منزل بھی عاشور کٹھن تھی دوست جہاں تک آ نہ سکےمصلحتوں کی اس دنیا میں جانے کیا حالات ہوئے  |
| عاشور کاظمی اپنی بہن شبانہ کاظمی کے ساتھ |
مرحوم سید عاشور کاظمی سے اُن تمام احباب کا کوئی نہ کوئی رشتہ یا واسطہ رہا ہو گا جنہوں نے ان کی یاد میں قلم کو حرکت دی ہو گی پر بد نصیبی سے میرا اُن سے کبھی ایسا کوئی رابطہ یا واسطہ نہیں رہا مگر گزشتہ چند دنوں میں عاشور کاظمی مرحوم کے قریبی دوست اور ساتھی ( صفرر ہمدانی)کی وجہ سے جتنا بھی میں اُن کی ذات کو جان پائی یا اپنی حثیت کے مطابق سمجھ پائی اُن کے جانے کے بعد اُن سے اپنی یہ چند دنوں کی مُحبت و عقیدت کا اظہار اپنے لفظوں سے کرنا جاہتی ہوں ان سے مُحبت رکھنے والوں سے مرحوم کا ساتھ برسوں کا ہوگا مگر میں نے مرحوم سےعقیدت کا یہ سفر ان کے دُنیا سے رخصت ہونے کے بعد بس چند دنوں میں طے کیا ہے -
اس قدر فقدان تھا حرف وفا کا شہر میںدوستوں کو دیکھ کر دشمن ہمیں اچھے لگےکسی کو سمجھنے یا جاننے کے لیے کبھی تو صدیاں درکار ہوتی ہیں اور کبھی یہ صدیاں لمحوں میں ڈھل جاتی ہیں مرحوم عاشور کاظمی سے شناسائی کے اس بے حد مُختصر سفر میں بھی صدیاں لمحوں میں تبدیل ہو گئی ہیں جتنا میں نے گذشتہ چند دنوں میں مرحوم کو پڑھا اور سُنا اس سے ایک بات کا کامل احساس ہوا کے مرحوم رسول(ص) اور آلِ رسول(ع) کی مُحبت سے سرشار تھے خدا نے یہ دولت مرحوم کو کثرت سے عطا کی تھی -
تائب نہیں ہے جرم صداقت سے آج بھیعاشور تیرے در کا گدا یا علی مدد دُنیا فانی اس لیے ہے اس کی ہر چیز کو فنا ہے مگر پھر بھی اس فانی دُنیا میں کُچھ لافانییت بھی ہے اور وہ کبھی نا فنا ہونے والی چیز الفاظ ہیں ایسے الفاظ جو خدا کے محبوب(ص) اور ان کی آل کی شان میں ان کے عشق میں سما کر ادا کیے گئے ہوں ایسے تمام لفظوں کی حفاظت خُدا مثلِ قرآن کرتا ہے وہ سینہ با سینہ زبان با زبان ایک انسان سے دوسرےانسان کی طرف مُنتقل ہوتے رہتے ہیں انسان ختم ہوتے رہتے ہیں مگر اپنے پیاروں سے لفظوں کی صورت میں ادا کیے گئے ایسے تمام اظہار عقیدت کو اللہ کی ذات دوام عطا کر دیتی ہے -
گھر جل رہے ہیں پرچمِ اسلام کے تلےسر ہو رہے ہیں تن سے جدا یا علی مددایسے ہی کبھی نا فنا ہونے والے لفظوں کے خالق مرحوم جناب عاشور کاظمی آج بظاہر ہماری نظروں سے اُجھل ہو گئے ہیں مگر اُن کے الفاظ ہمیشہ اس جہاں میں آباد رہیں گے مرحوم علم کا ، فہم کا ، شعور کا اور آلِ رسول (ص) سے عشق کا ایک مُکلمل عہد ہیں ان کے الفاظ لکھے جاتے رہیں گے لوگ آتے جاتے رہیں گے ان لفظوں کوادا کرنے والی زبانیں تبدیل ہوتی رہیں گی مگر اپنے لفظوں کے ساتھ ساتھ ان لفظوں کا خالق ہمیشہ باقی رہے گا خاکی جسم کو تو مٹی ہونا ہی ہوتا ہے مگر مرحوم اپنی فانی ذات کو اس عشقِ رسول و آلِ رسول(ص) سے سے لافانی بنا گئے ہیں ایسی بقا جس کو کبھی فنا نہیں ایسا عروج جس کو زوال نہیں وہ ایسے سورج کی ماند ہو گئے جو کبھی غروب نہیں ہو گا ایسا روشن دن جس کی کوئی شام نہیں -
ترا جلال کہ شاہوں کو بھی اماں نہ ملےترا کرم، کہ فقیروں کو تاجور کر دے ہم جن کو سچے دل سے چاہتے ہیں وہ کبھی ہم سے دور نہیں ہوتے اک بس ذرا نظر جھکائی اور دل کے آئینے میں صورت عیاں ہو گئی
جو خُدا کو عزیز ہوں وہ تمام کانیات کو عزیز تر ہو جاتے ہیں کیا عجب نظارہ ہے کے آج میرے سامنے کی بات ہے کہ ایک عالم ہے جو اُن کے لیے غمگین ہے، لا تعداد ہاتھ ہیں جواُن کے لیے اُٹھے ہوئے ہیں ، بے شُمار زبانیں ہیں جو مرحوم کی مغفرت کی دُعا کر رہی ہیں
خُدا کا وعدہ ہے جو اُس کے محبوب سے عشق کرے گا وہ خدا کو بہت محبوب ہو جائے گا
مرحوم عاشور کاظمی کو دیکھتے ہوئے مُجھے پوری شدت سے احساس ہو رہا ہے کہ جو خدا کے پیاروں کا ذکر بُلند کرتا ہے خُدا اس کا ذکر بُلند کر دیتا ہے اور آج جب مرحوم ہمارے دلوں پر ہماری زباں پر ہیں تو دل یقین سے یہ کہہ رہا ہے کے خُدا بہترین جزائے خیر عطا کرنے والا ہے -
مرحوم سید عاشور کاظمی ایک روشن یاد بن کر ہمارے دلوں میں آباد رہیں گے ایک کبھی نا بُجھنے والے جراغ کی شکل میں روح کی گہرائی میں اُتر جانے والے احساس کی صورت ہمشہ سلامت رہیں گے ان کے الفاظوں سے مُحبت کی جو خوشبو آتی تھی وہ صدا ہمارے ذہنوں میں مہکتی رہے گی بلاشبہ مرحوم عشق کا، علم کا دریا تھے اور اب سمندر کا حصہ بن گئے
اپنے پیچھے اک جہاں کو جیسے ویراں چھوڑ کر جا چکے شہرِ خموشاں کو بسانے آپ بھیزندگی میں آپ نے خوشیاں فقط تقسیم کیںاب لگے ہیں اپنے پیاروں کو رُلانے آپ بھی“ثمرین“۔