
ہم سب کے عالمی اخبار میں تیس جون دوہزار دس کو میونخ جرمنی میں مقیم ہم سب کے کرمفرما اور بقول خود انکے حق سچ کے پرستار منظور قاضی صاحب نے ایک بلاگ حق گو شاعر محسن بھوپالی کے بارے میں لکھا جس پر ایک تبصرے میں امریکہ سے برادرم ظفر جعفری نے محسن بھوپالی مرحوم کا یہ قطعہ لکھ کر میرے خفتہ سیل جیسے بیدار کر دیئے
جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائےاس حادثہ ء وقت کو کیا نام دیا جائےمیخانے کی توہین ہے رندوں کی ہتک ہےکم ظرف کے ہاتھوں میں اگرجام دیا جائےٰٰابھی اس قطعے کو اپنے اندر جذب کر ہی رہا تھا کہ جرمنی سے میرے ہمدم دیرینہ طاہر ملک کا فون آ گیا۔ برسوں سے یہ طاہر ملک ہی ہے جو مجھے فون خود کرتا رہتا ہے ورنہ اس تمام عرصے میں اسے میں نے کوئی تین چار بار ہی فون کیا ہو گا۔ طاہر ملک اس جہالت زدہ دور میں جب ادیب شاعر بھی مطالعہ نہ کرنے کو باعث فخر سمجھتے ہیں بلا کا صاحب مطالعہ انسان ہے۔ وہ کسی بھی آنے جانے والے سے صرف کتاب کی فرمائش کرتا ہے اور کتاب کو کمرے کی شیلف پر نہیں بلکہ طاق دل میں صفحہ کھول کر سجاتا ہے۔ وہ کتاب پڑھ کے مجھ جیسے دوستوں سے تبادلہ خیال بھی کرتا ہے۔
جرمنی میں مقیم طاہر ملک میرا 1972سے صرف دوست ہی نہیں میرا ہم نفس بھی ہے اور بہت حد تک صفدر شناس بھی۔ اس نے آگ پر چلنے والا اور سینکڑوں کے مجمع میں سچائی کی سولی چڑھنے والا ستر کے عشرے کا وہ نوجوان صفدر ھمدانی بھی دیکھا ہوا ہے جو حلقہ ارباب ذوق کے وائی ایم سی ہال کے اجلاس میں کھڑا ہو کر ایک شاعر کے منہہ پر کہہ دیتا تھا کہ یہ غزل تمہاری نہیں اقبال ساجد سے لکھوائی ہوئی ہے
ہائے یہ بیچارہ مرحوم اقبال ساجد کہاں سے یاد آ گیا۔ غربت کا مارا ہوا کمال کا شاعر جو ستر کے عشرے میں بیس روپے میں بھی غزل لکھ کر دیتا تھا اور پھر اپنے سامنے اس غزل کا قتل بھی دیکھا کرتا تھا۔ ایسے ایسے کمال کے شعر کہے اس اقبال ساجد نے کہ اگر آج ادب کی مفاد پرست اور مافیا صفت دنیا اسے بھول گئی ہے تو اچھا ہی ہوا۔ اس نے ہمارے ساتھ ایک مشاعرے میں جب اپنی غزل کا یہ مطلع پڑھا تھا تو کم ازکم بیس تیس مرتبہ مکرر مکرر ہوا تھا
لباس اسکے بدن پر مہین ایسا تھاپلک جھپکتے تھے نہ تھے لوگ سین ایسا تھابات ہو رہی تھی طاہر ملک کی اور یاد آ گیا اقبال ساجد۔
میں کہہ رہا تھا کہ طاہر ملک نے ستر کے عشرے کا وہ نوجوان صفدر ھمدانی بھی دیکھا ہوا ہےاور اب 60برس کی عمر کا ہونے والا مفادات کی دنیا سے بے نیاز اور اپنی فکر و عقل کے مطابق سچ کو سچ کہنے والا صفدر ھمدانی بھی اس کے سامنے ہے۔شاید اسی لیئے طاہر مجھے وہ خبریں بھی بتاتا ہے جو کبھی کبھی مجھے بھی معلوم نہیں ہوتیں اور پھر یہ آزاد منش آدمی بچوں کی طرح ضد کر کے کہتا ہے کہ ‘‘ بابا یار لکھ دو نا ایک کالم اس پر‘‘۔ اور میں جواب میں کہتا ہوں کہ ‘‘ ضرور لکھوں گا طاہر ملک۔ مجھے تو اب دشمنوں میں رہنے کی عادت ہو گئی اور جس دن اپنے دشمنوں میں اضافہ نہ کرؤں وہ دن جیسے زندگی سے منہا ہو جاتا ہے‘‘۔
