معروف شاعر،ادیب،نقاد۔محقق،مولف اور مرثیے کے تاریخ نگار سید عاشور کاظمی 6 جون کو برمنگھم میں وفات پا گئے تھے اور 7 جون کو انہیں ہینڈز ورتھ کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔
عاشور کاظمی کے انتقال پر دنیائے بھر سے عشاق اردو اور عاشور کاظمی کے مداح،احباب اور دوست تعزیتی پیغامات انکی بہن شبانہ کاظمی کے علاوہ عالمی اخبار کو بھی ارسال کر رہے ہیں جن پر مشتمل ایک تفصیلی خبر جلد ہی شائع کی جائے گی۔
اسی دوران برطانیہ میں برمنگھم اور ہیوسٹن امریکہ کے دو نشریاتی اداروں نے سید عاشور کاظمی پر خصوصی تعزیتی پروگرام کیئے ہیں جن میں عاشور مرحوم کی شاعری اور انکی ہمہ جہت شخصیت پر نگاہ ڈالی گئی اور اردو ادب کے لیئے انکی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
امریکہ کے شہر ہیوسٹن میں ینگ ترنگ ریڈیو کے سلیم سید اور انکی اہلیہ زارا سید نے عاشور کاظمی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیئے اتوار 13 جون کوخصوصی ادبی ورکشاپ کا اہتمام کیا جو بنیادی طور پر تیس منٹ کی تھی لیکن بعد میں اس لائیو براہ راست پروگرام کے وقت میں اضافہ کر کے سلیم سید اور انکی اہلیہ نے اردو ادب سے اپنی دوستی اور عاشور کاظمی سے اپنی عقیدت کا ثبوت دیا

اس براہ راست پروگرام میں ہیوسٹن سے معروف شاعرہ اور مرثیہ نگار عشرت آفرین، بوسٹن سے منفرد لہجے کے شاعر جاوید زیدی اور لندن سے عاشور کاظمی کے قریبی دوست اور مرثیہ نگار صفدر ھمدانی نے شرکت کی۔
شرکائے پروگرام نے عاشور کاظمی کی شخصیت اور انکی شاعری،نثر نگاری اور تحقیقی کاموں پر گفتگو کی۔
عشرت آفرین نے مرثیے کے حوالے سے عاشور کاظمی کی لافانی تحقیق ۔۔اردو مرثیے کا سفر۔۔ کو موضوع گفتگو بناتے ہوئے کہاکہ عاشور مرحوم نے مرثیے کی تاریخ کے بارے میں جو یہ تحقیقی کام کیا ہے یہ دراصل جماعتوں اور اداروں کے کرنے کام تھا جو انہوں نے تن تنہا کیا اور اس اعلیٰ درجے کی تحقیق کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی
عاشور کاظمی کے مداح اور دوست سید جاوید زیدی نے بوسٹن سے پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے عاشور کاظمی کے ساتھ گزارے پوئے وقت کی یاد کو تازہ کیا اور ایک پرانے پروگرام کا اقتباس بھی سنوایا جو ینگ ترنگ سے نشر ہوا تھا اور جس میں عاشور کاظمی نے شرکت کی تھی
انہوں نے اس موقع پر سید عاشور کاظمی کو منظوم خراج عقیدت بھی پیش کیا
غم
عاشور
(اردو ادب کے ایک نادر قلمکار سید عاشور کاظمی کی
نذر )
اہل
قلم سوگ میں ہیں
اور غم عاشور ہے آج
نہ
زمانہ ہے نیا
پھر وہی
دستور ہے آج
آ گئے مرگ پہ دو
آنسو بہانے کے لئے
جیسے دنیا کو
دکھانے کے لئے
زندگی میں تو کوئی عہد وفا کر نہ سکے
اپنے فنکار کا ہم قرض ادا کر
نہ
سکے
تجھ سے انسان کا دنیا میں بھلا کر نہ سکے
آ گئے اپنے کلام
لکھنے ہم اخبار کے ساتھ
جیسے بیٹھا ہو کوئی طالب ٍدربار کے ساتھ
ہو
سکے میرے یہ آنسو ہی وہاں تک پہنچیں
میں جہاں آ نہ سکا ، دوست وہاں تک پہنچے
جاوید زیدی
لندن سے شاعر،ادیب،براڈکاسٹر،مرثیہ نگار اورعاشور کاظمی کے قریب دوست صفدر ھمدانی نے پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے اس عہد کی احسان فراموشی اور خاص طور پر ادیبوں شاعروں کے طبقے کی بے حسی پر گفتگو کی اور کہا کہ یہ انتہائی تکلیف دہ بات ہے کہ اتنے بڑے شاعر کے جنازے میں صرف 5 یا 6 ادیب شاعر موجود تھے اور ادب کے بڑے بڑے ناموں میں سے کسی نے تعزیتی فون کرنے کی زحمت بھی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ عاشور کاظمی کی عظمت کا اندازہ لگایا ہی نہیں گیا۔ انہوں نے آمریت اور جبر کے خلاف جو کچھ لکھا اسے اچھا نقاد میسر ہی نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوگ جنہیں عاشور کاظمی نے آگے بڑھایا اور جنکی کتابیں اپنے سرمائے سے شائع کیں انہوں نے یا انکے لواحقین نے ایک تعزیت بھی نہیں کی۔
اردو مرثیے کی تحقیق کے حوالے سے انہوں نے ''اردو مرثیہ کا سفر''' کو اب تک اردو مرثیے کی سب سے بڑی تحقیقی کتاب قرار دیا اور کہا کہ یہ پہلی تحقیق ہے جس میں مرثیہ نگار خواتین پر پورا طویل باب موجود ہے جسمیں عشرت آفرین کا نام بھی شامل ہے۔ انہوں نے اس امر پر دکھ کا اظہار کیا کہ ایسے نایاب اور نادر تحقیقی کتاب کی 50 کاپیاں بھی فروخت نہیں ہوئیں جو ایک ظلم ہے
صفدر ھمدانی نے سلیم سید،زارا سید،عشرت آفرین اور جاوید زیدی کو درخواست کی کہ وہ امریکہ میں عاشور کاظمی کے شایان شان ادبی ریفرنس منعقد کروائیں، انہوں نے اس تعزیتی پروگرام کو نشر کرنے پر سلیم سید اور انکی اہلیہ زارا سید کو مبارکباد دی اور شکریہ ادا کیا
ہفتہ 12 جون کو برمنگھم کے مقبول ریڈیو ایکس ایل نے سید عاشور کاظمی کی یاد میں 4 گھنٹے کا خصوصی پروگرام نشر کیا جسمیں عاشور کاظمی کی گائی ہوئی گلوکاروں کی غزلیں بھی سنوائی گئیں اور لندن سے شاعر وادیب اور مرثیہ نگار صفدر ھمدانی کے علاوہ،معروف شاعر فیضان عارف اور برمنگھم سے فاروق ساغر اور دیگر احباب نے شرکت کی ۔اس پروگرام کے میزبان جناب انور تھےاس تعزیتی پروگرام میں شامل احباب نے عاشور کاظمی کی ادبی خدمات اور انکی شخصیت پر روشنی ڈالی اور اس بات سے اتفاق کیاکہ عاشور کاظمی کی شاعری کے تفصیلی تجزیے کی ضرورت ہے
صفدر ھمدانی نے عاشور کاظمی کی تصانیف کی مکمل تفصیل بیان کی اور کہا کہ عاشور کاظمی کو انکے شایان شان خراج عقیدت پیش کرنے کے لیئے اہل برمنگھم کو ایک بڑے ریفرنس کے انعقاد کی ضرورت ہے۔
انہوں اپنی اور دیگر شاعروں اور ادیبوں کی جانب سے انکی بہن شبانہ کاظمی کو تعزیت پیش کی۔