|
امدای قافلے پر اسرائیلی حملہ ۔ امریکہ اور عرب شرم کریں ۔از۔ نگہت نسیم
02.06.2010, 02:20am , بدھ (GMT+1)
نگہت نسیم سڈنی
اسرائیلی حکومت انسان دشمنی اور بے شرمی کے اس مقام پر پہنچ گئی ہے جہاں ان درندوں کو انسان کہنا بھی انسانیت کی توہین لگتی ہے۔
اسرائیل نے غزہ کے لیئےامداد لے جانے والے بحری بیڑے پر حملہ کر کے ایک بار پھر اپنی درندگی کا کھلا ثبوت بھی فراہم کیا ہے اور اس امر کی نشاندہی بھی کی ہے کہ جب تم اسے دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد امریکہ کی پشت پناہی حاصل ہے وہ ایسا کوئی بھی قدم اٹھانے سے دریغ نہیں کرے گا۔
جب سے یہ ہولناک واقعہ رونما ہوا ہے میں نے کتنی بار اس موضوع پر قلم اٹھانے کا سوچا لیکن ہر بار مجھے ایسے ایسے وسوسوں اور خدشات نے گھیرا کہ میں اییک لفظ بھی نہیں لکھ پائی۔ لیکن آخر کا میں نے ذہنی طور پر خود کو تیار کیا کہ نہیں مجھے اس موضوع پر ضرور لکھنا ہے کہ ایک قلم کار کی حیثیت سے یہ میرا پہلا فرض ہے کہ ایک جانب مظلوم کی حمایت کی جائے اور دوسری طرف ظالم اور اسکے ظلم کا پردہ چاک کیا جائے۔
اسرائیل کو دنیا کی واحد بڑی طاقت امریکہ کی جو غیر مشروط حمایت حاصل ہے تو اسی وجہ سے اسرائیل اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آ رہا اور تمام تر عالمی قوانین کو بالائے طاق رکھ کر وہ ایک سے زائد بار فلسطینیوں اور خاص طور پر غزہ کے مکینوں پر ظلم وستم کے پہاڑ گرا چکا ہے۔
اس بار غزہ کے لیئے امداد لے جانے والے بحری قافلے پر اسرائیل نے حملہ کر کے عالمی قوانین اور منشور امن کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے منشور کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔
اس حملے کی مختصر ترین خبر یہ ہے کہ ‘‘امدادی جہازوں میں فلسطینیوں کی حمایت میں تقریباً 700کارکن سوار تھے جب کہ اُن میں 10ہزار ٹن اشیائے ضرورت بھی تھیں۔ یہ جہاز اتوار کو غزہ کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ اُنھوں نے اسرائیلی بحریہ کی طرف سے فلسطینی علاقے کی طرف سمندر کے راستے سفر نہ کرنے کے متعدد انتباہ نظر انداز کیے اور اُن ہدایات پر بھی عمل نہ کیا کہ وہ اپنا سامان اسرائیلی بندرگاہ اشوڈ پر پہنچا دیں جہاں حکام اِس کا معائنہ کرنے کے بعد اِسے غزہ پہنچا دیں گے۔
چھ جہازوں پر مشتمل بیڑے کی قیادت ترک جہاز ‘ماوی مرمارا’ نے کی جو اسرائیل کے قریب بین الاقوامی سمندر میں تھا جب اسرائیل نے اِسے روکا اور ہیلی کاپٹر سے اِس پر چلے گئے‘‘۔
اسرائیل نے غزہ میں حماس کے اقتدار میں آنے کے بعد سے علاقے کی اقتصادی ناکہ بندی کر دی تھی۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ ہر ہفتے پندرہ ہزار ٹن امداد غزہ میں لے جانے کی اجازت دیتا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ وہاں کی ضرورت کا چوتھا حصہ بھی نہیں۔
اسرائیل نے غزہ کے لیے امداد لے جانے والی قبضہ کردہ چھ کشتیوں کو اپنی ایک بندر گاہ پر پہنچا دیا ہے۔ ان کشتیوں میں سوار ایک سابق امریکی سفیر سمیت کچھ لوگوں کو چھوڑ دیا گیا ہے جبکہ دیگر لوگ ابھی حراست میں ہیں۔ کشتیوں پر موجود سامان کے بارے میں ابھی کوئی اطلاع نہیں کہ اس کا کیا کیا جائے گا۔ اسرائیل کہہ چکا ہے کہ وہ ممنوعہ اشیاء نکال کر باقی سامان کو بری راستے سے غزہ پہنچا دے گا۔ترکی کے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ اسرائیل کو فوری طور پر معافی مانگنی چاہیے اور پکڑی گئی چھ کشتیوں کو چھوڑ کر حراست میں لیے گئے فلسطینی نواز امدادی کارکنوں کو رہا کر دینا چاہیے اور انہیں زرِ تلافی ادا کرنا چاہیے۔
اسی دوران یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل نمائندے امجد حسین سیال نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے معتمد سے ملاقات کی اور ان سے غزہ جانے والے امدادی جہاز پر سوار پاکستانی شہریوں کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ امجد حسین سیال نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے معتمد سے طلعت حسین، رضا محمد آغا اور ندیم احمد خان کی سلامتی ان کی بازیابی اور انہیں پاکستان بھیجنے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے معتمد نے یقین دلایا کہ اقوام متحدہ ان افراد کے حوالے سے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ اللہ کرے کہ یہ پاکستانی دیگر امن کے خواہاں افراد سمیت سلامتی سے واپس اپنے گھروں کو آ جائیں کہ یہ سب انسانیت کے ایک اہم مشن پر گھروں سے نکلے تھے۔
