لفظ پاکستان کے خالق کایوم پیدائش 16.11.2008, 03:10pm , اتوار (GMT+1)
صفدر ھمدانی ۔ لندن
پاکستان کی نئی نسل کو شاید یہ علم بھی نہ ہو کہ لفظ‘‘پاکستان‘‘ کا خالق کون تھا اور اس لفظ کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں۔ قصور اس نئی نسل کا نہیں بلکہ اس نسل کا ہے جس نے یہ معلومات اس نئی نسل کو منتقل کرنا تھیں۔ یہ پرانی نسل تو راہ گم کردہ ہو گئی اور پاکستان کے سیاستدان قائد اعظم کی وفات کے بعد سے بندر بانٹ میں لگے رہے اور زیادہ عرصہ فوج ملک پر حکمرانی کرتی رہی ایسے میں کوئی قابل ذکر شعوری یا لاشعوری کوشش نہیں کی گئی کہ سرکاری طور پر تاریخ قیام پاکستان مستند طریقے سے لکھوائی جاتی۔
یہی وجہ ہے کہ انیس سو سنتالیس میں آزادی کے بعد اب آج ایسے نے بنیاد تنازعے سر اٹھا رہے ہیں کہ پاکستان چودہ کو نہیں پندرہ اگست کو آزاد ہو اتھا یا لاہور ریڈیو سے آزادی کا اعلان کس نے کیا تھا۔ جو قومیں اپنی تاریخ کو محفوظ نہیں رکھتی وہ راہ گم کردہ قوم رہ جاتی ہے۔
اس سے کس کو انکار ہے؟
پاکستان کا خواب شاعر مشرق علامہ اقبال نے دیکھا
اس خواب کو تعبیر قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت نے دی۔
لاہور ریڈیو سے پاکستان کی آزادی کا اعلان تیرہ اور چودہ اگست انیس سو سنتالیس کی درمیانی رات مصطفیٰ علی ھمٰدانی نے کیا اور لفظ پاکستان کے خالق چوہدری رحمت علی تھے۔
سولہ نومبر اٹھارہ سو ستانوے کو ضلع ہوشیارپور میں پیدا ہونے والے چوہدری رحمت علی نے ابتدائی اتعلیم اسلامیہ مدرسہ لاہوراور ایچی سن کالج سے سے مکمل کی۔
1915میں اسلامیہ کالج میں بزم شبلی کی بنیاد رکھی کیونکہ وہ مولانا شبلی سےبہت متاثر تھےاور پھر اس کےپلیٹ فارم سے1915میں تقسیم ہند کا نظریہ پیش کیا۔ 1918میں بی اےکرنےکےبعد جناب محمد دین فوق کےاخبار کشمیر گزٹ میں
چوہدری رحمت علی علامہ اقبال کے ساتھ
اسسٹنٹ ایڈیٹر کی حیثیت سےاپنےکیئریر کا آغاز کیا۔ 1928میں ایچی سن کالج میں اتالیق مقرر ہوئے۔کچھ عرصہ بعد انگلستان تشریف لےگئےجہاں کیمبرج اور ڈبلن یونورسٹیوں سےقانون اور سیاست میں اعلیٰ ڈگریاں حاصل کیں۔ طویل عرصہ برطانیہ میں مسلمانان ہند کے علیحدہ آزاد وطن کے قیام کیلئے کوشاں رہے
اپنے مقصد سے لگن کے باعث اکثر لوگ آپ کو پمفلٹ بانٹنے والا بھی کہتے تھے کیونکہ آپ مسلمانوں کے مؤقف کی وضاحت کیلئے باقاعدگی کے ساتھ یہ مشق جاری رکھے ہوئے تھے۔
انیس سو تینتیس میں ایسے ہی ایک پمفلٹ Now or Never’’ ابھی نہیں تو کبھی نہیں‘‘ میں آپ نے پہلی مرتبہ مسلمانان ہند کی ارض پاک کیلئےلفظ ’’پاکستان‘‘ استعمال کیااور پھر قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں غیور مسلمانوں نے پاکستان کا مطلب کیا لا الہٰ اللہ کا نعرہ مستانہ بلند کرکے اپنی منزل پا کر دم لیا۔
