
گزشتہ اتوار کو کنیڈا اردو ایسوی ایشن کی طرف سے محترمہ عالم آرا کی کتاب “ سبق آموز کہانیاں “ کی مقامی ریسٹورینٹ میں تقریب ِ اجراء منعقد ہوئی اس موقعہ پر شمس جیلانی نےجو اس پر مقالہ پڑھا وہ ہدیہ ناظرین ہے۔ (ادارہ)
سبق آموز کہانیاں ۔۔۔ازشمس جیلانی
آج میں جس کتاب پر بات کرنے جارہاہوں وہ محتر مہ عالم آرا کی تخلیق ہے ۔یہ نام دنیا کے لیئے نیا ہو سکتا ہے ۔مگر وینکور کے ادبی حلقوں کے لیئے نہیں ۔کیونکہ یہاں وہ ً ہفت روزہ مریکل ً میں عرصہ دو سال سے لکھ رہی ہیں۔جس میں اپنی کچھ ہلکی پھلکی کہانیا ں ،ادبی اور سماجی تقریبات کی رپورٹنگ شامل ہے ۔جبکہ ان کی در یافت کاسہرا مریکل کے اردو سیکشن کے مدیر جناب رفیق صاحب کے سر ہے کہ جن کی ہمت افزائی نے ایک اچھی لکھاری سے وینکور کے پڑھنے والوں کورو شناس کرایا اور اب ان کی بیس کہانیا ں یکجا کر کے کتاب کی شکل میں لے آئے جو کہ اب آپ کے ہاتھوں میں ہے ۔ لہذا سب سے پہلے قابل ِ ستا ئش ہیں ،جناب محمد رفیق صاحب جن کی مسلسل جدو جہد نے بہت سے لکھاریوں کو متعارف کرایا۔ بعد میں یہ ان پر منحصر رہا کہ وہ کن صلاحیتوں کے حامل تھے؟ اسی حساب سے انہوں نے اپنا اپنا مقام ادب میں پیدا کیا ۔ ان میں سے کچھ یہاں کی فضاؤں سے تیر کر ملک سے باہر بھی روشناس ہو ئے، جن میں ایک نام کرنل شفا عت صاحب کا بھی ہے جو اب ہند و پاک میں پہچانے جاتے ہیں۔ جن کی کتاب کی رونما ئی پچھلے دنوں اس خاکسار کے ہاتھوں انجام پائی تھی اور اس کے بارے میں میرا تبصرہ آپ سن اور پڑھ چکے ہیں۔اور کچھ یہیں تک رہ گئے؟

اب یہ کتاب آپ کے سامنے ہے۔ مجھے اس کی تعریف کرنے کی ضرورت اس لیئے نہیں ہے کہ اگر چاول اچھاہو تو خوشبو دور تک خود بہ خود پہونچ جاتی ہے یا زعفران اور مشک کو آپ اگر سات پردوں میں بھی چھپادیں، تو بھی ہر ایک پہچان لے گا کہ آس پاس کہیں زعفران یا مشک موجود ہے۔مجھے محترمہ عالم آرا سے صرف چند ملاقاتوں کا شرف حاصل ہے ،وہ بھی مختلف تقریبات میں ۔جاننے کی ابتدا یہاں سے ہوئی کہ انہوں نے مریکل میں لکھنا شروع کیا جس کے ساتھ میرا نام اس کی پہلی اشا عت سے لیکر تادم تحریر نتھی ہے۔
پھررفیق صاحب نے کہا کہ محترمہ عالم آرا اپنی ایک نظم مجھے دکھانا چاہتی ہیں۔ میں نے عرض کیا میں خود کو اساتذہ میں تو نہیں گنتا، نہ ایسی کوئی صلاحیت ہی پاتا ہوں، بہر حال بھیجدیجئے میں کوشش کرونگا کہ شاید کچھ کرسکوں اور ان کو پسند بھی آئے۔نظم میں نے دیکھی اس پر کچھ تجا ویز دیں۔ یہ میری خوش قسمتی تھی کہ وہ ان کو پسند آئیں اور انہوں نے قبول فر مالیں۔ لیکن میں یہ دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کی نظم کے مقابلہ میں نثر بہت اچھی ہے۔