اب یہ صورت حال بدل رہی ہے اور اطلاعات ہیں کہ یورپی مہم برائے انسداد معاشی ناکہ بندی غزہ نے یورپی امدادی قافلے"آزادی" پر اسرائیلی حملے کے بعد نیا امدادی قافلہ غزہ لانے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔یہ قافلہ آئندہ چھ ہفتوں کے دوران غزہ کے لیے روانہ ہو گا، جس کے لیے مختلف یورپی تنظیموں سے رابطے شروع کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے ہر قسم کی جارحیت اور دہشت گردی کے خطرات کے باوجود انسانی حقوق کی تنظیموں نے پہلے سے بڑھ کر تعااون کا یقین دلایا ہے۔
پیر کے روز برطانیہ میں قائم مر کز برائے حق واپسی کے چیئرمین ماجد الزیر نے کہا کہ غزہ کی معاشی ناکہ بندی کا خاتمہ یورپی مہم اور دیگر عالمی انسانی حقو ق کی تنظیموں کا نصب العین ہے۔ انہوں نے کہا کہ امدادی قافلے پردہشت گردی کا ارتکاب کر کے اسرائیل دنیا کو فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی اور ان کی مدد سے نہیں روک سکتا۔الزیر نے کہا کہ یورپ میں غزہ کی معاشی ناکہ بندی کے خلاف سخت غم وغصے کی کیفیت پائی جاتی ہے جبکہ گذشتہ روز صہیونی فوج کے امدادی قافلے آزادی پرحملے نے اس غصے پر جلتی پر تیل کا کام دیا ہے، اب یورپ سمیت پوری دنیا سے امدادی قافلے غزہ کا رخ کریں گے۔
جی ہاں اب اسرائیل کی دہشت گردی کو لگام ڈالنے اور اسکی راہ روکنے کے لیئے اسی جذبے اور حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ امریکہ جو ساری دنیا میں دہشت گردی سے جنگ کا واویلا مچاتا ہے اس نے اسرائیل کو دہشت گردی کی کاروائیوں کے لیئے کھلی چھٹی دے رکھی ہے اور امریکہ کی حمایت پر اسرائیل مسلسل فلسطینیوں کے خلاف ایسے ظالمانہ اقدامات کرتا چلا آ رہا ہے۔
امریکہ جو دنیا بھر میں خود کو انسانی حقوق اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کا چمپین ظاہر کرتا ہے اسے شرم کرنی چاہیئے اور صدر اوباما کو نوبل امن انعام دینے والوں کو یہ انعام واپس لیکر دنیا کو یہ پیغام دینا چاہیئے کہ ایسے عالمی اعزازات بانٹے نہیں جاتے بلکہ کارکردگی کی بنیاد پر دیئے جاتے ہیں۔مگر ایسا شاید ہو گا نہیں کیونکہ یہ سچ ہے کہ ایسے انعامات بانٹے ہی جاتے ہیں۔
شرم تو اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے علاوہ عرب ممالک کے قائدین اور عرب لیگ کو بھی کرنی چاہیئے کہ یہ حملہ انکی ذات پر براہ راست حملہ ہے۔ لیکن امریکہ کے ٹکڑوں پر پلنے والے ان حاکموں اور امریکی پوڈل کا کردار کرنے ان رہنماؤں میں اگر کوئی شرم ہوتی تو آج یہ نوبت ہی کیوں آتی؟
اب اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے غزہ امدا د لے جانے والے بحری بیڑے پراسرائیل کے حملے کی فوری، غیر جانبدار اورشفاف تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔ پیر کو 15 رکنی سلامتی کونسل نے لبنان اور ترکی کی درخواست پر پیر کی شام ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا جو منگل کی صبح اختتام پذیر ہوا ۔سلامتی کونسل کے اجلاس میں ارکان نے تشدد کی شدید مذمت کی اور احتجاج کرنے والوں کی فوری اور غیرمشروط رہائی پر بھی زور دیا جن کا تعلق 32ملکوں سے ہے۔ترکی کے وزیرِ خارجہ احمد داؤد اوگلو نے اسرائیل پر نکتہ چینی کرتے ہوئے اسرائیلی دفاعی افواج کی کارروائی کو ڈکیتی اور قزاقی کے مترادف قرار دیا۔اُن کے الفاظ میں، یہ ایک ملک کی طرف سے کیا جانے والا قتل ہے۔ اِس کا کوئی جواز نہیں۔
ہم سب جانتے ہیں کہ اب اقوام متحدہ بھی اسلامی ممالک کی تنظیم کی طرح بے جان گھوڑا بن چکا ہے اور اسکی قراردادوں کی اہمیت کاغذ کے ایک ٹکڑے سے زیادہ نہیں ہے۔ اقوام متحدہ بھی کیا کرے کہ امریکہ کی طرف سے دی جانے والی بھیک میں انہیں بھی تو حصہ ملتا ہے اور انکا فلسفہ بھی یہی ہے کہ جسکا کھاؤ اسی کا گاؤ۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کہیں اندر کھاتے ایسے اسرائیلی اقدامات کہیں ایران پر حملے کی ریہرسل تو نہیں؟
|