|
صدر اوبامہ کا کُتا سولہ سو ڈالر مالیت کا ہے۔ از۔ صفدر ھمٰدانی
19.05.2010, 01:15am , بدھ (GMT+1)
صفدر ھمدانی۔لندن
یہ امریکہ بہادر کمال کا ملک ہے۔ اس نے اپنے ہاں تو تمام نیکی کے کام کیئے ہیں لیکن دوسرے ملکوں میں تباہی و بربادی کے ایسے ایسے راستے کھولے ہوئے ہیں کہ ‘‘ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن‘‘۔
یہ امریکہ بہادر اگر نہ چاہے تو پاکستان جیسے کسی بھی ملک میں جمہوری اور ووٹ کے ذریعے منتخب ہونے والی حکومت کو بھی برداشت نہ کرے اور اگر چاہے تو وردی میں ملبوس آمر مطلق جنرل مشرف جیسے کو بھی جمہوریت کا چمپین قرار دے ڈالے۔
امریکہ بہادر کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ حکومت کسی بھی سیاسی جماعت کی ہو اور صدر کا نام کچھ بھی ہو پالیسی ننانوے فیصد ایک جیسی ہی رہتی ہے
اپنے ہاں تو امریکہ نے ایسی ایسی روایات کو جنم دیا ہے اور پروان چڑھایا ہے کہ صدقے واری ہونے کو دل کرتا ہے لیکن پاکستان،ایران،عراق، افغانستان میں اور ایسے ہی کئی ممالک کے لیئے اسکے اصول مختلف ہیں۔ وہ ان ممالک کے حکمرانوں کو رشوت خوری،اقربا پروری، غنڈہ گردی،عوام دشمنی، بد انتظامی اور بدعنوانی کی صرف کھلی چھٹی ہی نہیں دیتا بلکہ ان ایسے ناعاقبت اندیش حاکموں کو امریکہ بہادر کی پوری اشیر باد بھی حاصل ہوتی ہے۔
دور جانے کی کیا ضرورت ہے اپنے وطن عزیز پاکستان کے چوٹی کے حکمران دیکھ لیں یا پھر ہمسایہ ملک افغانستان کے حکمرانوں پر نگاہ ڈال لیں،ہر جگہ یہی مناظر ہیں۔ اپنے یہاں عدالت وزیر داخلہ کی ضمانت کیا منسوخ کرتی ہے کہ ایوان صدر کی دُم پر پاؤں آ جاتا ہے اور نعوذبااللہ پروردگار سے بھی بڑھ کر غفور و رحیم ہونے کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور بیک جنبش قلم رحمان فرشتہ یعنی ملک کے تمام گناہ اور سیاہ کاریاں معاف کر دی جاتی ہیں، اب بھاڑ میں جائے عدالت اور اسکا فیصلہ۔
لیکن امریکہ بہادر کا اپنے ہاں منظر الگ ہے۔ابھی کچھ ہی دیر پہلے امریکہ میں صدر بش کے اثاثوں کی مکمل تفصیل جاری کرنے کے بعد شائع بھی کر دی گئی ہے ۔ کیا اچھی روایت ہے۔ ایسی روایت جسکا پودا ہمارے ملک کی آب و ہوا،مٹی اور پانی میں کبھی پروان ہی نہیں چڑھ سکتا۔
امریکی حکومت کی طرف سے جاری کردہ صدر کے اثاثوں کی تفصیلا ت کے مطابق سب سے زیادہ قابل توجہ صدر اوباما کا ‘‘خاندانی کُتا بو‘‘ ہے جو انہیں اگر چہ تحفے کے طور پر ملا ہے لیکن اسکی بھی قیمت کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ خاندانی کُتا سولہ سو ڈالر کا ہے۔ ہے نا یہ قسمت کی بات کہ ‘‘بو‘‘ کی قمیت اپنے ہاں ایک اچھے خاصے سرکاری ملازم کی سالانہ تنخواہ کے برابر ہے
اسی تفصیل کے مطابق اوباما کے ستتر لاکھ ڈالروں کے اثاثے ہیں اور انہوں نے گزشتہ ماہ اٹھارہ لاکھ ڈالرکا ٹیکس ادا کیا۔ اس سے پہلے صدر اوباما امن نوبل انعام کی ملنی رقم کا بھی ٹیکس ادا کرچکے ہیں۔
