|
علم رسول اور اُمّی کا تصور۔از: سید مصباح حسین جیلانی۔۔۔اشاعت مکرر
04.01.2015, 10:15am , اتوار (GMT+1)
سید مصباح حسین جیلانی
پیغمر اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات مقدسہ کے متعلق ہم مسلمان آج تک یہ طے نہیں کر پائے کہ آیا آپ ان پڑھ تھے، یا عالم۔ قرآن کریم کی آیہ مبارکہ میں انہیں جب اُمّی کہا گیا تو عموما اسکا مطلب یہی لیا جاتا ہے کہ آپ ان پڑھ تھے۔ اس سے پہلے کہ ہم اُمّی کی بحث میں پڑیں، ہمیں اک اصولی بحث کرنا ہے تا کہ تقدیم فکر و نظر ہو سکے۔
خالق کائنات نے انسان کو عقل اور حواس خمسہ دے کر کائنات کی طرف روانہ کیا تا کہ انسان عجائب قدرت کے ما بین خود کو بیگانہ و بے بس نہ محسوس کرے۔ حواس خمسہ عطا کئے کہ ضروری معلومات حاصل کرے تو ساتھ عقل اس لئے عطا کی تا کہ ان معلومات کی بنیاد پر فیصلے کر سکے اور حقائق شناس ہو سکے۔ یہی نہیں، بلکہ انسان کی خلقت سے قبل اسکی ہدایت کا سامان کیا، اور زمین پر بھیجنے سے پہلے اسے ضروری علم عطا کیا۔ جب خالق نے آدم علیہ السلام کی خلافت کا علان کیا تو فرشتوں نے یہی عرض کیا تھا کہ کیا تو اسکو زمیں میں خلافت سونپے گا جو فساد برپا کرے گا اور خون بہائے گا؟ تو خالق نے یہی فرمایا تھا کہ جو میں جانتا ہوں، وہ تم نہیں جانتے۔ پھر جب آدم علیہ السلام کی خلقت ہو چکی تو فرمایا کہ وَعَلَّمَ آدَمَ الاسْمَاء كُلَّھا ثُمَّ عَرَضَھمْ عَلَى الْمَلاَئِكَتِ فَقَالَ اَنبِئُونِي بِاسْمَاء ھـؤُلاء اِن كُنتُمْ صَادِقِينَ کہ آدم علیہ السلام کو (ان تمام کے) تمام اسماء سکھلا دئیے اور پھر انکو فرشتوں کے سامنے پیش کیا کہ اگر وہ دعوے میں سچے تھے تو کہا کہ وہ ان سب کے نام بتا دیں، تو فرشتوں نے کہا کہ قَالُواْ سُبْحَانَكَ لاَ عِلْمَ لَنَا الاَّ مَا عَلَّمْتَنَا اِنَّكَ انتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ کہ باری ء تعالیٰ تو پاک و منزہ ہے (ہمارے اس غلط دعوے سے)، اور ہمیں تو وہی کچھ معلوم ہے جو تونے بتایا، جبکہ تو ہر چیز کا مکمل علم بھی رکھتا ہے اور اسکی حکمت بھی جانتا ہے۔
گویا کہ خلاق دو عالم نے فرشتوں کے سامنے حجت قائم کی کہ میں نے آدم (ع) کو خلافت ارضی بلا سبب نہیں، بلکہ اسکے علم کی بنیاد پر عطا فرما رہا ہوں اور علم کو دلیل بنایا ہے فساد و خونریزی سے اجتناب کی۔
یہاں دل چسپ پہلو یہ ہے کہ خداوند متعال نے جہاں علم آدم (ع) کو دلیل بنایا ہے فرشتوں کے دعویٰ کے مقابلے میں، وہاں یہ بھی ثابت کیا ہے کہ اس نے آدم آدم علیہ السلام کو علم بغیر کسب عطا فرمایا، جو کہ وہبی علم تھا۔ یہ علم محض حواس خمسہ اور عقل انسانی کی کسوٹی کے نتائیج پر مبنی مبادی علم نہ تھا، بلکہ اسکی عظمت کا اقرار خود ملائکہ نے بھی کیا اور انکا جواب اس بات کی دلیل ہے کہ خود فرشتوں کو بھی وہبی علم عطا کیا گیا تھا، لیکن انکے پاس موجود علم، آدم علیہ السلام کے علم کی نسبت محدود تھا۔