تیس کے عشرے میں جوبھارتی مسلمان انگلستان میں زیرِ تعلیم تھے وہ اپنے قائدین کی ہر بات پر غور و عمل کرتے تھے ۔ ان میں محمد اسلم خٹک ۔ پیر احسن الدین ،چوہدری رحمت علی،خواجہ عبدالرحیم اور محمد جہانگیر خان معروف ہیں ۔ محمد جہانگیر خان اس اِنڈین کرکٹ ٹیم کے رُکن تھے جس نے 1932 عیسوی میں انگلستان کا دورہ کیا تھا اور تعلیم کی خاطر وہ وہیں رُک گئے تھے ۔
اِن لوگوں کی جد و جہد کے عینی شاہد میاں عبدالحق تھے جنہوں نے اس زمانہ میں انگلستان کا دورہ کیا تھا ۔ ان کے جون 1970 میں ‘‘ندائے ملت لاہور ‘‘میں شائع ہونےوالے ایک مضمون سے اقتباس ۔
“ 1932 کی ایک شام چوہدری رحمت علی ۔ پیر احسن الدین اور خواجہ عبدالرحیم دریائے ٹیمز کے کنارے سیر کر ہے تھے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے مستقبل کی بات چل نکلی ۔ خواجہ عبدالرحیم نے تجویز پیش کی کہ ایک علیحدہ اسلامی ریاست کا مطالبہ کیا جائے جس میں پنجاب سندھ سرحد بلوچستان اور کشمیر شامل ہوں اور اس کا نام پاکستان رکھا جائے ۔
وجہ تسمیہ یہ بتائی کہ پے پنجاب سے الف افغانیہ [صوبہ سرحد] سے کاف جموں کشمیر سے سین سندھ سے اور تان بلوچستان سے ۔
اس تجویز پر تبادلہ خیال ہوا اور طے پایا کہ یہ تجویز علامہ محمد اقبال جو ان دنوں لندن گئے ہوئے تھے کی خدمت میں پیش کی جائے ۔ اس سے چوہدری رحمت علی سمیت کیمبرج میں زیر تعلیم سب ہندوستانی مسلمانوں نے اِتفاق کیا تھا ۔ بعد میں کیمبرج کے ہندوسانی مسلمان طلباء نے اب یا کبھی نہیں کے عنوان سے ایک کتابچہ لکھا جس میں ہندوستان میں الگ مسلمان ملک کا مطالبہ پیش کیا گیا تھا اور اس کا نام پاکستان بھی تجویز کیا گیا تھا ۔ اس کتابچے کی تالیف چوہدری رحمت علی سے کروائی گئی ۔
اس کتابچے پر دستخط کرنے والوں میں محمد اسلم خٹک ۔ چوہدری رحمت علی ۔ عنائت اللہ خان اور محمد صادق مانگرول شامل ہیں ۔ خواجہ عبدالرحیم چونکہ ہندوستان کی انگریزی حکومت کے ملازم تھے اسلئے اپنی ہی تجویز پر انہوں نے دستخط نہ کئے ۔”
بعد میں چوہدری رحمت علی نے اپنے طور پر برصغیر میں آٹھ دس ریاستیں ان ناموں سے تجویز کیں ۔ صدیقستان ۔ فاروقستان ۔ عثمانستان ۔ سیفستان ۔ ناصرستان ۔ موپستان ۔ راجستھان ۔ بنگستان ۔
محمد اسلم خٹک نے 21 دسمبر 1987 کو ایوانِ وقت راولپنڈی میں بتایا تھا کہ آکسفورڈ میں خیبر یونین آف سٹوڈنٹس کے ایک اِجلاس میں انہوں نے صدارت کی تھی جس میں انہوں نے پاکستان کا نام تجویز کیا تھا اور یہ کہ اس اِجلاس میں چوہدری رحمت علی اور خواجہ عبدالرحیم بھی موجود تھے ۔
ڈاکٹر محمد جہانگیر خان ایم اے پی ایچ ڈی (کینٹ) بار ایٹ لاء ۔ ساکن ۔ 6 ۔ کنال بنک ۔ زمان پارک ۔ لاہور کے 25 اکتوبر 1983 کے تحریر کردہ حلف نامہ کے مطابق “محمد جہانگیر خان 1932 میں آل انڈیا کرکٹ ٹیم کے رکن کی حیثیت سے انگلستان گئے اور یونیورسٹی آف کیمبرج میں داخلہ لے کر وہیں رک گئے ۔ ان کی رہائش چوہدری رحمت علی کی رہائش گاہ سے صرف ایک سو گز کے فاصلہ پر تھی ۔ انہی دنوں لندن میں دوسری گول میز کانفرنس ہوئی جس میں مسلمانوں کی نمائندگی علامہ محمد اقبال نے کی ۔ لندن میں قیام کے دوران علامہ بیمار پڑ گئے ۔
چوہدری رحمت علی ۔ خواجہ عبدالرحیم اور محمد جہانگیر خان ان کی عیادت کے لئے لندن گئے ۔ وہاں چوہدری رحمت علی نے خواجہ عبدالرحیم کی طرف اشارہ کر کے علامہ اقبال سے کہا کہ پاکستان کا لفظ اس نے تخلیق کیا تھا اور اس کے اجزاء کی ترکیب بھی بتائی ۔
چوہدری رحمت علی نے علامہ سے استفسار کیا کہ کیا وہ بہتر نام تجویز کر سکتے ہیں ؟ علامہ نے کہا کہ اس کے اجزاء کی ترکیب ایک کاغذ پر لکھ کر سامنے دیوار پر لٹکا دیں میں کل آپ کو بتاؤں گا ۔ دوسرے دن پھر تینوں لندن علامہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو علامہ نے فرمایا کہ اس سے بہتر نام ان کے ذہن میں نہیں آیا اس لئے اسی کو رکھا جائے اور اس کے قائم ہونے کی دعا بھی کی” ۔
چنانچہ چوہدری رحمت علی کو نام تجویز کرنے والوں میں شامل تو کہا جا سکتا ہے لیکن ان کو نام کا خالق نہیں کہا جا سکتا ۔ چنانچہ نام کے خالق خواجہ عبدالرحیم ہی ثابت ہوتے ہیں ۔ ایک اور بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ جموں کشمیر کے بغیر نام کے لحاظ سے بھی پاکستان ابھی نامکمل ہے ۔
چوہدری رحمت علی تقسیم ہند میں مسلمانوں کیساتھ انتظامی نانصافیوں پر ہمیشہ افسردہ رہتے تھے۔
چوہدری رحمت علی مسلہ کشمیر پر مسلمانوں کا مؤقف عالمی برادری تک پہنچانے کیلیے اپنی ذاتی حیثیت میں بھی اقوام متحدہ میں آواز بلند کرتے رہے۔رحمت علی کا انتقال تین فروری انیس سو اکیاون کو برطانیہ میں ہوا اور وہ کیمبرج میں مدفون ہیں۔
اس مضمون کی تکمیل میں متعدد کتب،انٹرنیٹ اور انڈیا آفس لائبریری لندن سے استفادہ کیا گیا۔۔مضمون نگار
عالمی اخبار کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے
ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور
ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور
بے لاگ صحافت ہے۔ . رابطہ ٹیلی فون: لندن447796515479+ ، آسٹریلیا
61425201035+ ، ای میل:
رابطہ@عالمی
اخبار۔کوم۔ جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں