برطانیہ میں مقیم اردو ادب کا ایک بڑا نام، شاعر،ادیب، محقق اور نقاد سید عاشور کاظمی جنکی حالت چند روز سے تشویشناک تھی وہ اتوار چھ جون کو 78 برس کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے تھے اور انہیں پیر سات جون کو برمنگم میں ہینڈز ورتھ کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا

انااللہ وانا الیہ راجعون
سید عاشور کاظمی کا سوئم بدھ کو برمنگھم کی حسینیہ مسجد میں ہوا جس میں انکے اعزہ اور احباب نے شرکت کی۔ شرکا نے ایصال ثواب کے لیئے قرآن خوانی کی جس کے بعد مجلس عزا منعقد کی گئی
اس قدر فقدان تھا حرف وفا کا شہر میں
دوستوں کو دیکھ کر دشمن ہمیں اچھے لگے
اس سے قبل انکی نماز جنازہ پیر سات جون کو دوپہر دو بجے حسینیہ مسجد ہربرٹ روڈ سمال ہیتھ برمنگھم میں ادا کی گئی اور بعد ازاں انہیں ہینڈز ورتھ کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ نماز جنازہ اور تدفین میں انکے متعدد احباب،دوستوں اور مداحوں نے شرکت کی اور انکی مغفرت کی دعا کی۔

تدفین کے موقع پر قبر میں اتارتے ہوئے معروف سوز خوان سید آصف رضا نے اپنی پردرد آواز میں '' میدان میں کوئی جانے والا نہ رہا'' پڑھ کر فضا کو مزید سوگوار اور آنکھوں کو اشکبار کر دیا
سید عاشور کاظمی کی تدفین کے بعد حسینہ مسجد برمنگھم میں مجلس ترحیم ہوئی جسمیں تلاوت کلام پاک کے بعد سید عاشور کاظمی کے قریبی ساتھی اور دوست عالمی اخبار کے مدیر اعلیٰ،مرثیہ نگار صفدر ھمدانی نے سید عاشور کاظمی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ بنیادی طور پر مردہ پرست ہیں اور اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کوئی بڑا فنکار یا ادیب مرے اور ہم اسکی تعریف کریں۔ انہوں نے عاشور کاظمی کی ادبی،دینی اور سماجی خدمات کا تزکرہ کیا اور اپنے قلم قبیلے کی بے حسی کا شکوہ کیا
سید عاشور کاظمی کی تدفین میں ادیبوں اور شاعروں میں صفدر ھمدانی کےعلاوہ ڈاکٹرنوید حسن،سجاد حیدر،آدم چغتائی , قیصر زیدی اور اقبال نوید شامل تھے جبکہ اہل ادب کی ایک بڑی تعداد نے بے حسی کا مظاہرہ کیا
عالمی اخبار کے مدیر اعلیٰ صفدر ھمدانی، ادارتی عملے اور قلم کاروں کے علاوہ قارئین نے انکی وفات پر دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے اور خالق کون و مکاں سے دعا کی ہے کہ وہ

انہیں جوار سید الشہدا میں جگہ عنایت کرے۔
سوگواروں نے سید عاشور کاظمی کی بہن شبانہ کاظمی اور دیگر اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے
|
| عاشور کاظمی اور صفدر ھمدانی |
عاشور کاظمی اہم تصانیف میں'' ترقی پسند ادب 50 سالہ سفر، مرثیہ نظم کی اصناف میں، چھیڑ خوباں سے، سخن گسترانہ بات، بیسویں صدی کے اردو اخبارات اور رسائل مغربی دنیا میں، بیسویں صدی کے اردو نثر نگار مغربی دنیا میں، 1857 کے غداروں کے خط،فسانہ کہیں جسے اور صراط منزل'' شامل ہیں
متعدد کتابوں کے مصنف سید عاشور کاظمی کو چند برس سے مثانے کا کینسر تھا جسکا علاج برمنگھم میں جاری رہا تا ہم جنوری سے وہ مستقل ہسپتال میں تھے اور چند ہفتے پہلے ڈاکٹروں نے انکے تسلسل حیات کا جواب دے دیاتھا
مالک موت و حیات تو وہ خالق ہے جس نے انسان کو پیدا کیا اور وہی جانتا ہے کہ وہ کب اور کسےاپنی بارگاہ میں بلاتا ہے
 |
| صفدر ھمدانی،ماہ پارہ صفدر،عاشور کاظمی اور شبانہ کاظمی |
سید عاشور کاظمی نے ایک شاعر اور ادیب کے طور پر بہت بھرپور زندگی گزاری ہے اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں ۔
انکی تازہ ترین تصنیف تحقیقی کتاب ''اردو مرثیے کا سفر'' ہے جس مکمل کرنے میں انہیں کئی برس لگے۔
عالمی اخبار کے قارئین سے درخواست ہے کہ سید عاشور کاظمی کی مغفرت کے لیئے سورہ فاتحہ تلاوت فرمائیں۔