کیونکہ تحریریں میں مسلسل اخبار میں دیکھتا رہا ہوں جو کہ اچھی تھیں اور ان کا اندازِ بیاں روز بروز نکھر رہا تھا۔ سب تو نہیں ،ممکن ہے کہ ان میں سے کچھ کہانیاں اخبار کی زینت بھی رہی ہوں اور میں نے ا نہیں نہ پڑھا ہو؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھ میں ہی نہیں بلکہ مجھ جیسے تمام لوگوں میں، جنہیں وقت کی قلت کی شکا یت رہتی ہے، ان سے یہ حرکت اکثرسرزد ہو جاتی ہے۔ جبکہ میرا تو عالم یہ ہے کہ ہر وقت گھڑی دیکھتا رہتا ہوں، جو کہ مجھے چلا تی ہے اوروں طرح میں اسے نہیں ٹلا تا۔ اکثر جب کوئی تقریر کر رہا ہو اور میں اگلی صفوں میں بیٹھا بار بار گھڑی دیکھ رہا ہو تا ہوں ،تو اسے غلط فہمی ہو جاتی ہے کہ اس کا شاید وقت ختم ہو گیا ؟ اور وہ اس کی نشاندہی کر تا ہوا اپنی تقریر لپیٹ کر چل دیتاہے۔
گزشتہ میٹنگ میں اسی حال میں اور اسی انجمن کے زیر ِ اہتمام ایک ورکشاپ کے بعد جس میں میری ذمہ داری یہ تھی کہ میں نئے لکھنے والے شاعروں کو بتا ؤں کہ شاعر کیسے بنا جا ئے ؟ میں نے اپنے تجربہ کی بنا پر جو کچھ میں نے اپنی پینسٹھ سالہ ادبی زندگی سے اخذ کیا تھا وہ بطور مشورہ پیش کر دیا۔ پھر سوال وجواب کا دورشروع ہوا ،جس میں، میں نے خود کو طالب علم بننا پسند کیااور ہر ایک کو دعوت دی کہ جس کو جو کچھ آتا ہے آجاؤ کہ میدان کھلا ہوا ہے؟ ہر ایک نے اپنے تجربے اور علم کے مطابق ہم سب کی رہنمائی کی۔ میری معلومات میں بھی یہ اضافہ ہوا کہ ً فلمی گا نے بھی قوائد کے تحت لکھے جاتے ہیں ً اسی تقریب کے اختتام پر چلتے ہو ئے جناب رفیق صاحب نے یہ کتاب پکڑادی کہ اگلی نشست میں اس کی رونما ئی ہونا ہے اور آپ کو کچھ کہنا ہے اور یہ بھی کہ یہ بہن عالم آرا کی خواہش ہے۔ اب میرے پاس کوئی راہ فرار نہ تھی سوائے اس کے کہ میں کچھ کہوں۔
جبکہ میں کچھ لوگوں کی طرح میں یہ کبھی نہیں کرتا کہ لکھا لکھا یاسہر اپہلے سے موجود ہے اور صرف دولہا اور دلہن اور ان کے اعِزّہ کے نام بدل کر لکھدیئے۔لہذا لکھنے کے لیئے اسے پڑھنا ضروری تھا! کیونکہ میرا عقیدہ یہ بھی ہے کہ اگرکوئی مسلمان ہے تواسلامی تعلمات کے مطابق اسے جھوٹ نہیں بولنا چاہیئے ؟
نتیجہ یہ کہ پوری کتاب مجھے پڑھنا پڑی! اور جیسے جیسے پڑھتا گیا میری خوشگوار حیرت میں اضافہ ہو تا چلاگیا کہ یہ گوہر ِ ادب ابھی تک پوشیدہ کیوں تھا۔؟اگر رفیق صاحب ہمت افزائی نہ کرتے تو اردوادب اس سے محروم رہتا۔
مجھے اس چادر میں لپٹی ہوئی عالم آرا پر حیرت ہورہی تھی جوکہ ایک منجھی ہوئی لکھاری، اپنی پہلی ہی تصنیف میں نظر آرہی تھی۔ جس کا اصل نام خورشید عالم آرا ہے لہذا اس کو اس سے بہت پہلے خورشید کی طرح چمکنا چا ہیئے تھا، مگر مجھے افسوس ہو رہا تھا کہ یہ خورشید ِادب ابھی تک بدلیوں میں کیوں چھپا ہواتھا۔