طاہر ملک خود بھی بہت حد تک میری ہی طرح کا آدمی ہے۔ وہ مسلک،دین،ادب،سیاست،تجارت اور ایسے ہی کسی بھی شعبے میں منافقت سے کبھی کام نہیں لے سکا ورنہ آج اس حالت میں نہ ہوتا۔ طاہر ملک وہ لکڑی ہے جو جل جانے کے بعد بھی دھواں دیتی رہتی ہے۔
میں محسن بھوپالی کے اس قطعے کے پس منظر میں ایک فلم جیسے اپنے ذہن میں چلتے ہوئے دیکھ رہا تھا اور کیسی کیسی صورتیں قرطاس ذہن میں ابھر رہی تھیں اور ادب کی دنیا میں بھی مافیا صفت لوگوں کے داخل ہو جانے کے بارے میں سوچ سوچ کر جیسے بلڈ پریشر بڑھ رہا تھا کہ ایسے میں فون کی گھنٹی بولی اور دوسری طرف طاہر ملک کی شناسا آواز تھی
‘‘بابا جی۔ ایک بہت سنجیدہ موضوع پر بات کرنی ہے، آپ پلیز ایسا کریں کہ ساؤتھ آل میں آلو چھولے کی ریڑھی لگا لیں‘‘۔
میں نے پوچھا خیر تو ہے جو آج ایسا صائب مشورہ دے رہے ہو۔
طاہر بولا‘‘ بابا جی یہ بتاؤ کہ یہ چالیس سال ادب ،صحافت اور سچائی کا علم اٹھا کر کیا کمایا ہے۔ نہ کبھی کوئی بڑے اخبار میں انٹرویو، نہ صفدر ھمدانی کے ساتھ فائیو سٹار میں کوئی شام اور نہ ہی ادبی ،علمی ،نشریاتی اور صحافتی خدمات پر کوئی ایوارڈ‘‘۔
میں نے کہا کہ طاہر ملک میں تو کیا میرے تو مرحوم باپ نے بھی کبھی کسی ایوارڈ کے لیئے کام نہیں کیا،اور میرے والد تو پاکستان کے ان ایک دو لوگوں میں ہیں جنہوں نے ایوب خان سے 65 کی جنگ کے بعد ایوارڈ لینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ یہ کام جو میں نے کیا وہ میری نوکری تھی اور مجھے اس کام کا معاوضہ ملا ہے۔ اس لیے میں نے تو کبھی کسی اعزاز کی تمنا میں کام ہی نہیں کیا اور پھر میں تو تعلقات اور چاپلوسی کے سکہ رائج الوقت سے واقف ہی نہیں ہوں ۔ میں جانتا ہوں کہ کام کرنے والوں کی جماعت اور ہوتی ہے اور ایوارڈ حاصل کرنے والی نسل دوسری۔
بالکل یہ دھرتی کا سینہ چیرنے والے کسان کا معاملہ ہے کہ فصل وہ اگاتا ہے لیکن بچے بھی اسی کے بھوکے رہتے ہیں، کپاس وہی اگاتا یے اور بچے بھی اسی کے بے لباس ہوتے ہیں۔
میں نے طاہر ملک سے اس مخلص مشورے کا جب پس منظر جاننا چاہا تو اس نے بتایا کہ اتوار ستائیس جون کو فرنکفرٹ میں معروف نوجوان شاعر فیضان عارف کے ساتھ فن وادب سوسائیٹی نے ایک شام کا اہتمام کیا تھا جسمیں فیضان عارف کے جاری کردہ‘‘ ارود میگزین‘‘ کی رسم اجرا بھی تھی جس کے دوران اس سوسائٹی کے روح رواں ارشاد ہاشمی صاحب نے ‘‘اردو ادب کے ایک بے بنیاد ستون‘‘ کو دعوت دینے سے پہلے اعلان کیا کہ انہیں انکی علمی اور ادبی خدمات پر لاہور میں ایک ایوارڈ دیا گیا ہے‘‘۔ طاہر ملک کا کہنا ہے کہ میں نے اسی وقت اٹھ کر کہا کہ ‘‘ہمیں بھی تو انکی علمی اور ادبی خدمات کے بارے میں آگاہ کیا جائے جس پر ایوارڈ ملا ہے‘‘۔
مجھے اس پر حیرت نہیں کہ طاہر ملک نے محفل میں یہ استفسار کیا مجھے حیرت اسوقت ہوتی جب طاہر ملک یہ کام نہ کرتا۔