اگر جناب آدم (ع) کا علم حواس خمسہ کے سبب ہوتا، تو وہ عمر و تجربے میں ملائکہ سے چھوٹے تھے، اور ایسے میں ملائکہ کا علم ان سے زیادہ ہونا بنتا تھا، جبکہ حقیقت اسکے بر عکس ہے اور یہ ایک اور دلیل ہے کہ آدم (ع) کا علم وہبی( لدنی) تھا، اور وہ کسی مدرسے و مکتب کے محتاج نہ تھے۔ پھر جب جناب مسیح کی ولادت با سعادت ہوئی تو یہودیوں کو ماں کی عصمت کی گواہی میں اپنے گہوارے سے کہا کہ اِنِّي عَبْدُ اللَّہ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا (مریم آیت ٣٠) کہ لوگو میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس نے مجھے کتاب دے کر، نبی بنا کر بھیجا ہے۔ جھولے سے کلام خود عجز عقل کے لئے کافی تھا، لیکن عیسیٰ علیہ السلام نے کتاب و نبوت کا اعلان کر کے بتایا کہ محض قوت گویائی ہی نہیں، خالق نے انہیں کتاب دے کر بھیجا ہے، جو علم کا ماخذ ہے، اور نبوت دے کر بھیجا ہے، جو وہ خبریں دے گی جن کو لوگ نہیں جانتے۔ جناب اسحاق (ع) کی ولادت کی خوشخبری جناب ابراھیم علیہ السلام کو یہ کہ کر دی گئی کہ لَا تَخَفْ وَبَشَّرُوہُ بِغُلَامٍ عَلِيمٍ (الذاریات آیت ٢٨)، کہ ہم نے انہیں ایک ایسے بیٹے کی خبر دی جو پیدائیشی عالم ہوگا۔ عربی انشاء کے مطابق عالم اس کو کہا جاتا ے جسکو علم ہو، لیکن علیم وہ ہوتی ہے جسکا علم اسکی ذات کا حصہ ہو، اور جو اپنی جبلت میں علم رکھتا ہو۔ گویا فرشتگان نے جناب ابراہیم (ع) کو خبر دی کہ اسحاق (ع) نہ صرف انکے یہاں ایک بیٹے کے طور پر آ رہے ہیں، بلکہ ایک نبیء برحق بن کر آ رہے ہیں اور وہ ارضی مدارس و مکاتب کے محتاج نہ ہونگے۔
پھر بنی اسرائیل کی طرف جب جالوت کو داؤد علیہ السلام نے قتل کیا تو کہا کہ فَھَزَمُوھُم بِااِذْنِ اللّہ وَقَتَلَ دَاوُدُ جَالُوتَ وَآتَاہ اللّہ الْمُلْكَ وَالْحِكْمَت وَعَلَّمَہ مِمَّا يَشَاء وَلَوْلاَ دَفْعُ اللّہ النَّاسَ بَعْضَم بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الاَرْضُ وَلَـكِنَّ اللّہ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِينَ (البقرہ ٢٥١)یعنی کہ ہم نے داؤد کو حکومت، حکمت اور جس چیز کا چاہا، علم عطا فرمایا۔ یہاں قابل توجہ بات یہ ہے کہ داؤد علیہ السلام کے بارے میں فرمایا کہ ان کو جس چیز کا چاہا علم عطا فرمایا، اس سے پتہ چلا کہ کہیں علم محدود پیمانے پر عطا ہوا تو کہیں بے کراں۔
اب تک کی گفتگو کی روشنی میں ہم یہ کہنے کے لائق ہو گئے ہیں کہ انبیاء کو خدواند متعال جو علم عطا فرماتا ہے، وہ وہبی ہوتا ہے اور اسکے لئے انہیں کسی دنیاوی مکتب میں زانوئے تلمذ طے نہیں کرنا پڑتے۔ اب اک ظاہری دلیل تو یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ جسے سید الانبیاء بنا کر بھیجے اور جسے افضل المرسلین قرار دے، جسکی نصرت اور جس پر ایمان لانا سب انبیاء پر فرض ہو، وہ تو ان پڑھ ہو، اور اسکے مفضول انبیاء علم لدنی سے آرستہ ہوں۔ ایسی صورت میں خود خالق کی عدالت پر حرف آتا ہے کہ وہ جاہل کو عالم کا سردار بنا دے، جبکہ وہ فرشتوں کے سامنے اپنی سنت سے ثابت کر چکا ہے کہ آدم علیہ السلام کو فضیلت انکے علم کے سبب سے ملی۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں فرمایا کہ حضور کے بارے میں فرمایا کہ ان کے لئے اللہ (ذمہ داری) کا وہی طریقہ ہے جو انبیاء ما سبق کے لئے تھا اور اسکو سنت اللہ کہا ہے۔