|
حکومتی ایما پر جنگ اور جیو کے دفتر کا گھیراؤ کیا جارہا ہے
26.05.2010, 01:16pm , بدھ (GMT+1)
عالمی اخبار پولیٹیکل سیل
حکومتی ایما پر جنگ اور جیو کے دفتر کا گھیراؤ کیا جارہا ہے صورت حال سے جنگ اور جیو کے صحافی دفترکے گھیراو پر ہراساں اورپریشان ہیں جبکہ دفتر کے گھیراو پر انتظامیہ اور پولیس بے بس ہو گئی ہے،سندھ کی نمائندہ ظاہر کرنے والی اس جماعت کے بارے میں سندھ ترقی پسند پارٹی کے رہنما قادر مگسی کا کہنا ہے کہ وہ خود نہیں جانتے کہ یہ کونسی جماعت ہے جو خود کوسندھ کی نمائندہ جماعت طاہر کر ہی ہے۔ تفصیلات کے مطابقسندھ نیشنل پارٹی نامی جماعت کے کارکنوں نے جنگ اور جیو کے دفتر کے سامنے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور دھرنا دیا۔ مظاہرین نے جیو کے دفتر میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور گارڈ اور پولیس اہلکار کو زخمی کر دیا۔سندھ نیشنل پارٹی کے کارکنوں نے شام پانچ بجے کے قریب مظاہرہ شروع کیا ۔
مظاہرین جنگ اور جیو کی عمارت میں زبردستی گھس آئے اور توڑ پھوڑ شروع کر دی،پولیس نے مظاہرین کو جب روکنے کی کوشش کی تو انہوں نے پولیس کے ایک اعلیٰ اہلکار کو تشدد کا نشانہ بنایا۔پولیس نے ردعمل کرتے ہوئے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور انسو گیس استعمال کی۔مگر مظاہرین منتشر ہونے کے بجائے دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔
ایس این پی کے رہنماوں اور کارکنوں سے جیو کے سینئر اسٹاف نے مذاکرات بھی کئے جس پر مظاہرین نے مطالبات پیش کئے کہ جنگ اور جیو نے سندھ کے خلاف اور سندھی ٹوپی کے متعلق جو باتیں کی ہیں اس پر معافی مانگے،جیو کے وہ اینکر پرسن جن کے لہجے میں سندھ دشمن پالیسی شامل ہے وہ جیو کا حصہ نہ رہیں۔
جیو پرامن احتجاج کی حمایت کرتا ہے تو اب انہیں کیوں روکا جارہاہے اوروہ پورے سندھ میں ہڑتال کی کال دے رہے ہیں،جیوہمیشہ فوری عمل کی بات کرتا ہے، کہتا ہے کہ حضرت عمر والا انصاف ہو تو ہم حضرت عمر والا انصاف چاہتے ہیں،جیو جب کہتا ہے کہ حضرت عمر والا انصاف ہے تو جیو آکر دلیل پیش کرے،یہاں پر ہی قاضی لگائے اور یہاں پر ہی عدالت لگائے۔
مفتی منیب الرحمن سمیت چوہدری نثار امد فیصل سبز واری بابر غوری احسن اقبال سینیٹر خورشید احمد او ر متعدد سیاسی و مذہبی رہنماوں نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے۔
|