چھ سال قبل 2002 میں کیا گیا ایمل کاسی کا آخری انٹرویو
بلوچستان کے ایک پشتون قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایمل کاسی کو سن ترانوے میں امریکی دارالحکومت واشنگٹن کے قریب خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے اہلکاروں پر فائرنگ، اور اس کے نتیجے میں دو کی ہلاکت، کا جرم ثابت ہونے پر فروری سن اٹھانوے میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔اور نومبر دوہزار دوزہر کا انجکشن لگاکر موت کی نیند سلا دیا گیا ہے۔
ورجینیا کے محکمۂ جیل کے ترجمان لیری ٹیلر نے بتایا کہاایمل کاسی جمعرات کے دن روزے سے تھے اور انہوں نے اپنے لئے آخری کھانے میں بھنے ہوئے چاول ، کیلے ، ابلے انڈوں اور روٹی کی درخواست کی تھی جو کہ پوری کر دی گئی۔
 |
| ایمل کو اس جیل میں زہریلہ ٹیکہ لگایا گیا۔ |
ایمل کاسی کو سن انیس سو ترانوے میں خفیہ ادارے سی آئی اے کے دو اہلکاروں کو ورجینیا میں ادارے کے صدر دفتر کے سامنے فائرنگ کرکے ہلاک کرنے کے جرم میں موت کی سزا سنائی گئی تھی اور سزائے موت پر عملدرآمد سے پانچ گھنٹے قبل سپریم کورٹ اور ریاست ورجنیا کے گورنر نے رحم کی آخری درخواستیں مسترد کر دی تھی۔
سی آئی اے کے اہلکاروں کے قتل کے بعد ایمل کاسی فرار ہو کر پاکستان آ گئے تھے جہاں وہ صوبۂ بلوچستان میں روپوش ہو گئے تھے۔لیکن ان کے بعض قریبی دوستوں کی مخبری پر چار برس بعد امریکی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے پاکستانی فوج کے کمانڈوز کی مدد سے انہیں ڈیرہ غازی خان کے ایک ہوٹل سے اغواء کرکے امریکہ پہنچا دیاتھا۔
سوال:آپ کا اصلی نام کیا ہے؟ |
| کاسی کی تدفین کوئٹہ میں ان کےآبائی قبرستان می |
جواب: میرا اصل نام جو میرے والد نے رکھا ہے ایمل خان کانسی ہے۔ غلطی سے سکول کے ریکارڈ میں اور شناختی کارڈ کے ریکارڈ میں میر ایمل خان کانسی آ گیا ہے۔ میر ہمارے علاقے میں بلوچ اپنے ناموں کے ساتھ لکھتے ہیں۔ میں پٹھان ہوں بلوچ نہیں ہوں اس لئے میر میرے نام کے ساتھ غلطی سے آ گیا ہے۔ میرا جو اصل نام ہے وہ ایمل خان کانسی ہے۔
سوال: آپ امریکہ کب آئے تھے؟جواب:میں انیس سو اکانوے میں آیا تھا۔
سوال:کس لئے؟جواب: میرا ایک دوست یہاں پر رہتا تھا۔ وہ یہاں کا مستقل رہائیشی تھا وہ یہاں ورجینیا میں رہتا تھا۔ میں یہاں آیا تھا ایک ملک دیکھنا تھا پھر میں کچھ اپنے پیسے ساتھ لایا تھا۔ میں نے کہا شاید کچھ بزنس کر لیں۔
سوال: لیکن کانسی صاحب عدالت کے ریکارڈ کے مطابق تو آپ اس وقت پناہ گزین کے سٹیٹس پہ تھے۔ جہاں تک میں سمجھتاہوں آپ ایک اچھے خاصے کھاتے پیتے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ رفیوجی کا سٹیٹس کہاں سے آیا؟
جواب: آپ کو پتا ہے کہ امریکہ میں اکثر ویزے کی مدت ختم ہو جاتی ہے تو ورک پرمٹ کے لئے پناہ گزین کی حیثیت سے ہی درخواست دی جا سکتی ہے۔ میں نے ریفیوجی کے سٹیٹس کو صرف اسی مقصد کے لئے اپنایا تھا اس کی کوئی اور وجہ نہیں تھی۔
سوال: آپ نے کبھی سی آئی اے کے لئے یا اس سے متعلق کوئی کام کیا؟
