17.10.2026, 07:51am , ہفتہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
شخصیات، انٹرویوز
 

روز مادر ۔از؛ آغا سید عبدالحسین بڈگامی ۔کشمیر
09.06.2010, 01:04am , بدھ (GMT+1)

آغا سید عبدالحسین بڈگامی
ایران میں اسلامی انقلاب کے قیام کے بعد عالم اسلام میں نئ روح پھونک گئ ہے ، کئ اسلامی آداب زندہ ہو گئے ہیں، اسلامی ثقافت کی تعریف روز بہ روز واضح ترہوتی جا رہی ہے ۔ جن میں 20 ربیع الثانی  کا جیسا دن ہے  جس دن ام ابیہا، کوثر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا ولادت ہوئی اور رسول خدا  حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ختیجۃ الکبری علیہا السلام کے قلوب منور ہوئے  اور نومولود کو آنحضرت ام ابیہا کہہ کر پکارتے تھے ۔ اس دن کو روز مادر و روز زن یعنی ماں اور خواتین کا دن کے عنوان سے موسوم کیا ہے۔

بیس ربیع الثانی کے دن اولاد اپنی ماں کے نسبت اپنےحترام و محبت کا اظہار کرتے ہیں اور شوہر اپنی شریک حیات کے نسبت  اپنے محبت و احترام کا اظہار کرتے ہیں ۔یعنی ایک  مسلمان کے گھر میں اسلامی گھر کی حقیقی تصویر سامنے لانے کی فرصت نصیب ہوتی ہے ۔ ماں کیلئے کمال کا نمونہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا اور الاد کیلئے نمونہ حضرات حسن ، حسین و زینب علیہم السلام اور شوہر کیلئے نمونہ حضرت علی ابن ابیطالب  ۔ یعنی اس گھر کو جس ذاویے سے دیکھیں اسلام ہی اسلام ، قرآن ہی قرآن نظر آئے گا ۔ اس مناسبت سے آج میں چند ایک نکات سامنے رکھنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں تاکہ اس دن کی مناسبت سے حسب استطاعت کچھ نہ کچھ حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔

امام حسن علیہ السلا م رویت کرتے ہیں کہ : ایک جمعرات کو میں نے والدہ محترمہ کو محراب عبادت میں میں رات بھر رکوع و سجود میں گذارتے دیکھا یہاں تک کہ صبح ہوئی ، میں والدہ کو ہر مومن خواتین و حضرات کو نام لے لے کر دعا کرتے سنا  ، اور خدای سبحان سے انکے لئے زیادہ  دعای خیر کرتی رہی لیکن اپنے لئے یا ہمارے لئے کوئی دعا نہ کی ۔ میں عرض کی : والدہ ! آپ جس طرح دوسروں کیلئے دعا کرتی ہیں اپنے لئے کیوں نہیں کرتی؟ فرمایا : بیٹے پہلے ہمسایہ پھر اہل خانہ ۔[1]

آج کے دن کی مناسبت سے ماؤں کو کم سے کم اس بات سے پیغام حاصل کرنا چاہئے کہ ماں کی فکر و عمل کیسی ہونی چاہئے اور ماں کی ہر ادا اولاد کیلئے رہنما بننی چاہئے  تاکہ اپنی صحیح و سالم زندگی گزارنے کے ساتھ ساتھ اسکے اولاد کیلئے اسکا دین دنیا اور آخرت سنورنے کا طریقہ معلوم پڑنا  چاہئے ۔ماں کی تربیت میں اثر ہے اور ماں کو اس اثر کی اہمیت کو سمجھنا چاہئے ۔