میں نے کچھ عرصہ پہلے اپنے ایک کالم میں اسی موضوع پر لکھتے ہوئے کہا تھا کہ اس دور میں وہی صاحب عزت ہے جو ایوارڈ لینے سے محفوظ رہا ہو۔ بس آج بھی یہی صورت حال ہے اور محسن بھوپالی کا یہ قطعہ جیسے ہر عہد میں صادق آتا ہے کہ
جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائےاس حادثہ ء وقت کو کیا نام دیا جائےمیخانے کی توہین ہے رندوں کی ہتک ہےکم ظرف کے ہاتھوں میں اگرجام دیا جائےٰٰیوں تو روز اول سے ہی یہ دنیا مفادات کی ہے لیکن ادب کی دنیا تو پہلے کبھی ایسی نہیں تھی جیسی تجارت صفت اور انسان کش یہ دنیا آج بن چکی ہے۔ میں نے ابھی چند ہفتے پہلے کینڈا ٹورنٹو کی ایک تقریب میں برملا اس بات کا اظہار کیا تھا کہ اٹلی کے زیر زمین مافیا کی طرح اب اردو ادب کی دنیا بھی ایک مافیا بن چکی ہے جس میں ہر شعبے کے دو نمبر نے قبضہ کر رکھا ہے جو خود ہی اپنے آپ کو عظیم اور مستند ادیب و شاعر لکھتا ہے، جیب سے پیسے خرچ کر کے اپنے ساتھ شام منواتا ہے، اپنے پیسوں سے اپنے لیئے ایوارڈ بنواتا ہے، پیسے دیکر ایوارڈ کی خبر شائع کرواتا ہے، نام نہاد ادبی کانفرنسوں میں اپنے پیسے خرچ کر کے شرکت کرتا ہے اور کسی سے ملاقات کیئے بغیر بڑے بڑے ناموں سے ملاقات کی خبریں شائع کرواتا ہے اور حد تو یہ کہ اس دور میں بھی کچھ بڑے نام ایسے ہیں جو صاحبان زر ہیں اور بھارت پاکستان جیسے ممالک میں غربت زدہ قلم کاروں کی مالی مدد کر کے ان سے تحقیق کا کام کرواتے ہیں اور اپنے نام سے شائع کرواتے ہیں۔
ایوراڈ اور اعزازات کی منڈی کا بھی یہی حال ہے اور یہاں بھی وہی مال بکتا ہے جسکی طلب ہے۔ اس عہد میں معیار کی یا علم کی طلب نہیں۔ جہل کو علم کا لباس بنا کر فروخت کیا جارہا ہے۔ ایوارڈ اور اعزازات فروخت ہوتے ہیں اور نام نہاد قلم کاروں کو اس کے حصول کے لیئے اپنا ضمیر بھی فروخت کرنا پڑتا ہے۔
اب یہ سطور لکھتے ہوئے سوچ رہا ہوں کہ اس امر کی بھی تحقیق کی جائے کہ پاکستان بننے کے بعد ادب ،سیاست،سماجی خدمات، معیشت، تحریک پاکستان، طب، فوج،نشریات اور ایسے ہی درجنوں شعبوں میں نجی تنظیموں کے نہیں بلکہ جو سرکاری اعزازات اور ایوارڈ دیئے گئے وہ کن کن کو ملے اور کن کن کا حق مارا گیا۔ ایک طویل فہرست ایسے احباب کی ہے جو اپنے اپنے شعبے میں لافانی خدمات سرانجام دیکر مٹی میں ملکر مٹی ہو گئے اور آج کوئی ایوارڈ توکیا انکا نام بھی کوئی نہیں جانتا۔
پاکستان کے قیام کی تحریک میں جو خاندان اجڑے،جو عصمتیں نیلام ہوئیں جو بچے یتیم ہوئے انمیں سے کیا کسی کو کوئی ایوارڈ ملا ہے؟کیا پاکستان کا پرچم بنانے والے کو کوئی ایوارڈ ملا؟کیا لاہور کے سول سیکرٹریٹ پر پہلی بار پاک پرچم لہرانے والی خاتون کے خاندان کو کوئی اعزاز ملا؟کیا پاکستان کی آزادی اعلان کرنے والی شخصیت کو کوئی ایوارڈ ملا؟کیا اس قوم نے اور ان مفاد پرست حکومتوں نے بعد از حیات بابائے قوم قائد اعظم اور مفکر قوم علامہ اقبال کے لیئے کسی قومی اعزاز کا اعلان کیا؟کیا پاکستان میں پہلی صنعت لگانے والی فیملی کے لیئے کوئی ایوارڈ اعلان ہوا؟اس فہرست کو ایک کتاب کے برابر طویل کیا جاسکتا ہے۔ انہیں محسن بھوپالی نے کہا تھا نا کہ۔۔۔
