|
کیا ہم کسی پانچویں پاس سے زیادہ سمجھ بوجھ کے حامل ہیں؟ زرقا مفتی
16.06.2010, 05:08am , بدھ (GMT+1)
زرقا مفتی
آج بہت عرصے بعد قلم اُٹھایا ہے کیونکہ آپ سب سے ایک نیا دکھ بانٹنا چاھتی تھی۔ یہ دکھ ذاتی نہیں ہے اجتماعی ہے ۔ سیاست یا حالاتِ حاظرہ سے دلچسپی رکھنے والے جانتے ہونگے کہ کچھ ارکان اسمبلی کو اپنی جعلی ڈگریوں کی وجہ سے نااہل قرار دے دیا گیا ہے ۔ ان کی خالی کردہ نشستوں پر ضمنی الیکشن کروائے جا رہے ہیں ۔ ہماری پڑھی لکھی اسمبلیاں انتخابات میں حصہ لینے کے لئے بی اے پاس ہونے کی شرط ختم کر چکی ہیں اس لئے ضمنی الیکشن میں کوئی پانچوین پاس بھی حصہ لے سکتا ہے۔ مجھے اس بات پر سخت افسوس اور رنج ہے کہ ایک رکن تعلیمی معیار پر پورا نہیں اُترتا تو اسے اپنی نشست خالی کرنی پڑتی ہے لیکن اس خالی نشست پر کوئی ایسا شخص منتخب ہو جاتا ہے جو نااہل ہونے والے رکن سے بھی کم تعلیم یافتہ ہے۔جو لوگ انتخابی عمل کو قریب سے دیکھ چکے ہیں وہ جانتے ہونگے کہ ہمارے ملک میں انتخابات میں حصہ لینا کوئی آسان کام نہیں۔ الیکشن میں کامیابی کے لئے ایک نوٹوں کی بوری ، برادری اور علاقے کے بدمعاشوں سے اچھے تعلقات کی ضرورت ہوتی ہے۔ شریف ،پڑھے لکھے اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے شہری کو انتخابات میں حصہ لینے کا خواب بھی نہیں دیکھنا چاہیئے۔
ملک میں جمہوریت کا دور ہے اور جمہوری دور میں انتخابات میں کامیابی کے لیئے امیدوار کو کسی بڑی سیاسی جماعت کے ٹکٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ ٹکٹ بھاری پارٹی فنڈ کے عوض باسانی میسر آجاتا ہے ہلکی جیب والے اعلیٰ کردار کے حامل ٹکٹ کے حصول میں ہمیشہ ناکام رہتے ہیں۔ اب یہ ہمارے راہنماؤں پر منحصر ہے کہ وہ کس کو پارٹی ٹکٹ کا اہل سمجھیں اور نواز دیں۔ اپنی اس نوازش کے بدلے وہ جو چاہیں طلب کر سکتے ہیں۔ آخر بادشاہ گر جو ٹھہرے۔ ٹکٹ کے حصول کے بعد ووٹوں کا حصول بھی آساں نہیں اگر آپ کی نوٹوں کی بوری ٹکٹ کے حصول کے بعد خالی ہو چکی ہے تو اسمبلی کی رکنیت کا خواب مت دیکھئے ۔ اگر نوٹ ابھی باقی ہیں تو ووٹ بھی مل جائیں گے۔ آپ سمجھ رہے ہونگے کہ میں کوئی فرضی کہانی بیان کر رہی ہوں مگر یہ ایک کڑوی حقیقت ہے کہ پنجاب کے دارالخلافہ لاہور سے پنجاب اسمبلی کے ایک رکن جعلی ڈگری کی وجہ سے اپنی رکنیت سے مستعفی ہوگئے ہیں۔ ان کی خالی کرد ہ نشست کو پُر کرنے کے واسطے چوبیس جون کو ضمنی انتخاب منعقد کروایا جا رہا ہے۔ یہ نشست ن لیگ کے رکن کی نااہلیت کی وجہ سے خالی ہوئی ہے۔ میثاقِ جمہوریت کا پاس رکھتے ہوئے پیپلز پارٹی نے اس نشست کے لئے کسی امیدوار کو نامزد نہیں کیا۔ انصف کی چیمپئین ن لیگ نے اس حلقے سے ایک ایسی شخصیت کو ٹکٹ دیا ہے جس کے سیاہ کارناموں پر حال ہی میں ایک نجی ٹی وی چینل کے حالاتِ حاضرہ کے پروگرام میں خوب روشنی ڈالی گئی۔ اس امیدوار کے بھائی قومی اسمبلی کے رکن ہیں ۔ پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ یوں تو صوبے میں تعلیم کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں مگران کے حسنِ انتخاب کی داد دیجئے کہ پنجاب اسمبلی کی رکنیت کے لیے کسی اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص کی بجائے انہوں نے ایک پانچویں پاس کا انتخاب کیا ہے جس کی شہرت بھی داغدار ہے۔
ہم حیران ہیں کہ کیا لاہور میں ن لیگ کو کوئی تعلیم یافتہ بے داغ شہرت کا حامل امیدوار میسر نہ تھا۔ میرے علم کے مطابق ہربڑی سیاسی جماعت کے پاس ہر ایک انتخابی حلقے کے لیے پانچ چھ اچھی یا بہتر شہرت کے حامل ارکان موجود ہوتے ہیں ۔ پھر ن لیگ کی ایسی کیا مجبوری تھی کہ ایک ہی گھر سے دو بھائیوں کو قومی اور صوبائی اسمبلی کی رکنیت کا اہل سمجھا گیا۔ ہو سکتا ہے کہ ضمنی انتخاب میں حصہ لینے والے ن لیگ کے امیدوار نے بھی کسی ڈگری کا انتظام کر رکھا ہو جو اسے پانچویں پاس سے زیادہ تعلیم یافتہ ظاہر کرتی ہو۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ ن لیگ کے تمام اراکین سے زیادہ قائدانہ صلاحیتوں کے مالک ہوں۔ اُن کے خاندان کی ایک خوبی سے ہم بخوبی وقف ہیں کہ مشرف دور میں وہ ن لیگ کے وفادار رہے تھے۔ اور واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ اس خاندان نے پارٹی فنڈ کی مد میں ایک بھاری رقم عطیہ کی ہے۔
ہمارے حلقے میں ضمنی الیکشن کے لئے پی پی پی نے ن لیگ کے مقابل کوئی امیدوار نامزد نہیں کیا ۔ اسی لئے ن لیگ کے امیدوار بگھی پر سوار ہو کر قریبی پارک میںخطاب کرنے آئے ۔ ان کی سواری دیکھ کر معلوم ہوا کہ وہ اپنے آپ کو اس علاقے کا بے تاج بادشاہ سمجھتے ہیں ۔اس طمطراق سے ووٹ مانگنے کے لئے آنے والے علاقے کی کیا خدمت کریں گے؟یوں معلوم ہوتا کہ وہ الیکشن کے نتائج سے آگاہ ہیں اور کیوں نہ ہوں ۔ ایک قیمتی ووٹ کی قیمت ایک ہزار روپے مقرر کی گئی ہے ۔ اور اُن کی بوری میں اتنے نوٹ موجود ہیں جو ان کی جیت کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں تحریکِ انصاف نے ایک تعلیمیافتہ امیدوار کو نامزد کیا ہے۔ اہلِ علاقہ نے ان کی انتخابی مہم کے لیے عمران خان سے ایک ملاقات کا اہتمام کیاتھا۔ عمران خان دیکھنے میں ایک سادہ اور پُر وقار شخصیت کے حامل نظر آئے ۔ اُن کے نامزد امیدوار کی گفتگو تو کچھ خاص متاثر کُن نہیں تھی۔مگر خان صاحب کی سیدھی اور سچی باتوں نے متاثر کیا۔ ہم مانتے ہیں کہ وہ کوئی فرشتہ نہیں ہیں لیکن اقتدار کے ایوانوں میں براجمان راہنماؤں سے کہیں بہتر ہیں۔ ان کی نجی زندگی سے متعلق کئی داستانیں مشہور ہیں لیکن کسی نے کبھی ان پر ایک پیسے کی بد عنوانی کا الزام نہیں لگایا۔کیا ہی اچھا ہو کہ ہم موروثی سیاست کے پروردہ راہنماؤں کو خیر باد کہہ کرکسی دیانتدارشخص کوموقع دیں۔ جسے یہ گمان نہ ہو کہ عوام بھیڑ بکریوں کاایک ریوڑ ہے جسے ایک پانچویں پاس بھی مطلوبہ سمت میں ہانک سکتا ہے۔ ن لیگ کے راہنما شاید ایسی قانون ساز اسمبلی تشکیل دینا چاہتے ہیں جس کے ارکان انفرادی سوچ سے محروم ہوں اور حکم ملنے پر کہیں بھی انگوٹھا لگانے میں تامل نہ کریں۔ پی پی پی اور ن لیگ کی مفاہمت کے لئے عوامی مفادات قربان کئے جارہے ہیں۔ یہ کیسی جمہوریت ہے جو نوے فیصد اعلیٰ تعلیم یافتہ شہریوں کے حلقے کی نمائندگی کا فرض ایک پانچویں پاس شخص کو سونپ رہی ہے ۔ کیا ہم نوے فیصد اپنی نمائندگی کے لئے کسی ایسے شخص کو منتخب نہیں کر سکتے جوذہنی استعداد میں ہم سے زیادہ نہ سہی ہمارے برابر ہی ہو۔
مگر ہماری اکثریت کا حال یہ ہے کہ کوئی آئے کوئی جائے ۔۔۔میں نہ دوں گا اپنی رائے
ہم تبدیلی چاہتے ہیں مگر ووٹ دینے کے لئے گھر سے نہیں نکلتے۔ کیاضروری ہے کہ کسی حلقے پر ایک جماعت کی اجارہ داری قائم رہے اور اس کے راہنما کسی کھمبے کو بھی امیدوار نامزد کردیں تو وہ انتخاب جیت جائے۔ کیا ہم سب ذہنی معذور ہیں اپنا برا بھلا نہیں جانتے؟ ہم ایسے راہنماؤں کو اختیار کیوں سونپتے ہیں جو دوہری شہریت کے حامل ہیں اور جن کے تمامتر اثاثے غیر ممالک میں محفوظ ہیں۔ جو ناموافق حالات میں اجنبی دیسوں میں جا بستے ہیں۔ وطن کو لوٹ کھسوٹ کر مال اکٹھا کرتے ہیں اور اسے بیرونِ ملک محفوظ کرتے ہیں۔ جن کی اولادیں وطن سے باہر رہنا پسند کرتی ہیں ۔ کیا ہمارے وطن میں قحط الرجال ہے ؟ یا ہم بھی اپنے راہنماؤں کی مانند بے بصر اور قوتَ فیصلہ سے محروم ہیں۔ ہم اپنے جمہوری اختیارات کے استعمال سے گریز کیوں کرتے ہیں ہم فیصلے کا اختیار رکھتے ہوئے بے بس کیوں ہیں؟ کیا ہم یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ ہم کسی پانچویں پاس سے زیادہ سمجھ بوجھ کے حامل ہیں؟
|