16.10.2026, 04:57pm , جمہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
مضامین/تجزیات » ڈاکٹر نگہت نسیم
 

اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان۔از،نگہت نسیم
02.07.2010, 01:07am , جمہ (GMT+1)

نگہت نسیم۔سڈنی



انسانی نفسیات ہے کہ جب کوئی بات یا واقعہ حد درجہ تکلیف دہ رونما ہو جائے تو ایسے میں یا تو منہہ سے جو الفاظ نکلتے ہیں وہ قابل تحریر اور قابل اشاعت نہیں ہوتے اور یا پھر الفاظ جیسے کھو جاتے ہیں اور تلاش بسیار کے باوجود ایسا کوئی سرا نہیں ملتا کہ بات کہاں سے شروع کی جائے۔

میری کیفیت بھی گزشتہ کئی گھنٹوں سے ایسی ہی ہے اور اب جو میں نے خود کو سنبھالا تو خالق قلم سے ہی مدد طلب کی ہے کہ جس موضوع پر لکھنا چاہ رہی ہوں اسمیں مجھے وہ عدل کی توفیق دے کہ میں اس میں اپنی ذاتی تکلیف اور رنجش شامل نہ کرؤں اور جو کچھ بھی لکھوں کسی تعصب یا کسی طرفداری کے بغیر حق سچ کو پیمانہ اور معیار بنا کر لکھوں اور اسکی وجہ یہ ہے کہ کہ اگراس موضوع پر لکھتے ہوئے میں نے اپنی تکلیف اور رنج کو شامل کر لیا تو بہت ممکن ہے کہ یہ تحریر اس سے بھی زیادہ تلخ ہو جائے جتنی ابھی اس صورت میں ہے۔

بابا صفدر ھمدانی کی ایک تازہ غزل کے دو شعر اس وقت یاد آرہے ہیں اور اس غزل کو کہیں اسی کالم میں مکمل بھی تحریر کرؤں گی

جنازہ عدل کا نکلا ہے اک بیمار کے ہاتھوں
عدالت داؤ پر ایک بار پھر زردار کے ہاتھوں
۔۔۔
ابھی پھر وار اس نے کر دیا دن کے اجالے میں
ابھی اک زخم کھایا تھا اسی تلوار کے ہاتھوں

جی یہ وہی تلوار ہے جو حکمران پارٹی کا فخر اور طرہ امتیاز رہی ہے اور اسی تلوار سے اس جماعت اور اسکے رہنماؤں نے وہ وہ کام کیئے ہیں کہ ‘‘تلوار‘‘ کی تضحیک اس سے زیادہ شاید اور کہیں ہوئی ہو۔ بڑے بھٹو صاحب کے زمانے میں یہی تلوار اس جماعت یعنی پیلپز پارٹی کا انتخابی نشان تھی اور بھٹو صاحب بھی اس تلوار کو مخالفین کو تہس نہس کرنے کی نشانی قرار دیا کرتے تھے اور انہوں نے کئی مقامات پر اس تلوار کو استعمال کیا بھی۔ لیکن یاد رکھیں ملکی اور ارضی قانون چاہے کچھ بھی ہو اُس قادر مطلق کا قانون الگ ہوتا ہے اور اس کے ہاں نظریہ ضرورت نام کی کوئی چیز نہیں۔ اس لیئے اسکی جناب کے فیصلے کسی نظر ثانی کی اپیل کے مرہون منت نہیں ہوتے۔

بڑے بھٹو صاحب اور انکی لاڈلی چہیتی سیاسی وارث بے نظیر کہ جس نے صحیح معنوں میں بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد کسی حد تک عوام کے دلوں پر حکومت کی وہ بھی خانہ ساز سازش کا نشانہ بن کے اپنے خالق کے حضور جا چکی ہیں اس لیئے اب یہ اللہ پاک کے عدل کی کسوٹی کا سامان ہیں اور ہمیں انکی سزا و جزا کا کوئی حق نہیں

ہاں اس سیاسی خاندان نے جو لاوارث قسم کے وارث اب ہمارے لیئے چھوڑے ہیں یا یہ خود بخود وارث بن بیٹھے ہیں انکی جزا و سزا کا حق اس ملک کے عوام کو حاصل ہے۔ لیکن کیا کریں کہ عوام تو جیسے اس ملک کا سب سے زیادہ فراموش طبقہ ہے۔