سب سے پہلے تو میں نے رفیق صاحب کو ان کی اس دریافت پر فون پر مبارکباد دی اس کے بعد ان سے نمبر لے کر میں نے عالم آرا کو فون کیا اور ان کو مبارکباد دی۔ دراصل آج کل ہر ایک اس کوشش میں لگا رہتا ہے کہ وہ شاعر بن جا ئے؟ مگر شاعری میں تو اسا تذہ نے اتنی گنجا ئش ہی نہیں چھوڑی ہے کہ کوئی اپنا قدان سے نکال سکے؟ ممکن ہے کہ لوگ اقبال،فیض اور جوش کی مثالیں دیں کہ یہ بھی ان کے بعد پیدا ہو ئے اور انہوں نے شاعری میں نام پیدا کیا؟اس کی وجہ میری نظر میں یہ ہے کہ انہوں نے بجا ئے کسی کا اتبا ع کرنے کے اپنا طرز خود اپنا یا اگر وہ ایسا نہ کرتے ؟اور ان کے اندر ایسی خداداد صلاحتیں نہ ہو تیں، تو وہ بھی میری طرح غیر معروف ہی رہتے؟
اسی لیئے میں ہمیشہ نئے لکھنے والوں کو یہ ہی مشورہ دیتا ہو ں کہ جس میدان میں لکھو یا کہو، محنت کر کے نئی بات کہو ورنہ یہ رواجی با تیں، یا کمپیوٹر سے کٹ اینڈ پیسٹ تمہیں مقبول اورنامور نہیں بنا سکتا۔ لوگ صرف نئی چیز پڑھنا پسند کرتے ہیں۔ پرانی نہیں اور غلطی سے وہ اٹھا بھی لیں تو تھوڑا سے پڑھ کر رکھدیتے ہیں۔یہ انسانی فطرت ہے۔سب سے اچھا مضمون مذہبی ہوتا ہے ،چونکہ عقیدتوں کی بات ہے، لہذا سب کو اچھا لگتا ہے۔ لیکن اس میں بھی رواجی تقر یر اور بار الفاظوں کی تکرار سامعین کو بے زار کر دیتی ہے اور آپ نے دیکھا ہو گا کہ اکثر لوگ تقریر کے دوران جوائیاں لے رہے ہوتے ہیں یا خراٹوں سے سورہے ہو تے ہیں۔
میں فخر کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ مجھے یہ بات علالم آرا کے یہاں نہیں ملی۔ ان کی بیس کی بیس کہانیاں ایسی ہیں جو ان کی حساس نظروں کا مشاہدہ ہیں اور سالوں درس و تدریس کے پیشے سے منسلک رہنے کا نتیجہ بھی، کیونکہ انہوں نے وہ یادیں اپنے ذہن میں کہیں چھپائی ہو ئی تھیں ،اب انہیں کو انہوں نے بہت ہی اچھے انداز میں کاغذ پر منتقل کر دیا ، تسلسل اوردلچسپی کا عالم یہ ہے کہ مجھ جیسا آدمی بھی اسے ختم کیئے بغیر نہیں رہ سکا۔ مجھے امید ہے کہ آپ بھی جب پڑھیں گے تو میری بات کی تا ئید کر یں گے۔پھر اس میں خوبی یہ ہے کہ اس میں پاکستان کی بھی کہا نیاں ہیں اور اور مغربی ملکوں کے لوگوں کی بھی ،جو دولت اور بچوں کی تعلیم کے پیچھے اپنی جان تج دیتے ہیں اس کے نتائج کیا نکلتے ہیں ؟یا میاں اور بیوی کے درمیان مستقل باہمی تکرار بچوں کی زندگی پرکس طرح کے اثرات مرتب کر تی ؟ یہ سب کچھ میں نہیں بتا ؤنگا آپ ان کی کتاب خرید کر پڑھئے تاکہ آپ کا اور آپ کی اولاد کا بھلا ہو اور اس نئی لکھاری کی ہمت افزائی بھی ۔ مجھے یقین ہے کہ ہر پڑھنے والا مجھ سے نہ صرف متفق ہوجا ئے گا۔بلکہ بہت سی مشکلا ت سے بھی بچ بھی جا ئے گا۔
پھر لطف یہ کہ محترمہ عالم آرا اس خانوادے تعلق رکھتی ہیں جس نے دنیا کو علم ودانش دی، لہذا اور کتابوں کی طرح اس کو تکیہ کے نیچے چھپانے کی ضرورت نہیں ،لہذا خود بھی پڑھئے اور وں کوبھی پڑھا یئے۔میں ایک بار پھرمصنفہ کو مبارکباد دونگا کہ ایک اچھی کتاب لکھی اور وینکور کانام روشن کیااور میری نظر میں بہت سوں کی زندگی میں ان کی یہ کتاب مٹھاس گھو لے گی۔ اور بہت سی زندگیا ں تباہ ہو نے سے بچ جا ئیں گی۔