|
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ ۔۔ از۔ خورشید عالم آرا
04.06.2010, 01:17am , جمہ (GMT+1)
خورشید عالم آرا۔وینکور
آج کل ہم پھر ایک ایسی اذیت سے گزر رہے ہیں ۔جو ہمارے مسلمان بھائی سہتے آرہے ہیں اور نہ معلوم ہم اس صلیب پر کب تک ٹنگے رہینگے ۔کل رات بات چیت کے دوران ایک جملہ بہت پسند آیا کہ پہلے ہم کہتے تھے قبلِ مسیح اور بعد از مسیح ،اب ہم کہتے ہیں قبل از نائن الیون اور بعد از نائن الیون ۔واقعئی یہ حقیقت ہے کہ ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ چونکا دینے کے لئے کافی ہے ۔عزرائیل نے جس طرح کچھ امدادی سامان لے جانے والے جہازوں پر حملہ کر کے اپنی نفرت کو انتہاءپر پہنچا دیا ہے ،اورانسانیت کا گلا گھونٹ دیا ہے ۔اس پر ہمارے مغربی میڈیا اور مغربی حکمرانوں کی خاموشی ان ہیومن رائٹس کے حق میں دھاڑنے والے لو گوں کی قلعئی کھو لنے کو نہ صرف کافی بلکہ بہت کافی ہے ۔کہ اگر امریکہ میں کوئی مرے تو تو انسانیت ختم ہو جاتی ہے ۔لندن میں کوئی نشانہ بنے تو ساری دنیا کو ہلا دیا جاتا ہے ۔کسی اور مغربی ملک میں کوئی ظلم ہو جائے تو پوری دنیا کو ہل جاتی ہے ۔انڈیا میں کچھ ہوتا ہے تو لگتا ہے قیامت آگئی ۔لیکن فلسطینی جس کے مرنے والے نہتے مرتے ہیں بھوکے مرتے ہیں ۔بیماری میں دوائیں نہ ہونے کی وجہ سے مرتے ہیں ،فلسطینی جوان ٹینکوں کا مقابلہ پتھروں سے کرتے ہوئے مرتے ہیں ۔جو ساری دنیا دیکھتی ہے لیکن شاباش ہمارے انسانیت دوستی کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کو کہ انہیں کچھ نہ نظر آتا ہے نہ سنائی دیتا ہے ۔
کچھ جہازوں پر امداد کا سامان لے جانے والے جہازوں پر حملہ ہو گیا اسرائیل نے کیا، لوگ مرے پکڑے گئے ۔لیکن ہماری ترقی یافتہ قوموں کے کان پر جوں تک نہ رینگی ۔ایسا لگا کہ ان کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈلا ہوا ہے کہ فلسطینیوں پر ہونے والے ظلموں کی ایک چیخ بھی ان تک نہیں پہنچتی ۔بھوکا روتا ہوا فلسطینی بچہ اُن کی انسانیت کو نہیں جگاتا ،وہ جوان اور معصوم بچے جو خود ان کا میڈیا دکھاتا ہے کہ گولیوں کے جواب میں اور ٹینکوں کے سامنے پتھروں سے لڑتے نظر آتے ہیں کیا ہماری انسانیت انہیں دیکھ کر شرمندہ نہیں ہوتی ۔کیوں اُس وقت اُن کی گردنیں شرم سے نہیں جھکتیں جب وہ ظالموں کے خلاف نہیں بولتے ۔کیسا ہے یہ ہمارا بین الا قوامی لاءجو صرف کچھ لوگوں کے حق میں بولتا ہے ۔باقی سب اُس سے باہر ہیں
ہم نے جب سے حوش سنبھالا ہے ہم فلسطین کی سسکیاں سنتے آئے ہیں اور عزرائیل کے قہقہے ۔کہ اسے ہر محاط اور ہر زیادتی پر مدد حاصل ہے استثناءحاصل ہے ۔مگر افسوس کوئی ایک انسانیت دوست اس پر آواز اُٹھاتا نظر نہیں آتا ۔ خطا ہماری بھی ہے کہ ہم سارے اسلامی مملک کبھی ایک نہ ہوئے ،کبھی ہم نے اپنوں کا دکھ نہ دیکھا بلکہ ہمیشہ گوری چمڑی کے آگے سرِ تسلیم خم کیا ۔اُن کے مفاد کو انجانے میں پورا کیا ہم نے ان کے بینک بھر دئے ہم نے ان کی تجارت بڑھا دی ہم نے انہیں ترقی کے تمام موقعے فراہم کئے ۔کتنے بڑے بڑے دولتمند مسلمان ہیں جن کے اکائونٹ ان کو سہارا دیتے ہیں ،اور اپنے ملکوں کی کمزوری کا باعث ہو رہے ہیں، ہم تو اپنے ملک کا پیسہ بھی کرپشن سے حاصل کر کے ان ہی کے بینکوں میں رکھ دیتے ہیں کہ لو استعمال کرو ۔کہ ہم جب تک خود اپنا دفاع نہیں کرینگے جب تک ہم خود اپنی بھلائی نہیں سوچینگے ۔اپنے بھائیوں کی مدد نہیں کر پائینگے ۔ کوئی ہماری مدد کو کیوں آئے گا؟
اب میں ان سے بات کرنا چا ہونگی جو کہ بے انتہا پیسہ مسلمان ملکوں پر خرچ کر رہے ہیں مگر بجا ئے انکی عزت اور وقار بڑھنے کہ روز بروز ان کے خلاف نفرت بڑھتی جا رہی ہے۔ کاش وہ سمجھیں کہ وجہ کیا ہے ؟ دراصل نا انصافیاں ہی نفرتوں کو جنم دیتی ہیں ۔ جب تک امریکہ اور یورپ میں انصاف عروج پر تھا ان کی عزت تھی احترام تھا مگر اب انکا زوال شروع ہو چکا ہے اور با عث ِ زوال یہ ہی نا انصافیاں ہیںجو القاعدہ بنارہی ہیں ،طالبان بنا رہی ہیں اورخودکُش بمبار بنا رہی ہیں ۔جبکہ مارنے اور مرنے کا حکم نہ اللہ دیتا ہے نہ کوئی نبی نہ کوئی قانون اور نہ کوئی الہامی کتاب ۔
یہ ہماری زیادتیاں اور نا جا ئز ظلم ہیں جو ان تمام باتوں کو جنم دیتی ہیں ، بہتر ہم سب اپنے گریبانوں میں جھانک لیں اس سے پہلے کہ یہ نفرتیں دنیا کو ہڑپ کر جائیں ۔ اگر اس وقت دھیان نہ دیا تو ممکن ہے دوسری عا لمگیر جنگ کی طرح تیسری عا لمگیر جنگ نہ پھوٹ پڑے یا د رکھیں کہ ابکے تباہی اس سے کہیں زیادہ ہو گی اور پہلے کی طرح طاقت کا توازن بھی بدل جا ئے گا؟
|