جی تو بہت چاہتا ہے کہ اپنے ہاں سے صدر زرداری، نواز شریف، چوہدری برادران اور ایسی ہی نسل کے لوگوں نے جو ٹیکس دیا ہے اسکا ذکر کرؤں لیکن کیا فائدہ؟ یہاں تو معاملہ۔۔۔‘‘آپ بھی شرمسار ہو مجھکو بھی شرمسار کر‘‘ والا ہے۔ اگر آپ ان حاکموں کے ٹیکس کے پیسے دیکھیں جو یہ ادا کرتے ہیں تو دل چاہتا ہے کہ انکو ملک میں زکوات اور عشر کے محکمے سے زکوات دلوائی جائے تاکہ یہ لوگ کم ازکم گزر بسر تو کر سکیں
امریکہ میں جاری ہونے والے اعداد شمار کے مطابق صدر اوباما اور خاتون اول میشئل اوباما کے مجموعی اثاثوں کی مالیت تئیس سے ستتر لاکھ ہے ڈاکرجن میں کتابوں سے ملنے والی رائلٹی بھی شامل ہے۔اوباما کے اثاثوں میں دس سے پچاس لاکھ ڈالر ٹریزری بلز جبکہ دو لاکھ پچاس ہزار ایک ڈالر سے پانچ لاکھ ڈالر تک کی رقم بینک اکاؤنٹ میں ہے۔کتابوں کی رائلٹی کے علاوہ صدر اوباما کی سالانہ تنخواہ چار لاکھ ڈالر سالانہ ہے۔
دیکھا آپ نے کہ کتے اور کتے کے مالک کا سارا کچا چھٹا عوام کیا ساری دنیا کے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔
آیئے ذرا وطن عزیز میں ذرا سا پیچھے چل کر دیکھتے ہیں ۔ویسے اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ موجودہ حاکم ہوں یا ماضی کے انکا حال اور بدنیتی ایک ہی جیسی ہے۔ اور جو میں اب آئینہ دکھانے لگا ہوں یہ کوئی بہت پرانی بات بھی نہیں۔ چوبیس فروری دوہزار دس کی بات ہے اور اسکے مطابق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے گوشواروں کے مطابق امیر ترین پارلیمنٹرینز سابق وزیر خزانہ شوکت ترین ہیں جنہوں نے سلک بینک سمیت دیگر شعبوں میں 3 ارب 6 کروڑ روپے سرمایہ کاری کر رکھی ہے ان کے پاس 54 کروڑ 55 لاکھ روپے کی اندرون و بیرون ملک جائیداد ہے 4 گاڑیاں ہیں جن میں رینج روور شامل ہے جس کی مالیت 2 کروڑ 18 لاکھ روپے ہے
اس کے علاوہ ایک کروڑ 76 لاکھ 93 ہزار روپے کا بینک بیلنس ہے
وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کے اثاثوں کے مطابق ان کے پاس اپنی ذاتی گاڑی نہیں ہے پچھلے سال ان کے پاس اپنا ذاتی مکان نہیں تھا اس بار انہوںنے 63 لاکھ روپے کا 'گھر خریدا ہے ملتان میں جائیداد فروخت کرنے کے بعد یہ 'گھر خریدا گیا ہے۔ 3 لاکھ روپے کیش اور ایک کروڑ 21 لاکھ روپے کا بینک بیلنس ہے اور 26 تولے سونے کے مالک ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کا کراچی ڈیفنس میں 60 لاکھ روپے مالیت کا مکان ہے۔ سیالکوٹ میں ایک کروڑ روپے کا 'گھر ہے۔ ایک بی ایم ڈبلیو گاڑی جس کی مالیت 31 لاکھ 50 ہزار روپے ، 50 تولے کے سونے کے زیورات ہیں۔ بیرون ملک کاروبار کی مالیت 3 لاکھ ڈالر ہے۔ جو ان کی اہلیہ کے نام ہے۔
چیئرمین سینٹ فاروق ایچ نائیک کی 13 کروڑ 20 لاکھ روپے کی جائیداد ہے۔ تجارتی سرمایہ 7 کروڑ 96 ہزار روپے ہے۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے وزارت داخلہ طلحہ محمود کی جائیداد کی مالیت ساڑھے 6 کروڑ روپے ہے ان کے پاس دو گاڑیاں ہیں جس کی مالیت 32 لاکھ روپے ہے بینک بیلنس 69 لاکھ 75 ہزار روپے ہے۔
اے این پی کے سینیٹر زاہد خان کے پاس ایک گاڑی ہے جس کی مالیت 50 لاکھ روپے ہے ، بینک بیلنس 4 لاکھ 9 ہزار 700 روپے ہے۔ سینیٹر گلزار احمد خان کے پاس جائیداد کی 8 لاکھ 56 ہزار روپے مالیت بنتی ہے۔ بینک بیلنس ایک لاکھ 40 ہزار روپے ہے۔ سلیم سیف اللہ کے پاس 8 کروڑ 21 لاکھ روپے کی جائیداد ہے ایک گاڑی 12 لاکھ روپے کی ہے۔
سینیٹر گل نصیب کے پاس 12 لاکھ روپے کے زیورات ہیں ایک 'گھر ہے جس کی مالیت 8 لاکھ روپے ہے۔ بینک بیلنس کوئی نہیںہے۔ ایم کیو ایم کے سینیٹر احمد علی خان کے پاس 45 لاکھ روپے کا تجارتی سرمایہ ہے۔
یہ گوشوارے 2009 ء میں جمع کرائے گئے ہیں۔
قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان کے اسلام آباد، لاہور اور راولپنڈی میں مجموعی طورپر 5 پلاٹ 9 فلیٹس ہیں جبکہ اسلام آباد میں ایک فارم ہائوس اور چکری میں زرعی زمین ہے جس کی مالیت 5 کروڑ روپے بنتی ہے اس کے علاوہ مولانا فضل الرحمان کے پاس ساڑھے 5 لاکھ روپے کے طلائی زیورات ہیں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک کروڑ روپے کی غیر منقولہ جائیداد ہے
سینیٹر جہانگیر بدر کے پاس صرف 26 لاکھ روپے کا ایک 'گھر ہے ، جبکہ 2 لاکھ 21 ہزار کا بینک بیلنس ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کو چھوڑ کر جتنے بھی سیاستدانوں نے گوشوارے جمع کرائے ہیں وہ دھوکہ دہی پر مبنی دکھائی دیتے ہیں۔
سیاستدان اپنے اثاثوں کی حقیقی مالیت چھپانے کے لئے جائیدادیں، بینک بیلنس ، گاڑیاں، بنگلے اپنے بیوی، بچوں اور بھانجے بھتیجوں کے نام کر دیتے ہیں اور خود ہاتھ جھاڑ کر فارغ ہو جاتے ہیں کہ ہمارے پاس تو کچھ ہے ہی نہیں۔
الیکشن کمیشن کا اثاثوں کے بارے میں جو طریق کارہے وہ سرے سے غلط ہے۔ اصل میں دیکھنے کی بات یہ ہوتی ہے کہ متعلقہ سیاستدان کی بیوی بچوں کے نام کیا ہے۔ ان اثاثوں کی تفصیلات بھی طلب کی جائیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکتا ہے۔
ایک اور کام جو الیکشن کمیشن کو کرنا چاہئے وہ یہ ہے کہ اگر کسی سیاستدان نے گوشوارے میں لکھا ہے کہ ڈیفنس کراچی یا کلفٹن کراچی میں اس کے پاس جو بنگلہ ہے اس کی مالیت 26 لاکھ ہے۔ الیکشن کمیشن آزادانہ ذرائع سے پتہ کرائے کہ مذکورہ بنگلے کی اصل مالیت کیا ہے۔
درحقیقت اصل معاملہ کچھ یوں ہے کہ ہمارا الیکشن کمیشن جس حد تک بااختیار ہے اس کی خبر پورے ملک کو ہے۔ الیکشن کمیشن انتخابی سرگرمی کے لئے پانچ لاکھ روپے خرچ کرنے کی اجازت دیتا ہے تو امیدوار پانچ کروڑ روپے خرچ کر دیتا ہے لیکن مجال ہے کہ الیکشن کمیشن اس معاملے میں مداخلت کرے
پیپلزپارٹی والے ہوں ، مسلم لیگ (ن) والے یا پھر ایم کیو ایم والے دراصل سب یہی چاہیں گے کہ ان کے اصل اثاثوں کا قوم کو پتہ نہ چلے
سیاست میں ان کا قبلہ و کعبہ امریکہ بہادر ہے لیکن کیا ان میں سے کوئی بھی یا پھر صرف صدر زرداری ہی امریکہ کی اس روایت کی تقلید کریں گے؟
|