پارلیمان ہو یا ایوان صدر اور وزیر اعظم،ان تمام مرکزی اداروں اور مقامات پر عوام کے لیئے تو دو برس سے کچھ بھی تو ہوتا نظر نہیں آتا۔ یہاں تو غربت زدہ اور فاقہ زدہ ملک میں عوام کا کام صرف وہ یوٹیلٹی بل ادا کرنا ہے جو وہ استعمال ہی نہیں کر رہے اور حاکموں کا کام عوام کے ٹیکس اور ان بلوں کی رقوم کو اپنی ذات اور اپنی جماعتی تشہیر کے لیئے خرچ کرنا ہے۔ بھاڑ میں جائے عوام۔ اب جب الیکشن ہونگے تو عوام کو بھی یاد کر لیا جائے گا۔

یہ جو کچھ میں نے لکھا یہ کوئی تمہید نہیں بلکہ میں اپنے غصے کو ٹھنڈا کر رہی ہوں کہ تحریر میں کوئی ایسی بات نہ آ جائے کہ جو میرے اصول اور تربیت خاندانی اور درس اسلام کے خلاف ہو۔ کہ یہ ہمارا دین ہمیں دشمن کی بھی عزت اور تکریم سکھاتا ہے لیکن کیا کریں ہمارے وطن عزیز کو نہ جانے کس جہنم رسید کی نظر بد کھا گئی کہ اسے ایسے ایسے ناعاقبت اندیش اور عوام دشمن حاکم ملے ہیں کہ جنہیں اپنی محسنوں کی پہچان تک نہیں۔

جنکو انکے بزرگوں نے یہ تعلیم اور تہذیب بھی نہیں دی کہ اپنے محسنوں کا کیسے احسان مند ہوا جاتا ہے۔یہ لوگ جنہیں اپنی سیاسی نجابت پر اسقدر مان ہے اگر ایسے بے حیا اور بے شرم نہ ہوتے تو اپنے محسن اعظم کو اس طرح یاد نہ کرتے۔ اگر انہیں آزادی اور غلامی میں فرق معلوم ہوتا تو یہ روزانہ اپنے محسنوں کی تصاویر کو صبح اٹھ کر سلام کیا کرتے کہ یہ انہی محسنوں کا احسان ہے کہ وہ آج انہی کے قائم کردہ ملک میں منصب کی سب سے اونچی کرسی پر بیٹھے ہوئے ہیں

آپ کو یہ بھی تو یاد ہو گا کہ صدر زرداری نے اسی کرسی صدارت پر بیٹھنے کے بعد پہلی تصویر جو ایوان صدر سے ہٹائی تھی وہ بھی قائد اعظم کی تھی اور انکی میز پر بے نظیر اور بڑے بھٹو کی تصویر رہتی تھی، ایسا بھی ہوا کہ ایوان صدر اور ایوان وزیراعظم میں دیوار پر آویزاں قائد اعظم کی تصویر غائب ہو گئی۔ پھر چاروں طرف سے شور مچانے پر تاویل یہ دی گئی کہ تصاویر اس رخ سے بنائی جاتی ہیں کہ قائد اعظم کی تصویر دکھائی نہیں دیتی۔  آپ نے دیکھا کہ جھوٹ کے پاس کیسی کیسی دلیلیں ہوتی ہیں اور سچ صرف سچ ہوتا ہے

میری بات بلاشبہ اب تک میرے قاری تک پہنچ چکی ہے لیکن پھر بھی بات کو اور واضع کرنے کے لیئے بتا دوں کہ مملکت خداداد پاکستان کے صدر مملکت عالی جناب،عزت مآب شہنشاہ دوراں،ملک عزیز کے لیئے مثل خضر ناگزیر جناب آصف زرداری نے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی اہلیت،صلاحیت اور قابلیت عوام پر عیاں کر دی اور اس بار تو انکے سیاسی مشیر فیصل رضا عابدی بھی انکا دفاع کرتے ہوئے صاف جھوٹ بولتے ہوئے لگتے ہیں۔ فیصل رضا عابدی کو یہ کمال حاصل ہے کہ انکے منہہ میں زبان بھی تو اپنی نہیں اور وہ اپنے مقصد کے لیئے بنو امیہ کی طرح قرآن، رسول اور اہلبیت کے فرامین سے فائدہ اٹھانے اور بلیک میل کرنے کا فن بخوبی جانتے ہیں اور اسی فنکاری کے باعث انہیں سینٹر کی خلعت خاص انعام میں ملی ہے اور وہ صدر پاکستان کے سیاسی مشیر ہیں۔ ایسے مشیر جنہیں نہ سیاست کا علم اور نہ مشاورت کی روح سے آشنا۔ ایسے مشیر کی مولائے کائنات علی ابن ابی طالب سے کسی نے پوچھا کہ مولا آپکا دور لافت سب سے کم لیکن سب سے زیادہ شورش زدہ رہا اسکی کیا وجہ تھی۔
مولا نے جواب دیا کہ اپنے سے پہلے حکمرانوں کا مشیر میں تھا اور میرے مشیر تم جیسے

بات ہو رہی تھی زرداری صاحب کے اس بیان کی جو انہوں نے بانی ء پاکستان قائداعظم کے حوالے سے دیا اور کہا کہ وہ انڈر گریجویٹ تھے

سرکاری دھوتو پی ٹی وی نے صدرزرداری کی تقریر ایک بار چلنے کے بعد سینسرکردی  اور ساری ایوان صدر کی فوج اپنے ناعاقبت اندیش لیڈر کے دفاع کو نکل آئی کہ  صدرآصف زردای نے جوش خطابت میں قائد اعظم کو نان گریجویٹ کہہ دیاتھااور صدر کی تقریر تحریر نہیں تھی ۔ دوران خطاب ان کی زبان پھسل گئی اور وہ قائد اعظم کے بارے میں نان گریجویٹ کا جملہ کہہ گئے جس کا احساس پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو ہوا اور سرکاری ٹی وی سے ان کی تقریر ایڈٹ کرنےکے بعد نشر ہوئی۔

سرکار ٹی وی پر نشر ہونے والی تقریر تو ایڈیٹ ہو سکتی ہے لیکن جو الفاظ رپورٹروں نے قلم سے لکھے،اور جو کیمروں میں ریکارڈنگ ہوئی اسکا کیا کرے گے حکومت؟

کیسا عجیب ملک ہے اور کیسے عجیب و غریب حکمران کہ یہاں زبان پھسلنے کا رواج کیسا عام ہے۔ ابھی کل ہی کی تو بات ہے کہ پیپلز پارٹی والے ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو مطعون کر رہے تھے اور فوزیہ وہاب سپریم کورٹ کو از خود نوٹس لینے کا مشورہ مفت دے رہی تھیں اور چیف جسٹس کے خیر خواہ کہہ رہے تھے کہ انکی زبان پھسل گئی ہو گی۔ اور اب ایک ہی رات میں شطرنج کے کھیل کا پانسہ پلٹ گیا اور اب صدر زرداری کے حواری یہ آیت کزب دوہرا رہے ہیں کہ صدر کی زبان پھسل گئی۔ یہ نہیں بتاتے کہ آخر یہ زبان پھسلی کہاں سے اور پھسل کر کس قعر مذلت میں گرگئی۔

یہ کوئی پہلی مرتبہ اس خاندان کے ساتھ نہیں ہوا کہ زبان پھسلی ہو۔ یادش بخیر لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ستر کے عشرے کے اوائل میں ٹی وی پر بڑے بھٹو صاھب کی تقریر لائیو نشر ہو رہی تھی کہ وہ یوں گویا ہوئے کہ ‘‘ لوگ کہتے ہیں کہ میں شراب پیتا ہوں، ہاں ہاں پیتا ہوں مگر بہت تھوڑی‘‘ اس کے فوری بعد بھٹو صاحب کو خیال آیا کہ وہ کیا کہہ گئے۔ لیکن یہ بھول گئے کہ تقریر لائیو یعنی براہ راست نشر ہو رہی ہے۔ اسی بھول پن میں کہنے لگے کہ ‘‘ اس فقرے کو کاٹ دینا‘‘۔ لیجئے فقرہ تو اب فضا بلکہ خلا کی ملکیت ہو چکا تھا اب کون، کیسے اور کہاں سے اس فقرے کا کاٹتا۔

آصف زرداری نے اور کچھ کیا یا نہیں کم از کم بڑے بھٹو کا داماد ہونے کا حق ادا کر دیا۔

خود صدر زرادری کی تعلیمی قابلیت کے بارے میں کیسے کیسے سوال اٹھتے ہیں حتیٰ کہ لندن کے جس تعلیمی ادارے میں وہ تعلیم حاصل کرنے کی بات کرتے ہیں اس ادارے کے ریکارڈ میں انکا نام ہی موجود نہیں ہے۔ اور اب اپنی قابلیت اور احسان فراموشی کا مظاہرہ کر کے انہوں نے لندن کے اس تعلیمی ادارے کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچنے سے بچا لیا ہے۔

پیپلز پارٹی والے دو باتیں سورہء الحمد کی طرح کہتے نہیں تھکتے کہ زرداری صاحب نے بے گناہ ١١ سال جیل میں گزارے اور دوسری بات یہ کہ وہ منتخب صدر ہیں۔ معروضی طور پر دونوں باتیں درست۔ لیکن انکے ١١ سال جیل میں ایک طرف اور دوسال صدارت کے ایک طرف۔ اب جو جیل عوام انکی صدارت میں بھگت رہے ہیں اسکا جواب کون دے گا۔ رہی بات منتخب صدر کی تو انہیں ان جیسے ہی اراکین پارلیمان نے منتخب کیا ہے کہ پارلیمان سے بہتر اور سستی ضمیر فروشی کی کوئی منڈی نہیں کہ جہاں سب سیاسی جماعتیں اپنی اپنی قیمت لگاتی ہیں اور وصول کرتی ہیں۔ ایک سیاسی جماعت بھی تو ایسی نہیں جو اس ضمیر فروشی اور عوام دشمنی کی تجارت میں شامل نہ ہو۔

واہ زرادری صاحب واہ۔ آپ جس کرسی پر بیٹھے ہیں اگر کبھی آپ صرف اتنا سوچیں کہ آپ سے پہلے اس کرسی پر کون کون بیٹھ چکا ہے تو شاید جیسے دم نکل جائے۔ مگر یہ بات تو سوچ کی ہے۔

یہ جو لوگ آپ کی اس زبان کے پھسل جانے پر معافی اور معذرت طلب کرنے کی بات کر رہے ہیں یہ سب پاگل،دیوانے اور بے وقوف ہیں۔ انکو کیا علم کہ آپ کو اس کرسی صدارت تک پہنچنے کے لیئے کیسے کیسے دریا عبور کرنے  پڑے ہیں۔ یو این او تک سے بے نظیر کے قتل میں ملوث نہ ہونے کا ثبوت تک لینا پڑا ہے۔ بے نظیر کے قتل میں کسی نہ کسی صورت ملوث ہونے کا الزام بھی اٹھایا ہے اور اب یہ بھی اعلان کرنا پڑا ہے کہ آپ اپنی بیگم کی محبت میں انکے قاتلوں کومعاف کرتے ہیں۔ کیا وسیع القلبی ہے۔ ایسا تو صرف قرون وسطیٰ کے مسلمانوں نے کیا ہے یا آپ نے۔ آپ تو اس دور میں دنیائے اسلام کے لیئے قابل تقلید ہیں، اور یہ بے وقوف عوام آپکو معافی کا کہہ رہی ہے۔

صدر زرداری صاحب ہمیں قائد اعظم محمد علی جناح کے دیگر احسانات کا علم ہو یا نہ ہو لیکن یہ احسان تو سب کو معلوم ہے کہ آپ اس مملکت خداداد کے صدر مملکت ہیں کہ جس کا بانی بقول آپکی زبان پھسل جانے کے انڈر گریجویٹ تھا۔

لیجئے بابا صفدر ھمدانی کی جس غزل کی میں نے بات کی تھی وہ بھی پڑھ لیجئے اور دیکھیئے کہ صاحبان فکر و دانش واقعے کے رونما ہونے سے بہت عرصہ پہلے اس کی نشاندہی کر دیتے ہیں۔ اس صورت حال کی طرف شاعر نے سال بھر پہلے دوہزار نو میں ہی اشارہ کر دیا تھا