جواب:نہیں بھائی میں نے کبھی بھی سی آئی اے کے لئے کو ئی کام نہیں کیا ۔میں نے آئی ایس آئی کے لئے کبھی کوئی کام نہیں کیاہے۔ جس وقت افغانستان میں جنگ ہو رہی تھی میں کوئٹہ میں ایک کالج میں پڑھتاتھا۔ پھر میں سن انیس سو اٹھاسی تک یونیورسٹی میں رہا۔ میں نے کبھی بھی سی آئی اے کے لئے کام نہیں کیا۔
سوال:آپ کے اوپر الزام تھا عدالت میں کہ آپ نے سی آئی اے کے ہیڈکوارٹر کے باہر فائرنگ کر کے دو لوگوں کو ہلاک تین کو زخمی کیا۔ کیا آپ نے واقعی ایسا کیا؟جواب: جی ہاں میں نے ایسا کیا۔ میں نے اقرار کیا تھا اس بات کا اور اپنا اقبالی بیان ایف بی آئی والوں کو دی تھی۔
سوال: کیوں؟
جواب: میں نے سیاسی وجوہات کی بنا پر یہ حملہ کیا تھا۔ وجوہات میں نے انہیں بتائی تھیں۔ ان کی جو فارن پالیسی ہے اسی پر میں نے احتجاج کرنا تھا۔ جو مڈل ایسٹ میں ہے۔ خاص طور پر پرو اسرائیلی پالیسی جو سراسر مسلمانوں اور فلسطینیوں کے خلاف ہے اس پر احتجاجی حملہ میں نے کیا۔
سوال: کانسی صاحب آپ کو یقیناً معلوم تھا کہ کسی چیز پر احتجاج کرنے کا کوئی سیاسی طریقہ کیا ہو سکتا ہے۔ ایک گن خریدنا اور خرید کر اس کا استعمال کرنا لوگوں کو ہلاک کرنا۔ یہ بات میری بھی اور بہت سے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آئی کہ آپ نے آخر ایسا کیوں کیا؟جواب: میرے خیال میں آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ میں عام لوگوں کی نسبت زیادہ جذباتی ہوں۔ اور شاید میرا جو ان کی فارن پالیسی کے بارے میں غصہ تھا اس کا بھی اس میں دخل تھا۔ میں نے خود جو گن کا طریقہ ہے اس کو سیاسی احتجاج پر ترجیح دی۔
سوال: اس سے پہلے آپ نے کسی تشدد کی کارروائی میں اور اسلحے کے استعمال میں حصہ لیا؟جواب: نہیں میں نے مظاہروں میں شرکت کی ہے۔ اپنے کالج کے مظاہروں میں اور یونیورسٹی کے مظاہروں میں لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا ہے کہ میں نے اسلحہ استعمال کیا ہو اس طرح۔ میں نے مظاہروں میں ضرور شرکت کی ہے۔
سوال: کس حوالے سے ہوتے تھے یہ مظاہرے؟
جواب: ایک مظاہرہ تھا مارشل لاء کے خلاف اس میں میں نے شرکت کی تھی۔ وہ کوئٹہ شہر میں ہوا تھا۔اس پہ پولیس نے کافی شیلنگ وغیرہ کی تھی آنسو گیس پھینکی تھی۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی اور کالجوں میں جو مظاہرے ہوتے تھے ان میں میں برابر شرکت کرتا تھا۔
سوال: ایمل خان آپ نے پہلے شروع میں جرم کا اقرار کیا تھا لیکن مقدمہ کے شروع ہوتے ہی آب نے صحت جرم سے انکار کر دیا تھا۔ بعد میں اپیل میں آپ نے اسے ایک سیاسی جرم قرار دیتے ہوئے پھر اقرار کر لیا۔ ایسا کیوں ہوا؟
جواب: مجھے یہاں کے قانون وغیرہ کا نہیں پتا تھا کہ یہ سسٹم وغیرہ کیا ہے۔ اس لئے شروع میں میں نے ایف بی آئی کو اقرار نامے پہ دستخط وغیرہ کر کے دے دئیے تھے۔ بعد میں جب وکیل آئے تو انہوں نے کہا آپ کو اس طرح سے کرنا ہوگا۔ تو وکیلوں کے کہنے پر میں نے صحت جرم سے انکار کیا تھا۔
سوال:کانسی صاحب آپ پاکستان چلے گئے اور وہاں سے آپ افغانستان چلے گئے۔ افغانستان آپ کہاں رہے۔ کس کے ساتھ؟ |
| ایمل کاسی کی نماز جنازہ ایوب اسٹیڈیم میں |
جواب: وہاں میرے کچھ دوست تھے۔ کیونکہ میں اکثر پناہ گزینوں کے کیمپوں میں بھی جاتا رہنا تھا انیس سو پچاسی چھیاسی میں۔ مجھے اسلحہ خریدنے کا بہت شوق ہے اس لئے میں بندوقیں دیکھنے کے ریفیوجی کیمپوں میں جاتا تھا جو کوئٹہ سے چالیس میل دور ہیں۔ اس دوران میرے کچھ دوست بن گئے۔ وہ قندھار کے پاس رہتے تھے۔ میں اپنے مفرور ہونے کے دور میں ان کے پاس چلا گیا۔ اس کے بعد ان کے کچھ اور جاننے والے لوگ تھے قندھار اور زابلقلات ایریامیں رہتے تھے ان کے پاس گیا۔ پھر کچھ عرصہ میں نے غزنی کے علاقے میں بھی گزارہ۔ میں زیادہ تر جنوبی افغانستان میں ہی رہا جہاں زیادہ تر پختون آبادی ہے۔ اس کے بعد طالبان نے کابل پر قبضہ کیا تو میں کابل چلا گیا۔ وہاں کچھ طالبان بھی میرے دوست بن گئے۔ ان کے ساتھ میں کچھ پولیس اسٹیشنوں میں رہا
سوال:کیا اس زمانے میں اسامہ بن لادن اور القاعدہ سے متعلق لوگوں سے بھی آپ کی ملاقات ہوئی؟جواب: میں نے ایک دفعہ اسامہ بن لادن سے ھاتھ ضرور ملایا تھا لیکن کوئی ملاقات یا باقاعدہ تعلق نہیں رہا۔
سوال:آپ ڈیرہ غازی خان میں تھے جب آپ کو حراست میں لیا گیا۔ آپ ڈیرہ غازی خان میں کیا کر رہے تھے؟
جواب:میرے کچھ ساتھی تھے انہوں نے کہا ڈیرہ غازی خان چلتے ہیں وہاں پہ ان کی کوئی بزنس کی ڈیل ہے۔ کوئی سامان وغیرہ خریدنا چاہتے ہیں افغانستان میں۔ ہمیں رقم دیں گے۔ آپ ہمارے ساتھ چلیں آپ کے ساتھ ہونے سے ہمیں فائدہ ہوگا کیونکہ آپ پڑھے لکھے ہیں اردو بھی جانتے ہیں۔ مجھے ان پہ بھروسہ میں ان سے ساتھ چل پڑا۔ وہاں جا کر آدھی رات کو چھاپہ پڑا اور مجھے گرفتار کر لیا گیا۔
سوال: یہ لوگ آپ کے یقیناً جاننے والے ہوں گے؟جواب: جی ہاں میرے قریبی جاننے والے لوگ تھے میرے اپنے پٹھان قبیلے کے لوگ تھے۔
سوال:کون لوگ ہیں یہ؟جواب:یہ لوگ ناصر قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں پٹھان ہیں۔ ان کی افغانستان میں بھی اچھی خاصی زمینیں وغیرہ ہیں۔ ان میں سے کچھ نے پاکستان کی قومیت کے بھی کاغذات بنائے ہوئے ہیں۔
سوال:کیا آپ کو پتا چلا کے بعد میں انہیں لوگوں نے امریکی حکومت کی جانب سے مقرر کیا جانے والا انعام بھی وصول کیا؟
جواب: جی ہاں ان کا بھی مجھے پتا چلا اور بعد میں اخبارات سے یہ بھی پتا چلا کہ ان پیسوں کا زیادہ بڑا حصہ کوئٹہ آیا تھا کمشبر کے پی اے کے اکاؤنٹ میں۔ یہ بات اس وقت کھلی جب کچھ عرصہ پہلے اس کو گرفتار کیا گیا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بلوچستان کی حکومت کے چند افسران کا بھی اس میں ہاتھ تھا اور انہوں نے بھی اس میں سے رقم لی تھی۔
سوال: تو اس سے پہلے لغاری خاندان کے بارے میں جو باتیں کہی جاتی رہی ہیں کیا وہ درست نہیں تھیں؟جواب: وہ بالکل غلط تھیں۔ میں نے پہلے بھی اس کی تردید کی تھی۔ یہ صدر لغاری کے سیاسی مخالفین ان کو بدنام کرنے کے لئے میری گرفتاری کا الزام صدر لغاری اور ان کے خاندان پر لگا رہے تھے۔
سوال: لیکن پاکستان کی حکومت کی سطع پر آپ کیا سمجھتے ہیں کہ انہیں یقیناً انہیں پتا رہا ہو گا؟جواب: جی ہاں کیونکہ لغاری نے کہا ہے کہ جن لوگوں نے مجھے گرفتار کرایا ہے وہ انہیں جانتے ہیں۔ یہ انہوں نے خود بیان دیا تھا۔
سوال: پاکستان بار کونسل کے رانا اعجاز احمد خان ( جو اس وقت پنجاب سے وزیر قانون ہیں) نے ایک دفعہ کہا تھا کہ وہ جیل میں اپ سے ملے آپ نے انہیں نام بتائے اور وہ بڑی اہم شخصیات ہیں حکومت کی۔
جواب: نہیں انہوں نے بالکل جھوٹا بیان دیا۔ وہ مجھ سے ملنے آئے تھے۔ انہوں نے پہلے میرے وکیل سے رابطہ کیا۔ پھر ان کے ساتھ فون پر بات ہوئی۔ انہوں نے مجھے کہا کہ وہ بار کونسل کی ہیومن رائٹس کمیٹی کے صدر ہیں اور میری خیریت معلوم کرنا چاہتے ہیں۔ جب میں ان کے ساتھ باتیں کر رہا تھا تو باتوں میں انہوں نے پوچھا کہ فاروق لغاری یا ان کے لڑکے جمال لغاری وغیرہ کا کوئی ہاتھ ہے آپ کی گرفتاری میں۔ میں ان ان کو صاف صاف بتایا کہ ان لوگوں کا کوئی ہاتھ نہیں ہے ۔ میرے کچھ اپنے ساتھی تھے انہوں نے مجھے گرفتار کرایا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے پاکستان جا کر جھوٹے بیانات دئیے اس حوالے سے کہ ایمل نے یہ کہا وہ کہا اور کوئٹہ جا کر بھی اس نے جھوٹے بیان دئیے کہ لغاری قبیلے کے فرد نے مجھے بلایا تھا وغیرہ وغیرہ۔ تو میں نے اس کی بھی تردید کر دی تھی۔ انہوں نے بالکل چھوٹ بولا تھا۔
سوال: ایمل کانسی آپ کو حراست میں لینے والے افراد امریکی اہلکار تھے یا پاکستانی؟جواب: ان میں تین یا چار افراد امریکی تھے جبکہ دس یا بارہ لوگ پاکستانی تھے۔ یہ کارروائی آدھی رات کے وقت کی گئی تھی۔
سوال: لیکن اخبارات میں کارروائی کرنے والے افراد کی تعداد چار یا پانچ بتائی گئی ہے؟
جواب: نہیں ان کی تعداد چار یا پانچ نہیں تھی کیونکہ کمرہ لوگوں سے بھر گیا تھا۔ جب مجھے باہر لایا گیا اور گاڑی میں سوار کیا گیا تو میرے ساتھ گاڑیوں میں سوار ہونے والوں میں بھی دس سے پندرہ افراد پاکستانی تھے جبکہ تین یا چار امریکی تھے جن میں ایف بی آئی کے ایجنٹ بھی تھے۔
سوال: کیا یہ لوگ سادہ لباس پہنے ہوئے تھے؟جواب: میری یادادشت کے مطابق وہ لوگ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے۔
سوال: یہاں لائے جانے سے قبل کیا آپ کو پاکستانی عدالت میں پیش کیا گیا تھا؟جواب: جی نہیں۔ مجھے پکڑنے کے بعد جس حوالات میں لے جایا گیا وہاں موجود ایک پاکستانی گارڈ نے بتایا کہ یہ امریکی سفارتخانے کی حوالات ہے۔ مجھے وہاں تین روز رکھنے کے بعد بذریعہ ہوائی جہاز یہاں لایا گیا۔ مجھے کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔
سوال: آپ نے اقبالِ جرم تو کر لیا لیکن کیا آپ عدالتی کارروائی سے مطمئن ہیں؟ |
| جیل کے اس کمرے میں مجرم کی رگوں میں زہر اتارا جاتا ہے۔ |
جواب: جی نہیں۔ اول تو پاکستانی آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مجھے وہاں اغوا کیا گیا۔ پھر میری گرفتاری کے بعد یہاں کے ذرائع ابلاغ نے میرے خلاف انتہائی شدید پروپیگنڈا شروع کر دیا اور مجھے پہلے ہی مجرم قرار دے دیا گیا۔مقدمہ کی کارروائی کے دوران جیوری کے حضرات اس پراپیگنڈا سے اس قدر متاثر ہو چکے تھے کہ انہوں نے مجھ پر لگائی گئی ہر دفعہ کے فیصلے میں سخت ترین سزا تجویز کی جن میں عمر قید، جرمانہ اور سزائے موت شامل ہیں۔ میرے خلاف انتہائی متعصبانہ رویہ اختیار کیا گیا۔میرے خلاف عدالتی کارروائی بھی اسی علاقے میں کی گئی جہاں حملے کا واقعہ پیش آیا تھا اور قانون کے تحت یہ اقدام بھی غلط تھا۔
سوال: آپ کے خیال میں حکومتِ پاکستان نے غیر ملکی اہلکاروں کو ایک پاکستانی شہری کو لے جانے کی اجازت کیوں دی؟جواب: میرے خیال میں اس کی وجہ ملک کی سیاسی صورتحال ہے۔ آپ تو جانتے ہیں کہ پاکستان کے حکمران آئین کی پرواہ نہیں کرتے اور غیر ملکی رہنماؤں کے دباؤ میں باآسانی آ جاتے ہی
سوال: ایمل کانسی آئندہ چھتیس گھنٹوں میں آپ کو سزائے موت دے دی جائے گی یا باقی زندگی آپ کو امریکی جیل میں گزارنا ہو گی۔ لیکن ان دونوں میں سے آپ کس سزا کو ترجیح دیں گے؟
جواب: ’ ظاہر ہے کہ میں عمر قید کو سزائے موت پر ترجیح دوں گا۔‘ زندگی خدا کی امانت ہے اور خدا کا حکم ہے کہ زندگی کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کرو۔ میں نے اپنا سارا معاملہ خدا پر چھوڑ دیا ہے کہ وہی کوئی بہتر صورت نکالے۔میرے سابق اور حالیہ وکلاء نے تجربے کی بنا پر مجھے یہ رائے دی ہے کہ امریکی عدالت سے کسی اچھی خبر کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔
سوال: آپ نے فقط سرکاری وکیل پر اکتفا کیوں کیا؟جواب: اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ میں سرکاری وکیل کی صلاحیت سے مطمئن تھا اور دوسرے یہ کہ میرے کیس کی نوعیت کچھ ایسی تھی کہ جس شروع سے ہی اپیل کے مسترد ہونے کے امکانات تھے۔آپ تو جانتے ہیں کہ یہاں وکلاء کی فیس بہت زیادہ ہے۔ تو ایسی صورت میں وکیل کو فیس دینے سے بہتر ہے کہ کسی غریب پاکستانی کی مدد کی جائے۔
سوال: اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ پچیس جنوری انیس سو تیرانوے کی صبح آپ کی زندگی میں دوبارہ آ جائے اور آپ سی آئی اے کے صدر دفتر کے باہر موجود ہوں تو اس صورت میں آپ کیا کریں گے؟جواب: میرے خیال میں مَیں وہی کروں گا جو میں نے پہلے کیا۔ میں ان کی (امریکی) حکومت کے لوگوں کو حملے کا نشانہ بناتا۔ میں نے جو کچھ بھی کیا مجھے اس پر قطعی طور پر کوئی شرمندگی نہیں ہے۔
سوال: آپ نے سی آئی اے کو ہی نشانہ کیوں بنایا؟
جواب: سی آئی اے ایک خاصا بڑا ادارہ ہے۔ ان پر حملہ کرنا میرے بس میں تھا۔ اور میں جو کچھ کر سکتا تھا میں نے وہی کیا۔
سوال: آپ کیا چاہتے ہیں کہ آپ کے اس دنیا سے جانے کے بعد لوگ آپ کو کن الفاظ میں یاد کریں؟
جواب: میرا خیال ہے کہ لوگ مجھے اچھے الفاظ میں ہی یاد کریں گے۔ لوگوں کی ہمدردیاں اب بھی میرے ساتھ ہیں۔ پاکستان میں بہت سے لوگوں نے مجھے خطوط ارسال کیے ہیں۔ آپ یقین کیجئے کہ گزشتہ کئی روز سے مجھے امریکیوں کے خطوط بھی موصول ہو رہے ہیں۔ یہ سب وہ لوگ ہیں جو امریکی پالیسیوں اور سزائے موت کے خلاف ہیں۔ البتہ پاکستان میں میری اچھی خاصی حمایت ہے۔
سوال: آپ کو اس کام سے کیا حاصل ہوا؟جواب: میرے خیال میں امریکہ کے خلاف جو احتجاج میں کرنا چاہتا تھا وہ میں نے کیا اور اپنا مقصد حاصل کر لیا۔
سوال: آپ کے خیال میں اس سے کچھ فرق پڑا یا کچھ بدلا؟جواب: جی نہیں، کچھ نہیں بدلا۔ لیکن جو احتجاجی بیان میں نے دینا تھا وہ دے دیا اور انہیں (امریکہ) بتا دیا کہ اگر ان کی پالیسیوں سے پاکستانی مسلمان متاثر ہوتے ہیں تو ان کے عوام کو بھی حملے کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اور یہ لوگ یہاں (امریکہ) میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ میں نے انہیں یہ پیغام دے دیا ہے۔
سوال: امریکہ میں مقیم پاکستانی یا مسلم برادری کا رویہ آپ کے ساتھ کیسا رہا؟ |
| جنازہ ایمل کے گھر لایا گیا۔ |
جواب: پاکستانی برادری میں صرف میاں محمد سعید نے میرے ساتھ تعاون کیا۔ وہ انیس سو ستانوے سے مسلسل میرے ساتھ تعاون کرتے آئے ہیں۔ میاں محمد سعید شمالی ورجنیاء میں قائم اسلامی مرکز کے سربراہ ہیں۔ان کے علاوہ پاکستانی برادری نے میرے ساتھ کوئی خاص تعاون نہیں کیا ہے۔
سوال: آپ کے خیال میں اس کی کیا وجہ ہے؟جواب: غالبآً وہ خوفزدہ ہیں کہ ان کے خلاف کوئی بڑی مصیبت نہ کھڑی ہو جائے۔ اس لئے مجھے نہ کوئی خط لکھتا ہے نہ کوئی ملنے آتا ہے۔
سوال: کیا آپ کو ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ آپ کی کارروائیوں کے باعث یہاں مقیم پاکستانیوں اور مسلمانوں کو اب اس خوف میں رہنا پڑے گا کہ کہیں حکومتی ایجنسیاں ان کے پیچھے نہ پڑ جائیں؟جواب: میری کارروائیوں کی بدولت یہاں مقیم پاکستانیوں اور مسلمانوں کے پیچھے کوئی ایجنسی نہیں پڑی ہے۔ اگر آج مسلمان اور پاکستانی پریشان ہیں تو اس کی وجہ گیارہ ستمبر کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر کیے گئے حملے ہیں۔
سوال: آپ انیس سو ستانوے سے مسلسل جیل میں ہیں۔ اس دوران آپ نے قلمی دوستی کے لیے ایک پیغام بھیجا تھا۔ کیا آپ کا کوئی دوست بنا؟جواب: جی ہاں۔ لوگ آئرلینڈ اور لندن سے خط ارسال کرتے ہیں۔ امریکہ میں بھی تین چار قلمی دوست ہیں جن میں کالج کی دو طالبات بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ دو امریکی مرد بھی خط لکھتے ہیں۔
سوال: کیا ان میں سے کسی کے ساتھ ملاقات ہوئی؟جواب: جی ہاں، ان میں ایک امریکی مرد اور ایک امریکی خاتون مستقل طور پر مجھ سے ملنے آتے رہے۔ ان کے نام میرے مہمانوں کی فہرست میں بھی ہیں۔ لیکن میرے بھائیوں کے آنے کےبعد ان غیر ملکی دوستوں سے میری آخری ملاقات جیل میں ستمبر یا اکتوبر کے مہینے میں ہوئی۔
سوال: ان تمام باتوں کے علاوہ آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں؟جواب: پاکستانی شہری ہونے کی حیثیت سے میں حکومت پاکستان کے حوالے سے بہت مایوس ہوں کیونکہ انہوں نے میرے کیس کو بین الاقوامی عدالت تک لے جانے میں میری کوئی مدد نہیں کی۔ اور مجھے ان کے اس ردِعمل پر انتہائی افسوس ہے۔
بشکریہ۔بی بی سی لندن