مَّا كَانَ عَلَى النَّبِيِّ مِنْ حَرَجٍ فِيمَا فَرَضَ اللَّہ لَہ سُنَّت اللَّہ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلُ وَكَانَ اَمْرُ اللَّہ قَدَرًا مَّقْدُورًا (الاحزاب آیت ٣٨) ۔پھر مزید تین مقامات پر فرمایا کہ وَلَن تَجِدَ لِسُنّتاللَّہ تَبْدِيلًا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے طریقہ کار کو کبھی بھی بدلہ ہوا نہیں پاؤ گے۔ الفتح ٢٣، الفاطر ٥٣، الاحزاب ٦٢)۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کی سنت کسی طور تبدیل نہیں ہوتی تو پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر امت کیوں سوچتی ہے کہ انبیاء ما سبق کو تو خالق علم و معجزات دے کر بھیجے، اور اس سردار ِ انبیاء کو بغیر علم بھیج دے۔ بلکہ اہل عقل کے لئے قرآن ہی کہتا کہ لَقَدْ مَنَّ اللّہ عَلَى الْمُؤمِنِينَ اذْ بَعَثَ فِيھمْ رَسُولاً مِّنْ انفُسِھمْ يَتْلُو عَلَيْھِمْ آيَاتِہ وَيُزَكِّيھمْ وَيُعَلِّمُھمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَت وَان كَانُواْ مِن قَبْلُ لَفِي ضَلالٍ مُّبِينٍ (آل عمران آیت ٣) کہ مؤمنین پر اللہ کا احسان ہے کہ ان کے مابین ایک نبی مبعوث فرمایا جو ان پر آیات کی تلاوت فرماتا ہے، اور ان کے نفسوں کو پاک فرماتا ہے اور انہیں کتاب کی تعلیم و حکمت سکھاتا ہے، اور اس سے پہلے تو وہ سخت پریشان حال تھے۔ اسی عنوان کی آیت سورہ جمعہ میں بھی ہے جو کہ دعائے ابراہیمی کی استجابت کا نتیجہ ہے (البقرہ ١٢٩)۔
یہاں چلتے چلتے ایک نکتے کی بات بغیر کسی بحث کے عرض کرتا چلوں کہ کہ خالق جب امت سے بات کرتا ہے تو کہتا ہے کہ ہم نے تمہاری طرف ایک گواہ نبی ایسا ہی بھیجا جسطرح فرعون کی طرف موسیٰ (ع) کو نبی بنا کر بھیجا تھا، (انَّا ارْسَلْنَا الَيْكُمْ رَسُولًا شَاھدًا عَلَيْكُمْ كَمَا اَرْسَلْنَا الَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا۔۔۔المزل آیت ١٥)، جس میں امت کی مثال فرعون و بنی اسرائیل کی ہے، لیکن جب ان لوگوں کی بات کرتا ہے جو رسول کے ہم نفس ہیں (جو یقینا اسکے خاندان کے سوا کوئی نہیں، اور اس دنیا میں بھی ہم نفس کسی کے لئے بھی صرف اسکے ہم خون گھر والوں کے سوا کوئی نہیں ہوتا) تو سورہ آل عمران کی مندرجہ بالا آیات میں انہیں مؤمنین کہ کر بلاتا ہے اور ان کو اپنا احسان بھی یاد دلاتا ہے۔ تاہم جب سورہ جمعہ میں امت کی بات فرماتا ہے تو کہتا ہے کہ وہ ایسا ہے جس نے امیون کے مابین انہی میں سے ایک نبی بھیج دیا جو ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے ھوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْامِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْھمْ يَتْلُو عَلَيْھمْ آيَاتِہِ وَيُزَكِّيھمْ وَيُعَلِّمُھمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَتَ وَان كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ۔ (الجمعہ آیت ٢) ۔ یہاں خدائے پاک امیون کو رسول پاک کے ہم نفس قرار نہیں دیتا، اور فرماتا ہے کہ ہم نے امیون کے مابین ان میں سے ایک نبی بھیجا۔ اب اگر بالفرض امیون کا ترجمہ ان پڑھ بھی مان لیا جائے تو بھی قرآن نے تو یہی کہا کہ ہم نے ان پڑھوں کے درمیان ایک رسول بھیج دیا جو انہی کے معاشرے سے ہے۔ اس میں رسول کو بذات خود ان پڑھ ہونا تو ثابت ہی نہیں ہوتا۔ مزید برآں اگر یہ مان لیا جائے کہ رسول ان پڑھوں کے مابین رسول تھے، تو کیا نعوذ باللہ پڑھے لکھوں کے لئے حجت نہ تھا۔
قرآن ان پڑھوں کے لئے امی کی اصطلاح استعمال کرتا ہی نہیں ہے، بلکہ اس سے مرد شہر مکہ جسے ام القریٰ کہا گیا، اسکے باسی ہیں۔جیسا کہ سورہ شوریٰ میں ہے لتنذر امّ القری و من حولھا (شوری آیت ٤٢)، کہ اے رسول اہم نے آپ کو ام القریٰ اور سکے نواحات میں بسنے والوں کو ڈرانے کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ سورہ الاعراف کی آیت نقل کی جات ہے، جہاں فرمان ہے کہ اس نبی ء امی کی پیروی کرو، تا کہ تم ہدایت پاسکو۔ ملاحظہ ہو آیت
قُلْ يَا ايُّھَا النَّاسُ اِنِّي رَسُولُ اللّہ اِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِي لَہ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالارْضِ لا الَـہ اِلاَّ ھوَ يُحْيِـي وَيُمِيتُ فَآمِنُواْ بِاللّہ وَرَسُولِہ النَّبِيِّ الاُمِّيِّ الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللّہ وَكَلِمَاتِہ وَاتَّبِعُوہ لَعَلَّكُمْ تَھتَدُونَ (اعراف آیت ١٥٨)۔ اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ ایک یہودی نے آکر نبی ء پاک سے پوچھا کہ اگر آپ نبی ہیں تو کیا آپ اہل عجم کی طرف مبعوث ہیں یو اہل عرب کی طرف سے، تو بارگاہ خداوندی سے حکم آٰیا کہ حبیب ان سے کہیئے کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اس اللہ کی نبی ہوں جس کے ہاتھ میں زمین و آسمان کی حکومت ہے، اسکے سوا کوئی معبود ہے ہی نہیں، وہ ہی جلا بخشتا ہے تو وہی موت دیتا ہے، پس ایمان لے آؤ اللہ پر، اسکے رسول پر جو ہے تو مکہ معظمہ سے،( لیکن ہے کل خدائی کی طرف)، جو کہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور اسکی باتوں پر، پس اسکا اتباع کرو، تا کہ تم بھی ہدایت پا جاؤ۔ اسی معانی کی تصدیق امام حسن علیہ السلام نے بھی فرمائی ہے۔ یہاں امی اس یہودی کے جواب میں بتایا ہے جو آپ کو عرب و عجم کی تقسیم میں ڈال رہا تھا، تو کہا گیا کہ میرا رسول ہے تو عرب سے، لیکن ہے تمام ملت انسانی کی طرف مبعوث۔
ورنہ اگر امی سے مراد ان پڑھ ہوتا تو سب سے پہلا اعتراض عرب کے جہلاء خود اٹھاتے کہ آپ ہمیں ان پڑھ کہ رہے ہیں اور ساتھ ہمیں اپنے ساتھ چلنے کی دعوت بھی دیتے ہیں؟ اور خاص طور پر عرب کے پڑھے لکھے لوگ تو ضرور اس بات پر اعتراض کرتے کہ ایک ان پڑھ کی پیروی کیونکر کی جائے۔
