جرمنی( ارشاد ہاشمی ) منہاج القرآن فرینکفرٹ نے فرینکفرٹ میں بین المذاہب رابطہ کمیٹی جس کی سربراہ ڈاکٹر بر گٹا ساسن ہیں کے تعاون سے فرینکفرٹ کے سب سے بڑے چرچ جسے فرینکفرٹر ڈوم کہتے ہیں ، اس ڈوم کے بازو میں چوتھی منزل پر ایک شاندار کانفرنس اور میڈیا ہال ہے (جہاں مرحومہDr. Anna Merry Schmil کو نوبل ایوارڈ سے نوازا گیا تھا جن کی ساری زندگی پاکستان میں گزری اور انہوں نے وہاں اسلام اور صوفیاء کرام اور شاعر مشرق علامہ اقبال پر تحقیقی کام کیا اور بیت سی کتابیں لکھیں ۔ اسی بنا پر لاہور پنجاب یونیورسٹی نہر کے ایک کنارے والی روڈ کا نام انا میری شمل روڈ رکھا گیا ۔
اس خوبصورت ہال میں پاکستان سے ’’ اسلام اور امن ’’ کا پیغام پہنچانے یورپ کے دورے پر آئے ہوئے منہاج القرآن کے بانی شیخ الاسلام علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کے صاحبزادے علامہ حسن محی الدین کے خطاب کا انتظام کیا گیا ۔ سامعین میں چرج ، سیناگوگے اور جرمن سوسائیٹی کے مخلف طبقہ ء فکر کے نمائیندگان موجود تھے جن کی تعداد ایک سو کے قریب تھی علاوہ ازیں پندرہ ، بیس خاص طور پر مدعو پاکستانی بھی تشریف لائے تھے ۔ منہاج القرآن فرینکفرٹ کے صدر شبیر احمد کھاکھر اور ساتھیوں نے پاکستان سے آئے ہوئے مہمانوں کا پُر وقار اور پُر جوش استقبال کرتے ہوئے سامعین سے تعارف کرایا ۔ ہال کو بانی ِ تحریک کے بینرز اور تصویروں سے سجایا گیا تھا ۔
تقریب کا آغاز علامہ شوکت اعوان کی سریلی آواز میں تلاوت ِ قرآن پاک سے ہوا جس کا جرمن زبان میں ترجمہ محمد سمیر مرتضیٰ نے پیش کیا اسکے بعد حاضرین کو ادارہ منہاج القرآن پاکستان کے اغراض و مقاصد اور ہر شعبۂ زندگی میں اپنی کار کردگی کی ویڈوز دکھائی گئیں جس میں شعبۂ تعلیم ، امداد متاثرین زلزلہ ، سیلاب ، نادار اور غریبوں کے بچوں کی اجتمائی شادیاں ، انسانی حقوق کے تحت غیر ممالک میں مدد جیسے فلسطین وغیرہ اور یتیم بچوں کیلئے نیا پروجکٹ آغوش کی پیش رفت ۔
شبیر احمد کھوکھر نے بطور ِ صدر اپنے تمام جرمن اور تحریک کے معاونین کا شکریہ ادا کیا اور صاحبزادہ حسن محی الدین صاحب کو ’’ اسلام اور امن ’’ کے موضوع پر خطاب کی دعوت دی ۔ دور ِ حاضر کے نوجون مفکر اور عالم دین محترم صابزادہ حسن محی الدین نے اپنا خطاب انگریزی زبان میں فرمایا جس کا جرمن زبان میں بھی جہاں ضروری ہوا ترجمہ پیش کیا گیا ۔ اُنہوں نے اسلام ، ایمان اور احسان کی وضاحت اور مدلل تشریح فرمائی اور اسلام کو مکمل پیا ر ، محبت ، در گذر اور بھائی چارے کا مذہب قرار دیتے ہوئے ہر قسم کی دہشت گردی اور بنیاد پرستی کو سختی سے رد کیا ۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پیغمبر حضرت محمد صلعم نے مدینہ طیبہ میں جب اسلامی حکومت کی داغ بیل ڈالی تو انہوں صلعم نے تمام مذاہب کے سربرا ہوں کے ساتھ امن معاہدے کئے جس میں ہر شخص کے حقوق برابر تھے ، ہر شخص کو پوری مذہبی آزادی تھی اور ہر شخص کی جان و مال کی حفاظت کی گار نٹی تھی ۔ صاحبزادہ صاحب نے کہا کہ ہم جس نبی صلعم کے پیرو گار ہیں وہ صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ وہ سار ے انسانوں کیلئے رحمت ہیں اور ہمار ا قرآن جو بے شق اللہ کی مقدس کتاب ہے وہ ہمیں ظلم ، جبر ، قتل اور ا وروں کے حقوق کی پامالی سے روکتی ہے اور اس کے مطابق ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے اسی طرح ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کی جان بچانے کے مترادف ہے ۔ لہذا جو شخص دہشت گرد ہے اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے ہم دہشت گردی کو سختی سے رد کرتے ہیں
دنیا میں ہمارا ملک پاکستان سب سے زیادہ اس کی لپیٹ میںہے دُنیا کو چاہئے کہ وہ بھی ہمارا ساتھ دیں تاکہ ہم سب اس لعنت سے
چھٹکارا حاصل کر سکیں ۔ سامعین نے صاحبزادہ حسن محی الدین کا خطاب بڑے انہماک اور غور سے سُنا اور بعد میں بہت سے سوالات بھی کئے جن کے صاحبزادہ صاحب نے تسلی بخش جوابات دئے ۔ پاکستان سے یورپ کے دورے پر آئی ہوئی اس امن مشن ٹیم میں منہاج القرآن لاہور کے سینئر ناظم اعلیٰ محترم شیخ زاہد فیاض ، علامہ حسن میر قادری امیر منہاج القرآن یورپ حاجی گلزار احمد سرپرست یورپین کونسل فرانس محمد نعیم چوہدری سینئر نائب صدر منہاج القرآن یورپین کونسل فرانس شامل ہیں ۔
اس خوبصورت پروگرام کے بعد مہمانوں کی لذیز پاکستانی کھانوں سے تواضع کی گئی جسے بہت پسند کیا گیا ۔