حضرت علی علیہ السلام روایات کرتے ہیں کہ ہم چند اصحاب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے تھے ، آنحضرت نے فرمایا : خواتین کی بہترین خاصیت کیا ہے ؟ ہم میں سے کوئی اسکا جواب نہ دے سکایہاں تک سب ایکدوسرے سے الگ ہوگئے ۔ میں فاطمہ علیہاالسلام کے پاس گیا اور جو سوال آنحضرت نے کیا تھا  ، اسے بیان کرکے کہا کہ ہم میں کسی ایک کو بھی اسکا جواب معلوم نہ تھا ۔ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے فرمایا : لیکن میرے پاس اس سوال کا جواب ہے ،وہ یہ کہ  خواتین کی بہترین خاصیت یہ ہے کہ نہ وہ مرد کہ دیکھے نہ اسے مرد دیکھے ۔ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !آپ نے جو سوال کیا تھا کہ خواتین کی بہتریں خاصیت کیا ہے  وہ بہترین صفت یہ کہ وہ خواتین مردوں کو دیکھیں نہ مرد خواتین کو دیکھ لیں ۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تم میرے پاس تھے اسکا جواب معلوم نہیں تھا اب کس سے سیکھ کے آئے ؟ عرض کیا : فاطمہ (س) سے ۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : حقیقت میں فاطمہ (س) میرے جسم کا حصہ ہے ۔فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کافرمانا  خواتین مرد کو نہ دیکھیں اور مرد خواتین کو نہ دیکھیں ، یعنی خواتین کو حجاب  کا بابند رہنا چاہئے  تاکہ نامحرم کی نا سالم نظر سے عفیف و  محفوظ رہے [2]

یہاں پر دونوں شریک حیات تھوڑی بہت دقت کریں ایک ظریف رہنمائی حاصل ہوتی ہے وہ یہ کہ عفت پاکدامنی اور حجاب کا بہترین اصول بیان کرنے کے ساتھ ساتھ دونوں کے درمیاں ایک انفرادی اور مثالی رشتہ ہونے کی بشارت ملتی  ہے ۔ حضرت علی علیہ السلام جیسے حجت خدا کمال مسرت اور افتخار کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ انکی شریک حیات انکی استاد ہیں ۔ انہیں جو معلوم نہ تھا انکی شریک حیات نے انہیں سکھایا ہے اور یہ نہ شرم کی بات نہ ہی کوئی عیب ۔

ایک دن صبح کے وقت امام علی علیہ السلام نے فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے کہا : گھر میں کھانے کے لئے کچھ ہے ؟ فاطمہ علیہا السلام نے کہا : قسم خدا کی کہ جس نے میرے بابا کو نبی اور تجھے اسکا وصی بنایا ہے گھر میں ایسی کوئی چیز نہیں کہ جسے میں تیار کرسکوں ، دو دن سے گھر میں جو کچھ تھوڑا سا تھا میں  نے آپ ، حسن اور حسین کو اپنے آپ پر مقدم رکھا کر آپکو کھلایا ہے ۔ امام علی علیہ السلام نے کہا : ای فاطمہ ! آپ نے کہا کیوں نہیں میں لے  آتا ؟۔ فاطمہ علیہا السلام نے کہا کہ: اے ابوالحسن ! میں خدا سے شرم کرتی ہوں کہ تجھ سے وہ چیز مانگو ں جس سے تم سختی میں بڑ جاؤ۔ (کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ امام علی اس وقت  کچھ خریدنے کی حالت میں نہ تھے)۔[3]

اگر حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی طرز  زندگی کے کسی ایک ہی نسخے پر عمل کی جائے شاید ہی کسی گھر میں میاں بیوی کے درمیان کسی پیچدہ مشکل سے دوچار ہونے کا مسئلہ پیدا ہو جائے ۔ اس اعتبار سے 20 ربیع الثانی ، کا دن ماں  اور بیوی کے نام پر منانا ، گھر کو نورانی بنانے کیلئے ایک نہایت ہی مناسب فرصت ہے جس دن ماں اور بیوی کی قدردانی اور اس کی اہمیت اور منزلت کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پیش کرکے اظہار کیا جائے ۔