اگر رسول کریم کی زندگی کو بھی دیکھیں تو اس میں کئی اک ایسے اثبات میں جس میں رسول کریم کا صاحب قلم و قرطاس ہونا مل جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مہر نبوت کا پنی انگشتری میں رکھنا اور اسکا استعمال گواہی ہے کہ آپ کو معلوم تھا کہ آپ کی مہر کیا کہتی ہے، ورنہ دشمن عرب ضرور اس بات کا مزاق اڑاتے کہ جو جانتا نہیں کیا لکھا ہے اسکو کیا خبر کہ مہر کہاں اور کیوں ثبت کر رہا ہے۔ پھر نواحات عرب و روم کی طرف آپکے مراسلے، اس بات کی گواہی ہیں کہ آپ مندرجات سے آگاہ تھے، ورنہ سب سے پہلا اعتراض پھر یہی اٹھتا کہ جو خود نہیں جانتا کہ کیا لکھوا بھیجا ہے، اسکی بات کیسے سنیں اور مانیں۔ ان سب پر بڑھ کر تصدیق حدیث ثقلین کرتی ہے، جس میں رسول اللہ (ص) نے فرمایا کہ قلم دوات لا دو تو تمہیں نوشتہ لکھ دوں تا کہ میرے بعد گمراہ نہ ہو جاؤ۔ گو کہ حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے قلم دوات دینے سے انکار کردیا، لیکن مولانا شبلی نعمانی نے الفاروق میں اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ رسول اللہ نے قلم دوات مانگا کہ اپنی وصیت لکھ دوں، اور حضرت عمر کے سوا کسی نے اعتراض نہ کیا۔ خود حضرت عمر نے بھی یہ نہیں کہا کہ یہ تو ان پڑھ ہیں، یہ بھلا کیا لکھیں گے۔ حدیث ثقلین کی اسناد کے طور پر درج ذیل حوالہ جات دیکھے جا سکتے ہیں؛
صحیح المسلم ج٧، ص ١٢٢، عقد الفرید ج٢، ص ٣٤٦، صواعق المحرقہ از ابن حجر مکی عسقلانی ص ٩٠، ترمذی شریف ج٢، صفحہ ٣٠٧، مسند امام حنبل ج٣، صفحہ ١٤ و ١٧، خصائص نسائی، ص ٣٠، طبقات ابن سعد ج٤، ص ٨ ۔
مندرجہ بالا بحث سے ہم یہ ثابت کرنے کے لائق ہو گئے ہیں کہ رسول کریم دیگر انبیاء کی طرح ارضی مکاتب و مدارس میں حصول علم کے لئے نہیں جاتے رہے، لیکن آپ علم و ادب کے ان تمام فضائل و کمالات سے متصف تھے، جو آ سرداری ء انبیاء کے لئے آپ کو تمام پیغمبران علیھم السلام سے ممتاز کرتے ہیں۔ امی سے مراد محض مکہ معظمہ کی نسبت ہے، نہ کہ اس مراد کچھ بھی اور ہے۔
در اصل جب بھی خداوند تعالیٰ کسی نبی کو مبعوث فرماتا ہے تو اہل زمانہ کی طرف ان تمام فضائل و کمالات سے متصف فرما کر بھیجتا ہے جو اس وقت کی ضرورت ہوں۔ چونکہ آپ نبیء آخر ہیں اور آپ کا پیغام اس آخری فرد تک جانا ہے جسکی سائینسی ترقی ہماری عقلوں کو دنگ کردے، اسی لئے منطقی طور پر آپ (ص) کسی بھی دنیادار فرد سے کہیں زیادہ صاحب علم و کمال ہیں۔ آپ کو ان پڑھ جاننا نا دانی اور خود کم علی ہے، اور اس بات کا اصرار از خود گناہ ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ خود تو قرآن میں آغاز ہی اقراء سے کر رہا ہے اور فرما رہا ہے کہ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (اقراء آیت ٤) کہ وہ عزت والا ہے جس نے قلم سے لکھنے کا علم دیا۔ اگر یہ علم انبیاء کے پاس نہیں اور محض کفار و مشرکین کا ورثہ تھا تو اس پر خدا تعالیٰ کو ناز کرنے کی چنداں ضرورت ہی نہ تھی۔ اگر نبیٰ کریم قلم سے لکھنا جانتے ہی نہ تھے، نہ کچھ پڑھ سکتے تھے تو ایسے رسول کو پہلی وہی اقراء سے کرنا مذاق نہیں تو کیا تھا؟
پس ہمیں ایمان رکھنا چاہیئے کہ نبی ء آخر تمام کمالات علمی سے متصف تھے اور آپ ان پڑھ نہیں تھے۔
|