17.10.2026, 05:58am , ہفتہ (GMT+1)
 
وفاقی کابینہ کا بھارتی سرجیکل اسڑائیک کا دعوی مسترد،کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کو سیز فائر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ; ایل او سی کی پہلی دفاعی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے تتہ پانی سیکٹر میں بھارتی فوج کے اہلکار بھی ہلاک ; بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث سارک سربراہ کانفرنس ملتوی ،انیسویں سارک سربراہ کانفرنس نومبر میں اسلام آباد میں ہونی تھی، بھارت کا شرکت سے انکار ; پاک بھارت کشیدہ تعلقات ۔ بھارت نے کہا ہے کہ وہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ ; امریکی صدارتی مباحثوں کی تاریخ میں ایک مرد اور خاتون امیدوار کے درمیان پہلامباحثہ ۔ ۔دنیا بھر دس کروڑ لوگوں نے یہ مباحثہ براہ راست دیکھا
        [تفصیلی تلاش]
 
 
 
اعلان و انتخاب آجکا دن
 

کالم نگار احمد ترازی عالمی اخبار کے بیورو چیف برائے کراچی
03.07.2010, 10:22am , ہفتہ (GMT+1)

عالمی اخبار انتظامیہ
احمد ترازی کراچی میں مقیم صاحب مطالعہ اور صاحب قلم فقیر منش انسان ہیں اور ہر کام کو مکمل ایمانداری اور محنت سے سرانجام دیتے ہیں اور ایک عرصے سے عالمی اخبار میں تسلسل سے کالم لکھنے کے علاوہ کراچی اور گردونواح کی خبریں بھی ارسال کر رہے ہیں۔

انکی ان بلامعاوضہ خدمات اور تندہی کو سامنے رکھنے ہوئے عالمی اخبار کے مرکزی ادارتی بورڈ نے انہیں کراچی کا بیورو چیف مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور مدیر اعلیٰ ،نائب مدیر اعلیٰ اور معاون مدیر اعلیٰ سمیت تمام بورڈ نے انہیں مبارکباد دی ہے اور امید ظاہر کی ہے انکی تقرری کے بعد صوبہ سندھ سے اہم خبریں مزید سرعت سے شائع ہونگی۔

احمد ترازی کے بارے میں سنیئر صحافی سید ہارون الرشید لکھتے ہیں کہ

‘‘حقیقت یہ ہے کہ قلم کی عزت و حرمت کو قائم رکھ کر سچ کی تلاش کا سفر ہمیشہ ہی کٹھن،صبر آزماءاوردشواررہا ہے، لیکن محمد احمدترازی اِس دور ظلمت میں اپنے دامن کوذاتی غرض و غایت اور حرص و طمع سے بچاکراِن دشوار گزار راستوں پر گامزن ہیں،جس میں سوائے آزمائش اور مشکلات کے اور کچھ نہیں،چار سال قبل جب پہلی بار میرا اُن سے تعارف ہوا تو میں اُن کے منفرد و بے باک اوردلچسپ معلوماتی انداز تحریر سے بہت متاثر ہوا اور اپنے اخبار کے ادارتی صفحے پر ”جو میں نے دیکھا“ کے عنوان سے اُن کے مستقل کالموں کا سلسلہ شروع کیا،جو آج بھی جاری ہے،آج اُن کا نام غیر معروف اور محتاج تعارف نہیں اوراُن کے کالم ملک کے معروف اخبارات میں”میری آواز “ کے عنوان سے ادارتی صفحات کی زینت بن رہے ہیں۔

 محمداحمد ترازی،بین الاقوامی تعلقات عامہ میں ماسٹر کی ڈگری رکھنے کے ساتھ پاکستان سوئڈیش انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے میکنکل ٹیکنالوجی میں ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹس انجنئر کی ڈگری بھی رکھتے ہیں،انہیں زمانہ طالبعلمی سے ہی لکھنے پڑھنے کا شوق تھا،اُس وقت بھی اُن کے مضامین اور کہانیاں روزنامہ جنگ،امن،نوائے وقت وغیرہ میں بچوں کے صفحات میں شائع ہوتے رہے،عمر کے ساتھ ساتھ شوق بھی پروان چڑھتا رہا اور قلم میں نکھار آتا گیا،چنانچہ نے انہوں نے اخبارات و رسائل کیلئے لکھنا شروع کردیااور اُن کے مضامین ہفت روزہ”احوال“کراچی،ماہنامہ ”احوال و آثار“ لاہور،”الفتح “ لاہور اور ”افتخار ایشیاء“ راولپنڈی وغیرہ میں شائع ہونے لگے،1992 اور 1993 میں جب نواز شریف دور حکومت میں پاکستان کی صنعتیں بحران کا شکار ہوئیں تو موصوف کو تلاش معاش اکاؤئنٹنگ کی دنیا میں لے گئی۔
آجکل وہ ایک پرائیوٹ ادارے میں ڈیبٹ اور کریڈیٹ کی گتھیاں سلجھانے کے بعد فارغ اوقات میں لکھنے پڑھنے کا شوق بھی پورا کرتے ہیں،محمد احمد ترازی دو کتابوں کے مصنف اور کراچی سے شائع ہونے والے ماہنامے”افق“کے مدیر منتظم بھی ہیں،محمد احمدترازی کی ذات کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ وہ دینی رحجان اور احساسات کے حامل ہونے کے ساتھ ساتھ کسی مخصوص مکتبہ فکر کے ترجمان ہیں اور نہ ہی وہ کسی علا قائیت،رنگ ونسل اور زبان و قومیت کی تقسیم پر یقین رکھتے ہیں،وہ بے حد مخلص،ایثار پسند اور اپنے موقف پر قائم رہنے اور حقائق کو حقیقت کی کسوٹی پر پرکھ کر نتیجہ اخذ کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔
اُن کے حلقہ احباب کے وسیع نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے صحافتی عقیدے کی طرح عام زندگی میں بھی سچے اور کھرے انسان ہیں اور وہ اپنے قلم کی سیاہی میں مداح سرائی اور خوشامد کی آمیزش نہیں کرتے،محمد احمد ترازی کی جس بات سے میں سب سے زیادہ متاثر ہواوہ یہ ہے کہ وہ زندگی کو خدائے بزرگ برتر کی سب سے بڑی نعمت تسلیم کرنے کے باوجود سماج کے ضمیر فروشوں کی طرح حیات کواُس کی قدروقیمت سے زیادہ اہمیت و حیثیت دینے پر تیار نہیں ہیں‘‘۔