جنازہ عدل کا نکلا ہے اک بیمار کے ہاتھوں
عدالت داؤ پر ایک بار پھر زردار کے ہاتھوں
۔۔۔
ابھی پھر وار اس نے کر دیا دن کے اجالے میں
ابھی اک زخم کھایا تھا اسی تلوار کے ہاتھوں
۔۔۔۔
بھروسہ تھا سہارے کا ہمیں دیوار پہ لیکن
ہماری چھت گری گھرکی اسی دیوار کے ہاتھوں
۔۔۔۔۔۔
نہ جانے نام کیا رکھیں دلاسہ دینے والے کا
غموں پہ غم ملے صاحب ہمیں غمخوار کے ہاتھوں
۔۔۔۔۔۔
کسی صورت خبر چھپنے سے رکوائیں عدالت کی
حکومت خوف میں ہے شہر کے اخبار کے ہاتھوں
۔۔۔۔۔۔
بنی ہے شہر کی خلقت نشانہ تیرِ ظالم کا
سیاست طوقِ ذلت بن گئی اس وار کے ہاتھوں
۔۔۔۔۔
کوئی اپنا مخالف مملکت میں رہ نہیں سکتا
ہوئے ہیں شہر ویراں اِک اسی آزار کے ہاتھوں
۔۔۔۔۔
ھدف اک بار پھر اسکا بنوں گا ہے خبر مجھکو
میں پہلے بھی بہت مطعون تھا اظہار کے ہاتھوں
۔۔۔۔۔
یہی کردار تو انسان کو انساں بناتا ہے
بشر ہوتا بھی ہے رسوا اسی کردار کے ہاتھوں
۔۔۔۔۔۔
سنبھالو سر پہ جو دستار ہے کارِ فضلیت کی
کٹے ہیں سر بہت سُن لو اسی دستار کے ہاتھوں
۔۔۔۔۔
اسی اک خوف نے صفدر مری آنکھیں جلا ڈالیں
مرَض پھر جائے گا یہ فوج کے سالار کے ہاتھوں

:دیگر مضامین
(07.06.2010) بات نکلے گی پھر تو دور تلک جائے گی“نگہت نسیم۔سڈنی””
(02.06.2010)  امدای قافلے پر اسرائیلی حملہ ۔ امریکہ اور عرب شرم کریں ۔از۔ نگہت نسیم
(18.04.2010) یو این او کھپے ۔۔ یو این او کھپے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(14.04.2010) جب مفادات ایک ہوں تو ۔۔۔؟ از ۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
(14.03.2010) یا نبی کہتی تھی ماں فجر میں ۔از۔ نگہت نسیم
(05.03.2010) پولیس کا ہے فرض مرمت آپ کی ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(21.02.2010) خلقت شہر نے ہاتھوں میں اٹھائے پتھر ۔۔۔ از؛ نگہت نسیم
(05.02.2010) زرداری ، بیوی کے قاتل نہیں پکڑ سکے عافیہ کو کیا بچائیں گے۔از؛نگہت نسیم
(30.12.2009) خدا گواہ ہے کہ ہم اپنے دشمن نہیں ہیں ۔از؛ نگہت نسیم۔سڈنی
(20.12.2009) محرم کے آغاز پرمبارکبادوں کا جواز کیا ہے ؟از؛نگہت نسیم
(17.12.2009) دنیا کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔از؛ نگہت نسیم۔سڈنی
(06.12.2009) پاکستان ہماری دستار ہے اسے سر پر سجایئے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(27.11.2009) کئی آنکھیں ہیں جو دعاؤں سے اب بھی نم رہتی ہیں ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(25.11.2009) اللہ تعالی کے نظام میں کوئی این آر او نہیں ہے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم
(16.11.2009) سولہ نومبر "عدم برداشت " کا عالمی دن ۔از نگہت نسیم ۔ سڈنی
(06.11.2009) محبت شکر اور شکریہ سکھاتی ہے ۔از؛ ڈاکٹر نگہت نسیم ۔سڈنی
(03.11.2009) خون آشام وادیوں میں زیتون کے پھل ۔از؛ڈاکٹر نگہت نسیم
(19.08.2009) دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی دورُخی۔۔از نگہت نسیم
(09.08.2009)  کیا کریں بھئی ۔۔ ھم تو اندھے ھیں ۔۔۔ !از ڈاکٹر نگہت نسیم
(18.06.2009) جو امریکہ کے ساتھ وہ اصلاح پسند ۔از۔ نگہت نسیم



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
شمس جیلانی  »
صفدر ھمٰدانی  »
ماہ پارہ صفدر  »
ڈاکٹر نگہت نسیم  »
زرقا مفتی  »
سیدہ زائرہ عابدی۰بجو  »
محمد احمد ترازی  »
محمد عظیم اعظم  »
عالم آرا  »
سیدہ رافیعہ گیلانی  »
شاہین اشرف علی  »
اظہرالحق نسیم  »
فرخندہ رضوی  »
ڈاکٹر فاخرہ نورین  »
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں