
احمد ترازی کراچی میں مقیم صاحب مطالعہ اور صاحب قلم فقیر منش انسان ہیں
اور ہر کام کو مکمل ایمانداری اور محنت سے سرانجام دیتے ہیں اور ایک عرصے سے عالمی اخبار میں تسلسل سے کالم لکھنے کے علاوہ کراچی اور گردونواح کی خبریں بھی ارسال کر رہے ہیں۔
انکی ان بلامعاوضہ خدمات اور تندہی کو سامنے رکھنے ہوئے عالمی اخبار کے مرکزی ادارتی بورڈ نے انہیں کراچی کا بیورو چیف مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور مدیر اعلیٰ ،نائب مدیر اعلیٰ اور معاون مدیر اعلیٰ سمیت تمام بورڈ نے انہیں مبارکباد دی ہے اور امید ظاہر کی ہے انکی تقرری کے بعد صوبہ سندھ سے اہم خبریں مزید سرعت سے شائع ہونگی۔
احمد ترازی کے بارے میں سنیئر صحافی سید ہارون الرشید لکھتے ہیں کہ
‘‘حقیقت یہ ہے کہ قلم کی
عزت و حرمت کو قائم رکھ کر سچ کی تلاش کا سفر ہمیشہ ہی کٹھن،صبر
آزماءاوردشواررہا ہے، لیکن محمد احمدترازی اِس دور ظلمت میں اپنے دامن
کوذاتی غرض و غایت اور حرص و طمع سے بچاکراِن دشوار گزار راستوں پر گامزن
ہیں،جس میں سوائے آزمائش اور مشکلات کے اور کچھ نہیں،چار سال قبل جب پہلی
بار میرا اُن سے تعارف ہوا تو میں اُن کے منفرد و بے باک اوردلچسپ معلوماتی
انداز تحریر سے بہت متاثر ہوا اور اپنے اخبار کے ادارتی صفحے پر ”جو میں
نے دیکھا“ کے عنوان سے اُن کے مستقل کالموں کا سلسلہ شروع کیا،جو آج بھی
جاری ہے،آج اُن کا نام غیر معروف اور محتاج تعارف نہیں اوراُن کے کالم ملک
کے معروف اخبارات میں”میری آواز “ کے عنوان سے ادارتی صفحات کی زینت بن رہے
ہیں۔
محمداحمد ترازی،بین الاقوامی تعلقات عامہ میں ماسٹر کی ڈگری
رکھنے کے ساتھ پاکستان سوئڈیش انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے میکنکل ٹیکنالوجی
میں ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹس انجنئر کی ڈگری بھی رکھتے ہیں،انہیں زمانہ
طالبعلمی سے ہی لکھنے پڑھنے کا شوق تھا،اُس وقت بھی اُن کے مضامین اور
کہانیاں روزنامہ جنگ،امن،نوائے وقت وغیرہ میں بچوں کے صفحات میں شائع ہوتے
رہے،عمر کے ساتھ ساتھ شوق بھی پروان چڑھتا رہا اور قلم میں نکھار آتا
گیا،چنانچہ نے انہوں نے اخبارات و رسائل کیلئے لکھنا شروع کردیااور اُن کے
مضامین ہفت روزہ”احوال“کراچی،ماہنامہ ”احوال و آثار“ لاہور،”الفتح “ لاہور
اور ”افتخار ایشیاء“ راولپنڈی وغیرہ میں شائع ہونے لگے،1992 اور 1993 میں
جب نواز شریف دور حکومت میں پاکستان کی صنعتیں بحران کا شکار ہوئیں تو
موصوف کو تلاش معاش اکاؤئنٹنگ کی دنیا میں لے گئی۔
آجکل وہ ایک پرائیوٹ
ادارے میں ڈیبٹ اور کریڈیٹ کی گتھیاں سلجھانے کے بعد فارغ اوقات میں لکھنے
پڑھنے کا شوق بھی پورا کرتے ہیں،محمد احمد ترازی دو کتابوں کے مصنف اور
کراچی سے شائع ہونے والے ماہنامے”افق“کے مدیر منتظم بھی ہیں،محمد احمدترازی
کی ذات کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ وہ دینی رحجان اور احساسات کے حامل
ہونے کے ساتھ ساتھ کسی مخصوص مکتبہ فکر کے ترجمان ہیں اور نہ ہی وہ کسی علا
قائیت،رنگ ونسل اور زبان و قومیت کی تقسیم پر یقین رکھتے ہیں،وہ بے حد
مخلص،ایثار پسند اور اپنے موقف پر قائم رہنے اور حقائق کو حقیقت کی کسوٹی
پر پرکھ کر نتیجہ اخذ کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔
اُن کے حلقہ احباب کے وسیع
نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے صحافتی عقیدے کی طرح عام
زندگی میں بھی سچے اور کھرے انسان ہیں اور وہ اپنے قلم کی سیاہی میں مداح
سرائی اور خوشامد کی آمیزش نہیں کرتے،محمد احمد ترازی کی جس بات سے میں سب
سے زیادہ متاثر ہواوہ یہ ہے کہ وہ زندگی کو خدائے بزرگ برتر کی سب سے بڑی
نعمت تسلیم کرنے کے باوجود سماج کے ضمیر فروشوں کی طرح حیات کواُس کی
قدروقیمت سے زیادہ اہمیت و حیثیت دینے پر تیار نہیں ہیں‘‘۔