:دیگر مضامین
(02.07.2010) سویڈن میں عابدہ سیال کے گھر پر محفل مشاعرہ۔پکچر گیلری
(30.06.2010)  سٹاک ہولم میں عابدہ سیال کے گھر منفرد محفل مشاعرہ کا انقعاد
(25.06.2010) مرکز المجتبیٰ برلین میں جشن مولود کعبہ کا اہتمام
(24.06.2010) جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں فیضان عارف کے ساتھ شام
(23.06.2010) معروف شاعر اور دانشور رشید قیصرانی انتقال کر گئے
(22.06.2010) بزم اردو لندن کے تحت ہونے والا عالمی مشاعرہ
(22.06.2010) ہائیڈل برگ میں دریائے نیکر کے کنارے محفلِ مشاعرہ
(19.06.2010) آسٹریا کے شہر ویانہ میں امام علی نقی کی ولادت پر محفل میلاد کا انعقاد
(13.06.2010) جلسہ جہاد و انقلاب کی پہلی سالگرہ ،پیش رفت قابل اطمینان:تنظیم علی کانگریس
(11.06.2010) بزمِ اردو لندن کی محفلِ شعروسخن ''مشاعرہ''۔
(05.06.2010) فرینکفرٹ میں صا حبزادہ حسن محی الدین کا ’’ اسلام اور امن ’’ کے موضوع پر خطاب
(04.06.2010) ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ ۔۔ از۔ خورشید عالم آرا
(03.06.2010) اسرائیل کا فریڈم فلو ٹیلا پر حملہ وحشیانہ دہشت گرد ی ہے
(03.06.2010) خورشید عالم آرا کی کتاب “ سبق آموز کہانیاں “ کی تقریب ِ رونمائی
(03.06.2010) عالمی اخبار کی بیوروچیف برائے وینکور کینیڈاخورشید عالم آرا
(02.06.2010) اسرائیل کا ایک اور ظلم، امریکہ کی پشت پناہی میں
(01.06.2010) جرمنی میں اسرائیل کی ننگی جارحیت کے خلاف مظاہرہ
(29.05.2010)  ٹورنٹو کے مرکز باب العلم میں پر نور میلاد خاتون جنت سیدہ سلام اللہ کا انعقاد
(19.05.2010) پاکستان ملسم لیگ ن جرمنی کی مرکزی قیادت کا ہنگامی اجلاس
(18.05.2010) دنیائے اسلام میں شہادت بنت رسول سلام اللہ کی مجالس



 
تمام خبریں  
مضامین/تجزیات   
عالمی خبریں   
عالمی اخبار تازہ ترین   
پاکستان/ بھارت   
ایشیا/یورپ/آسٹریلیا   
مشرق وسطیٰ/افریقہ   
اعلان و انتخاب آجکا دن   
رپورٹس/ملٹی میڈیا   
عالمی اخبار کھیل   
صحت/سائینس   
شخصیات، انٹرویوز   
عالمی اخبار ادبیات   
Reports,Naheed Gallery   
Pak/India/Gulf   
International/Sports   
 
 

  عالمی اخبار  کے ادارتی عملے میں مختلف عالمی اداروں کے اپنے اپنے شعبے کے ماہرین شامل ہیں اور اس اخبار میں خبروں،تبصروں اور کالموں کے علاوہ ہر موضوع اور ہر کسی کے لیئے مواد موجود ہے۔ عالمی اخبار کی پالیسی صاف ستھری ،آزادانہ اور بے لاگ صحافت ہے۔
. رابطہ ٹیلی فون:  لندن447796515479+ ،  آسٹریلیا 61425201035+ ،  ای میل:  رابطہ@عالمی اخبار۔کوم۔  جملہ حقوق بحق عالمی اخبار۔کوم محفوظ ہیں