بیس ربیع الثانی کو فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر کو دیکھ کر سمجھ کر منانے کی کوشش ہونے چاہئے ۔ جس گھر کا ماں اسلام کیلئے قربان ہوئی ، جس گھر کابیٹا اسلام کیلئے قربان ہوا ، جس گھر کی بیٹی  اسلام کیلئے قربان ہوئی ، جس گھر کی بیوی اسلام کیلئے قربان ہوئی ، جس گھر کا شوہر اسلام کیلئے قربان ہوا ۔ جس گھر کا ذرہ ذرہ انسان کو اسلام کی عظمت اور مقام کا پتہ دیتا ہے کہ دین مبین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر زندہ رہنا اور مرنا انسان کا حد کمال ہے ۔ اسی لئے صبح قیامت تک حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اور  انکا گھرانہ ، اولاد ، اعوان و انصار  اسلام کی  تشہیر اور بقا  کیلئے ہر قسم کی قربانی دینے  کو اپنی آرزو بیان کرتے آئے ہیں ۔ ہم بھی دعا کرتے ہیں کہ پالنےوالے ہر مسلمان کو فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھرانے کے صدقے میں ہر مسلمان کو انحضرت کی طرح اسلام کو سمجھنے اس پر عمل کرنے  اور  زندہ رہنے اور مرنے کی توفیق عنایت فرما۔ آمین

اتوار، 17 جمادی الثانی، 1431

[1]كشف الغمه ، ج 2، 96 - علل الشرايع ، ج 1، باب 145.

[2]  بحار النوار، ج 43، ص 91.

[3] بحارالنوار، ج 43، 94.

:دیگر مضامین
(03.06.2010) صہیونی چیلنچ سے نمٹنے کے لئے فلسطینی جماعتوں میں اتحاد ضروری
(12.05.2010) برطانیہ میں اردو افسانہ نگاری کے قافلہ سالارقیصر تمکین
(22.04.2010) بنت علی حضرت زینب سلام اللہ علیہا ، ایک مثالی کردار
(09.04.2010) ام الاوصیا،شہربانو،سلام اللہ ۔ از ۔ پیر سید علی عباس شاہ
(04.03.2010) باعثِ خلق کائنات کے مدح سرا۔سید حسن عباس زیدی
(24.02.2010) عید زہرا سلام اللہ علیہہ ۔ ایام غم کا اختتام
(16.02.2010) اے فخر رسولاں خداکے بعد ترا ذکر ہی تو افضل ہے
(11.02.2010) آیت اللہ روح اللہ خمینی۔ایران کےانقلاب اسلامی کے سرخیل
(28.01.2010) عظیم مسلمان سائینسدان "" ابن الہیثم ""ایک عہد کا نام ہے
(20.01.2010) اٹھارہ جنوری ۲۰۱۰سعادت حسن منٹو کی پچپنویں برسی
(29.12.2009) واقعہ کربلا اور شہادت امام حسین ۔واقعات و پس منظر ۔۔۔پانچویں قسط
(24.12.2009) واقعہ کربلا اور شہادت امام حسین ۔واقعات و پس منظر ۔۔۔چوتھی قسط
(23.12.2009) واقعہ کربلا اور شہادت امام حسین ۔واقعات و پس منظر ۔۔۔تیسری قسط
(22.12.2009) واقعہ کربلا اور شہادت امام حسین ۔واقعات و پس منظر ۔۔۔دوسری قسط
(18.12.2009) واقعہ کربلا اور شہادت امام حسین ۔واقعات و پس منظر
(11.12.2009) عاشق علی میثم تمار کی شہادت نمونہ حق گوئی ہے
(07.11.2009) اداکاری کے بے تاج بادشاہ دلیپ کمار
(01.11.2009) عالمی اخبار کے لیئے جناب جلیل عباس جیلانی کا خصوصی انٹرویو
(25.09.2009) تاریخ اسلام کا ایک روشن ستارہ۔حضرت عمار بن ياسر
(19.09.2009) شاعر مشرق علامہ اقبال کے والد شیخ نور محمد



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
شمس جیلانی۔وینکور  »
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
  شمس جیلانی۔وینکور   
  مزید ++
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں