری کیئے۔
 |
| شہزادہ ولیم اور ہیری |
کی گرل فرینڈز کیٹ اور چیلسی بھی 13 نومبر کو شاہی محل کی تقریب میں شرکت کرنے والی 150 نمایاں شخصیات میں شامل ہوں گی۔دونوں شہزادوں کی محبوباؤں کو شاہی آداب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے تقریب میں ’’لانگ ڈریس‘‘ پہن کر شرکت کرنا ہوگی۔ برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن بھی تقریب میں شرکت کریں گے
برطانیہ کی موجودہ شاہی حکمران ملکہ الزبتھ 21اپریل 1926 کو لندن میں پیدا ہوئیں۔ پاپ کا نام پرنس البرٹ، ڈیوک آف یارک (بعد میں جارج ششم) ہے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم گھر پر اپنی والدہ کی زیر نگرانی حاصل کی۔
برطانیہ کی موجودہ حکمران جو اپنے باپ جارچ ششم کی وفات پر 6 فروری 1952ء کوتخت نشین ہوئی۔ 1947ء میں لفٹینٹ فلپ ماونٹ بیٹن المعروف ڈیوک آف اڈنبرا سے شادی ہوئی۔ جو ہندوستان کے آخری انگریز وائسرئے لارڈ ماونٹ

بیٹن کے بھتیجے ہیں۔
شہزادہ چارلس ان کے ولی عہد ہیں۔ برطانیہ کے علاوہ آپ کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جمیکا، بارباڈوس، برازیل سمیت کئی دوسرے ممالک کی ملکہ بھی ہیں۔ آپ دنیا کی واحد حکمران ہیں جو کہ ایک سے زائد آزاد ممالک کی حکمران ہیں۔ تخت نشینی کے ان 56 سالوں میں برطانیہ میں 11 وزیراعظم تبدیل ہوئے۔
شہزادہ چارلس اور ڈیانہ کی شادی اور پھر اس شادی کا انجام بہت طویل اور درد آمیز کہانی ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ چارلس نے ڈاینہ کی موت کے بعد اسی خاتون سے شادی کی جس سے انکے تعلقات برسوں پرانے تھے۔

نو اپریل دو ہزار پانچ۔۔۔برطانیہ کے ولی عہد پرنس چارلس اور کمیلا پارکر باؤلز کی شادی کی تقریب ہفتے کو ونڈسر کے تاریخی قصبے میں انجام پائے گی۔ونڈسر قصبے کے گلڈ ہال میں سول تقریب کے بعد شاہی جوڑا ونڈسر کے قلعے میں واقع گرجا میں مذہبی رسومات کی ادا ئیگی کے لیے گیا اوراس موقع میں ملکہ برطانیہ بھی موجود ہوں گی۔
شادی کی یہ تقریب کئی مذہبی اور قانونی پیچیدگیوں کو سلجھانے کے بعد منعقد ہوئی۔ شادی کی اس تقریب کو پوپ جان پال دوئم کی وفات کی وجہ سے آخری لمحوں پر موخر کرنا پڑا تھا۔
پرنس چارلس اور کمیلا پارکر گزشتہ پینتیس سالوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ شہزادی ڈینا نے چارلس اور کیملا کے درمیان تعلقات کو اپنی شادی ٹوٹنے کی وجہ قرار دیا تھا۔

انتیس اکتوبر دو ہزار چھ میں برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلز اپنی اہلیہ کمیلا پارکر کے ہمراہ پاکستان کے چھ روزہ دورے پر اتوار کو اسلام آباد پہنچے۔انکے اس دورے کا مقصد مختلف مذاہب اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان روابط، تعلیم، نوجوان نسل کی کاروباری امور میں شراکت اور پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مختلف شعبہ ہائے زندگی میں تعاون جیسے امور پر بات چیت کرنا تھا۔
شہزادہ چارلس تاریخ میں پہلی مرتبہ 21 نومبر کو یوگنڈا میں ہونے والی دولت مشترکہ کی سربراہ کانفرنس میں شرکت کریں گے
سربراہ کانفرنس کے دوران وہ دولت مشترکہ کے ممالک کے وزرائے خارجہ کی گول میز کانفرنس میں بھی شریک ہوں گے اور گول میز کانفرنس میں زیر غور آنے والے امور پر بات چیت میں حصہ لیں گے۔ اس صورت حال کے پیش نظریہ توقع کی جارہی ہے کہ 58 سالہ شہزادہ چارلس 81 سالہ ملکہ برطانیہ کے بعد دولت مشترکہ کے سربراہ بنا دیئے جائیں گے۔
وہ دولت مشترکہ میں شامل 53 رکن ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ لیک وکٹوریہ کے ساحل پر تفریح کے لیے بھی جائیں گے اس کا مقصد دولت مشترکہ کے رکن ممالک کے رہنماؤں سے خود کو متعارف کرانا ہے۔ ڈیلی ٹیلی گراف نے ذرائع کے حوالے سے اس بات کا انکشاف کیا ہے۔

برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس کے چھوٹے بیٹے 24 سالہ ہیری نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ایورسٹ سر کرنے کی تیاریاں شروع کردیں۔ مہم جوئی میں افغانستان اور عراق جنگ میں حصہ لینے والے 85 برطانوی فوجی اہلکار بھی شہزادہ ہیری کے ہمراہ ہونگے۔
ہیری ٹیم کے ہمراہ بلند ترین چوٹی سر کرنے کا آغاز اگلے سال اکتوبر اور نومبر میں کریں گے۔ اس سلسلے میں شہزادہ ہیری نے برطانوی شہر پلی موٹ میں برطانوی رائل ایئرفورس کے کیمپ میں تربیت کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ برطانوی شہزادے نے مہم جوئی میں افغانستان اور عراق میں زخمی ہونے والے برطانوی فوجیوں کو بھی شامل کیا ہے۔ اس میں برطانوی فوجی بن میکین بھی شامل ہیں جو افغانستان میں اپنے دونوں ہاتھ گنوا بیٹھے ہیں۔