نیرنگئی سیاست دوراں تو دیکھئےمنزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھےآئیے ایک لمحے کے لیئے ذرا ادب کے شعبے کے چند ناموں پر غور کرتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ یہ نام اب آپ کی یاداشت میں بھی نہ ہوں اور آپ سوچیں کہ آخر میں کن بڑے ادیبوں شاعروں کے نام لکھ رہا ہوں۔ ان ناموں کو پڑھیئے اور مجھے بتایئے کہ کیا انکی کوئی علمی ادبی خدمات نہیں تھیں اور ان کو کتنے کتنے ایوارڈ،تمغے اور ستارے ملے ہیں۔ یہ وہ نام ہیں جن کے لکھے ہوئے کو اس دور کے لوگ لکھ لکھ کر عالم ،فاضل،مستند و عظیم شاعر اور نہ جانے کیا کیا کہلاتے ہیں۔
گزشتہ سو سال کی بات نہیں، پچاس سال کا بھی ذکر نہیں،بیس سے تیس سال کی بات ہے کہ یہ نام اردو ادب کی فصیل ہوا کرتے تھے۔
پاکستان میں نواب مرزا داغ کے آخری شاگرد قمر میرٹھی، بابائے ارود مولوی عبدالحق، ڈاکٹر عبادت بریلوی، سعادت حسن منٹو،پروفیسر ناظر حسین، وزیر الحسن عابدی، ادبی دنیا والے مولانا صلاح الدین احمد، عابد علی عابد، عشرت رحمانی، ناصر کاظمی، ڈاکٹر نزیر احمد، جمیل ملک، احمد ظفر، احمد شمیم، سید فیضی، عزیز حامد مدنی، ایوب رومانی، حاجی یوسف ظفر، عطا حسین کلیم، شہرت بخاری، احسان دانش، کلیم عثمانی، شارب ظفر، حسین منتظری، مختار صدیقی اور ایسے ہی ناموں کی ایک کہکشاں ہے جنکی علمی ادبی خدمات کا احاطہ کرنے کے لیئے بھی انسان کو اچھا خاصا علمی ادبی اہلیت کا حامل ہونا پڑے گا
اس بے بصر اور ڈرامہ باز عہد میں جس کے پاس ایک سو ڈالر ہیں وہ بڑی آسانی سے اپنی ویب سائٹ کھول کر چند دنوں میں خود کو یورپ کا صف اول کا شاعر منوا لے گا۔ وہ جسے خود شعر وزن میں کہنا نہیں آتا وہ ‘‘عروض ‘‘ کی تعلیم دے گا اور وہ جسے اپنا شعر خود درست طور پر پڑھنا نہیں آتا وہ نئے لکھنے والوں کی اصلاح کرے گا۔ بس سکہ رائج الوقت تعلقات عامہ ہے اور یہ ایک فن ہے جو صرف مجھے ہی نہیں مجھ جیسے کئی ادیبوں شاعروں کو نہیں آتا۔
اگر کوئی میرے دل سے پوچھے تو میں ببانگ دہل کہوں کہ ارشاد ہاشمی جیسے سیدھے سادھے اور شریف آدمی کو اپنے پلیٹ فارم سے ایسا اعلان کر کے اپنے معیار اور ساکھ کو نقصان ہی نہیں پہنچانا چاہیئے تھا۔
یہ سچ ہے کہ ادب کی دنیا میں اعزازت کی تقسیم کا جمعہ بازار لگا ہوا ہے اور شاید اتنے قلم کار ہیں نہیں جتنے اعزازات تقسیم ہو چکے اور ہو رہے ہیں۔
اللہ پاک صاحبان فکر اور اہل علم و دانش کو جہنم کے اس ایندھن سے محفوظ رکھے کہ روز محشر سب سے بڑا اعزاز نبی پاک کی امت کا باعمل فرد ہونا ہو گا۔ میں نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ
گنہگاروں کی فہرست میں ہے نام مراخدا کا شکر کہ درباریوں میں نام نہیں