ٹورنٹو کے مرکز باب العلم میں پر نور میلاد خاتون جنت سیدہ سلام اللہ کا انعقاد 29.05.2010, 10:45am , ہفتہ (GMT+1)
جمعرات ستائیس مئی کو کینڈا کے ٹی وی اے ٹی این کے لیئے جناب اشفاق حسین نے صفدر ھمدانی کا انٹرویو ریکارڈ کیا جس میں پاکستان کی تاریخ نشریات،انکے والد مصطفی علی ھمدانی کے پہلے اعلان آزادی،عالمی نشریاتی اداروں،پاکستانی ذرائع ابلاغ میں بدلتی ہوئی صورت حال، عالمی اخبار اور اردو ادب کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔
صفدر ھمدانی نے اپنی دو غزلیں بھی ریکارڈ کروائیں
وہ ٹورنٹو امریکہ کے شہر نیو جرسی میں ہونے والے میلاد جناب زہرا سلام اللہ میں شرکت کے بعد 24 مئی کو نیوجرسی سے روانہ ہو کر معروف شاعر،ادیب اور ٹی وی پیشکار اشفاق حسین اور انکی اہلیہ محترمہ نرجس صاحبہ کے ہمراہ سڑک کے راستے 25 مئی کی علی الصبح کینڈا کے شہر ٹورنٹو پہنچ گئےتھے.
امریکہ سے کینڈا پہنچنے پر جناب اشفاق حسین اور انکی اہلیہ محترمہ نرجس نے صفدر ھمدانی کو معروف تفریحی مقام ''نیاگرا آبشار'' کی سیر کروائی جسکا شب کا حُسن دن کی روشنی کے حُسن سے قطعی مختلف ہوتا ہے.وہ اس سے قبل فلوریڈا،میامی،شکاگو اور ہیوسٹن کا دورہ کر چکے ہیں لیکن شمالی امریکہ کا یہ انکا اولیں سفر ہے.ٹورنٹو میں انکا قیام جناب اشفاق حسین کے در دولت پر ہے اور اپنے چند روزہ قیام کے دروان یہاں دینی اور ادبی تقریبات میں شرکت کے علاوہ اپنے اعزہ اور عالمی اخبار سے متعلقہ احباب سے بھی ملاقاتیں کریں گے.ٹورنٹو میں انکی مصروفیات کے بارے میں جلد ہی تفصیل جاری کی جارہی ہے
امریکہ کے شہر نیوجرسی میں 22 مئی ہفتے کی شام بنت رسول سیدہ،طاہرہ،مرضیہ،محدثہ،شفیعہ،البتول العذرا جناب فاطمہ سلام اللہ کی شان میں قصائد پیش کرنے کے لیئے ایک مقدس طرحی محفل کا انعقاد ہوا جسمیں شمالی امریکہ کے مقتدر شعرا کے علاوہ ٹورنٹو سے معروف شاعر اور نثر نگار اشفاق حسین، کویت سے مقبول شاعر،منقبت نگار محمد علی وفا اور لندن سے شاعر اہلبیت مرثیہ نگار صفدر ھمٰدانی خصوصی دعوت پر تشریف لائے۔اس مقدس محفل مقاصدہ کے میزبان جناب جعفر نقوی اور انکی اہلیہ زہرا نقوی ہیں جو گزشتہ کئی برس سے اس کے انعقاد کی یہ سعادت حاصل کر رہے ہیں اور اس محفل کا انعقاد اپنے در دولت کے وسیع ہال میں کرتے ہیں۔1 Hans Voji DriveFranklin ParkNJ 08823 اس مرتبہ اس محفل مقاصدہ کے لیئے معروف،مقبول اور استاد نوحہ خوان مرحوم؛؛سچے بھائی؛؛ کی منقبت کا یہ مصرع طرح دیا گیا '' دُعا بتول نے کی ہے مری بقا کے لیئے؛؛۔سچے بھائی (مرحوم) برصغیر میں نوحہ خوانی کے حوالے سے اس نصف صدی میں آج بھی ایک لیجنڈ کی حیثیت رکھتے ہیں اور بحضور محمد و آل محمد انہوں نے سلام و مناقب کے نزرانے بھی پیش کیئے ہیں جو آج بھی ایسی محافل میں پڑھے جاتے ہیں ۔ سچے بھائی مرحوم کے کہے ہوئے سلام کے دو بہت مقبول شعر۔دل سے غم حسین نہ ہو کم خدا کرےلے جاؤں میں لحد میں یہی غم خدا کرےحب علی ہو دل میں زبان پر ہو یا حسینجب وقت نزع نکلے میرا دم خدا کرےمحفل مقاصدہ کے لیئے جعفر نقوی کے در دولت کے وسیع وعریض ہال کو نہایت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا اور ہال کے درمیان میں رنگین گاؤ تکیوں اور شہ نشین کے ساتھ اسٹیج تیار کیا گیا تھا جس کے پس منظر میں پوری دیوار پر نہایت خوبصورت کڑھائی کا وسیع وعریض پردہ لٹکایا گیا تھا۔مقاصدہ کے لیئے مدعو کیئے جانے والے احباب آغاز کے وقت ساڑھے چھ بجے سے قبل ہی آنا شروع گئے تھے جنہیں جعفر نقوی بنفس نفیس خوش آمدید کہتے تھے اور آمد پر انکی تواضع مشروبات اور مفرحات سے کی جاتی تھی۔لگ بھگ پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والی اس نورانی۔متبرک اور نہایت کامیاب محفل میں خصوصی دعوت پر مدعو کیئے گئے احباب نے شرکت کی جنکی تعداد ڈیڈھ سو کے قریب تھی۔ محفل مقاصدہ کا وقفہ نماز مغربین کےلیئے ہوا جسکی اقتدا مولانا سخاوت حسین سندرالوی نے کی جسکے بعد محفل مقاصدہ کا دوسرا دور شروع ہوا۔اس محفل کی کامیابی کی سب سے بڑی دلیل سامعین کا اتنے طویل دورانیے تک نہ صرف شعرا کو سننا بالکل مستقل درود و نعرہ حیدری کی صورت میں شعرائے آل رسول کو داد دینا تھا۔محفل کی ابتدا حدیث کسا ٗ سے ہوئی جسکے بعد نظامت کے اسٹیج کینیڈا سے تشریف لائے معروف شاعر اور ادیب اشفاق حسین نے سنبھالا اور اسٹیج پر آنے کی دعوت مہمان شعرا محمد علی وفا اور صفدر ھمٰدانی کو دی جسکے بعد محفل کے باقاعدہ آغاز کے انہوں نے جناب زائر نقوی کو مدعو کیا جنہوں نے اپنے منفرد انداز میں سچے بھائی مرحوم کا یہ سلام مکمل پیش کیا جس سے یہ طرحی مصرع دیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔دعا بتول نے کی ہے مری بقا کے لیئے۔۔۔۔۔۔۔مشاعروں اور محافل مناقب و منقبت کے حوالےس مصرع طرح پر طبع آزمائی کرنا دراصل شاعر کا امتحان ہوتا ہے اور مصرع طرح پر گرہ لگانا ہی وہ معیار ہے جو شاعر کا معیار سخن گوئی بھی بہت حد تک طے کرتا ہے۔اس محفل کے ایک ایک شاعر نے بلاشبہ اس قافیے ردیف میں اشعار لکھ کر اپنی فنی پختگی کا ثبوت پیش کیا اور سامعین نے مسلسل ایک ہی قافیے ردیف میں اتنے طویل دورانیئے تک سن کر اور مسلسل داد دیکر اپنی سماعتوں کی خوبصورتی کا ثبوت دیامحفل مقاصدہ کے ہر ایک شاعر نے بلا تخصیص نہایت اعلیٰ۔معیاری اور محبت سیدہ سلام اللہ میں ڈوبا کلام پیش کیا لیکن نیویارک سے تشریف لائے معروف دانشور،شاعر،ادیب اور انگریزی ادب کے استاد مقصود جعفری، کینڈا سے تشریف لائے معروف شاعر،ادیب اور ناظم محفل اشفاق حسین، کویت سے تشریف لائے محمد علی وفا اور لندن سے آئے ہوئے اس محفل مقاصدہ کے آخری شاعر صفدر ھمدانی کے کلام پر سامعین کے نعرہ درود اور نعرہ حیدری سے ہال کے درو دیوار گونجتے رہے۔اس محفل مقاصدہ کی تفصیلی با تصویر رپورٹ بہت جلد پیش کی جائے گیجناب جعفر نقوی کے ہاں ہونے والی اس متبرک اور نہایت کامیاب محفل مقاصدہ میں مجموعی طور جن شعرا نے خاتون جنت کے حضور اشعار کے نذرانے پیش کیئے انمیں اشفاق حسین، محمد علی وفا اور صفدر ھمدانی کے علاوہ کینڈا سے آئے نوجوان شاعر کلیم ظفر،نیویارک سے تشریف لائے مقصود جعفری،غضنفر جعفری، اقبال داش، نواب حسن، مومن عابدی، باقر رضوی، ڈاکٹر منظور رضوی،اقبال دانش،قائد رضا،ہاشم رضا، اورعارف کاظمی شامل تھےمرثیہ نگار شاعر اہلبیت صفدر ھمدانی کے آخری شعرقبولیت کی گھڑی ہے یہ دعویٰ ٗ صفدرچلو کہ ہاتھ اٹھائیں ہم اب دعا کے لیئےکے بعد مولانا سخاوت حسین سندرالوی نے دعا کروائی جسکے اختتام پر شعرا اور سامعین کے لیئے نہایت پر تکلف عشایئے کا اہتمام کیا گیا تھا۔